Search This Blog

Friday, July 14, 2017

اسلام کا نظام خلافت

تحریر: مولانا زاہدالراشدی مدظلہ
1- ’’خلافت‘‘ کا معنیٰ
بعد الحمد والصلوٰۃ۔ خلافت کا لفظی معنٰی نیابت ہے جو قرآن کریم میں حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت داؤد علیہ السلام کے حوالہ سے آیا ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق سے پہلے اللہ رب العزت نے فرشتوں سے فرمایا کہ انی جاعل فی الأرض خلیفۃ میں زمین میں خلیفہ بنانے والا ہوں، اور حضرت داؤد علیہ السلام سے رب العزت نے فرمایا انا جعلناک خلیفۃ فی الارض ہم نے آپ کو زمین میں خلیفہ بنایا ہے۔
حضرت آدم علیہ السلام کی خلافت کا معنٰی بعض مفسرین بیان فرماتے ہیں کہ زمین پر پہلے جن بستے تھے، ان کی جگہ زمین کا نظام انسانوں کے حوالہ کر دیا گیا۔ یہ بات مشاہدہ میں بھی ہے کہ زمین پر بسنے والے ہزاروں قسم کے جانوروں میں سے زمین کے معاملات میں تصرف انسان ہی کر رہا ہے اور زمین کے ساتھ ہوا، پانی اور دیگر متعلقات پر بھی اسی کا تصرف ہے۔ یہ معنٰی بھی بیان کیا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنی نیابت و خلافت عطا فرمائی ہے کہ زمین پر وہ اللہ تعالیٰ کے احکام کے مطابق زندگی گزارے گا اور خدائی احکامات و قوانین کا نفاذ کرے گا۔ جبکہ حضرت داؤد علیہ السلام کو خلیفہ قرار دے کر انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ حکم دیا گیا ہے کہ ’’لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلے کرو اور خواہش کی پیروی نہ کرنا‘‘۔

جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خلافت کو سیاسی نظام کے طور پر بیان فرمایا ہے، بخاری شریف کی ایک روایت کے مطابق رسول اکرمؐ نے فرمایا کانت بنو اسرائیل تسوسھم الانبیاء کہ بنی اسرائیل میں سیاسی قیادت حضرات انبیاء کرام علیہم السلام فرمایا کرتے تھے، وہ خود حکمران ہوتے تھے یا حکمران کا تعین ان کے حکم سے ہوتا تھا، جیسا کہ جابر بادشاہ جالوت کے مقابلہ کے لیے بنی اسرائیل نے اپنے وقت کے پیغمبر سے درخواست کی کہ ان کے لیے بادشاہ کا تقرر کیا جائے تاکہ وہ اس کی قیادت میں جابر بادشاہ کا مقابلہ کر سکیں، چنانچہ ان کے پیغمبر حضرت سموئیل علیہ السلام نے طالوت کو ان کا بادشاہ مقرر کر دیا۔ جناب نبی اکرمؐ نے اسی بات کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ بنی اسرائیل میں سیاسی معاملات حضرات انبیاء کرام علیہم السلام نمٹایا کرتے تھے، اس سے سوال پیدا ہوا کہ نبی اکرمؐ خاتم النبیین ہیں اور آپؐ کے بعد کسی نئے نبی کے آنے کا کوئی امکان نہیں ہے تو پھر آپؐ کے بعد سیاسی نظام کس کے ہاتھ میں ہوگا۔ اس لیے مذکورہ بالا جملہ کے ساتھ ہی نبی اکرمؐ نے فرما دیا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا وستکون بعدی خلفاء البتہ میرے بعد خلفاء ہوں گے جو اس سیاسی نظام کو سنبھالیں گے۔ اس طرح جناب نبی اکرمؐ نے خلافت کو امت مسلمہ کے سیاسی نظام کے طور پر بیان فرمایا ہے اور اسلام کے سیاسی نظام کا عنوان ’’خلافت‘‘ ہے۔
2- خلیفہ کس کا نائب ہے؟
یہاں ایک دل چسپ بحث قابل توجہ ہے کہ خلیفہ شریعت اسلامیہ میں اللہ تعالیٰ کا نائب تصور ہوتا ہے یا جناب نبی اکرمؐ کی نیابت کرتا ہے؟ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ خلیفہ اللہ تعالیٰ کا نائب ہے لیکن یہ بات درست نہیں ہے اس لیے کہ امام ابو یعلیؒ کی ’’الاحکام السلطانیہ‘‘ میں واقعہ مذکور ہے کہ ایک صاحب نے خلیفۂ اول حضرت صدیق اکبرؓ کو یا خلیفۃ اللّٰہ کہہ کر خطاب کیا تو انہوں نے یہ کہہ کر ٹوک دیا کہ لست بخلیفۃ اللّٰہ انا خلیفۃ رسول اللّٰہ کہ میں اللہ تعالیٰ کا خلیفہ نہیں ہوں بلکہ رسول اللہؐ کا خلیفہ ہوں۔ چنانچہ حضرت صدیق اکبرؓ کو یا خلیفۃ رسول اللّٰہ کہہ کر پکارا جاتا تھا۔ لیکن جب حضرت عمرؓ کو یا خلیفۃ خلیفۃ رسول اللّٰہ کہہ کر پکارا جانے لگا تو خطاب میں ’خلیفہ‘ کے لفظ کے تکرار سے انہیں الجھن ہوتی تھی۔ شاید اس لیے کہ تیسرے اور چوتھے خلیفہ کے اس خطاب میں خلیفہ کے لفظ کا تکرار کتنی بار ہوگا اور اس سے کیا صورت حال پیدا ہوگی؟ اس پس منظر میں ایک دن حضرت عمرؓ کو حضرت عمرو بن العاصؓ نے یا امیر المومنین کہہ کر پکارا تو حضرت عمرؓ نے اس خطاب کو پسند کیا اور فرمایا کہ اب انہیں امیر المومنین کہہ کر ہی خطاب کیا جائے۔
اسی طرح فقہاء امت نے ’خلافت‘ کا مفہوم بیان کرتے ہوئے جہاں یہ بیان کیا ہے کہ خلیفہ اسے کہتے ہیں جو امت کے سیاسی اور اجتماعی امور سر انجام دے، وہاں یہ بھی لکھا ہے کہ نیابتًا عن النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم اس کی یہ حیثیت جناب نبی اکرمؐ کے نائب کے طور پر ہوگی۔
اس کے ساتھ ہی اگر ’’خلافت و امامت‘‘ کی بحث پر ایک نظر ڈال لی جائے تو بات زیادہ واضح ہوجاتی ہے جو اہل سنت اور اہل تشیع کے ہاں صدیوں سے جاری ہے۔
3- خلافت اور امامت میں فرق
اہل سنت کے نزدیک جناب نبی اکرمؐ کے بعد مسلمانوں کی مذہبی و سیاسی قیادت کا عنوان ’’خلافت‘‘ ہے جبکہ اہل تشیع اسے ’’امامت‘‘ سے تعبیر کرتے ہیں اور دونوں میں مختلف حوالوں سے واضح فرق ہے:
  • خلیفہ کا تقرر جناب نبی اکرمؐ نے خود نہیں کیا تھا بلکہ اسے امت کی صوابدید پر چھوڑ دیا تھا، اور حضرت صدیق اکبرؓ کا خلیفۂ اول کے طور پر انتخاب امت مسلمہ نے خاصے بحث و مباحثہ کے بعد اپنی اجتماعی صوابدید کے مطابق کیا تھا۔ جبکہ اہل تشیع کے نزدیک امام کے طور پر حضرت علیؓ کا تقرر خود جناب نبی اکرمؐ نے فرمایا تھا، اسی لیے انہیں ’’وصی‘‘ کہا جاتا ہے۔
  • امامت خاندانی ہے اور اہل تشیع کے بارہ اماموں میں سب کے سب ایک دوسرے کے نسبی وارث ہیں، جبکہ خلافت خاندانی نہیں ہے اور خلفاء راشدین میں سے کوئی بھی دوسرے کا نسبی وارث نہیں ہے۔
  • امام اہل تشیع کے نزدیک ’’معصوم‘‘ ہوتا ہے اور اس کی بات خود دلیل ہے، وہ کسی دلیل کا محتاج نہیں ہے مگر اہل سنت کے نزدیک خلیفہ کی شرعی حیثیت ’’مجتہد‘‘ کی ہے، وہ قرآن و سنت کی دلیل کا پابند ہے، اس کا اپنا فیصلہ اجتہادی ہوتا ہے جس سے اختلاف کیا جا سکتا ہے اور اس میں صواب کے ساتھ ساتھ خطا کا احتمال بھی موجود ہوتا ہے جیسا کہ خلفاء راشدینؓ کے فیصلوں سے اختلاف کیا جاتا رہا ہے۔
  • امام براہ راست خدا کا نمائندہ ہے اور اس کی بات اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتی ہے مگر خلیفہ جناب نبی اکرمؐ کا نائب ہے اور اس کے کسی فیصلے کو خدائی فیصلے کا درجہ حاصل نہیں ہے۔
  • امام کی کسی بات سے اختلاف نہیں کیا جا سکتا، جبکہ خلیفہ کی بات سے عام آدمی بھی اختلاف کر سکتا ہے اور خلیفہ کو دلیل کی بنیاد پر اپنا فیصلہ تبدیل کرنے پر بھی مجبور کیا جا سکتا ہے جس کے بیسیوں شواہد خلفاء راشدینؓ کے دور میں موجود ہیں۔
  • اماموں کی تعداد بارہ پر پہنچ کر مکمل ہوگئی ہے اور اہل تشیع کے بقول بارہویں امام ہی آخری امام ہیں جو زندہ ہیں اور وہی قرب قیامت میں ظاہر ہو کر امت پر حکمرانی کریں گے۔ جبکہ اہل سنت کے نزدیک خلفاء کا سلسلہ قیامت تک چلتا رہے گا اور قیامت سے پہلے ’’امام مہدی‘‘ کا ظہور ہوگا، وہ اگرچہ حضرت علیؓ اور حضرت فاطمہؓ کی اولاد میں سے ہوں گے لیکن اپنے دور میں پیدا ہوں گے اور ان کا ظہور ہوگا جس کے بعد وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی مدد سے امت کی قیادت کریں گے اور کفر کی طاقتوں کو شکست دے کر اسلامی حکومت قائم کریں گے۔
4- خلافت پر تھیا کریسی ہونے کا الزام
خلافت اور امامت کے اس اصولی فرق کو سمجھ لینے سے ایک اور بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ خلافت کے نظام پر تھیا کریسی کا جو الزام عائد کیا جاتا ہے وہ درست نہیں ہے۔ تھیا کریسی خدا کے نام پر حکومت کرنے کو کہتے ہیں جہاں حکمران اللہ تعالیٰ کا نائب کہلا کر ہر قسم کی تنقید اور اختلاف سے بالاتر سمجھا جاتا ہے۔ یہ تصور پاپائے روم کی حکمرانی کے دور میں سامنے آیا تھا کیونکہ پوپ کو خدا کا نمائندہ سمجھا جاتا تھا، اس کی بات فائنل ہوتی تھی اور اسے آخری اتھارٹی کا درجہ حاصل تھا۔ مغربی دنیا میں پاپائے روم کو صدیوں تک حکمرانوں کے سرپرست اعلیٰ کی حیثیت حاصل رہی ہے اور اس کی بات حکومت و سیاست میں بھی حرف آخر سمجھی جاتی تھی، اس لیے اس اتھارٹی کے خلاف بغاوت ہوئی اور حکومت و سیاست کو پوپ کی سرپرستی سے الگ کرتے ہوئے مذہب سے بھی آزاد کر دیا گیا۔ چنانچہ آج جب کسی جگہ اسلامی حکومت کی بات کی جاتی ہے تو اسے اسی پس منظر میں ’’تھیا کریسی‘‘ قرار دے کر بہت سے حلقوں میں قابل اعتراض قرار دیا جاتا ہے۔ لیکن ’’خلافت‘‘ کے مذکورہ تصور اور دائرے کو سامنے رکھتے ہوئے اس پر تھیا کریسی کا یہ الزام درست نہیں ہے، اس لیے کہ خلیفہ معصوم نہیں ہے، عوام کا منتخب نمائندہ ہوتا ہے، اس کی ہر بات سے دلیل کی بنیاد پر اختلاف کیا جا سکتا ہے، عوام اس کا احتساب کر سکتے ہیں، حتیٰ کہ اسے معزول بھی کیا جا سکتا ہے، اور وہ خود اتھارٹی ہونے کی بجائے قرآن و سنت کی تعلیمات کا پابند ہوتا ہے جن میں رد و بدل کا اسے خود کوئی اختیار نہیں ہے۔ اس لیے خلافت کو تھیا کریسی قرار دینا خلافت کے مفہوم و نظام سے ناواقف ہونے کی دلیل ہے۔ البتہ اہل تشیع کی امامت کا مفہوم تھیاکریسی کے قریب قریب ہے لیکن اہل سنت اسے قبول نہیں کرتے۔
5- خلافت ۔ دلیل و قانون کی حکومت
یہاں ایک اور نکتہ بھی سامنے رکھنا ضروری ہے کہ ’’خلافت‘‘ ہی دنیا میں وہ واحد سیاسی نظام ہے جسے دلیل اور قانون کی حکومت قرار دیا جا سکتا ہے کیونکہ:
  • بادشاہت میں بادشاہ خود قانون کا سرچشمہ ہوتا ہے اور وہ خود ہی اس کا شارح بھی ہوتا ہے۔ قانون بنانے، اسے تبدیل کرنے اور اس کی تشریح کرنے کا اختیار صرف اس کے پاس ہوتا ہے۔
  • ڈکٹیٹرشپ خواہ فوجی ہو یا پارٹی کی، اس کی صورت حال بھی اسی قسم کی ہے کہ شخصی یا اجتماعی ڈکٹیٹرشپ میں حکمران کے پاس ہی قانون سازی اور اس میں رد و بدل کے اختیارات ہوتے ہیں۔
  • جمہوریت میں کہا جاتا ہے کہ اختیارات عوام کے پاس ہوتے ہیں لیکن یہ صرف ایک پردہ ہے، اس لیے کہ پارلیمنٹ کو ہر معاملہ میں بالادستی حاصل ہوتی ہے، وہ دستور و قانون بنانے کی مجاز ہوتی ہے، اس میں رد و بدل کا اختیار اسی کے پاس ہوتا ہے اور اسے معطل کرنے کا حق بھی اسے حاصل ہوتا ہے، اس لیے کسی ایسے دستور و قانون کی پابندی کو جسے معطل کرنے اور اس میں رد و بدل کا اختیار بھی خود عمل کرنے والے کو حاصل ہو، دلیل و قانون کی حکومت قرار دینا مشکل سی بات ہے۔
  • خلافت میں حکمران شخص یا طبقہ ایک ایسے دستور و قانون کے ہر حال میں پابند ہوتے ہیں جس میں رد و بدل کا انہیں خود کوئی اختیار حاصل نہیں ہوتا۔ خلیفہ اجتہادی دائرے میں فیصلوں کا مجاز ہے لیکن قرآن و سنت کے صریح احکام میں کسی قسم کے رد و بدل کا اختیار نہیں رکھتا بلکہ ان کے نفاذ کا وہ پابند ہے۔ اس لیے خالص دلیل و قانون کی حکمرانی صرف خلافت کی صورت میں دنیا کو میسر آسکتی ہے اس لیے کہ خلیفہ ایسے طے شدہ قوانین کے نفاذ کا پابند ہوتا ہے جس میں رد و بدل کا خود اسے کوئی اختیار نہیں ہے، اسی لیے اسلام کے سیاسی نظام میں حکومت کا تصور نہیں ہے بلکہ اسے خلافت و نیابت کا عنوان دیا گیا ہے۔
خلافت کے مفہوم کو ایک اور حوالہ سے بھی دیکھ لیا جائے کہ اللہ رب العزت نے جب حضرت آدم و حوا علیہما السلام کو زمین پر اتارا تو دو باتیں واضح فرما دی تھی جن کی قرآن کریم میں صراحت ہے، ایک یہ کہ ولکم فی الارض مستقر ومتاع الٰی حین تمہارے لیے زمین میں قرارگاہ بھی ہوگی اور زندگی کے اسباب بھی ہوں گے لیکن ہمیشہ کے لیے نہیں بلکہ ایک محدود مدت تک کے لیے ہوں گے۔ اور دوسری بات یہ کہ اما یأتینکم منی ھدی فمن تبع ہدای فلا خوف علیھم ولاھم یحزنون میری طرف سے ہدایات آئیں گی جو ان ہدایات کی پیروی کرے گا وہ خوف و حزن سے نجات پائے گا اور جو خلاف ورزی کرے گا وہ جہنم میں جائے گا۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے نسل انسانی کو ایک محدود مدت کے لیے زمین پر بھیج کر اسے ان ہدایات کا پابند کر دیا جو اس کی طرف سے آئیں گی، یہ ہدایات حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کے ذریعہ آتی رہی ہیں جن کا فائنل ایڈیشن قرآن و سنت کی صورت میں آچکا ہے۔ ان ہدایات کی پیروی کا نظام قائم کرنے کا نام خلافت ہے اور یہی خلافت کی اصولی بنیاد ہے۔
6- نظام خلافت کا رفاہی پہلو
بخاری شریف کی ایک روایت کے مطابق جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص مال چھوڑ کر مرا وہ مال اس کے وارثوں میں تقسیم ہوگا ومن ترک کلًا وضیاعًا فإلیّ وعلیّ اور جو شخص قرض کا بوجھ اور بے سہارا اولاد چھوڑ کر مرا وہ میری طرف رجوع کریں گے اور ان کی ذمہ داری مجھ پر ہوگی۔ گویا آپؐ نے فرمایا کہ سوسائٹی کے نادار، مستحق اور بے سہارا اپنی ضروریات کے لیے میرے پاس آئیں گے، اور آپؐ نے بات صرف فإلیّ پر نہیں چھوڑی بلکہ وعلیّ فرما کر خود کو اس کا ذمہ دار بھی قرار دیا۔ چنانچہ اس ذمہ داری کو پورا کرنے کے لیے بیت المال کا تصور سامنے آیا جس کا دائرہ آنحضرتؐ کے دور میں یہ تھا کہ کسی شخص کو جو ضرورت بھی پیش آتی تھی وہ آپؐ سے رجوع کرتا تھا اور آپؐ بیت المال کے فنڈ سے اس کی ضرورت پوری فرما دیتے تھے۔ بیسیوں واقعات احادیث میں مذکور ہیں جن میں سے صرف دو کا تذکرہ کرنا چاہوں گا۔
حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ فرماتے ہیں کہ ہمارے خاندان کو ایک سفر کے لیے کچھ اونٹ درکار تھے، میں خاندان کا نمائندہ بن کر جناب نبی اکرمؐ کے پاس گیا اور سواریوں کا تقاضہ کیا، اس وقت آنحضرتؐ کے پاس اونٹ موجود نہیں تھے اس لیے آپؐ نے نہیں دیے لیکن تھوڑی دیر کے بعد کہیں سے اونٹوں کا بندوبست ہوگیا تو مجھے واپس بلا کر دو جوڑے میرے حوالے کیے۔ اسی طرح ایک واقعہ جناب رسول اللہؐ کی خوش طبعی اور دل لگی کے حوالہ سے بیان کیا جاتا ہے کہ ایک شخص حضورؐ کی خدمت میں آیا اور عرض کیا کہ مجھے سفر کے لیے اونٹ کی ضرورت ہے۔ آپؐ نے فرمایا ٹھہرو میں تمہیں اونٹنی کا بچہ دیتا ہوں، وہ شخص فکرمند ہوگیا کہ میں اونٹنی کے بچے کے ساتھ کیا کروں گا، تھوڑی دیر اس کی فکرمندی سے محظوظ ہونے کے بعد آپؐ نے فرمایا خدا کے بندے جو اونٹ میں تجھے دوں گا وہ کسی اونٹنی کا بچہ ہی ہوگا۔
حکومت کو لوگوں کی ضروریات حسبِ موقع فراہم کرنے کا ذمہ دار قرار دینے کی بات سب سے پہلے جناب رسول اللہؐ نے کی ہے اور وہیں سے رفاہی ریاست اور ویلفیئر اسٹیٹ کا آغاز ہوتا ہے ، اور آج بہت سی حکومتوں نے رفاہی ریاست کا یہ نظام اختیار کر رکھا ہے۔ یہ نظام خلفاء راشدینؓ کے دور میں باقاعدہ منظم ادارے کی شکل اختیار کر گیا تھا جس کی ایک عملی صورت حضرت عمر بن عبد العزیزؒ کے دور خلافت کے ایک واقعہ کا ذکر کر کے واضح کرنا چاہتا ہوں جبکہ اس وقت مدینہ منورہ میں جناب نبی اکرمؐ کی طرف سے بیت المال کے آغاز کو کم و بیش ایک صدی گزر چکی تھی۔
کتاب الاموال میں امام ابو عبید قاسم بن سلّامؒ نے واقعہ نقل کیا ہے کہ حضرت عمر بن عبد العزیز کے دور خلافت میں ان کے عراق کے گورنر عبد الحمید مرحوم نے ایک سال انہیں خط لکھا کہ صوبہ میں زکوٰۃ و عشر اور دیگر محصولات کی وصولی کے بعد پورے سال کا خرچہ اور بجٹ پورا کر کے کچھ رقم بچ گئی ہے، اس کے بارے میں بتایا جائے کہ ہم کیا کریں؟ حضرت عمر بن عبد العزیزؒ نے جواب لکھا کہ یہ سروے کرواؤ کہ تمہارے صوبے میں جو لوگ مقروض ہیں اور اپنا قرضہ ادا کرنے کی سکت نہیں رکھتے، ان کے قرضے اس رقم میں سے ادا کردو، گورنر نے جواب دیا کہ حضرت یہ کام میں پہلے ہی کر چکا ہوں۔ امیر المؤمنین نے دوسرا خط لکھا کہ جن بالغ لڑکوں اور لڑکیوں کی شادیاں اخراجات نہ ہونے کی وجہ سے رکی ہوئی ہیں ان کی شادیاں اس رقم میں سے کرا دو۔ گورنر نے جواب دیا کہ یہ کام بھی میں کر چکا ہوں، امیر المؤمنین نے تیسرا خط لکھا کہ جن خاوندوں نے ابھی تک بیویوں کے مہر ادا نہیں کیے اور وہ مہر ادا کرنے کی سکت نہیں رکھتے، ان کے مہر اس رقم میں سے دلوا دو، گورنر نے جواب دیا کہ یہ کام بھی میں کر چکا ہوں۔ امیر المؤمنین نے چوتھا خط لکھا کہ زمینوں کا سروے کرواؤ اور بے آباد زمینوں کی کاشت کے لیے کسانوں کو آسان قسطوں پر قرضے دے دو۔
7- خلافت کی شرعی حیثیت
اس کے بعد میں یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ خلافت کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ فقہائے کرام نے نظام خلافت کے قیام اور خلیفہ کے تقرر کو امت کے فرائض و واجبات میں شمار کیا ہے، حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے اس پر تفصیلی بحث کی ہے اور خلافت کے فرض ہونے پر دو بڑی دلیلیں پیش فرمائی ہیں۔ ایک یہ کہ جناب نبی اکرمؐ کے وصال کے بعد صحابہ کرامؓ نے سب سے پہلے خلیفہ کا انتخاب کیا تھا، حتیٰ کہ جناب نبی اکرمؐ کی تدفین پر بھی اسے مقدم کیا تھا، اسے فقہاء کرامؒ نے بل جعلوہ اھم الواجبات سے تعبیر کیا ہے اور حضرات صحابہ کرامؓ کا اس پر مکمل اجماع ہوا ہے جو کسی چیز کے فرض اور واجب ہونے کی واضح دلیل ہے۔ حضرت شاہ صاحبؒ نے دوسری دلیل یہ دی ہے کہ قرآن کریم کے بہت سے صریح احکام حکومت کے قیام پر موقوف ہیں۔ مثلاً حدود و قصاص کا نفاذ، امن و انصاف کا قیام، بیت المال اور زکوٰۃ کا نظام، جہاد کا تسلسل اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا اجتماعی نظام حکومتی سسٹم کا تقاضہ کرتا ہے۔ کیونکہ یہ اور ان جیسے بعض دیگر احکامِ قرآن حکومتی نظام کے بغیر نافذ و جاری نہیں کیے جا سکتے اور شرعی اصول یہ ہے کہ کسی فرض پر عمل جس چیز پر موقوف ہو وہ بھی فرض ہی کا درجہ اختیار کر جاتی ہے۔
اس بنیاد پر فقہاء کرامؒ نے خلافت کے قیام کو امت مسلمہ کے اجتماعی فرائض میں شمار کیا ہے اور اسے فرض کفایہ کا درجہ دیا ہے کہ اگر دنیا کے کسی حصے میں شرعی خلافت موجود ہے تو پوری امت کی طرف سے یہ فریضہ ادا ہو جاتا ہے لیکن اگر کہیں بھی خلافت کا نظام موجود نہیں ہے تو امت مسلمہ پوری کی پوری بطور امت ایک شرعی فریضہ کی تارک قرار پاتی ہے، اس پس منظر میں دیکھا جائے تو اس وقت دنیا میں کہیں بھی خلافت کا نظام کسی درجہ میں بھی خلافت کے عنوان سے اور خلافت کے مفہوم کے مطابق موجود نہیں ہے۔ اس لیے ہم سب بحیثیت امت ایک شرعی فریضہ کے تارک ہیں اور یہ گناہ ہم سب کے ذمے اس وقت تک رہے گا جب تک امت میں کسی نہ کسی سطح پر خلافت کا نظام قائم نہیں ہو جاتا۔ ۱۹۲۴ء تک خلافت کا عنوان کسی نہ کسی درجہ میں جیسا بھی تھا، دنیا کے نقشے پر موجود تھا لیکن اس کے ختم ہونے کے بعد ۱۹۲۴ء سے یہ قرضہ اور فریضہ امت کے ذمہ ہے۔ دنیائے اسلام میں خلافت کی بہت سی تحریکیں کام کر رہی ہیں جن پر آگے چل کر تبصرہ کروں گا لیکن بیسیوں فورموں پر مختلف ممالک میں خلافت کے لیے آواز اٹھائے جانے کے باوجود سرِدست خلافت کا نظام قائم ہوتا نظر نہیں آتا۔
8- خلافت کا تاریخی تسلسل
ان گزارشات کے بعد میں خلافت کے تاریخی تسلسل کے بارے میں عرض کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ خلافت راشدہ کا آغاز جناب نبی اکرمؐ کے وصال کے بعد خلیفۂ اول حضرت صدیق اکبرؓ سے ہوا تھا جو تیس سال تک جاری رہا اور اس میں حضرت عمرؓ، حضرت عثمانؓ اور حضرت علیؓ کے اسماء گرامی شامل ہیں، جبکہ حضرت معاویہؓ سے صلح تک حضرت حسنؓ کا مختصر دورِ اقتدار بھی تیس سال کے اسی دائرہ میں آتا ہے۔ اس کے بعد حضرت امیر معاویہؓ کا بیس سالہ دورِ خلافت ہے اور پھر بنو امیہ، بنو عباس اور بنو عثمان کی خلافتیں ہیں اور درمیان میں حضرت عبد اللہ بن الزبیرؓ کی خلافت کا دور بھی ہے۔ خلافت راشدہ کا دورانیہ تیس سال میں کیوں محصور ہے اور حضرت معاویہؓ اور حضرت عبد اللہ بن زبیرؓ کی خلافتوں کا شرعی مرتبہ کیا ہے؟ اس پر اہل علم کے ہاں خاصی بحث ہوئی ہے اور کسی درجہ میں اب بھی جاری ہے، لیکن اس ساری بحث سے قطع نظر میرا طالب علمانہ نقطۂ نظر یہ ہے کہ امت مسلمہ کے لیے حضرات صحابہ کرامؓ قیامت تک اسوہ حسنہ اور معیار ہیں۔ اور چونکہ امت ہر دور میں عزیمت پر عمل کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوسکتی اس لیے اللہ تعالیٰ نے تکوینی طور پر عزیمت اور رخصت کے دونوں دائرے حضرات صحابہ کرامؓ کے دور میں ہی دکھا دیے تا کہ امت کو اپنے اپنے وقت میں راہ نمائی حاصل کرنے میں کسی الجھن کا سامنا نہ ہو۔ حضرا ت خلفائے راشدین کا دور عزیمت کا دور ہے جو ہمارا اصل آئیڈیل ہے جبکہ حضرت معاویہؓ اور حضرت عبد اللہ بن زبیرؓ کی خلافتوں کو رخصت کا دور کہا جا سکتا ہے جو رخصتوں کے دائرے میں امت کے لیے قیامت تک معیار اور آئیڈیل رہے گا۔
’’خلافت راشدہ تیس سال تک رہی ہے‘‘ کا معنی یہ نہیں ہے کہ اس کے بعد اسلامی خلافت ختم ہوگئی تھی، اسلامی خلافت اس کے بعد بنو امیہ، بنو عباس اور بنو عثمان کی خلافتوں کی صورت میں ۱۹۲۴ء تک چلتی رہی ہے، اس میں اتار چڑھاؤ یقیناً آتے رہے ہیں لیکن مجموعی طور پر خلافت کا یہ تسلسل عثمانیہ خلافت کے خاتمہ تک قائم رہا ہے۔ اور جس خلافت پر بھی اپنے دور کے اہل علم اور امت کی رائے عامہ کا اعتماد رہا ہے وہ فقہی اصولوں کے مطابق خلافت اسلامیہ ہی شمار ہوتی ہے۔ خلافت راشدہ اسلامی خلافت کے اعلیٰ ترین معیار کا ٹائٹل ہے، اس اعلیٰ ترین معیار کے قائم نہ رہنے کا مطلب خلافت کے نظام کا خاتمہ نہیں ہے، اس اعلیٰ ترین معیار میں کسی حد تک کمی ہوئی ہے بلکہ اگر حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے ارشاد کو دیکھا جائے کہعلی منہاج النبوۃ یعنی خلافت راشدہ کے اعلیٰ ترین معیار کے لیے جو شرائط ضروری تھیں وہ پہلے چار بزرگوں پر ہی مکمل ہوگئی تھیں اور ان کے بعد ان شرائط کا پایا جانا مثلاً یہ کہ وہ براہ راست جناب نبی اکرمؐ کی تربیت میں رہے ہوں، بعد کے خلفاء میں اس درجہ میں ممکن ہی نہ تھا، اس لیے اس کا تعلق کسی شرعی ضابطے سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے تکوینی نظام سے معلوم ہوتا ہے۔
تاریخی ترتیب کے لحاظ سے خلافت راشدہ کے بعد حضرت معاویہؓ سے شروع ہونے والا خلافت بنی امیہ کا نوے سالہ دور، پھر خلافت عباسیہ کا مختلف مراحل پر مشتمل پانچ سو سالہ دور، اور اس کے بعد ۱۹۲۴ء تک خلافت عثمانیہ کا دور ہمارا وہ تاریخی تسلسل ہے جس میں خلافت کا ادارہ کسی نہ کسی صورت میں موجود رہا ہے اور مختلف شعبوں میں کام بھی کرتا رہا ہے۔
خلافت عثمانیہ ترکوں کے بنو عثمان کی حکومت تھی، عثمان اول نے ۱۲۹۹ء میں ’’برسا‘‘ کے مقام پر عثمانی حکومت قائم کرنے کا اعلان کیا، پھر مصر میں قائم خلافت عباسیہ نے اس کے حق میں دست برداری اختیار کر کے عثمانیوں کی خلافت کو تسلیم کر لیا اور سلطان محمد فاتحؒ نے قسطنطنیہ کو فتح کر کے اسے عثمانی خلافت کا دارالسلطنت بنا دیا۔ ایک دور میں خلافت عثمانیہ کا دائرہ سلطنت افریقہ کے بیشتر حصوں کے علاوہ مصر، عراق، جزیرۃ العرب، بلغاریہ، البانیہ، ہنگری اور روس کے بعض علاقوں تک وسیع تھا۔
9- نظامِ خلافت کا خاتمہ
۱۹۱۴ء سے ۱۹۱۸ء تک لڑی جانے والی پہلی جنگ عظیم میں جس میں ایک طرف جرمنی اور بلغاریہ وغیرہ تھے اور دوسری طرف برطانیہ، فرانس، روس اور دوسرے ممالک کا متحدہ محاذ تھا، اس جنگ میں خلافت عثمانیہ جرمنی کے ساتھ تھی۔ مختلف ممالک کے درمیان لڑی جانے والی اس عالمی جنگ میں چار سال کے دوران ایک کروڑ کے لگ بھگ افراد لقمۂ اجل بنے اور دو کروڑ کے قریب زخمی اور ناکارہ ہوگئے۔ اس جنگ میں جرمنی اور خلافت عثمانیہ کو شکست ہوئی جس کے نتیجہ میں خلافت عثمانیہ کے مختلف علاقوں پر متحدہ فوجوں نے قبضہ کر لیا، حتیٰ کہ مشرق وسطیٰ میں عراق، فلسطین اور مصر وغیرہ پر فرانس اور برطانیہ نے تسلط جما لیا۔ اس سے قبل ترکوں اور عربوں کو قومیت کی بنیاد پر ایک دوسرے سے متنفر کرنے کا ماحول پیدا کر لیا گیا تھا۔ ترکی میں نوجوان انقلاب پسندوں کا گروہ مصطفی کمال اتاترک کی قیادت میں سامنے آچکا تھا جبکہ عرب ممالک میں برطانوی فوج کے ایک افسر کرنل تھامس ایڈورڈ لارنس (لارنس آف عریبیا) نے مسلمان اور عرب دانش ور کا روپ دھار کر عربوں کو ترکوں کے خلاف متنفر کرنے کی مہم کامیابی کے ساتھ آگے بڑھا لی تھی۔ اسی کے نتیجے میں مکہ کے گورنر شریف حسین نے ترکوں کے خلاف بغاوت کر کے جزیرۃ العرب سے خلافت عثمانیہ کی فوجوں کو نکال دیا تھا، اسی دوران فلسطین پر قبضہ کر کے برطانیہ نے وہاں دنیا بھر سے یہودیوں کو لا کر بسانے کا موقع فراہم کر دیا تھا جس کے نتیجے میں اسرائیل کی ریاست وجود میں آئی اور اس طرح برطانیہ نے یہودیوں کو ان کا قومی وطن واپس دلانے کا وعدہ پورا کیا۔ خود ترکی میں فاتح متحدہ فوجوں نے ڈیرے لگا لیے تھے اور یونان نے ترکی کے ایک بڑے حصے پر قبضہ کر لیا تھا۔ ترکی کے قوم پرست راہ نما مصطفی کمال نے جو اتاترک کے لقب سے متعارف ہیں ترکی کی خود مختاری کا پرچم اٹھایا اور یونانی فوجوں سے جنگ لڑ کر انہیں شکست دی، انہوں نے خلافت تو ختم کر دی لیکن ترکی کی خود مختاری قائم رکھنے میں کامیاب رہے۔ اس پس منظر میں ترکی کے مستقبل کے سوال پر سوئٹرز لینڈ کے شہر ’’لوزان‘‘ میں بین الاقوامی کانفرنس ہوئی جس میں یورپ کے اتحادیوں نے اس شرط پر اور ترک قومیت کی بنیاد پر ترکی کی خود مختاری تسلیم کرنے کا وعدہ کیا کہ:
  • ترکی خلافت سے دست بردار ہو کر خلیفہ کو جلا وطن کر دے۔
  • خلافت کا نظام اور شریعت کا قانون یکسر منسوخ کر دیا جائے اور آئندہ خلافت کے قیام اور شریعت کے نفاذ سے باز رہنے کا وعدہ کیا جائے، اور
  • عرب، افریقہ اور یورپ میں خلافت عثمانیہ کے مقبوضات سے بھی دست برداری کا اعلان کیا جائے۔
قوم پرست ترکی کے لیڈروں مصطفی کمال اتاترک اور عصمت ازنو نے ’’لوزان معاہدہ‘‘ کے تحت ان شرائط کو تسلیم کر کے خلافت سے دست برداری کا اعلان کر دیا اور ۱۹۲۴ء کے دوران اس وقت کے عثمانی خلیفہ کو اس کی تمام املاک ضبط کر کے جلا وطن کر دیا گیا۔ یوں خلافت سے اس دست برداری کے بعد خلافت کا برائے نام ادارہ بھی ختم ہوگیا، ہم اس کے بعد سے خلافت سے محروم چلے آرہے ہیں اور خدا جانے کب تک یہ محرومی ہمارے مقدر میں رہے گی۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ مغربی دنیا آج پورے عالم اسلام میں کسی جگہ بھی خلافت کے قیام اور شریعت کے نفاذ کی مخالفت کر رہی ہے، حتیٰ کہ سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے وزیر اعظم کی حیثیت سے ایک تقریر میں واضح طور پر کہا تھا کہ ہم دنیا کے کسی خطہ میں نہ خلافت قائم ہونے دیں گے اور نہ ہی شریعت نافذ ہونے دیں گے، اور امریکہ کے سابق نائب صدر ڈک چینی نے بھی ایک موقع پر اسی طرح کی گفتگو کی تھی۔ اس کی ایک وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ چونکہ ترکی نے عالم اسلام کے نمائندہ کی حیثیت سے خلافت اور شریعت سے دست بردار ہونے اور آئندہ خلافت و شریعت کو نافذ نہ کرنے کا ’’معاہدہ لوزان‘‘ میں وعدہ کیا تھا، اس لیے خلافت کا دوبارہ قیام اور شریعت کا نفاذ اس بین الاقوامی معاہدہ کی خلاف ورزی ہوگا جس سے مسلمانوں کو روکنے کا عالمی قوتوں کو حق حاصل ہے اور اسی لیے دنیائے اسلام میں نفاذ اسلام کی تحریکوں کی مخالفت کی جا رہی ہے۔
10- خلافت کا سیاسی ڈھانچہ
خلافت کے اس تاریخی تسلسل اور خلافت کے خاتمہ کے پس منظر کے بعد اب میں چاہوں گا کہ خلافت راشدہ کے سیاسی ڈھانچے کے بارے میں بھی کچھ عرض کر دوں، اس لیے کہ خلافت کا سیاسی اسٹرکچر آج کی دنیا میں ایک اہم موضوع کے طور پر زیر بحث ہے اور بہت سا کنفیوژن لوگوں کے ذہنوں میں موجود ہے۔ خلافت راشدہ کے تعارف کے ضمن میں یہ عرض کر چکا ہوں کہ خلافت کی بنیاد چند اصولوں پر ہے:
  • خلیفہ عوام کی صوابدید پر منتخب ہوگا، البتہ اس کے دو پہلو قابل توجہ ہیں، حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی رائے میں اہل حل و عقد کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ خلیفہ کا انتخاب کریں اور ابن تیمیہؒ اسے عامۃ المسلمین کا حق قرار دیتے ہیں۔
  • خلیفہ خاندانی بنیاد پر نہیں ہوگا بلکہ خاندان کی قید کے بغیر کسی بھی مستحق شخص کو خلیفہ منتخب کیا جا سکے گا۔
  • خلیفہ عوام کے سامنے جواب دہ ہے جیسا کہ حضرت ابوبکرؓ نے اپنے پہلے خطبۂ خلافت میں واضح کر دیا تھا کہ اگر میں صحیح راستے پر چلوں تو میرا ساتھ دو اور اگر قرآن و سنت سے ہٹ کر چلنے لگوں تو مجھے سیدھا کر دو۔ یہاں سیدھا کر دینے کے لفظ میں بھی ایک بلیغ اشارہ ہے کہ عوام کو صرف خلیفہ کی غلطی کی نشاندہی کر دینے کا حق نہیں دیا جا رہا بلکہ فقومونی کہہ کر سیدھا کر دینے کا حق انہیں دیا جا رہا ہے جسے میں اپنی طالب علمانہ رائے میں ’’حق احتساب‘‘ سے تعبیر کرتا ہوں اور اس کی عملی صورتیں زمانے کے حالات کے مطابق مختلف ہو سکتی ہیں۔
  • خلیفہ خود مختار نہیں بلکہ قرآن و سنت کے احکام اور امت کے اہل حل و عقد کے ساتھ مشاورت کا پابند ہوگا۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ اور بہت سے دوسرے فقہاء کرامؒ کا کہنا یہ ہے کہ خلیفہ کا انتخاب عوام کا براہ راست حق ہے کیونکہ حضرت صدیق اکبرؓ کی خلافت و بیعت میں سب لوگ بلا امتیاز شریک تھے۔ میرا طالب علمانہ رجحان بھی اسی طرف ہے لیکن اس سے زیادہ فرق نہیں پڑتا، اس لیے کہ انتخاب براہ راست ہو یا بالواسطہ دونوں صورتوں میں خلافت کے قیام اور خلیفہ کے انتخاب کے لیے امت کی اجتماعی صوابدید ہی بنیاد ہے اور اس اجتماعی صوابدید کے اظہار کے لیے کوئی بھی صورت اختیار کی جا سکتی ہے۔ البتہ اس اصولی بحث کے ساتھ ساتھ خلیفہ کے انتخاب کے لیے فقہاء کرامؒ نے جو عملی صورتیں بیان فرمائی ہیں ان کا بھی جائزہ لے لینا چاہیے۔ فقہاء کرام نے خلافت کے انعقاد کی پانچ صورتیں بیان کی ہیں:
  • امت کے عوام یا اہل حل و عقد خلیفہ کا انتخاب کریں جیسا کہ حضرت صدیق اکبرؓ کا انتخاب ہوا تھا۔
  • خلیفۂ وقت کسی کو اپنا جانشین نامزد کر دے جیسا کہ حضرت عمرؓ کو خلیفہ اول نے نامزد کیا تھا۔
  • خلیفۂ وقت کچھ لوگوں کو خلیفہ کے تقرر کا اختیار دے دے جیسا کہ حضرت عمرؓ نے چھ ممتاز افراد پر کمیٹی قائم کر دی تھی اور انہوں نے عوام سے اجتماعی مشاورت کے بعد حضرت عثمانؓ کو خلیفہ منتخب کر لیا تھا۔
  • خلافت کی مجلس شوریٰ کے ارکان کسی کو خلیفہ بنا لیں جیساکہ حضرت علیؓ کا انتخاب ہوا تھا۔
  • کوئی اہل شخص اقتدار پر قبضہ کرلے اور امت اسے قبول کر لے جیسا کہ حضرت حسنؓ کی بیعت کے بعد امت مسلمہ نے حضرت امیر معاویہؓ کو متفقہ امیر المومنین کے طور پر قبول کر لیا تھا۔ ان پانچ صورتوں میں سے آج کے دور میں صرف پہلی اور آخری دو صورتیں قابل عمل ہیں، درمیان کی تینوں صورتیں عملاً ممکن نہیں ہیں، اس لیے کہ ان تینوں صورتوں کا مدار خلافت اور خلیفہ کی موجودگی پر ہے اور چونکہ اس وقت خلافت اور خلیفہ شرعی طور پر موجود نہیں ہیں اس لیے درمیان کی تینوں صورتیں خارج از بحث ہو جاتی ہیں۔
خلافت کے قیام کی عملی صورتیں
اس بنیاد پر آج کے دور میں خلافت کے قیام اور خلیفہ کے انتخاب کی دو ہی صورتیں قابل عمل ہیں۔ ایک یہ کہ کسی مسلم ریاست کے عوام یا ان کے منتخب نمائندے خلافت کو اپنے ملک کا نظام قرار دے کر باقاعدہ خلیفہ کا انتخاب کر لیں اور دوسری یہ کہ کوئی اہل شخص کسی مسلم ریاست میں اقتدار پر قبضہ کر کے خلافت کے نظام کے قیام کا اعلان کرے اور عوام اسے بطور خلیفہ قبول کر لیں۔ اس کے سوا کوئی صورت آج کے دور میں ممکن اور قابل عمل نہیں ہے۔
اسی ضمن میں یہ بات بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ ہمارے دور میں خلافت اور امامت کے دونوں تصورات کو دستور و قانون کی شکل دینے کی کوشش کی گئی ہے۔
جناب آیت اللہ خمینی کی قیادت میں ایران میں مذہبی انقلاب آیا تو وہاں ’’امامت‘‘ کے فلسفہ کو دستوری شکل دی گئی اس لیے کہ اہل تشیع کے نزدیک حکمرانی کا حق امام غائب کو ہی حاصل ہے۔ چنانچہ امام غائب کے ظہور تک ’’ولایت فقیہ‘‘ کو دستوری طور پر ان کا نمائندہ اور قائم مقام قرار دیا گیا ہے اور ولایت فقیہ کو ایرانی دستور میں عملاً امام کا درجہ حاصل ہے۔ ایران کے منتخب صدر، وزیر اعظم اور پارلیمنٹ سے بالاتر ولایت فقیہ کے طور پر رہبرِ انقلاب کا درجہ ہے جنہیں پارلیمنٹ، عدلیہ اور حکومت سمیت کسی بھی اتھارٹی کے فیصلے کو مسترد کرنے کا حق حاصل ہے اور ان کے فیصلے کو کسی جگہ بھی چیلنج نہیں کیا جا سکتا، وہ تمام معاملات میں فائنل اتھارٹی ہیں۔ البتہ ان کے ساتھ ممتاز علماء اور وکلاء پر مشتمل ’’شورائے نگہبان‘‘ بنائی گئی ہے جسے امام کے مشیروں کی کونسل سمجھا جاتا ہے۔ اس طرح ایران نے ’’امام‘‘ کا لفظ اختیار کیے بغیر امامت کو دستور کا حصہ بنا لیا ہے اور اسی کے مطابق ایران کا نظام چل رہا ہے۔
جبکہ اسلام کے نام پر قائم ہونے کے بعد پاکستان میں بھی یہ سوال پیدا ہوگیا تھا کہ اس کا سیاسی ڈھانچہ کیسا ہوگا جو اسلام سے متصادم نہ ہو۔ اس کے لیے خلافت کا عنوان اختیار کرنے سے گریز کیا گیا جس کی ایک وجہ یہ تھی کہ خلافت کا ماڈل اس وقت ’’خلافت عثمانیہ‘‘ کی صورت میں دنیا کے سامنے تھا جو خاندانی خلافت تھی اور پاکستان میں کسی خاندانی حکومت کا کوئی عملی امکان نہیں تھا۔ اس لیے قرارداد مقاصد اور اس کے ساتھ ساتھ تمام مکاتب فکر کے سرکردہ ۳۱ علماء کرام کے مرتب کردہ ۲۲ متفقہ دستوری نکات میں چند اصول واضح طور پر طے کر دیے گئے کہ:
  • حاکمیت اعلیٰ اللہ تعالیٰ کی ہے۔
  • حق حکمرانی عوام کے منتخب نمائندوں کو حاصل ہوگا۔
  • منتخب پارلیمنٹ قرآن و سنت کی پابند ہوگی۔
  • عوام کو حق احتساب حاصل ہوگا۔
میری طالب علمانہ رائے میں ہمارے ہاں بھی خلافت کی اصطلاح استعمال کیے بغیر خلافت کے اصولی مفہوم کو قرارداد مقاصد اور علماء کے ۲۲ نکات میں پوری طرح سمو دیا گیا ہے اور میرے خیال میں اگر آج ہم کسی جگہ ’’خلافت‘‘ کے ٹائٹل کے ساتھ اسلامی حکومت قائم کرنا چاہیں گے تو اس کی اصولی اور دستوری بنیادیں اس سے مختلف نہیں ہوں گی۔
خلیفہ کے لیے قریشی ہونے کی شرط
یہاں ایک اور بحث بھی قابل توجہ ہے کہ ایک عرصہ تک خلیفہ کے لیے قریشی ہونے کی شرط کو لازمی سمجھا جاتا رہا ہے اور کم و بیش تمام فقہاء نے اس کی صراحت کی ہے۔ لیکن عثمانی خلفاء قریشی نہیں تھے، ا س کے باوجود ان کی خلافت پر صدیوں تک امت کے جمہور اہل علم کا اتفاق رہا ہے اور اس خلافت کو حرمین شریفین اور مسجد اقصیٰ میں بھی تسلیم کر کےجمعۃ المبارک کے خطبوں میں ان کا مسلسل تذکرہ ہوتا رہا ہے۔ اس لیے یہ سوال سامنے آیا کہ اگر خلیفہ کے لیے قریشی ہونا ضروری ہے تو عثمانی خلفاء کی خلافت کو کیسے تسلیم کر لیا گیا۔
قدیم دور میں اس پر صرف ابن خلدونؒ نے بات کی ہے، انہوں نے یہ لکھا ہے کہ جناب نبی اکرمؐ کا ارشاد گرامی الائمۃ من قریش بطور حکم کے نہیں بلکہ بطور خبر اور پیش گوئی کے تھا جو پوری ہوگئی ہے، اس لیے آئندہ اس شرط کو لازمی قرار دینا ضروری نہیں ہے۔ اس موقف کے حق میں یہ استدلال بھی کیا گیا ہے کہ جناب نبی اکرمؐ نے ایک ارشاد میں خلفاء کے قریشی ہونے کا ذکر کرتے ہوئے ما اقاموا الدین کا جملہ بھی فرمایا ہے کہ جب تک وہ دین کو قائم کریں گے خلافت قریش میں رہے گی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب قریشی اقامت دین کے فریضہ سے کوتاہی کریں گے تو خلافت ان کے پاس نہیں رہے گی۔ لیکن اس بحث کے باوجود جمہور فقہائے امت خلیفہ کے لیے لازمی شرائط میں قریشی ہونے کا برابر ذکر کرتے رہے ہیں۔ ہمارے ہاں اس بحث نے اس وقت دل چسپ صورت اختیار کر لی جب متحدہ ہندوستان میں ترکوں کی خلافت عثمانیہ کی حمایت میں تحریک چلائی گئی تو کہا گیا کہ قریشی نہ ہونے کی وجہ سے ترکوں کا عثمانی خاندان تو سرے سے خلافت کا اہل ہی نہیں ہے۔ اور جب شریف مکہ حسین نے خلافت عثمانیہ کے خلاف بغاوت کر کے حجاز سے ترکی افواج کو نکالا تب ایک فتویٰ ترکوں کے خلاف مرتب کیا گیا تھا جس میں انہیں مختلف حوالوں سے خلافت کے لیے نااہل قرار دیا گیا تھا، ان میں ایک حوالہ قریشی نہ ہونے کا بھی تھا، اس پر بریلوی مکتب فکر کے امام مولانا احمد رضا خان کا ایک مستقل رسالہ دوام العیش فی ان الائمۃ من قریش کے نام سے مطبوعہ صورت میں موجود ہے۔ چنانچہ ہمارے دیوبندی اکابر علماء نے، جو ترکوں کی خلافت عثمانیہ کو شرعی خلافت قرار دے کر اس کی حمایت میں جدوجہد کر رہے تھے، اس کے جواب میں ابن خلدونؒ والا موقف اپنایا اور خلافت کے قریش میں ہونے کے بارے میں جناب نبی اکرمؐ کے ارشاد گرامی کو انشاء اور حکم کی بجائے خبر اور پیش گوئی قرار دے کر ترکوں کی خلافت کی حمایت کی۔ شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی قدس اللہ سرہ العزیز نے اپنے ایک خطبۂ صدارت میں اس موقف کا ذکر فرمایا ہے اور اسے صحیح موقف قرار دیا ہے۔
بہرحال دلائل اور مکالمہ کی تفصیل میں جائے بغیر یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ایک اسلامی حکومت کے بارے میں ہمارے دور کے اکابر علماء کرام نے باہمی مشاورت یا اجتہاد کے ساتھ یہ اصول طے کیا ہے کہ ایک اسلامی ریاست کا سربراہ عوام کا منتخب کردہ ہوگا، اور خلافت کی شرائط پوری کرنے والا کوئی بھی شخص خلیفہ منتخب ہو سکتا ہے۔
11- خلافت کی بحالی کی جدوجہد
خلافت کے بارے میں یہ صورت حال سامنے رکھنا بھی ضروری ہے کہ اس وقت دنیائے اسلام میں اس مقصد کے لیے بیسیوں حلقے کام کر رہے ہیں کہ کسی جگہ خلافت اسلامیہ قائم ہو جائے۔ ان میں سے بعض حلقوں کے ساتھ میرا رابطہ ہے اور اصولی طور پر ان کی جدوجہد کی حمایت بھی کرتا ہوں لیکن اس سلسلہ میں میرے بعض تحفظات ہیں جن کا تذکرہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔ ان میں ایک یہ ہے کہ کم و بیش ہر حلقہ میں خلافت کے ساتھ ساتھ خلیفہ کے لیے کسی شخصیت کو سامنے رکھ کر اس کے گرد لوگوں کو جمع کرنے کی بات بھی کی جاتی ہے جو درست نہیں ہے۔ میں ان دوستوں سے کہا کرتا ہوں کہ خلافت کے احیاء کی تحریک میں حمایت کرتا ہوں لیکن کسی کو خلافت کے لیے ابھی سے سامنے رکھ کر اس کے حق میں کیمپین (Campaign) کو درست نہیں سمجھتا۔ ابھی خلافت کے لیے رائے عامہ کو تیار کرنے کا دور ہے، لوگوں کی ذہن سازی کا دور ہے، اس کے لیے راہ ہموار کرنے کا دور ہے، اور خلافت کے بارے میں عوام کے ذہنوں میں پائے جانے والے شکوک و شبہات کو دور کرکے انہیں منظم کرنے کا دور ہے۔ جب یہ مرحلہ گزر کر خلافت کی عملی تشکیل کا دور آئے گا تو پھر دیکھا جائے گا کہ خلافت کے لیے موزوں ترین شخصیت کون سی ہے۔ ایک دفعہ لندن کے ٹریفالیگر سکوائر میں حزب التحریر کے زیر اہتمام نکالی جانے والی خلافت ریلی میں مجھے شرکت کا موقع ملا، وہاں خلافت کے حق میں مسلمان لڑکیوں اور لڑکوں کے جذبات سے پُر نعرے سن کر میری آنکھیں بھی بار بار نم ہوتی رہیں۔ اس موقع پر ایک ترک نوجوان کو دیکھا کہ وہ بادشاہوں والا لباس زیب تن کیے کھڑا ہے اور لوگوں کو اپنی بیعت کی دعوت دے رہا ہے۔ اس نے مجھ سے بھی اپنا تعارف کرایا اور کہا کہ کیا آپ مجھ سے متفق ہیں، میں نے عرض کیا أتفق علی الخلافۃ لا علی الخلیفۃ کہ میں خلافت کے احیاء کے لیے آپ سے متفق ہوں لیکن آپ کو خلیفہ قرار دینے سے میں متفق نہیں ہوں۔
12- خلافت اور رائے عامہ
کچھ لوگوں کے ذہن میں بعض فقہی جزئیات ہیں کہ اگر کسی شخص کو چند افراد خلیفہ منتخب کر لیں اور کچھ لوگ اس کی بیعت کر لیں تو باقی ساری امت پر اس خلافت کو تسلیم کرنا شرعاً ضروری ہو جاتا ہے۔ یہ بات درست نہیں ہے اور میں علماء کرام سے گزارش کیا کرتا ہوں کہ وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اس خطبہ کا بغور مطالعہ کریں جو انہوں نے اپنی شہادت سے قبل غالبًا آخری خطبہ جمعہ کے طور پر مسجد نبویؐ میں ارشاد فرمایا تھا اور امام بخاریؒ نے اسے تفصیل کے ساتھ نقل کیا ہے۔ اس روایت کے مطابق حضرت عمرؓ کو بتایا گیا کہ چند افراد نے باہمی مشورہ میں طے کیا ہے کہ حضرت عمرؓ فوت ہوگئے تو ہم کچھ افراد فلاں بزرگ کے ہاتھ پر بیعت کر کے ان کی خلافت کا اعلان کر دیں گے اور باقی سب لوگوں پر اسے ماننا ضروری ہو جائے گا۔ حضرت عمرؓ نے خطبہ جمعہ میں اس کا ذکر کر کے خبردار کیا کہ ایسا ہرگز نہ کرنا۔ اس خطبہ میں حضرت عمرؓ کے دو جملوں کا بطور خاص ذکر کرنا چاہوں گا، ایک یہ کہ انہوں نے فرمایا کہ جو لوگ عام مسلمانوں کی مشاورت کے بغیر کسی کو خلیفہ بنانے کی بات کر رہے ہیں یریدون أن یغصبوا امورھم وہ عام مسلمانوں کا حق چھیننا چاہتے ہیں، اور دوسری بات یہ کہ حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ مسلمانوں کی عمومی مشاورت کے بغیر اگر کسی شخص کی بیعت کی جائے تو تم اس کی بات ہرگز نہ ماننا اور نہ اس کی بیعت کرنا۔ امیر المومنین حضرت عمرؓ نے خلیفہ کے انتخاب کے لیے مسلمانوں کی عمومی مشاورت کو ضروری قرار دیا ہے اور اس کے خلاف کرنے سے منع کیا ہے۔
ایک اور مغالطہ بھی دور ہو جائے تو مناسب ہوگا کہ خلیفہ کی طرف سے نامزدگی کی صورت میں بھی عمومی مشاورت ایک ناگزیر امر ہے۔ حضرت عمرؓ نے چھ افراد کو نامزد کیا تھا، ان میں ایک دوسرے کے حق میں دست بردار ہونے کے بعد تین رہ گئے تھے، ان تین میں سے حضرت عثمانؓ اور حضرت علیؓ نے حضرت عبد الرحمن بن عوفؓ کو اس صورت میں فیصلے کا اختیار دے دیا تھا کہ وہ خود یعنی عبد الرحمن بن عوفؓ امیدوار نہیں ہوں گے۔ اب فائنل راؤنڈ میں حضرت عبد الرحمن بن عوفؓ نے حضرت عثمان اور حضرت علیؓ میں سے کسی کا انتخاب کرنا تھا۔ لیکن بخاری شریف کی تفصیلی روایت کے مطابق حضرت عبد الرحمن بن عوفؓ فرماتے ہیں کہ میں نے مدینہ منورہ میں مشورہ کے لیے ہر گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا، تین دن تین رات تک مسلسل میں نے ہر طبقہ کے لوگوں سے مشاورت کی اور اس دوران میں نے نیند کا سرمہ تک آنکھوں میں نہیں لگایا، جبکہ تین دن تین رات کی مسلسل عوامی مشاورت کے بعد انہوں نے اپنا فیصلہ ان الفاظ میں سنایا کہ میں نے سب لوگوں سے مشورہ کیا ہے اور اکثریت کی رائے کو حضرت عثمانؓ کے حق میں پایا ہے اس لیے میں ان کے ہاتھ پر بیعت کرتا ہوں۔ اس کا مطلب ہے کہ نامزدگی کی صورت میں بھی رائے عامہ کو اعتماد میں لینا ضروری ہے اور عمومی مشاورت کے بغیر کسی کو خلیفہ مقرر کر لینا صحیح طرز عمل نہیں ہے۔ پھر عام لوگوں کی رائے معلوم کرنے کے مختلف طریقے ہیں، حضرت عبد الرحمن بن عوفؓ نے تو گھر گھر جا کر لوگوں کا رجحان معلوم کیا مگر لوگوں کی رائے ان کے نمائندوں کے ذریعہ معلوم کرنا بھی سنت نبویؐ میں شامل ہے۔
بخاری شریف کی روایت ہے کہ غزوۂ حنین کے بعد جب نبی اکرمؐ نے بنو ھوازن کے قیدی اور اموال صحابہ کرامؓ میں تقسیم کر دیے تو بنو ھوازن کے وفد نے حاضر ہو کر کہا کہ ہم مسلمان ہوگئے ہیں اس لیے ہمارے قیدی اور اموال واپس کر دیے جائیں۔ جناب نبی اکرمؐ نے فرمایا کہ میں کافی دنوں تک تمہارا انتظار کرتا رہا مگر تم نہیں آئے ،میں نے قیدی اور اموال بطور غلام اور غنیمت اپنے مجاہدین میں تقسیم کر دیے ہیں اس لیے اب یہ ان کی ملکیت ہوگئے ہیں۔ تم مسلمان ہو کر آئے ہو تو میں دونوں چیزیں تمہیں واپس نہیں کر سکتا، قیدیوں اور اموال میں سے ایک کی بات کرو تو اس کی صورت نکل سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورت میں ہمارے قیدی واپس کر دیے جائیں۔ اس پر جناب نبی اکرمؐ نے صحابہ کرامؓ کو، جو بارہ ہزار کے لگ بھگ تھے، جمع کیا اور فرمایا کہ میں بنو ھوازن کو ان کے قیدی واپس کرنے کا وعدہ کر چکا ہوں اس لیے تم میں سے جو شخص اپنے حصے کا قیدی بخوشی واپس کر دے تو اس کی مرضی، ورنہ قیدی واپس کر دو میں اس کے بدلے اگلی جنگ میں تمہیں معاوضہ کے طور پر قیدی بطور غلام دینے کا وعدہ کرتا ہوں۔ صحابہ کرامؓ نے بیک آواز کہا کہ ہم سب بخوشی سب قیدی واپس کرتے ہیں، لیکن جناب نبی اکرمؐ نے فرمایا کہ نہیں اس طرح ہمیں معلوم نہیں ہوتا کہ تم میں سے کون بخوشی راضی ہے اور کون راضی نہیں ہے، اس لیے تم واپس اپنے خیموں میں جاؤ اور حتی یرفع الینا عرفاء کم امرکم تمہارے نمائندے تمہاری رائے معلوم کر کے ہمیں بتائیں تب ہم حتمی فیصلہ کریں گے۔ چنانچہ سب لوگ خیموں میں چلے گئے اور اگلے روز ان کے نمائندوں نے نبی اکرمؐ کو رپورٹ دی کہ سب لوگ راضی ہیں۔ اس پرجناب نبی اکرمؐ نے بنو ھوازن کو ان کے قیدی واپس کر دیے۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عوام کی رائے معلوم کرنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ ان کی رائے ان کے نمائندوں کے ذریعہ معلوم کر لی جائے۔ اور جہاں ان کے حقوق کی بات ہوگی وہاں عوام کی رائے معلوم کرنا ضروری ہوگا اور یہ بھی خلافت کے سیاسی ڈھانچے کا ایک مستقل شعبہ ہے۔ اس بحث کا مختصر خلاصہ یہ ہے کہ خلافت کے قیام اور خلیفہ کے انعقاد کے لیے رائے عامہ کو اعتماد میں لینا اور عوامی مشاورت کے ذریعہ اس کام کو مکمل کرنا ضروری ہے۔
13- خلافت کی بحالی کی قابل عمل صورت
آخر میں آج کے دور میں خلافت کے قیام کی قابل عمل صورت کے بارے میں عرض کرنا چاہوں گا کہ ہمارے ہاں پاکستان کی معروضی صورت حال میں نفاذِ اسلام کے حوالہ سے دو ذہن پائے جاتے ہیں۔ ایک یہ کہ سیاسی عمل اور پارلیمانی قوت کے ذریعہ اسلام نافذ ہو جائے گا، اور دوسرا یہ کہ ہتھیار اٹھائے بغیر اور مقتدر قوتوں سے جنگ لڑے بغیر اسلام کا نفاذ ممکن نہیں ہے۔ ایک طرف صرف پارلیمانی قوت پر انحصار کیا جا رہا ہے جبکہ دوسری طرف ہتھیار اٹھا کر عسکری قوت کے ذریعہ مقتدر قوتوں سے جنگ لڑنے کو ضروری قرار دیا جا رہا ہے، میری طالب علمانہ رائے میں یہ دونوں طریقے ٹھیک نہیں ہیں۔ صرف الیکشن، جمہوریت اور پارلیمانی قوت کے ذریعہ نفاذ اسلام اس ملک میں موجودہ حالات میں ممکن نہیں ہے، اور ہتھیار اٹھا کر حکمران طبقات کے ساتھ جنگ کرنا اس کے شرعی جواز یا عدم جواز کی بحث سے قطع نظر بھی عملاً مؤثر اور نتیجہ خیز نہیں ہے۔ یہ بحث اپنی جگہ ہے کہ کسی مسلم ریاست میں مسلمان حکمرانوں کے خلاف ہتھیار اٹھانے کی شرائط فقہاء کرامؒ نے کیا بیان کی ہیں، اور خاص طور پر جمہور فقہائے احناف کا موقف اس سلسلہ میں کیالکھا ہے۔ لیکن اس بات کو نظر انداز کرتے ہوئے میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ کیا عسکری گروپوں کے لیے ملک کی فوج اور اسٹیبلشمنٹ سے جنگ لڑ کر کوئی علاقہ حاصل کر لینا اور اس پر قبضہ برقرار رکھ کر اس میں کوئی نظام نافذ کر لینا ممکن بھی ہے؟ میں نہیں سمجھتا کہ کوئی ہوش مند شخص اس سوال کا جواب اثبات میں دے گا، اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں اس سلسلہ میں جدوجہد کے طریق کار کی حد تک ایران کے تجربہ سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ ایران کی مذہبی قیادت نے شاہ ایران کی قیادت سے انحراف کر کے یونیورسٹیوں اور کالجوں کو ذہن سازی اور فکری بیداری کی جولانگاہ بنایا، مسلسل سترہ برس تک محنت کے ذریعے اگلی نسل کو اس کے لیے تیار کر کے اسے اپنی قوت بنایا، اور اس قوت کے ذریعہ ہتھیار اٹھائے بغیر سٹریٹ پاور اور تحریکی قوت کے نتیجے میں شاہ ایران کو پسپا ہونے پر مجبور کر دیا۔
میں ایرانیوں کے مذہب کی نہیں بلکہ ان کی جدوجہد کے طریق کار کی بات کر رہا ہوں کہ ان کے کامیاب تجربہ کو سامنے رکھ کر کیا ہم اپنی جدوجہد کا طریق کار طے نہیں کر سکتے؟ اگر کچھ دوستوں کو یہ حوالہ میرے قلم سے پسند نہ آرہا ہو تو میں امریکہ کے سیاہ فاموں کی اس جدوجہد کا حوالہ دینا چاہوں گا جو اب سے صرف پون صدی قبل کالوں کو گوروں کے برابر شہری حقوق دلوانے کے لیے منظم کی گئی تھی۔ ایک مذہبی لیڈر مارٹن لوتھر کنگ نے سیاہ فاموں کی سٹریٹ پاور کو منظم کیا، پرُ امن احتجاجی تحریک کو آگے بڑھایا اور صرف دو عشروں کی جدوجہد سے ۱۹۶۴ء میں اس وقت کے امریکی صدر جان ایف کینیڈی سے سیاہ فام آبادی کے لیے سفید فاموں کے برابر شہری حقوق کی دستاویز پر دستخط کرانے میں کامیاب ہوگیا۔
میں نے دونوں تحریکوں کا مطالعہ کیا ہے، دونوں کے مراکز میں گیا ہوں، ان کے راہ نماؤں سے ملاقاتیں کی ہیں اور ان کی جدوجہد کے مختلف مراحل سے واقف ہوں۔ میں افغانستان بھی گیا ہوں، بار بار گیا ہوں، روسی استعمار کے خلاف جہاد میں مختلف جنگی محاذوں پر حاضری دی ہے، افغان مجاہدین کی روسی استعمار کے خلاف جنگ کو جہاد سمجھ کر اس میں شریک ہوا ہوں، امریکی استعمار کے خلاف ان کی جنگ کو بھی جہاد سمجھتا ہوں اور حتی الوسع اسےاخلاقی اور سیاسی طور پر سپورٹ کرتا ہوں۔ اس کے باوجود پورے شرح صدر اور دیانت داری کے ساتھ یہ سمجھتا ہوں کہ دینی تصلب اور حمیت و غیرت میں تو بلاشبہ افغان مجاہدین اور افغان طالبان ہمارے لیے مشعلِ راہ ہیں، لیکن نفاذ اسلام کی جدوجہد کے طریق کار کے حوالہ سے ہمیں ایران کی مذہبی تحریک کا مطالعہ کرنا ہوگا اور مارٹن لوتھر کنگ کی تحریک سے واقفیت حاصل کرنا ہوگی۔ اگر پُر امن عوامی تحریک اور رائے عامہ کی منظم قوت کے ذریعہ ’’امامت‘‘ کو دستوری شکل دے کر اسے نافذ کیا جا سکتا ہے تو ’’خلافت‘‘ کے احیاء و قیام کے لیے یہ قوت آخر کیوں کام میں نہیں لائی جا سکتی؟۔

Sunday, June 18, 2017

CPEC and Yajooj Majooj | China Pakistan Ecnomic Corridor | 2017 | Nukta


یاجوج ماجوج کا چائنہ اور سی پیک سے کیا تعلق ہے۔۔؟؟
سلک روڈ کی طرف کیا اشارے ہیں۔۔؟

دوٹکےکی تحقیق

یہ ہے سلیم صافی کا وہ کالم جسے پڑھ کر یوتھئیے پاگل ہوگئے اور عمران نے جیئو اور جنگ کا بائیکاٹ کردیا                   
*دوٹکےکی_تحقیق*
پی ٹی آئی اس حکمت عملی پر خراج تحسین کی مستحق ہے کہ گزشتہ چار سالوں کے دوران اس نے سیاست اور الزام تراشی کے سارے کھیل کو اس ہوشیاری کے ساتھ مسلم لیگ (ن) اور کسی حد تک پیپلز پارٹی کے کورٹ میں رکھا کہ خود اس کی پارٹی کی اندرونی حالت اورخیبر پختونخوا کی ناکام ترین حکومت کی طرف کسی کی توجہ کو جانے ہی نہیں دیا ۔ مجھے یقین ہے کہ اگر پی ٹی آئی کی اندرونی صورت حال دنیا کی نظروں کے سامنے آچکی ہوتی تو آج پی ٹی آئی کے ترجمان کسی کے سامنے آنے کی جرات ہی نہ کرسکتے ۔ اسی طرح اگر میڈیا خیبر پختونخوا کی حکومت میں ہونے والی بدعنوانیوں ، اقربا پروریوں اور احتساب کے نام پر تاریخ کے بدترین ڈراموں کو سامنے لاچکا ہوتا تو اگلے انتخابات میں پی ٹی آئی مخالف پارٹیوں کو پنجاب میں انتخابی مہم چلانے کی ضرورت ہی نہ پڑتی ۔ مثلاً خیبرپختونخوا میں پرویز خٹک نے عمران خان کے ایما پر اپنے نامزد کردہ احتساب کمشنر کی چھٹی کرادی ۔ دو سال ہونے کو ہیں اور نیا ڈی جی مقرر نہیں کیاجارہا ۔ وزیراعلیٰ اپنے بنائے ہوئے قانون کے مطابق بھی نئے ڈی جی کو میرٹ پر مقرر کرنے پر آمادہ نہیں ۔وزیراعلیٰ نے اپنے ایک اور منظور نظر شخص کو ڈی جی احتساب بنانے کے لئے اسمبلی میں ترمیمی بل پیش کروایا ۔ ڈان نیوز کے اسماعیل خان اور میں نے یہ ڈرامہ بازی آشکار ا کرلی تو انصاف کی علمبردار حکومت نے ایک شخص کی خاطر قانون میں تبدیلی کا ارادہ ترک کرکے اعلان کیا کہ وہ ہائی کورٹ سے نئے احتساب کمشنر کا تقرر کروائیں گے ۔ کئی ماہ گزر گئے لیکن ابھی تک وزیراعلیٰ قائمقام ڈی جی جو ان کا خاص بندہ ہے ،سے کام چلااور مخالفین کو ہراساں کررہے ہیں ۔ دوسری طرف وزیراعلیٰ نے صوبے کی تاریخ میں پہلی بار اپنے پی ایس او زیب اللہ خان جو ان کے ساتھ پولیس بھرتیوں کے کیس میں ملوث تھے کو دہرا چارج دے کر اینٹی کرپشن کا ڈی جی بنا دیا ہے ۔ یہ صوبے کی تاریخ میں پہلی بار ہورہا ہے کہ رولز کے خلاف ایک پولیس افسر کو ڈی جی اینٹی کرپشن لگا دیا گیا۔ صحت کا حال دیکھنا ہو تو ینگ ڈاکٹروں پراسپتال کے اندر پولیس لاٹھی چارج کی ویڈیو ملاحظہ کیجئے ۔ خان صاحب نے اپنے ایک عزیز کو صحت کے محکمے میں پالیسی بنانے کا اختیار دے رکھا ہے جو امریکہ میں رہتے اور مہینے میں صرف دو دن کے لئے حکمرانی کا مزہ لینے پشاورآجاتے ہیں ۔ پولیس کا حال دیکھنا ہو تو ڈی ایس پی کی موجودگی میں مشال خان کے بہیمانہ قتل کی مثال دیکھ لیجئے اور پھر پولیس کے معاملات میں سیاسی مداخلت کا یہ نمونہ ملاحظہ کیجئے کہ سب ملزم پکڑے گئے لیکن جس کا پی ٹی آئی سے تعلق تھا وہ ابھی تک ہاتھ نہیں آیا۔ یونیورسٹیوں کی تباہی کا اندازہ اس بات سے لگا لیجئے کہ جب مشال قتل ہورہا تھا تو مردان یونیورسٹی سمیت نویونیورسٹیاں پی ٹی آئی کی اندرونی سیاست کی وجہ سے وائس چانسلروں کے بغیرچل رہی تھیں۔ پی ٹی آئی کے ایک ایم این اے کی ایک دن میں تین پرچے دینے کے معاملے میں انکوائری کرنے کے جرم میں پشاور یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو ہٹانے کے لئے تو صوبائی حکومت نے گورنر کو سمری ارسال کردی لیکن عبدالولی خان یونیورسٹی میں بے قاعدگیوں اور بدانتظامیوں پر اس کے وائس چانسلر کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوئی ۔ مرکز میں تو انکوائریاں بڑی کروائی جارہی ہیں اور پی ٹی آئی کے ترجمان ماڈل ٹائون انکوائری کا بہت ذکر کررہے ہیں لیکن خود پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت بنوں جیل توڑنے کی انکوائری رپورٹ سامنے لاسکی نہ آرمی پبلک اسکول واقعہ کی انکوائری کرواسکی ، نہ اپنے ایم پی اے کے قتل کے مجرم سامنے لاسکی اور نہ صوبائی وزیر سردار اسراراللہ گنڈا پوری کے قتل کی تحقیقات ہوسکیں ۔ یہ تماشہ پہلی مرتبہ دیکھنے کو ملا کہ پرویز خٹک کابینہ کے وزیر اسراراللہ گنڈاپور جو دھماکے میں مارے گئے ،کے بھائی اکرام اللہ گنڈاپور جو پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر ایم پی اے بنے اور زراعت کے وزیر ہیں ، اپنے بھائی کے قتل کی سازش میں اپنے ساتھی وزیر کی طرف انگلیاں اٹھارہے ہیں ۔ یہ تاریخ میں پہلی بار ہورہا ہے کہ اپنے بھائی کےقتل کی تحقیقات کے لئے اپنی حکومت کی تحقیقاتی کمیٹی پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے پی ٹی آئی حکومت کے اس وزیر نے نوازشریف کابینہ کے وزیر چوہدری نثار علی خان کو خط لکھا ہے کہ وہ ان کے بھائی کے قتل کی تحقیقات کے لئے جے آئی ٹی بنائے ۔ یہ چند مثالیں ہیں بدلے ہوئے پاکستان کی ۔ اس حکومت کی ساری توجہ میڈیا اور سوشل میڈیا میں مہم پر مرکوز ہے اور یہی وجہ ہے کہ گزشتہ چار سالوں میں پرویز خٹک کو پانچ مرتبہ اپنا وزیراطلاعات تبدیل کرنا پڑا ۔ اس مد میں اتنے فنڈز خرچ کئے جارہے ہیں کہ بنی گالہ میں براجماں افتخار درانی جیسے لوگ بھی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھورہے ہیں ۔ اس پروپیگنڈے کی وجہ سے شاید پنجاب کے لوگ پی ٹی آئی کی طرف دیکھنے لگے ہیں اور اللہ کرے کہ وہ آزمالیں لیکن خود پختونخوا کے لوگ کتنے پچھتارہے ہیں ، اس کا اندازہ گزشتہ بلدیاتی انتخابات کے نتیجے سے لگایا جاسکتا ہے کہ جس میں دو درجن سے زائد لوگ مروانے کے باوجود پی ٹی آئی عام انتخابات کی طرح کامیابی حاصل نہ کرسکی ۔ ان انتخابات میں ضیاء اللہ آفریدی اور پرویز خٹک کے علاوہ کوئی بھی ایم این اے یا وزیر اپنے یونین کونسل نہیں جتواسکا۔ اللہ کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں اور انشاء اللہ وقت آنے پر ایک ایک چیز ثابت ہوجائے گی اور الحمد للہ جن جن باتوں پر مجھ جیسوں کو گالیاں پڑی ہیں ، اب دھیرے دھیرے ثابت ہورہی ہیں ۔اپنے دائیں جانب فردوس عاشق اعوان اور بائیں جانب نذر محمد گوندل کو بٹھا کر خان صاحب نے بڑی حد تک اپنی اور اپنی جماعت کی حقیقت عیاں کردی ۔ ایک اور تازہ ترین مثال خیبر پختونخوا میں ہائیڈل بجلی پیدا کرنے والے ادارے (پیڈو) سے متعلق پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ ہے ۔ ہوا یوں کہ اقتدار ملنے کے بعد جب خیبرپختونخوا کے مختلف محکموں کے ٹھیکے جب بنی گالہ میں براجماں پنجاب اور سندھ کے لیڈروں کو الاٹ کئے جارہے تھے تو پیڈو کا ادارہ محترم اسد عمر صاحب کے حصے میں آیا چنانچہ انہوں نے وزیراعلیٰ سے قواعد کی خلاف ورزی کروا کر اینگرو کے دور کے اپنے ساتھی اکبر ایوب کو اس کا سربراہ بنوادیا۔ میرے پاس سارے شواہد آئے توانصاف کے نام پر صوبے کے ساتھ اس بے انصافی کا تذکرہ 8اگست 2015کے کالم میں کردیا۔ کیونکہ اس شخص کا ہائیڈل جنریشن کے میدان میں کوئی تجربہ نہیں تھا اور مجھے یقین تھا کہ بھاری معاوضہ لینے کے باوجودوہ اس ادارے کو تباہ کردیں گے۔لیکن بجائے اس کے کہ اصلاح کی جاتی ، اسد عمر صاحب نے میرے خلاف مہم خود بھی شروع کی اور پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا کے مجاہدین کو بھی میرے خلاف لگا دیا۔ میں ان کو اپنے ٹی وی پروگرام میں بلاتا رہا لیکن وہاں آنا شاید انہوں نے اپنی شان کے منافی سمجھا اور ایک ویب ٹی وی پر بیٹھ کر میرے خلاف ایک گھنٹے کا انٹرویو ریکارڈ کرایا۔ اس میں انہوںنے اکبر ایوب کی تعیناتی کو خیبر پختونخوا کے عوام پر احسان عظیم ثابت کرانے کی کوشش کی اور بار بار مجھے طنز و تشنیع کا نشانہ اس فقرے کے ساتھ بناتے رہے کہ ’’یارسلیم صافی ۔ اتنے بڑے تم صحافی ہو ۔ کم از کم دو ٹکے کی تو تحقیق کرلیتے‘‘ ۔ بہر حال ان کے پاس طاقت تھی چنانچہ ان کے اکبرایوب پیڈو کے مختار بنے رہے ۔ کچھ عرصہ بعد اس کے بورڈ کے چیئرمین شکیل درانی نے بھی ان بے قاعدگیوں کے خلاف احتجاجاًاستعفیٰ دے دیا لیکن چونکہ اکبر ایوب کی سفارش مضبوط تھی اس لئے وہ براجماں رہے ۔ انہوںنے اپنے ماتحت مزید اٹھارہ افراد کوپیڈو میں قواعد کے خلاف بھرتی کیا اور ان بھرتیوں کو صوبائی انسپکشن ٹیم غیرقانونی قرار دے چکی (رپورٹ میرے پاس ہے ) ۔ بالآخر محکمے کے ایک اکائونٹنٹ نے پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کیا ۔ الحمد للہ پشاور ہائی کورٹ نے 7 جون 2017 کو اپنے فیصلے میں میری گزارشات پر حرف بحرف مہرتصدیق ثبت کرکے اکبر ایوب کی تقرری کو غیرقانونی قرار دیا ، لیکن نقصان یہ ہوا کہ اس غریب صوبے کا یہ امیر ادارہ گزشتہ چار سالوں میں چند میگاواٹ بجلی بھی پیدا نہ کرسکا۔ اے این پی دور کے شروع کردہ دو پروجیکٹ مشکل سے مکمل ہوئے اور بس۔ اسد عمر صاحب تک یقینا یہ فیصلہ پہنچ گیا ہوگا کیونکہ یہ پشاور ہائی کورٹ کی تاریخ کا پہلا فیصلہ ہے کہ جس میں ان کا ذکر بھی موجود ہے ۔
بقول اسد عمر صاحب ، میری تحقیق یقینا دو ٹکے کی بھی نہیں تھی لیکن الحمد للہ اس دو ٹکے کی تحقیق کو صوبے کی سب سے بڑی اور باوقار عدالت نے اپنے فیصلے میں حرف بحرف درست ثابت کیا جبکہ ان کے اینگرو کے دنوں کے دوست کوگھر بھیج دیا۔ یقینا اپنے کئے پر وہ معافی نہیں مانگیں گے کیونکہ ان کے ہاں ایسا کرنے کی روایت نہیں ۔ میں بس اس موقع پر ان کی خدمت میں انہی کے الفاظ کے ساتھ یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ اسد عمرصاحب ۔ اتنے بڑے آپ سیاسی لیڈر ہیں ۔ کچھ تو سوچا کریں ۔ خیبرپختونخوا کا ہر رہنے والا آپ کے ایم این ایز اور وزیروں کی طرح بنی گالہ کا غلام اور آپ کا تابعدار نہیں کہ جو آپ جیسے لوگوں کے خوف سے یا پھر آپ کے کارندوں کی گالیوں کے ڈر سے دن کو رات اور رات کو دن ثابت کرتا پھرے ۔وہاں ایم ایم اے کی حکومت تھی تو یہی رویہ تھا۔ وہاں اے این پی کی حکومت تھی اور پرویز خٹک اس میں وزیر تھے تو بھی یہی رویہ ہے ۔ اب آپ لوگوں کی حکومت ہے تو بھی یہی رویہ ہے ۔ آپ لوگوں کے رول اور پارٹیاں بدلتی رہیں گی لیکن میرا رول یہی رہے گا۔ سندھ ، پنجاب اور مرکز کی حکومتوں کی خبر لینے والے تو بہت ہیں ۔ آپ کی حکومت کی خبر لینے والا صرف میں رہ گیا ہوں اور وہ بھی آپ سے برداشت نہیں ہوتا۔ اسد عمر صاحب آپ دونوں بھائی اتنے بڑے سیاستدان ہیں کہ ایک بھائی نوازشریف کا دست راست اور دوسرا عمران خان کا رازدان بن گئے ہیں۔ایک بھائی نے سندھ کی گورنری لے لی اور دوسرے اسلام آباد سے ایم این اے بن گئے ۔ لیکن ہم جیسے دو ٹکے کے صحافیوں کی دو ٹکے کی تحقیق پر مبنی تنقید بھی آپ سے برداشت نہیں ہوتی۔کچھ تو خدا کا خوف کریں۔
*سلیم صافی 17جون 2017 جنگ*
#نکتے ہی #نکتے

ستر سال بعد وہی دن دبارہ آگیا

(سیدعبدالوہاب شیرازی)
اس سال (رمضان المبارک 2017) میں ستائیس رمضان المبارک کو وہی دن دبارہ آرہا ہے جو آج سے ستر سال قبل آیا تھا۔ یعنی 14اگست 1947ءکو جب پاکستان معرض وجود میں آیا اس وقت رمضان المبارک کا مہینہ تھا، اور ستائیس ویں کی رات تھی اور اگلا دن یعنی ستائیسویں کا دن جمعہ کا دن تھا۔ اس سال پھر وہی مہینہ، وہی مبارک رات، وہی مبارک دن دبارہ آرہا ہے۔کیا آپ اس گھڑی کا تصور کرسکتے ہیں جس گھڑی میں یہ ملک بنا تھا۔27رمضان المبارک، لیلة القدر، جمعہ کی رات اور وہ بھی رات کے بارہ بجے؟ کیا ایسے میں ملک بنا کرتے ہیں۔

پاکستان اس خطہ میں وقوع پذیر ہے جس طرف سے نبی اکرم ﷺ کو ٹھنڈی ہوا آئی تھی(اطیب ریح فی ارض الہند۔ الحاکم مستدرک)۔ اور پھر اس پاکستان کو بنانے میں چھ لاکھ انسان قربان ہوئے، ہزاروں عورتوں کی عزتیں پامال ہوئیں، ہزاروں بچے ذبح ہوگئے، ہزاروں علماءکو سولیوں پر لٹکا دیا گیا، توپوں کے آگے باندھ کر اڑا دیا گیا، بڑی بڑی تحریکیں چلیں، 1857ءکی جنگ آزادی ہوئی، تحریک شہیدین چلی، سید احمد شہیداور شاہ اسماعیل شہید نے ہندوستان سے چل کر بالاکوٹ کے پہاڑوں میں لاشے کٹوا دیے۔تحریک استخلاص وطن چلائی گئی۔تحریک ریشمی رومال چلی، شیخ الہند مولانا محمود الحسن دیوبندی رحمہ اللہ نے مالٹا کے جزائر میں چار سال تک تنہائی کی جیل کاٹی۔ پھر علامہ اقبال نے تصور پاکستان دیا، اور قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں بہت بڑی تحریک آزادی چلی ، جس کا نعرہ تھا پاکستان کا مطلب کیا لاالہ الااللہ، اس نظریے پر یہ تحریک چلی کہ ہمیں ایک الگ وطن چاہیے جہاں ہم اللہ کے دین کو نافذ کرکے اس کے بنائے ہوئے قانون کے مطابق زندگی گزار سکیں۔
قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے فرمایا تھا: ہمیں پاکستان اس لئے مطلوب ہے کہ عہد حاضر میں اسلام کے اصولِ حریت واخوت ومساوات کا ایک عملی نمونہ دنیا کے سامنے پیش کرسکیں۔
ہم نے اللہ سے وعدہ کیا تھا: اے اللہ ہمیں انگریز اور ہندووں کی دوہری غلامی سے نجات دے، اس لئے کہ ہم پر انگریز کی غلامی کے ساتھ ہندو کی غلامی بھی تھی۔ ہم ہندو کی معاشی غلامی میں مبتلا تھے، ہندو بنیا ایک گاوں میں بیٹھا ہوتا تھا اور وہ سود پر رقمیں دے کر مسلمانوں کی زمینیں ہتھیا لیتا تھا، ہندوستان میں پورا کاروبار، پوری صنعت ہندوں کے ہاتھ میں تھی۔ بہت سے دانشور جب پاکستان کی برکات بیان کرتے ہیں تو کہتے ہیں کہ پورے انار کلی بازار میں مسلمانوں کی صرف ایک دکان تھی، جبکہ آبادی میں مسلمان زیادہ تھے۔دوسری غلامی انگریز کی تھی، انگریز عسکری سیاسی اور ریاستی لحاظ سے ہمیں غلام بنائے ہوئے تھے، ہم ہندووں کے سماجی غلام تھے، ہم ہندووں کے رسوم ورواج اور تہوار مناتے تھے، تو ہم نے اللہ تعالیٰ سے ان سے نجات کی دعائیں مانگی تھیں۔چنانچہ اللہ نے وعدہ پورا کیا اور ہمیں ایک آزاد ملک 27رمضان المبارک جمعہ کی رات کو عطاءکیا بلکہ نازل کیا۔پھر کیا ہوا ہم اللہ سے کیے ہوئے سارے وعدے بھول گئے، ہم اپنی دنیا کی زندگی میں مست ہوگئے۔
سورہ توبہ کی آیات 75تا77 میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: اور ان میں ایک قسم ان کی ہے جنہوں نے اللہ سے ایک عہد کیا تھا کہ اگر اللہ ہمیں اپنے فضل سے نوازے دے گا تو ہم خوب صدقہ اور خیرات کریں گے اور نیک لوگوں میں سے ہوجائیں گے۔ پھر جب اللہ نے انہیں اپنے فضل سے نواز دیا تو انہوں نے بخل سے کام لیا، وہ اپنے عہد سے پھر گئے اور اللہ سے اعراض کیا تو اللہ نے ان کے دلوں میں نفاق کی بیماری پیدا کردی۔
یعنی جب کوئی قوم اللہ سے کیا ہوا وعدہ پورا نہیں کرتی تو اللہ ان کے دلوں میں نفاق ڈال دیتا ہے، آج پاکستانی قوم کے ساتھ یہی کچھ ہوگیا ہے، ساری قوم کے دلوں میں نفاق پڑ چکا ہے۔
ہمارے ہاں دو قسم کے نفاق پیدا ہوچکے ہیں ایک قومی نفاق ہے۔ پہلے ہم ہندووں کے مقابلے میں ایک قوم تھے اور ہم نے دوقومی نظریے کی بنیاد پر تحریک آزادی چلائی تھی، لیکن آج ہم نفاقِ باہمی کا شکار ہو کر قومیتوں میں تقسیم ہوچکے ہیںہم پنجابی، پٹھان، بلوچی او رسندھی بن چکے ہیں۔ دوسرا نفاق کردار کا نفاق ہے یعنی جھوٹ، وعدہ خلافی اور خیانت، یہ تینوں چیزیں مجموعی لحاظ سے بھی اور انفرادی لحاظ سے بھی آج ہر پاکستانی میں موجود ہیں۔ ہمارا لیڈر بھی جھوٹ بولتا، وعدہ خلافی کرتا اورخائن ہے ۔اور ہمارا ریڑھی والا بھی جھوٹ بولتا،وعدہ خلافی کرتا اور خائن ہے۔
سورة السجدة آیت 21 میں ارشاد ہے:
ہم انہیں مزہ چکھائیں گے چھوٹے عذاب کا بڑے عذاب سے پہلے شاید کہ وہ لوٹ آئیں۔
چنانچہ اللہ نے بیس بائیس سال بعد ہم پر عذاب کا کوڑا برسایا اور ملک دو ٹکڑے ہوگیا، لیکن ہم پھر بھی نہ سدھرے اور نافرمانی اور وعدہ خلافی کو جاری رکھا ہوا ہے، اللہ وقتا فوقتا سیلاب، زلزلہ ، بدامنی، مہنگائی کی صورت میں ہم پر چھوٹے چھوٹے عذاب بھیجتا ہے کہ ہم واپس پلٹیں اور اللہ سے کیا ہوا وعدہ پورا کریں۔اگر ہم اسی روش پر چلتے رہے تو پھر ان چھوٹے عذابوں کے بعد بڑا عذاب بھی آئے گا اور ہماری داستان نہیں ہوگی داستانوں میں۔ اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ اس سال ستائیس رمضان کو اسی دن جب یہ پاکستان بنا تھا ہم اپنے عہد کو تازہ کریں، سب سے پہلے اس مبارک رات جو لیلة القدر بھی ہوسکتی ہے ہم توبہ کرکے اللہ سے معافی مانگیں کہ ستر سال بیت گئے ہم وعدہ پورا نہیں کرسکے اس پر ہمیں معاف فرما۔ اور پھر اگلے ہی دن سے ہم یہ عزم لے کر نکلیں کہ اب ہم اس ملک میں اور پھر ساری دنیا میں اسلام کو نافذ اور قائم کرنے کی جدجہد کریں گے۔ دین کو قائم کرنا اللہ کاکام ہے، ہمارا کام اس کے لئے اپنے صلاحیت اور قابلیت کے حساب سے کوشش کرنا ہے۔ ہم سے یہ سوال نہیں ہوگا کہ دین قائم ہوا یا نہیں بلکہ ہم سے یہ سوال ہوگا تم نے کوشش کی یا نہیں۔

Thursday, June 8, 2017

مولانا، مولوی ، ملا

( مولانا، مولوی ، ملا وغیرہ کے سلسلے میں مورخ اسلام حضرت مولانا قاضی اطہر صاحب مبارکپوری کی تحقیق)
مولانا :۔ یہ لقب دو لفظوں سے مرکب ہے ، ایک ’’مولی‘‘ اور دوسرا ضمیر ’’نا‘‘ مولیٰ کے معنی یہاں پر آقا اور سردار کے ہیں، اور ’’نا‘‘ جمع متکلم کی ضمیر ہے ، دونوں کی ترکیب سے ’مولانا‘‘ ہوا، جس کے معنی ہمارے سردار اور آقا کے ہیں ۔
یہ لفظ اس اضافت کی شکل میں عہد صحابہ و تابعین میں علمائے دین اور دوسرے عمائد امت اور امراء کے لئے رائج ہوا، چنانچہ حضرت حسن بصری ؒ متوفی ۱۱۰؁ھ کے تذکرے میں علامہ ابن سعد لکھتے ہیں ۔
ان انس بن مالک سئل عن مسئلۃ فقال علیکم مولانا الحسن ، فقالوا یا ابا حمزۃ نسألک و تقول سلوا مولانا الحسن فقال انا سمعنا و سمع فحفظ و نسینا۔  حضرت انس بن مالک ؓ سے ایک مرتبہ ایک سوال کیا گیا تو انھوں نے کہا کہ تم لوگ مولانا حسن کے پاس جاو ٔ ، سائلوں نے کہا ابوحمزہ ہم تو آپ سے مسئلہ دریافت کرتے ہیں اور آپ فرماتے ہیں کہ مولانا حسن سے پوچھو اس  پر آپ نے فرمایا کہ ہم نے اور انھوں نے علم پڑھا اور سنا مگر انھوں نے یاد رکھا اور ہم بھول گئے ( یہ حضرت انسؓ کی کسر نفسی اور خدا پرستی پر دلیل ہے)
اس میں مولانا کا لفظ خاص طور سے امام حسن بصری کے لئے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ا ستعمال فرمایا ہے اور سائلوں نے بھی اسے دہرایا ہے ، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت ارباب علم و فضل کے لئے یہ لفظ بولا جانے لگا تھا ، البتہ اصطلاحی طور سے اس کا عام رواج نہیں ہوا تھا ۔
اسی طرح علامہ ابن ندیم نے کتاب الفہرست میں ایک شیعی فقیہ کے تذکرے میں لکھا ہے ۔
الحسن بن محبوب السراد ،وھو الزراد من اصحاب مولانا الرضا ومحمد ابنہ۔  (کتاب الفہرست ص:۲۰۹،طبع مصر) 
حسن بن محبوب سراد جسے زراد کہتے ہیں مولانا رضا اور ان کے صاحبزادے محمد کے شاگردوں میں سے ہے۔
حضرت امام رضا کے لئے مولانا کا یہ لفظ بتا رہا تھا کہ چوتھی صدی ہجری میں ارباب دین و دیانت اور اہل علم و فضل کے لئے یہ لقب جاری تھا ۔ ابن ندیم نے اپنی کتاب ۳۷۷؁ھ میں لکھی ہے ۔ البتہ یہ بات ضرور ہے کہ ابتداء میں لفظ مولانا صرف علمائے دین ہی کیلئے خاص نہیں تھا بلکہ خلفاء سلاطین ، امراء وزراء اور دوسرے ارباب خدم و حشم کے لئے عوام اور خواص تعظیم کے لئے مولانا کا لفظ استعمال کرتے تھے ۔
چنانچہ امیر مصر کافوراخشیدی کے تذکرے میں علامہ ابن خلکان نے ابوالفضل بن سحباس کا یہ دعائیہ جملہ نقل کیا ہے ۔ ادام اللہ ایام مولانا ، یعنی مولانا کے اقبال کو اللہ تعالیٰ ہمیشہ قائم رکھے ، اس عبارت میں اس بات کی تصریح موجود ہے کہ کافور اخشیدی متوفی ۳۵۶؁ھ کے لئے مولانا کا لفظ استعمال ہوا ہے ۔(تفصیل کے لئے ابن خلکان ج:۲ص:۲ ملاحظہ ہو)
البتہ اب یہ لفظ صرف علمائے دین کے لئے استعمال ہونے لگا ہے بلکہ اب تو عوام کی علوم دین پر جفا کاری کا یہ حال ہے کہ بے لکھے پڑھے لوگوں کوداڑھی کو دیکھ کر مولانا کے نام سے یاد کرنے لگے ہیں ، اور یہ جہلاء اس پر خوش ہوکر اپنے جہل سے مسلمانوں کو دھوکا دیتے ہیں ۔
٭٭٭٭٭
مولوی :۔ علمائے دین اور دوسرے ارباب عزت و شرف کے لئے ’’مولوی‘‘کا عظیم الشان لقب غالباً ترکی زبان کالفظ ہے ۔
       صاحب غیاث اللغات نے  لفظ ’’مولوی‘‘ کی تحقیق میں لکھا ہے کہ :
’’مولوی بفتح میم و فتح لام منسوب بمولی ٰکہ بمعنی خداونداست بعد الحاق یای نسبت الفی را رابع بود بواوبدل شد زیراکہ الف مقصورہ درآخر کلمہ سہ حرفی و چہار حرفی بوقت نسبت بواو بدل می شود ( غیاث اللغات ص:۴۷۶)
خلاصہ یہ ہے کہ مولوی ’’مولیٰ‘‘کی طرف منسوب ہے اور نسبت کے وقت آخر کا لفظ واو سے بدل گیا ہے ۔ گویا ’’مولانا‘‘ کی طرح مولوی کا لفظ بھی ’’مولیٰ‘‘ سے بنایا گیا ہے ، اور مولانا میں جمع متکلم کی ضمیر کی نسبت ہے ، اور مولوی میں واحد متکلم کی ضمیر کی نسبت ہے ، حالانکہ یہ تحقیق صحیح نہیں ہے اور مولوی کا لفظ ’’مولیٰ‘‘ کے لفظ سے کوئی تعلق نہیں رکھتا ۔
اس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ اگر مولوی کا لفظ مضاف اور مضاف الیہ سے مل کر بنا ہوتا تو پھر اس پر الف اور لام داخل نہیں ہو سکتا ، حالانکہ عام طور سے ’’المولوی‘‘ لکھا ہوا پایا جاتا ہے ، مثال کے طور پر علامہ چلپی جیسے علوم اسلامیہ کے محقق کی کتاب ’’کشف الظنون عن اسامی الکتب والفنون ‘‘میں دیکھا جائے کہ جگہ جگہ مصنفین کے نام کے ساتھ ’’المولوی‘‘ لکھا ہوا ہے چنانچہ جلال الدین رومی المولوی اور شیخ اسماعیل الفردی المولوی الف لام کے ساتھ لکھا ہوا ہے ۔ (کشف الظنون ج:۱ص:۲۰۹)نیز اس قسم کی بہت سی مثالیں کشف الظنون اور دوسری کتابوں میں موجود ہیں ۔ پس اگر مولوی کالفظ اضافت کے ساتھ ہوتا تو مولانا کی طرح مولوی پر بھی الف لام داخل نہیں ہو سکتا تھا ۔
نیز علامہ ابوالفداء صاحبِ حماۃ کو جب سلطان مصر محمد بن قلاؤذون نے حماۃ ( شام) کی سلطنت دی تو ان کو ان القاب سے نوازا ’’ المقام الشریف العالی المولوی السلطانی العمادی الملکی الموئدی ان کے شاہی القاب میں بھی ’’المولوی‘‘ کا لفظ الف لام کے ساتھ موجود ہے۔(تاریخ صلاح صفدی)
مولانا کی طرح مولوی کا لقب بھی ابتدا میں علماء کے لئے خاص نہ تھا ، بلکہ امراء و سلاطین کے لئے بھی استعمال ہوتا تھا جیسا کہ ابھی ابوالفداء صاحبِ حماۃ ۷۳۲؁ھ کے لقب میں معلوم ہوا۔ 
ابتدا میں مولوی کا لقب نہایت عظیم الشان لقب تھا اور آج کی طرح پامال نہیں تھا ۔ اس کی عظمت کا پتہ اس بات سے چلتا ہے کہ سلطان مصر محمد بن قلاؤذن نے اپنے تمام امراء کو حکم دیا تھا کہ الملک الموئد ابوالفداء کے القاب میں وہ مولوی بھی لکھا کریں مگر خود سلطان مصر جب ابوالفداء کو خط لکھا کرتا تھا تو ’’مولوی‘‘ کا لفظ اس کے لئے استعمال نہیں کرتا تھا کیونکہ اسی نے ابوالفداء کو حماۃ کا سلطان بنایا تھا ۔
اس لفظ مولوی کی عظمت اس سے بھی ظاہر ہوتی ہے کہ شیخ جلال الدین رومی صاحب مثنوی جیسے اونچے انسان کو مولوی کے لقب سے یاد کیا جاتا تھا چنانچہ ایک شعر میں ہے :
  مثنوی    مولویٔ    معنوی  ہست قرآں در زبان پہلوی 
مولانا روم خود ایک شعر میں فرماتے ہیں :
مولوی ہرگز نہ شد مولائے روم  تا غلام شمس  تبریزی  نہ  شد
ہمارے اردو کے ایک شاعر نے مولوی کی اہمیت و عظمت کو ایک شعر میں یوں ظاہر کیا ہے۔
     علم مولیٰ ہو جسے ہے مولوی جیسے حضرت مولویٔ معنوی
آٹھویں صدی کے بعد ’’مولوی‘‘ کا لفظ عام طور سے مدرسین حضرات کے لئے استعمال ہونے لگا اورا س کا رواج زیادہ تر علمائے کرام کے یہاں ہوا ،ا ور پھر وہاں سے عجم میں پھیلا حتی کہ بعض علماء مولوی زادہ کے لقب سے مشہور ہوئے۔
آج یہی مولوی کا لفظ عوام اور خود علماء کے نزدیک بہت ہی معمولی حیثیت کا رہ گیا ہے ۔ اور کسی عالم کو صرف مولوی کہنا یا لکھنا اس کی شان کم کردینے کے مرادف ہو جاتا ہے اورویسے بھی  ہرکہ ومہ کے لئے ا ستعمال ہوتا ہے۔
٭٭٭٭٭
ملا ۔منلا۔ مولٰی:۔ ملا ، منلا اور مولیٰ کے القاب بھی مولوی کے ساتھ کی پیداوار ہیں اور ان کا استعمال بھی اہل علم کیلئے  ہی علماء روم سے شروع ہوا اور بڑے بڑے فضلائے روزگاراور یکتائے زمانہ ان القاب سے یاد کئے جاتے تھے۔ حضرت شیخ الرحمن جامی ؒ کو ملا اور منلا کہا جاتا تھا ۔ ملا جلال الدین بیضاوی کے محشی منلا عوض وغیرہ اس لقب کے ساتھ یاد کئے جاتے ہیں ، کشف الظنون میں متاخرین کے بڑے بڑے ماہرین فن اور مصنفین کے لئے یہ الفاظ ملتے ہیں ، آخر زمانہ تک یہ الفاظ علمی عظمت اور فنی مہارت کی خبردیا کرتے تھے ، چنانچہ ملا محمود جونپوری ، ملا مسکین ، ملا محب اللہ بہاری، ملا عبدالحکیم سیالکوٹی ، ملا علی قاری جیسے اکابر علم و فضل ان القاب و خطابات کے مستحق قرار پائے ہیں ، انگریزی حکومت میں بھی پہلے سرکاری امتحانات میں ملا فاضل کا امتحان ہوتا تھا اورا سکی سند دی جاتی تھی ۔
)المرسل: ضیاء الحق خیرآبادی ، مدرسہ تحفیظ القرآن ۔سکٹھی ، مبارکپور)

Friday, June 2, 2017

فروٹ بائیکاٹ مہم

پھلوں کے بائیکاٹ کی مہم جتنی تیزی سے سوشل و الیکٹرانک میڈیا پہ مقبول ہوئی، ایک قابلِ تقلید مثال بننے جا رہی ہے۔ لیکن دوسری طرف ایک طبقہ جو ائیرکنڈیشن سے باہر نکلنا بھی تصور نہیں کر سکتا وہ ایسی کنفیوژن پھیلانے میں مصروف ہے کہ ان کی دانش کی اوقات اور قیمت دونوں کافی واضح ہو گئی ہیں۔ سوشل میڈیا پہ کئی نظریات رکھنے والے گروپس موجود ہیں۔ ایک دوسرے پہ نظریاتی حملے عمومی تھے، ایسے میں کچھ لوگ یہ الزام بھی لگاتے تھے کہ ایک طبقہ مکمل پیسہ پھینک تماشہ دیکھ کے فلسفہ پہ عمل پیرا ہے۔ مجھے اس سے اتفاق نہ تھا، پر آج کی بہت سے پوسٹس دیکھ کے اُن کی بات میں وزن نظر آتا ہے، جس کو میں کل تک الزام ہی سمجھتا تھا۔
ذیل میں فروٹ مارکیٹس کے کچھ بنیادی حقائق ہیں اور اُن لوگوں کے پیشِ خدمت ہیں جو کسی بھی کنفیوژن کا شکار ہیں۔ لوگوں کا اصل معلومات تک رسائی رکھنا اُن کا بنیادی حق ہے۔
اس وقت ملک میں کم و بیش بڑی یا درمیانی سائز کی بیس فروٹ مارکیٹس ہیں۔ اسلام آباد میں واقع فروٹ منڈی ان بڑی مارکیٹس میں سے ایک ہے اور اسی کو سمپل لیتے ہوئے دیگرکا اندازہ آپ اپنے طور پہ کر سکتے ہیں۔
اسلام آباد میں رجسٹرڈ فروٹ مارکیٹ آڑھتی/ فرمز کی تعداد 413 ہے۔ اِن میں سے بھی کچھ بڑی کچھ درمیانے سائز کی اور کچھ چھوٹے سائز کی ہیں۔ اگر اوسط نکالی جائے تو ہر آڑھت/ فرم دن کے دس بڑے ٹرک فروٹ منگواتی ہے۔  ہر فرم کچھ مخصوص فروٹس کا کام کرتی ہے اور ان کی مالیت بھی مختلف ہے۔ اس لے اس کو بھی ہم اوسط کے فارمولا سے ہی ساتھ لے کے چلیں گے۔  ایک ٹرک  پندرہ سے اٹھارہ لاکھ تک کی مالیت کا ہوتا ہے۔ منڈی کے اصول کے مطابق بیوپاری سے سات فیصد سیلز کمیشن لیا جاتا ہے۔ اگر ہم پندرہ لاکھ ہی کل قیمت فی ٹرک رکھتے ہیں تو  فی ٹرک کمیشن  ایک لاکھ پانچ ہزار روپے بنتی ہے۔ اور ایک فرم دن کے اوسط 10 ٹرک سیل کر رہی ہے تو دس لاکھ پچاس ہزار روپے کمیشن ایک آڑھتی کما رہا ہے۔ اور اس کو 413 فرمز کے ساتھ ضرب دی جائے تو تینتالیس کروڑ چھتیس لاکھ پچاس ہزار کمیشن کی مد میں صرف بیوپاری سے ایک دن کا کمایا جاتا ہے۔  جبکہ یہ منافع یک طرفہ ہے۔ منڈی کے اصولِ کاروبار کے پیشِ نظر 10 روپے فی نگ منافع خریدنے والے، مطلب ماشاخور سے لیا جاتا ہے۔ جو کہ کروڑوں میں ہی بنتا ہے۔
یہ سب کچھ خریدنے والا کون ہوتا ہے؟ منڈی کی زبان میں اسے ماشا خور کہا جاتا ہے۔ وہ یہ سامان اس قیمت پہ خرید کے 50 سے 100روپے فی نَگ ریڑھی بان اور دکاندار کو سیل کرتا ہے۔ ریڑھی بان اور دوکاندار نے اسے روٹین کے ہی منافع پہ بیچنا ہوتا ہے۔ کیونکہ اصل خریدار، جسے کنزیومر کہا جاتا ہے،  اسی کے پاس آتا ہے۔
اب ذرا ایک نظر بیوپاری پہ۔یہ وہ مخلوق ہے جو آڑھتی کا سودا باغات والوں سے کرواتی ہے، اور اپنا معقول منافع رکھ کے آگے بروقت فروخت کا ذمہ دار ہوتی ہے۔ ان کا منافع بھی دوہرا ہوتا ہے۔ ایک طرف سے یہ آڑھتی کو مارجن رکھ کے سیل کرتے ہیں دوسری طرف باغات والوں سے بھی دو دو ہاتھ کرنے میں طاق ہوتے ہیں۔
اسلام آباد فروٹ منڈ ی میں ایک دن کا کم و بیش چھے ارب ، انیس کروڑ،پچاس لاکھ کا مال آتا ہے۔ جس کے منافع کی تقسیم اوپر بیان  کردی گئی ہے۔
اگر ایک دن کے لئے یہ فروخت بند کر دی جائے تو دوسرے دن کا مال روڈز پہ سفر میں ہوتا ہے، اگر پہلے دن کی سیل نہیں ہوپاتی تو منڈی میں مزید سامان سٹور کرنے کی جگہ ختم ہو جائے گی۔ وہ سامان بھی باہر سڑکوں پہ موجود ہو کے گل سڑ جائے گا اور اندر پہلے سے موجود مال بھی خاتمہ کے قریب ہو گا۔ مطلب 12 ارب روپے کا سامان مکمل رسک پہ چلا جائے گا اور مفت نکلنے پہ بھی یہ طبقہ عافیت ہی سمجھے گا۔ کہ اب سیل سے زیادہ سٹوریج مسئلہ بن چکی ہو گی۔
اس کے علاوہ ناجائز منافع خوری کا ذریعہ سامان کے پہلے سے اپنے سٹورز میں ڈمپ کر کے فی نگ 200 سے تین سو کا منافع رکھ کے رمضان میں سیل کر کے کروڑوں کا منافع کمانا منڈی کی پرانی روایات میں سے ہے۔
یہ سب عام آدمی کا مسئلہ نہیں۔ یہ مسئلہ ہے ان ساہوکاروں کا جو اپنے اپنے علاقوں کی منڈیوں کے ریٹ کنٹرول کرنے والے حضرات ہیں۔ عام ریڑھی بان اور دوکاندار وہی دس بیس کی بچت کر کے نظام چلا رہے ہوتے ہیں۔
اب کچھ دیگر خقائق کی طرف آتے ہیں۔ فروٹ منڈی میں ہفتہ اتوار تو دور کی بات، عیدین پہ بھی چھٹی نہیں ہوتی۔ مزدور ویسے کا ویسے ہی پستا ہے۔ فی نگ لوڈنگ ان لوڈنگ پانچ روپے سے زیادہ مزدور کو دینا قانونی جرم سمجھا جاتا ہے۔ منشی جسے ٹیکنیکل زبان میں اکونٹنٹ کہہ لیں اس کی تنخواہ 20 ہزار سے 25 ہزار سے زائد کسی صورت نہیں دی جاتی۔ اکونٹ کے ذریعے ٹرانزیکشن کا رواج بہت کم ہے، اگر مجبورا کرنی بھی پڑے تو اکونٹ یا تو منشیوں کے نام ہو گا، یا بچوں رشتے داروں کے نام۔ اور سب سے اہم بات کہ اسلام آباد فروٹ منڈی سے ایک روپے کا ٹیکس نہ آج تک کسی نے دینے کا شوق پالا نہ کسی کو لینے کی جرات آئی۔
ایسے میں اس طبقہ کو جو ریڑھی بان کے غم میں ٹسوے بہا رہا ہے، دل کرتا ہے کہ بیچ چوراہے لٹکا دیا جائے۔ یہ بالکل ایسی ہمدردی ہے کہ اگر نواز شریف کو کرپشن میں سزا ہو گئی تو اس کے 2500 ملازمین کا کیا ہو گا؟ یہ سوال بالکل ایسا ہے کہ اگر کلرک کرپشن نہیں لے گا تو تنخواہ میں گزارہ کیسے کرے گا؟ اگر زرداری کی کرپشن پکڑی گئی تو اس کے ملازمین یا اس کے کاروبار سے جڑے لوگوں کا نقصان ہو جائے گا اس لئے ان پہ ہاتھ ڈالتے ہیں ہیں۔
سرکار آپ اپنے علم کو رکھیں اپنی جیب میں اور عوام کو کرنے دیں جو وہ کر رہے ہیں۔ عام آدمی کی عقل اس بار آپ کی جعلی دانشوری سے بہت زیادہ طاقتور محسوس ہو رہی ہے۔ کاش لفظوں کے ایسے بلتکار کے علاوہ بھی کچھ آپ کو آتا ہو تا تو آج آپ کی ایسی عزت افزائی نہ ہوتی۔
نوٹ: اوپر دی گئی تفصیلات اپنے اپنے ذرائع سے مزید ویریفائی کر سکتے ہیں۔ اگر چہ میرے سورسز کا منڈی کا 20/20 سال کا تجربہ ہے، لیکن تحقیق آپ کا حق ہے۔ اگلے تین د ن یاد رکھئیے اور اس سرانڈ  زدہ ماحول کے تابوت میں کم از کم پہلی کیل ضرور ثابت ہوں۔ اگر اس مہم میں ثابت قدم رہے تو آنے والا کل آپ کا ہے ورنہ پھر زندگی ساری آم ہی چوپتے رہیئے گا۔
والسلام
ظفرراٹھور

حوصلہ رکھیں! پھل فروش بھوکے نہیں رہیں گے – 


محمد ابراہیم شہزاد

 پھلوں کے تین روزہ بائیکاٹ کی مہم کا توڑ کرنے کے لیے بھی ایک مہم زور و شور سے سوشل میڈیا پر چلا دی گئی ہے جس میں چھابڑی والوں اور ریڑھی بانوں کی غربت کا رونا رو کر لوگوں کو اس مہم سے باز رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور حیرت کی بات یہ ہے کہ اس ‘اینٹی مہم’ میں ہمارے اچھے خاصے دانشور اور معزز لکھاری بھی استعمال ہو رہے ہیں۔

ریڑھی بان پھل فروشوں کے غم میں مبتلا ذخیرہ اندوزوں کے دوستوں کے لیے ایک مثال دیتا ہوں : پرچون کی دکان سے اگر گاہک چینی نہیں خریدے گا تو دکاندار تب تک ہول سیلر سے اگلی بوری نہیں منگوائے گا جب تک پہلی نہ بکے گی اور اسی طرح ہول سیلر ڈسٹری بیوٹر سے اگلی کھیپ نہیں لے گا جب تک پچھلی نہ فروخت ہو گی اور ڈسٹری بیوٹر تب تک شوگر مل سے ایک اور ٹرک نہیں چینی کا نہیں منگوائے گا جب تک پہلا سٹاک گودام میں پڑا ہو گا۔ تو دوستو !غور کرو نقصان کس کا ہوا ؟ دکان دار کا ہول سیلر کا ؟ ڈسٹری بیوٹر کا یا مل مالک کا ؟

ڈیمانڈ اینڈ سپلائی کی اس گیم میں حتمی نقصان اس مافیا کا ہی ہو گا جو ذخیرہ اندوزی کر کے مذہبی تہواروں اور مقدس مہینوں میں ناجائز منافع خوری کرتے ہیں۔ دکاندار کی تو صرف ایک بوری ہی خراب ہو گی مگر شوگر مافیا کا اربوں کا سٹاک کوڑا بن جائے گا۔ ریڑھی بان کی فکر مت کریں اس کے بچوں کو اللہ تین دن تو کیا عمر بھر کا رزق ضرور دے گا ان شا ء اللہ کیونکہ رزق کا وعدہ اس نے کیا ہے، غریب کے لیے بھی اور امیر کے لیے بھی۔ بات تب بگڑتی ہے جب امیر اپنے حصے کا رزق کھا کر بھی بد نیت رہتا ہے اور باقی ماندہ کو ذخیرہ کرتا ہے۔ اس لالچ کی سزا اس کو ضرور ملنی چاہئے۔یوں تو قیمتوں کو کنٹرول کرنااور معیار کو قائم رکھنے کی ذمہ داری حکومتوں کی ہوتی ہے لیکن وہ مہذب معاشرے کوئی اور ہوتے ہیں۔ ہمارے جیسے معاشروں میں جہاں حکومتیں خود ذخیرہ اندوز اور ناجائز منافع خور مافیا کا حصہ ہوں وہاں عوام کو خود ہی اپنے لئے کچھ بہتر فیصلہ کرنا ہوتا ہے جو کہ پاکستان میں پہلی دفعہ ہونے جا رہا ہے۔

سپلائی اینڈ ڈیمانڈ کیا ہے؟ ذرا غور کیجئے ایک محلے میں دودھ کی ضرورت اگر ایک ہزار لیٹر ہے تو وہاں اگر دوہزار لیٹر سپلائی کیا جائے گا تو کیا ہوگا؟ ایک ہزار لیٹر دودھ خراب ہو گا اوراگر ایک ہزار کی بجائے آٹھ سو لیٹر سپلائی کیا جائے گا تو کیا ہو گا ؟ دو سو لیٹر کی قلت ہوگی اور جب قلت ہوگی تو دوکاندار اس سے فائدہ اٹھا کر نوے کی بجائے سو روپے لیٹر بیچے گا۔ کیونکہ گاہک زیادہ ہیں اور دودھ کم، لہذا ثابت ہوا کہ زیادتی اور کمی دونوں صورتوں میں نقصان ہوتا ہے کمی کی صورت میں صارف کا اور زیادتی کی صورت میں تاجر کا۔فائدہ تب ہی ہے جب ڈیمانڈ اور سپلائی میں توازن ہو، قیمتیں بھی کنٹرول رہتی ہیں اور خدا کا رزق بھی ضائع نہیں ہوتا۔ لیکن ہمارے ہاں زیادہ کمانے کا بھوت اور کچھ کارپوریٹ سیکٹر کے سکھلائے ہوئے ہتھکنڈوں نے مقامی بیوپاریوں کو بھی مصنوعی ڈیمانڈ پیدا کرنے اور چیزوں کوکیمیائی طریقوں سے زیادہ عرصے تک محفوظ رکھنے کا گُر سکھلا دیا۔

سفید پوشی کا بھرم رکھنے کے لیے مصنوعی دکھلاوا کہ نہ افورڈ کرتے ہوئے بھی گھر میں پھل لانا ضروری ہے۔بھائیو! پھل اللہ کی نعمت ضرور ہیں مگر بنیادی ضرورت نہیں۔ بنیادی ضرورت روٹی ہے تین دن پھل نہ کھانے سے کو ئی جان سے نہیں جائے گا۔ کارپوریٹ سیکٹر کی مصنوعی ڈیمانڈ پیدا کرنے کی ایک مثال یہاں ضرور دینا چاہوں گا آپ کو یاد ہو گا کچھ سال قبل ایک مشہور شیمپو اور صابن بنانے والی کمپنی نے ایک نیا شیمپو متعارف کروایا تھا۔ صرف حجاب سے ڈھکے بالوں کے لیے جس کی اشتہاری مہم کے لیے ماڈلنگ کی تھی ہماری معروف ‘ڈالر فیم’ ماڈل ایان علی نے۔ قصہ کچھ یوں تھا متذکرہ کمپنی نے پاکستان اور ہندوستان کے ایک جیسی معیشت اور ایک جتنی آبادی رکھنے والے چند بڑے شہروں میں ایک سروے کیا جس سے پتا چلا کہ ایک جیسے وسائل اور ایک جیسی آبادی والے شہروں میں مذکورہ شیمپو کی فروخت انڈیا کی نسبت پاکستان میں ساٹھ فیصد کم ہے جو کہ ایک بہت بڑا فرق ہے۔ کمپنی نے اس نقصان کے ازالے کے لیے ساٹھ لاکھ ڈالر صرف کر کے ایک اور سروے کروایا کہ پتا چلایا جائے دونوں ایک جتنی آبادیوں میں جہاں خواتین کی قوت خرید اور لائف سٹائل بھی تقریباََ ایک جیسا ہے، وہاں سیل میں اتنا نمایاں فرق کیسے ؟ تو نتیجہ یہ نکلا کہ ہندوستان کی نسبت پاکستان میں شیمپو کی فروخت اس لئے کم ہے کہ یہاں کی ساٹھ فیصد خواتین اپنے بالوں کو حجاب سے ڈھکتی ہیں۔ اس لئے وہ ان کی پروڈکٹ استعمال نہیں کرتیں۔ اب کمپنی نے اپنی سیل کو بڑھانے کے لیے کیا کیا ؟ حجاب کے خلاف مہم تو چلا نہیں سکتے تھے کیونکہ پاکستان ایک مسلم ریاست ہے تو انہوں نے یوں کیا اشتہاری مہم چلائی جس میں خواتین کو بتایا گیا کہ حجاب سے ڈھکے بال بھی پسینہ آنے کی وجہ سے کمزور ہوجاتے ہیں لہٰذا ایسی خواتین جو حجاب کرتی ہیں ان کے لئے کمپنی نے ایک خاص شیمپو بنایا ہے جو حجاب کے اندر بالوں کو ٹھنڈا رکھتا ہے اور انہیں کمزور ہونے اور ٹوٹنے سے بچاتا ہے۔

یوں اپنی پروڈکٹ بیچنے کے لیے ایک مصنوعی ڈیمانڈ پیدا کی گئی جو کچھ عرصہ کامیاب بھی رہی لیکن جلد ہی خواتین کو اندازہ ہوگیا کہ یہ بے معنی ہے کیونکہ جس خاتون نے اپنے بالوں کی نمائش ہی نہیں کرنی تو اسے ان کے سنگھار کی کیا ضرورت اور بالوں کی مضبوطی کے لیے تو سرسوں کا تیل سب سے زیادہ مفید ٹانک ہے لہٰذا یہ مہم ناکامیاب ہوئی۔

اسی طرح زندہ رہنے کے لیے پھل بھی ناگزیر نہیں بھائیو! کچھ دن نہ کھاؤ گے تو صحت پر زیادہ اثر نہیں پڑے گا بلکہ پیسوں کی بچت ہوگی اور ان ذخیرہ اندوزوں کے غبارے سے بھی ہوا نکل جائے گی۔ ایک مرتبہ متحد ہو کے تو دیکھو، چینیوں نے ایک دفعہ اپنے ملک میں چائے کا بائیکاٹ کیا تھا اور یہی وہ لمحہ تھا جب انہوں نے ایک افیمی قوم سے دنیا کی سپر پاور بننے والی قوم کی طرف سفر شروع کیا تھا