Search This Blog

Thursday, October 11, 2018

انسانوں کی جنریشن ایکس x generation of humans

انسانوں کی جنریشن ایکس
(سیدعبدالوہاب شیرازی)

آپ نے ٹیکنالوجی کی چیزوں مثلا لیپ ٹاپ موبائل وغیرہ میں جنریشن کا لفظ استعمال ہوتے دیکھا ہوگا۔ جیسے آئی تھری فورتھ جنریشن۔ آئی سیون نائن جنریشن وغیرہ۔ بالکل اسی طرح انسانوں کی تقسیم بھی مختلف جنریشن میں کی جاتی ہے۔ چنانچہ جو  لوگ انیس سو اکسٹھ(1961) سے انیس سو اکیاسی(1981) کے درمیان پیدا ہوئے  ہیں انھیں جنریشن ایکس کہا جاتا ہے،کہتے ہیں کہ دنیا میں سب سے بڑی اور سب سے زیادہ تبدیلیاں جنریشن ایکس نے ہی دیکھی ہیں ، کیونکہ جنریش ایکس کے دور میں زمانے اتنا زیادہ اور اتنی تیزی سے بدلا ہے کہ پچھلے زمانے کا کوئی انسان آج آجائے تو چکرا کر رہ جائے گا۔ جنریش ایکس اس انسانی تاریخ کی سب سے بڑی تبدیلی اور سائنس کی ترقی کے عین موقع پر پیدا ہونے والے لوگوں کو کہا جاتا ہے۔ جنہوں نے ان چیزوں کو بھی دیکھا جو صدیوں سے انسانوں کے زیر استعمال تھیں اور ان کو بھی دیکھا جو اچانک سے ایجاد ہوئیں اور چھا گئیں۔

مہمان کے آنے پر مرغی کو بھگا بھگا کر پکڑنے سے لے کر فارمی مرغی کے پھٹے پر ٹھک ٹھکا ٹھک تک۔سارا دور اس جنریشن نے دیکھا۔
پردہ سکرین سے لے کر ہولوگرام اور وی آر ٹیکنالوجی تک۔ ٹانگے سے لے کر میٹرو ٹرین تک۔ تجوریوں سے لے کر ماسٹر کارڈ تک۔تار مارنے ، فیکس کرنے سے لے کر ایس ایم ایس اور وٹس اپ تک۔ پرانے ریکارڈر سے یوایس بی سٹک تک۔بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی سے لے کر سمارٹ ایل سی ڈی تک۔ڈائل گھمانے والے فون سے لے کر ٹچ سکرین اور وائس ڈائل سمارٹ فونز تک۔پتنگ اڑانے سے ڈرون اڑانے تک۔ صدیق دی ہٹی سےلے کر ایمازون اور دراز پی کے تک۔پیتل کی تار سے لے کر وائی فائی تک۔ چور پکڑنے والے کتوں سے لے کر سی سی ٹی وی کیمروں تک۔عشاء کے بعد دادی جان کی کہانیوں سے لے کر فیس بک اور سوشل میڈیا میں گم ہونے تک۔ ڈسپرین کے فضائل سے لے کر ڈسپرین کے نقصاندہ قرار دیے جانے تک۔سڑک کنارے لگی مداری دیکھنے سے لے کر  سوشل میڈیا کی لائیو سٹریم تک۔ سپیرے کی پٹاری میں چھپے عجیب سانپ کو دیکھنے کی جستجو سے لے کر یوٹیوب پر جدید چیزوں کی اَن باکسنگ دیکھنے تک۔دلہن کی ڈولی سے لے کرپھولوں سے سجی  لیموزین کارتک۔ شکر ، دیسی گھی  ملے سفید چاولوں کے ولیمے سے لے کر میرج ہال کی بے شمار ڈشوں تک۔کلینڈر سے لے کر ٹکٹنگ آفیسر تک۔ پھیری والے بابوں سے لے کرایم بی اے کیے ہوئے  مارکیٹنگ کے بابووں تک۔ہاتھ والے پنکھوں سے لے کر سولر اے سی تک۔ لالٹین اور دیے جلانے سے ایل ای ڈی تک۔جندر سے لے کر فلور مل تک۔ سحری و افطاری کے وقت ڈاکٹر اسرار احمد کے دروس قرآن سے لے عامر لیاقت کی فنکاریوں تک۔ صدرپاکستان ایوب خان کے امریکا میں تاریخی استقبال سے لے کر وزرائے اعظم کے جوتے اتارنے تک۔ علاقے کی پنچائیتوں اور جرگوں  سے لے کر سپریم کورٹ کے از خود نوٹس تک۔سدھائے ہوئے کتےاور بندروں  سے لے کر آرٹیفیشل انٹیلی جنس(اے آئی ٹیکنالوجی) تک،اپنے سینوں میں عروج و زوال ، تغیر و تبدیلی کی ہزاروں داستانیں چھپائے ہوئے ہیں۔


 انسانوں کی یہ جنریشن بڑی قیمتی ہے،کبھی جنریشن ایکس سے تعلق رکھنے والے کسی انسان کے پاس بیٹھ کر ماضی کی یادیں ، حالات کی تبدیلیاں اور وقت کے تغیرات کریدنا شروع کریں، مجھے یقین ہے کہ آپ کو بہت کچھ سننے کو ملے گا۔بعض ممالک میں  ان کے پاسپورٹ پہ بھی باقاعدہ ایکس جنریشن درج ہوتا ہے۔جنریش ایک 1961 سے 1981 کے دورا ن پیدا ہونے والوں کو جبکہ جنریشن وائی 1982 سے 1995 تک پیدا ہونے والوں کو۔ اور جنریشن زیڈ 1995 سے 2012 کے دوران پیدا ہونے والوں کو کہا جاتا ہے۔ جنریشن ایکس چونکہ پچھلے اور اگلے یعنی پرانے اور جدید دور اور ان کی چیزوں کو دیکھ چکی ہے اس لیے اگلے پندرہ بیس سال بعد جب دنیا مکمل طور پر تبدیل ہو جائے گی، اور یہ جنریشن دادا ابو اور دادی جان کی سیٹ پر بیٹھ جائے گی، تب پوتے پوتیاں اور نئی نسل کے نوجوان ان کی پرانی اور اپنے بچپن کے زمانے کے حالات، کہانیوں اور روز مرہ کی زندگی کی چیزوں کے بارے سن کر حیرت زدہ بھی ہوں گے اور شاید یقین بھی نہ آئے۔

......................
x generation of humans

The Names of Generations in the U.S. 

While some generations are known by one name only, such as the Baby Boomers, names for other generations is a matter of some dispute among experts. 
Neil Howe and William Strauss define recent generational cohorts in the U.S. this way:
  • 2000 to present: New Silent Generation or Generation Z
  • 1980 to 2000: Millennials or Generation Y
  • 1965 to 1979: Thirteeners or Generation X
  • 1946 to 1964: Baby Boomers
  • 1925 to 1945: Silent Generation
  • 1900 to 1924: G.I. Generation
The Population Reference Bureau provides an alternate listing and chronology of generational names in the United States:
  • 1983 to 2001: New Boomers
  • 1965 to 1982: Generation X
  • 1946 to 1964: Baby Boomers
  • 1929 to 1945: Lucky Few
  • 1909 to 1928: Good Warriors
  • 1890 to 1908: Hard Timers
  • 1871 to 1889: New Worlders
The Center for Generational Kinetics lists the following five generations who are currently active in America's economy and workforce:
  • 1996 to present: Gen Z, iGen, or Centennials
  • 1977 to 1995: Millennials or Gen Y
  • 1965 to 1976: Generation X
  • 1946 to 1964: Baby Boomers
  • 1945 and before: Traditionalists or Silent Generation

Wednesday, October 10, 2018

کاروباری ترقی کے لئے پانچ اصول

ہماری آج کی ویڈیو ان لوگوں کے لیے ہے جو اپنے بزنس کے معاملے  میں بہت پریشان ہیں اور کاروبار میں ترقی چاہتے ہیں۔ اگر آپ ان پانچ باتوں پر عمل کریں تو کامیابی آپ کے قدم چوم سکتی ہے۔
آپ کوئی نیا کاروبار کرنے جارہے ہیں یا آپ کامیابی سے کوئی کاروبار پہلے سے چلارہے ہیں ایک بات تو طے ہے کہ کاروبار میں ترقی کے ہر وقت مواقع موجود ہوتے ہیں۔ ہمیں اس میں سے اپنا حصہ لینے کےلئے اپنےآپ کو تیار کرنا ہوتاہے۔ ٹاپ پوزیشن ہمیشہ خالی ہی رہتی ہے۔ کاروبار میں آگے بڑھنے کے لئے نئ حکمت عملی کی ضرورت ہوتی ہے۔ آپ جتنا بھی کاروباری منافع کیوں نہ کما رہے ہوں۔ مندرجہ ذیل پانچ اصولوں پر تھوڑی توجہ دے کر آپ اس منافع کو دوگنا بلکہ تین گنا تک بڑھا سکتےہیں۔ بزنس کو ترقی دینے کے پانچ سادہ سے اصول ہیں۔
۔۱۔ تجربہ اور تعلیم:
 کسی بھی کام میں آگے بڑھنے اور اپنے آپ کو ثابت کرنے کے لئے ضروری ہے کہ آپ اس کام سے متعلق مکمل معلومات اور تعلیم حاصل کریں۔ اور پھر اس تعلیم کو عملی طور پر آزمائیں۔ آپ کا کام جتنا زیادہ تجربہ کی آگ سے گزرے گا اتنا ہی زیادہ اس میں ترقی کے مواقع واضع تر ہوتے جائیں گے۔ موجودہ دور انفارمیشن کا دور ہے۔ آپ اپنے بازوں کے زور پر ترقی نہیں کرسکتے بلکہ دماغ کی طاقت سے ترقی کرسکتے ہیں۔ اور دماغ کی طاقت تعلیم سے حاصل ہوتی ہے۔ دنیا کے امیرترین لوگ جسمانی لحاظ سے اتنے کمزور ہیں کہ اگر کوئی ریڑھی والا ایک مکا مارے تو مر جائیں گے لیکن پیسے کو اپنی طرف کھینچنے کے لحاظ سے ریڑھی والے اور اس تعلیم والے میں بہت فرق ہے۔ ریڑھی والا اور مزدور اپنی جسمانی طاقت کا استعمال کرتا ہے اور رات کو چار پانچ سو لے کر آتا ہے۔ جبکہ تعلیم یافتہ شخص اپنی تعلیم کی روشنی میں عقل استعمال کرکے دو دو لاکھ بھی شام کو گھر لاتا ہے۔

۔۲۔ اشیاء یا سروسز کا اعلی معیار ہے۔
 اپنے کاروبار کو دوسروں سے منفرد کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ آپ کی پراڈکٹس یا سروسز دوسروں کے مقابلے میں اعلی معیار کی ہوں اور اس کے ساتھ ہی ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ یہ اعلی معیار کی پراڈکٹس اسی قیمت یا اس سے بھی کم قیمت پر لوگوں کو مہیا کی جائیں۔ کیونکہ اشتہار بازی سے لوگ ایک ہی بار دھوکہ کھائیں گے دبارہ نہیں آئیں گے۔ جبکہ اس کے برعکس اگر آپ کی چیز اچھی اور سروس معیاری ہوگی تو لوگ ہی آپ کا اشتہار بن جائیں گے۔ آپ کو کوئی اشتہار بازی کرنے کی ضرورت نہیں۔ اس لیے کاروبار میں ترقی کا راز یہ ہے کہ آپ پرنٹنگ پریس سے کاغذ پر اشتہار نہ بنوائیں بلکہ چلتے پھرتے زندہ انسان کو ہی اشتہار بنا دیں۔ جو مفت میں آپ کی مشہوری کرتے رہیں گے۔یہ کام کرنے کے لیے ایمانداری۔ اعلی اخلاق۔
۔۳۔ کسٹمر کئیر:   یعنی گاہک کا خیال رکھنا
 اگر آپ کاروبار کو مستقل بنیادوں پر استوار کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو اپنے گاہکوں کی ضروریات اور ان کی تکالیف کا خیال رکھنا ہوگا۔ آپ کی پراڈکٹس یا سروسز میں کیا ایسا ہے جو لوگوں کے لئے مفید ہے۔ اپنی پراڈکٹس میں افادیت کے عنصر کا اضافہ کریں۔ اپنی پسند نا پسند سے زیادہ اپنے گاہکوں کی پسند یا ناپسند کا خیال رکھیں۔ اس طرح جو پراڈکٹس تیار ہونگی وہ مستقل طور پر اپکے کسٹمرز کی ڈیمانڈ لسٹ میں جگہ بنا پائیں گی۔کسی چیز کے انتخاب میں گاہک کو اپنی دیانت دارانہ رائے کے مطابق اچھا مشورہ ضرور دیں لیکن اتنا زیادہ دباو نہ ڈالیں کہ گاہک مجبورا چیز لے جائے اور گھر جا کر اسے پسند نہ آئے۔
۔۴۔ کسٹمر ہمیشہ درست ہوتا ہے:
 غلطی سب سے ہوتی ہے اگر ہم غلطی کرتے ہیں تو ہم چاہتے ہیں کہ کوئی ہم سے بازپرس نہ کرے بلکہ اس کو بھلا کر آگے بڑھ جائیں۔ یہی اصول آپ کے گاہکوں پر بھی ہوتا ہے۔ اگر کبھی وہ غلط بات پر بھی اسرار کریں تو ان کے ساتھ بحث میں وقت ضائع کرنے سے بہتر ہے تھوڑا ایکسٹرا ان کو سروس مہیا کرنے میں صرف کیا جائے۔ کسٹمر سروسز کا بہترین معیار آپ کے گاہکوں کو مطمئن کرے گا جس پر آپ کے گاہک نہ صرف خود دوبارہ آپ سے کاروبارکریں گے بلکہ دوسروں کو بھی آپ کی طرف ریفر کریں گے۔
۔۵۔ ڈیٹابیس سافٹ وئیر:
 بزنس کی ترقی میں جس چیز کی بہت اہمیت ہے وہ ہے اپنے کاروبار کی صحیح صورتحال کو سمجھنا۔ مخصوص اوقات میں کیا سیل ہوا؟ کس کی ڈیمانڈ بڑھ رہی ہے کس میں منافع زیادہ حاصل ہوا؟ کس چیز کی کاسٹ آف سیل زیادہ ہے؟ کون سے کسٹمر سے کتنا بزنس کیا اور کتنا منافع کمایا؟ سٹاک کتنا پڑا ہے اور اس کی قیمت کیا ہے؟ کون سی اشیاء اسٹاک میں ختم ہونے والی ہیں؟ کتنے پیسے واجب الادا ہیں اور کتنے لوگوں سے لینے ہیں؟ خرچوں میں کتنا اضافہ ہوا اور کس مد میں زیادہ خرچہ ہوا؟۔۔۔۔ ایسے بہت سے سوالات ہیں جن کا بروقت جواب ملنا بزنس کی ترقی کے لئ بہت ضروری ہے۔ ان سوالات کے جواب کتابی حساب کتاب سے حاصل کرنا  اگر نا ممکن نہیں تو بہت مشکل ضرور ہے۔ اگر ہم اپنے کاروبار کو کمپیوٹرائیز کرلیں تو ان جوابات کا حصول ایک کلک کی دوری پر رہ جاتاہے۔ اور اس طرح آپ کو اپنے پورے کاروبار کی صحیح صورتحال کا علم رہتا ہے اور آئندہ کے لیے آپ اسی صورتحال کے تناظر میں اپنی پالیسی بناتے ہیں۔

آخری بات یہ کہ جس طرح ہمارا خالق اللہ ہے اسی طرح ہمارا رازق بھی اللہ ہے۔ کاروبار تو اسباب کے درجے کی چیز ہے جسے اختیار کرنے کا ہمیں حکم ہے۔ اللہ جسے چاہتا ہے زیادہ رزق دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے کم رزق دیتا ہے۔ رزق کی کمی اور زیادتی کے اللہ نے اصول بھی بنا رکھے ہیں جنہیں قرآن و حدیث میں واضح طور پر بیان کردیا گیا ہے۔ مثلا
قرآن پاک میں ارشاد ہے: ویمحق اللہ الربا ویربی الصدقات۔
اللہ سود کو مٹاتا اور صدقات کو بڑھاتا ہے۔ اس سے ہمیں بزنس میں کامیابی حاصل کرنے کا راز پتا چلا کہ سودی کاروبار میں نقصان اور غیرسودی کاروبار  اور پھر صدقہ و خیرات میں برکتیں ہیں۔
اسی طرح، ارتکاز دولت۔ناپ تول میں کمی۔ملاوٹ۔دھوکہ دہی۔ فراڈ۔ دونمبری۔ جھوٹ۔ ذخیرہ اندوزی۔ یہ ساری وہ چیزیں اور وہ اصول ہیں جنہیں قرآن و حدیث میں نہ صرف کاروبار دنیا بلکہ انسان کی آخرت کے لیے بھی تباہی کا ذریعہ بتایا گیاہے۔
بزنس میں کامیابی کا سب سے بڑا اصول یہی ہے کہ آپ مال کو اپنا نہ سمجھیں بلکہ اللہ کا مال سمجھیں۔

Sunday, October 7, 2018

عمران خان کی ریاست مدینہ


عمران خان کی ریاست مدینہ
(سید عبدالوہاب شیرازی)
وزیر اعظم جناب عمران خان صاحب نے الیکشن سے قبل بھی اور خاص طور پر الیکشن جیتنے کے بعد کئی بار پاکستان کو ”ریاست مدینہ“ بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔ اور ریاست مدینہ کے کچھ کارناموں کا ذکر بھی کیا۔ لیکن ایک عام پاکستانی شہری بالخصوص ایک عام مسلمان کے ذہن میں یہ سوال ابھرتا ہے کہ ریاست مدینہ کیا ہے۔ اتنی بات تو ہر مسلمان جانتا ہے کہ ریاست مدینہ سے مراد حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی قائم کردہ وہ حکومت تھی جو مدینہ میں قائم ہوئی اور پھر پھیلتی چلی گئی۔ جسے خلافت راشدہ بھی کہا جاتا ہے۔ لیکن اس ریاست مدینہ میں کیا کیا خوبیاں تھیں اسے بہت کم لوگ جانتے ہیں۔ اس لیے پاکستانی عوام کو یہ بتانا اور ایجوکیٹ کرنا نہایت ضروری ہے کہ ریاست مدینہ کیا تھی اور اس ریاست نے اس معاشرے میں کیا کیا اصلاحات کیں اور ان کے کیا اثرات اور نتائج مرتب ہوئے۔
آپ اکثر سیرت کے جلسوں میں قران پاک کی یہ آیت کریمہ سنتے ہوں گے:
لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوة حسنة(سورہ احزاب)
تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں نمونہ ہے۔ جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی تمام انسانوں کے لیے نمونہ ہے، بالکل اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ریاست تمام دنیا کی ریاستوں کے لیے نمونہ ہے۔

اس بات کو سمجھنے کے لیے پہلے ہمیں یہ بات سمجھنی چاہیے کہ انسانی زندگی کے چھ گوشے ہیں۔ یعنی ہر انسان کا اپنی زندگی میں ان چھ گوشوں کے ساتھ کسی نہ کسی طرح تعلق ضرور رہتا ہے، اور یہی چھ گوشے مل کر ایک مکمل انسانی زندگی کا نمونہ دکھاتے ہیں۔ ۱۔عقائد، ۲۔عبادات، ۳۔رسومات، ۴معاشرت، ۵۔معیشت، ۶۔سیاست۔
دنیا کا ہر انسان کسی نہ کسی حد تک اپنی زندگی میں ان چھ گوشوں کے ساتھ زندگی گزار رہا ہوتا ہے۔ ہر آدمی کا کوئی نہ کوئی عقیدہ ہوتا ہے، قطع نظر اس کے کہ وہ صحیح ہے یا غلط۔ ہر آدمی کی زندگی میں کوئی نہ کوئی طریقہ عبودیت ہوتا ہے۔ ہر آدمی کچھ نہ کچھ رسومات رکھتا ہے۔ ہرآدمی اجتماعی زندگی میں معاشرے کا حصہ ہوتا ہے اور اس کا کسی نہ کسی طور پر معیشت اور سیاست کے ساتھ بھی تعلق واسطہ ہوتا ہے۔
ریاست مدینہ کی یہی واحد خوبی تھی کہ اس نے انسانی زندگی کے ان چھ گوشوں میں ایسی ایسی اصلاحات کیں کہ نہ اس سے پہلے کوئی کرسکا اور نہ اس کے بعد۔

          1۔عقائد
حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب نبوت ملی تو آپ نے سب سے پہلا کام لوگوں کے عقائد ونظریات کی درستگی کا کیا، اور عرب کے اس جاہل معاشرے میں نظریہ توحید کی داغ بیل ڈالی۔ عرب کے اس معاشرے میں لوگوں کے مختلف عقائد تھے۔ کوئی ایک خدا مانتا تھا تو کوئی تین، کوئی لاکھوں خدا مانتا تھا تو کوئی بالکل بھی نہیں۔لوگ اپنا خدا اپنے ہاتھوں سے بناتے اور پھر اس کے سامنے جھک جاتے۔ درباروں، مندروں اور آستانوں پر چڑھاوے دیے جاتے جس سے ان کو ہر گناہ کرنے کی آزادی مل جاتی۔ لیکن ریاست مدینہ کے بانی نے سب سے پہلے عقیدہ کا نعرہ مستانہ بلند کیا ۔ کیونکہ عقیدہ ہی وہ پہلا پتھر ہے جو درست ہو جائے تو زندگی کا دھارا بدل جاتا ہے۔ ایک شخص نہ کسی خدا کو مانتا ہو اور نہ کسی حساب کتاب کو ، تو پھر وہ اپنے پیٹ کا پُتر ہوتا ہے، اس کی ساری تگ و دو، ہر محنت کوشش، کامحور اپنا پیٹ، اپنے بچے، اور اپنا گھر ہوتا ہے۔نہ اسے حلال و حرام کی تمیز ہوگی اور نہ صحیح اور غلط کی۔ لیکن اگر اس کا عقیدہ بدل دیا جائے، تو صرف عقیدے کے بدلنے سے اس کی زندگی میں اتنی بڑی تبدیلی آجائے گی کہ وہ کوئی بھی کام کرنے سے پہلے سوچے گا کہ آیا یہ درست ہے یا غلط۔ حرام ہے یا حلال۔نہ اس کی نگرانی کی ضرورت ہوگی اور نہ ڈنڈے کی۔ لہٰذا آج بھی اگر کوئی ریاست مدینہ بنانا چاہتا ہے تو اسے ریاست کے باسیوں کے عقائد اور نظریات کو درست کرنے کی فکر کرنی ہوگی، اور لوگوں کو ایک اللہ کا بندہ اور آخرت میں حساب کتاب اور جوابدہ ہونے کا احساس دلانا ہوگا۔
          2۔عبادات
آپ حضرات میں سے جس جس نے وزیر اعظم عمران خان کی تقریب حلف برداری دیکھی ہے تو انہیں یاد ہوگا کہ اس تقریب کے آغاز میں جو تلاوت ہوئی تھی اس میں سورہ حج کی آیت نمبر 41 پڑھی گئی تھی۔
الذین ان مکنٰھم فی الارض اقاموا الصلوة واٰتوا الزکوة وامروا بالمعروف ونھوا عن المنکر۔ وللہ عاقبة الامور (حج)
اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کا یہ وصف بیان کیا ہے کہ اگر ہم انہیں حکمرانی عطاءکریں تو یہ پوری پابندی سے نماز قائم کریں، زکوة دیں اور نیکیوں کا حکم کریں اور برائیوں سے منع کریں۔ اس ایک آیت کریمہ میں حکمرانی کرنے کا پورا طریقہ بتا دیا گیا ہے۔
چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ ریاست مدینہ میں سب سے پہلا کام یہی کیا گیا۔ ریاست کا آغاز ہی مسجد نبوی کی تعمیر سے ہوا۔ جس سے پتا چلتا ہے کہ ریاست مدینہ کی پہلی ترجیح مساجد کی تعمیر تھی، نہ کہ مساجد ڈھانا۔ پھر صرف تعمیر پر اکتفاءنہیں کیا گیا بلکہ مسجد کو اس کا حقیقی مقام بھی دیا گیا۔ امور مملکت کے اہم فیصلے مسجد میں ہوا کرتے تھے، ریاست مدینہ کی مقننہ مسجد میں ہی تھی۔ ریاست مدینہ کا جی ایچ کیو بھی مسجد تھا، ریاست مدینہ کی سپریم کورٹ بھی مسجد میں ہی تھی۔ الغرض ریاست مدینہ کے تمام امور مسجد میں طے ہوتے تھے، ریاست مدینہ کے لشکر فوجی ہوں یا سفارتی سب مسجد سے روانہ ہوتے تھے۔اور خاص طور پر خارجہ امور اور باقی ممالک کے سفارتی وفود سے مذاکرات اور ملاقاتیں مسجد میں ہوتی تھیں۔ریاست مدینہ نے اپنی نیشنل یونیورسٹی کا درجہ بھی مسجد کو ہی دیا ہوا تھا۔
سورہ حج کی آیت کریمہ کی روشنی میں ریاست مدینہ میں نظام صلوة اور نظام زکوة اس نہج پر قائم کیا ہوا تھا کہ کسی کو اس بات کی جرات و ہمت نہیں ہوتی تھی کہ وہ نماز یا زکوة چھوڑ سکے۔ چنانچہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں کوئی اس بات کی ہمت نہیں کرسکتا تھا کہ وہ نماز اپنے گھر میں پڑھے تمام لوگ جماعت کے ساتھ نماز پڑھتے تھے۔ جو بیمار ہوتا تھا اسے بھی دو آدمیوں کے سہارے لاکر مسجد کی صف میں بٹھا دیا جاتا تھا۔ ہم تو یہ دیکھتے تھے جو کھلم کھلا منافق ہوتا تھا اس کی کبھی کبھی(نوٹ کریں کبھی کبھی) جماعت کی نماز چھوٹ جاتی تھی ورنہ کسی عام منافق کو بھی جماعت چھوڑنے کی جرات نہیں ہوتی تھی۔ دوسری طرف ایک غلط فہمی کی وجہ سے ایک قبیلے کے بارے پتا چلا کہ انہوں نے زکوة دینے سے انکار کردیا ہے تو اس کے خلاف لشکر کشی کی تیاری شروع ہوچکی تھی۔ جبکہ صدیق اکبررضی اللہ عنہ کے دور میں ریاست مدینہ نے مانعین زکوة کے بارے جو پالیسی اختیار کی وہ سب کے سامنے ہے۔

          3۔رسومات
قرآن حکیم کی سورہ اعراف میں اللہ تعالیٰ نے ریاست مدینہ کے بانی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ وصف بیان کیا ہے:
ویضع عنھم اصرہم والاغلال اللتی کانت علیہم (اعراف157)
اور ان پر سے وہ بوجھ اتارتا ہے جو ان پر لدے ہوئے تھے اور وہ بندشیں کھولتا ہے جن میں وہ جکڑے ہوئے تھے۔
عرب کے اس معاشرے میں جو جاہلیت کے بوجھوں تلے دبا ہوا تھا اور طرح طرح کی خود ساختہ بندشوں میں جکڑا ہوا تھا، ریاست مدینہ نے ان تمام بوجھوں کو اتارا، اور تمام بندشوں کو کھول کر لوگوں کو آزاد کیا۔ طرح طرح کی من گھڑت رسومات اور رواج ، جن کے نہ سر تھے ، نہ پاوںریاست مدینہ نے سب کو ختم کرکے لوگوں کے بوجھ ہلکے کیے۔لوگوں کو بتایا کیا حلال ہے اور کیا حرام ہے۔ کیا صحیح ہے اور کیا غلط ہے۔ ان غلط رسومات کے خاتمے کے ساتھ ساتھ اصل اور صحیح رسومات کا اجرا بھی کیا۔ رسومات خوشی کے مواقع کی ہوں یا غمی کے مواقع کیں، ان کا صحیح طریقہ بتایا، اور بدعات و خرافات کا مکمل صفایا کیا۔ لہٰذا آج بھی اگر کوئی ریاست مدینہ کی طرز پر ریاست بنانا چاہے تو اسے لوگوں کو ان بوجھوں سے ہلکا اور ان بندشوں سے آزاد کرنا ہوگا جن میں لوگ جکڑے جا چکے ہیں اور نکلنے کی کوئی راہ نہیں پاتے۔جہیز، مہندی، اور لڑکی کے گھر کھانے کی رسومات وہ ناسور ہیں جنہوں نے ہمارے معاشرے کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے۔ اسی طرح فوتگی اور اس کے بعد کی رسومات کا معاملہ ہے، کہ مرنے والے کا تیجہ،قل اور خیرات ہوجائے تو وہ بخشا بخشایا ہو جاتا ہے۔ گویا شادی کی رسومات نے لوگوں کی دنیا اور فوتگی کی رسومات نے لوگوں کی آخرت خراب کرکے رکھ دی ہے۔
          4۔معاشرت
ریاست مدینہ نے اپنے معاشرے کو جدید خطوط پر استوار کیا، اور جاہلیت کا وہ سارا گند صاف کیا جس نے عرب معاشرے کو لبیڑا ہوا تھا۔ ریاست مدینہ نے عدل و قسط پر مبنی معاشرہ کھڑا کیا۔ جس میں قانونی مساوات کو رائج کیا۔ قانون سب کے لیے ایک تھا، امیر غریب کا کوئی فرق نہیں تھا۔ ایک فاطمہ نامی عورت جب چوری کے جرم میں گرفتار ہوئی اور اس کے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا گیا تو اس کے قبیلے والے ہر قسم کی سفارشیں، رشوتیں دینے کے لیے تیار ہو گئے کہ کسی طرح اس عورت کو قانون کے ہاتھوں سے چھڑا دیا جائے۔ لیکن حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر میری بیٹی فاطمہ بھی ہوتی تو میں اس کے ہاتھ بھی کاٹ دیتا۔حضرت علی رضی اللہ عنہ عدالت کے طلب کرنے پر عدالت میں پیش ہوئے اور حضرت عمررضی اللہ عنہ نے مصر کے گورنر کے بیٹے کو سرعام کوڑے مارے اور یہ ثابت کیا کہ ریاست مدینہ میں قانون سب کے لیے برابر ہے۔ معاشرے کی تعمیر و ترقی کے لیے یہ بات نہایت ضروری ہے کہ قانون کی بالادستی ہو اور قانون میں امیر غریب، چھوٹے بڑے طبقے کا فرق مٹا دیا جائے۔
ریاست مدینہ نے معاشرے کی سطح پر دوسرا بڑا کارنامہ فحاشی اور عریانی کو مٹانے کے حوالے سے کیا۔ اور لوگوں میں پردے کا نظام رائج کیا۔ محرم اور غیر محرم کا فرق لوگوں کے ذہن میں بٹھایا۔
ریاست مدینہ نے معاشرے کی سطح پر تیسرا بڑا کارنامہ خواتین کے حقوق بالخصوص شادی میں زبردستی، وراثت میں محروم رکھنا، یتیم کا مال ہڑپ کرنا۔ اور عورتوں کے حق ملکیت کو ثابت کرنے کے حوالے سے سرانجام دیا۔ اور لوگوں کو بتایا عورت مال نہیں انسان ہے، اور حق ملکیت بھی رکھتی ہے۔ کوئی کسی عورت سے زبردستی شادی نہیں کرسکتا۔کوئی عورت کے حق وراثت کو دبا نہیں سکتا۔ مردعورت دونوں کے حقوق برابر ہیں ، البتہ دائرہ کار علیحدہ علیحدہ ہے۔
          5۔ معیشت
ایک وقت وہ تھا جب لوگوں نے بھوک کی شدت کم کرنے کے لئے پیٹ پر پتھر باندھے ہوتے تھے، اور پھر چند سال بعد ایسا دور بھی آیا کہ ریاست مدینہ میں زکوة دینے والے تو تھے لیکن زکوة لینے والا کوئی نہیں ملتا تھا۔یہ سب کچھ ریاست مدینہ کی ان شاندار پالیسیوں کے نتیجے میں ممکن ہوا جو اس ریاست نے اختیار کیں۔ ان میں سب اہم چیز سود پر مکمل پابندی تھی، جس کی وجہ سے غریب کو سر اٹھانے کا موقع ملا اور امیر کے منہ میں لگام ڈال دی گئی۔یہی وہ بنیادی پتھر تھا جسے اٹھاتے ساتھ ہی ریاست کی معیشت ترقی کرنا شروع ہوئی۔ ریاست مدینہ نے ارتکاز دولت پر بھی پابندی لگا دی۔ اور ایسی ایسی پالیسیاں جاری کیں کہ دولت چند ہاتھوں تک سمٹ کر نہ رہ جائے بلکہ دولت ہر وقت حرکت میں رہے۔اس مقصد کے حصول کے لیے سود حرام اور زکوة فرض قرار دی گئی۔یعنی ناجائز طریقے سے کوئی دولت اکھٹی نہیں کرسکتا، اور جائز طریقے سے اکھٹی کی گئی دولت بھی ایک حد کے بعد ایک خاص مقدار زکوة کی صورت لٹا دی جائے گی۔
اس کے علاوہ ریاست مدینہ امیروں پر زکوة تو فرض کی لیکن غریبوں پر کسی قسم کا کوئی ٹیکس نہیں لگایا۔ آج ریاست پاکستان امیروں کو تو طرح طرح کی چھوٹ دیتی ہے، لیکن غریب سے ایک سوئی سے لےکر کھانے پینے کی بنیادی چیزوں یہاں تک کہ بچے کی تعلیم کے لیے خریدے گئے بال پن اور بستر مرگ پر لیٹے بیمار کی گولی تک ہر چیز پر ٹیکس وصول کرتی ہے۔کئی چیزیں تو ایسی ہیں کہ جتنی ان کی اصل قیمت ہے اس کے قریب قریب ہی اس پر ٹیکس لگادیا گیا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ کوئی بھی دل جمعی، خلوص،اور محنت سے کام نہیں کرتا بلکہ لوٹ مار،دھوکہ، فراڈ، اور غلط ذرائع سے دولت جمع کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
ریاست مدینہ شہریوں کو لوٹنے کے بجائے ان کی کفالت کرتی تھی۔ ریاست مدینہ شہریوں کی خوراک، صحت اور تعلیم کا خاص خیال رکھتی تھی۔ اس کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ ریاست مدینہ نے ریاست کے خلاف لڑنے والے سزائے موت کے مستحق دہشت گردوں کو صرف اس شرط پر رہا کردیا تھا کہ آپ ہمارے بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھا دیں۔ چنانچہ ایسے دہشت گردوں کو شرط پوری کرنے پر ریاست مدینہ نے بطور صلہ تختہ دار سے رہائی بھی دی۔ریاست مدینہ نے اپنی نیشنل یونیورسٹی میں پڑھنے والے طالبعلموں سے کبھی فیس نہیں لی، بلکہ لوگوں کو ترغیب کے ان کے ساتھ بڑھ چڑھ کر تعاون کیا جائے۔صحت کے میدان میں ریاست مدینہ بچے جننے والی ماوں کواس درد و الم کی گھڑی میں لوٹتی نہیں بلکہ اس نے پیدا ہونے والے بچوں کے وظائف جاری کیے۔
          6۔سیاست
ریاست مدینہ کی سیاست کے دو بنیادی نکتے تھے۔ ایک یہ کہ مقتدر اعلیٰ اورحاکمیت اعلیٰ اللہ تعالیٰ کی ذات بابرکات ہے۔ دوم یہ کہ دعوت حق کا فروغ کیا جانا چاہیے۔ چنانچہ ریاست مدینہ کی ساری سیاست اسی نکتے کے گرد گھومتی تھی۔ کوئی لشکر روانہ کرنا ہو یا مذاکرات، خارجہ پالیسی ہو یا عسکری پالیسی انہیں دو نکتوں کو مدنظر رکھ کر بنائی جاتی تھی۔ چنانچہ ایک وقت وہ تھا کہ ریاست مدینہ کے بانی صلی اللہ علیہ وسلم کو غار میں پناہ لینا پڑی، اپنا گھر بار چھوڑنا پڑا، لیکن چند سال بعد وہ وقت آیا کہ آپ نے اس وقت کی سپر پاور طاقتوں روم و ایران کے بادشاہوں کو اسلام میں داخل ہونے کے خطوط لکھے اور دعوت حق کے فروغ کو عرب سے نکل کر عجم میں پھیلانا شروع کردیا۔
یہ تھی وہ ریاست مدینہ جس کے نام کو استعمال کرکے الیکشن کمپئین بھی چلی اور اب اسی نام پر حکومت بھی چل رہی ہے۔ ہم عمران خان کے خلوص میں شک تو نہیں کرتے کہ دل چیر کر دیکھا نہیں جا سکتا، لیکن امید اور دعا ضرور کرتے ہیں کہ انہوں نے اگر سچا ارادہ کیا ہے تو اللہ انہیں بھی اور ہم سب کو ریاست مدینہ کی طرز پر پاکستان کی ریاست کو ڈھالنے کی توفیق عطاءفرمائے۔ آمین ثم آمین

Saturday, September 29, 2018

How to Grow Stevia Plant || Stevia Health Benefits

سٹیویا پلانٹ کیا ہے۔ اس کے فوائد کیا کیا ہیں۔ یہ کن کن بیماریوں کا علاج ہے۔ اور سالانہ کتنی آمدن دے سکتا ہے۔
The stevia plant has been used for more than 1,500 years by the Guaraní people of Brazil and Paraguay, who refer to it as ka’a he’ê, which means “sweet herb.” These native South Americans love using this non-caloric natural sweetener in their yerba mate tea, as medicine and a sweet treat. (1) In these South American countries, it has also been used specifically as a traditional medicine for burns, stomach problems, colic and even as a form of contraception. So, if it’s such a sweet treat, are there stevia side effects that may make it bad for you?

Friday, September 28, 2018

سٹیویا ، ایک جادو اثرپلانٹ

سٹیویا ، ایک جادو اثرپلانٹ
سٹیویا اپنے میٹھے پتوں کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے۔یہ قدرتی طورپر پیراگوئے اور برازیل میں پایا جاتا ہے لیکن اب اس کی کاشت دینا بھر میں شروع ہوگئی ہے۔ اس کے پتے چینی سے 15گنا زیادہ میٹھے ہوتے ہیں اور اس کے عرق میں چینی سے 200سے 300گنا زیادہ میٹھا ہوتا ہے۔اس میں نشاشتہ اور حرارے نہ ہونے کے برابر ہیں جس کی وجہ سے یہ شوگر کے مریضوں کے لیے مفید ہے اور یہ خون میں شوگر کی مقدار اوربلڈ پریشر کو بھی کم کرتاہے ۔

سٹیویا نامی شوگر پلانٹ سے چائے، مشروبات کو میٹھا کرکے چینی کی سالانہ طلب میں 6سے 8لاکھ ٹن کمی لائی جاسکتی ہے۔

اس سے تیاکردہ مشروبات اور کھانے شوگر کے مریض بھی بلاجھجک استعمال کرسکتے ہیں۔ سٹیویا چینی کا بہترین متبادل ہے۔ اس کے پتوں سے حاصل کیے جانے والے ایک کلوگرام سفوف کی مٹھاس 300 کلوگرام چینی کے برابر ہوگی ۔
مزید بہتر نتائج کے حصول کے لیے ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آباد کے شعبہ پلانٹ فزیالوجی میں اس پودے پر تحقیقی کام جاری ہے ۔ چین سے منگوائے جانیوالے ایک پودے پر ریسرچ کے بعد یہ بات مشاہدے میں آئی ہے کہ اگر سٹیویا نامی شوگر پلانٹ کے پتوں کو چائے کی پتی کے ساتھ ملا کر پکایا یا دیگر مشروبات میں ملا کر استعمال کیاجائے تو اس سے بالکل چینی جیسی مٹھاس پید ا ہو سکتی ہے۔ 

یہ جراثیم کش ہے جس کی وجہ سے ٹوتھ پیسٹ میں بھی استعمال ہورہا ہے، دانتوں کو بیماریوں سے بچانے کے ساتھ ساتھ مسوڑوں کو بھی مضبوط بناتا ہے،جلدی امراض اور کیل مہاسوں میں اس کی افادیت بھی تسلیم کی گئی ہے۔اس میں کیلشیئم کی کافی مقدار پائی جاتی ہے جس کی وجہ سے عورتوں اور بچوں کی ہڈیوں کی نشونما کی لئے بھی مفید ہے۔نظام انہضام اور معدے کی تیزابیت میں بھی کارآمد ہے،معدے کے السر کو بھی کم کرتا ہے۔خون کی خلیوں کو بننے اور خون کی نالیوں کو مضبوط بنانے میں مدد کرتا ہے،انسانی جسم میں روٹا وائرس کے خلاف اہم کردار ادا کرتا ہے۔

ماہرین کے مطابق ابتدائی طور پر یہ بات بھی مشاہدے میں آئی ہے کہ اس پودے کو فورٹ منرو اور مری سمیت نسبتاً کم درجہ حرارت رکھنے والے علاقوں میں کاشت کرکے بہترین نتائج حاصل کیے جاسکتے ہیں۔پھول آنے سے قبل اس کے پتوں کوتوڑ کر سایہ میں سکھا لیا جاتا ہے اور پیس کر پاؤڈر کی شکل میں چائے یا کھانوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔اگرچہ یہ باقاعدہ ایک فصل ہے مگر اسے تھوڑی سی محنت سے گھروں میں گملوں میں بھی اگایا جا سکتا ہے ۔

Saturday, August 18, 2018

فرد اور اجتماعیت

فرد اور اجتماعیت
(سیدعبدالوہاب شیرازی)
پہلی بات:
*
۔۔۔زمین اپنے محور کے گرد گھومتی ہے،(یعنی اپنا کام کررہی ہے) زمین اپنی اس گردش کے دوران سورج کے گرد بھی گھومتی ہے۔
*
۔۔۔زمین اپنی اس انفرادی حیثیت کے ساتھ ساتھ ایک اجتماعی نظام ’’نظام شمسی‘‘ کا بھی حصہ ہے۔ اور وہ پورا نظام شمسی بھی (اپنے سیاروں اور چاندوں سمیت)رواں دواں ہے، پھر وہ بھی اپنے سے بڑی ایک اور اجتماعیت ’’کہکشاں ‘‘ کا حصہ ہے۔پھر یہ کہکشائیں بھی اپنے سے بڑی ایک اور اجتماعیت ’’گلیکسی‘‘ کا حصہ ہیں۔الغرض ہر کرہ حرکت میں بھی ہے اور کسی اجتماعیت کا حصہ بھی ہے۔
اسی طرح دنیا کی ہر چیز اپنی انفرادی حیثیت کے ساتھ ساتھ کسی اجتماعیت کا حصہ بھی ہے۔ چاہے وہ درخت ہوں یا پھل پھول پودے۔ درند، چرند، پرند ہوں یا خشکی تری کے جاندار وغیرہ۔ ہر کوئی کسی نا کسی اجتماعیت کا حصہ ہے۔اس سے معلوم ہوا کائنات کا مزاج اجتماعیت والا ہے۔

دوسری بات:
قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:
یاایہاالذین آمنوا اتقواللہ وکونوا مع الصادقین۔
اے ایمان والو اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور سچوں کے ساتھ جڑ جاو۔ اس آیت کریمہ میں دو باتوں کا حکم ہے:
۱۔ انفرادی سطح پر تقویٰ اور خدا خوفی پیدا کرو۔ ۲۔ اس کے ساتھ ساتھ سچے اور نیک لوگوں کے ساتھ جڑ جاو۔
یعنی اپنی ذات میں تقوے والی زندگی (جس میں فرائض، واجبات اور اللہ رسول کی اطاعت ۔ اور حرام اور نافرمانی سے بچتے ہوئے)گزارو۔
لیکن بات یہیں ختم نہیں ہوتی بلکہ اس کے ساتھ ساتھ سچے اور نیک لوگوں کے ساتھ جڑنا بھی شروع کرو، اکیلے نہ رہو۔

تیسری بات:
آخرت کا منظر اور سین: قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:
وکلہم آتیہ یوم القیامۃ فردا۔
اور وہ سب کے سب قیامت والے دن اکیلے اکیلے آئیں گے۔
یعنی قیامت والے دن اللہ کے حضور پیشی انفرادی ہوگی، ایک ایک فرد کو اکیلے اللہ کے سامنے کھڑے ہوکر حساب کتاب دینا ہوگا، وہاں پیشی قوموں، قبیلوں، جماعتوں کی شکل میں نہیں ہوگی، کوئی کسی کی مدد نہیں کرسکے گا ۔وہاں اپنے ہی اعمال کام آئیں گے، کوئی دوسرا کسی کے کام نہیں آئے گا، نہ اپنی ذمہ داری کسی دوسرے پر ڈالی جاسکے گی۔یہاں تک کہ شیطان پر بھی ذمہ داری نہیں ڈالی جاسکے گی حالانکہ دنیا میں وہ بہکاتا بھی رہا۔
لیکن اس کے ساتھ ساتھ قرآن و حدیث میں یہ بات بھی واضح کردی گئی ہے کہ انسان کو اعمال صالحہ کی حفاظت اور پابندی کے لیے پاکیزہ اجتماعیت کا حصہ بننا بھی ضروری ہے۔ کیونکہ اکیلا ہمیشہ خطرے میں رہتا ہے۔ جیسے اکیلے کو چور ڈاکو آسانی سے لوٹ سکتے ہیں اور آٹھ دس کو لوٹنا مشکل ہوتا ہے۔ اسی طرح دین ایمان کے ڈاکو شیاطین اور انسان نما شیاطین بھی اکیلے آدمی کا دین ایمان آسانی سے لوٹ لیتے ہیں جبکہ جہاں’’ کونوا مع الصادقین‘‘ کے حکم پر عمل کرتے ہوئے چند سچے اور نیک لوگ اپنی اجتماعیت قائم کردیں ان کو لوٹنا یا گمراہ کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔لہٰذا فرد اور اجتماعیت کے اپنے اپنے دائرے ہیں۔
اجتماعیت کی اہمیت
*
۔۔۔علیکم باالجماعۃ، وایاکم والفُرقۃ، فان الشیطان مع الواحد، وھو من الاثنین اَبعدُ۔
تم جماعت کو لازم پکڑو، اور فرقہ فرقہ ہونے سے بچو۔ کیونکہ شیطان اکیلے کے ساتھ اور دو سے دور ہوتا ہے۔
*
۔۔۔یداللہ علی الجماعۃ، ومَن شَذَّ شُذَّ الی النار۔
اجتماعیت اور جماعت کے ساتھ اللہ کی مدد ہوتی ہے، اور جو جماعت سے کٹا وہ جہنم میں داخل کردیا جائے گا۔
*
۔۔۔انہ لا اسلام الا باالجماعۃ، ولا جماعۃً الا بِاَمارۃٍ، ولا امارۃ الا بطاعۃٍ۔
جماعت کے بغیر کوئی اسلام نہیں۔ اور امیر کے بغیر کوئی جماعت نہیں۔ اور اطاعت امیر کے بغیر کوئی امارت نہیں۔
*
۔۔۔مَن مات ولیس فی عنقہٖ بیعۃٌ مات میتۃً جاھلیۃً۔
جو اس حال میں مرا کہ اس کی گردن میں (امیر جماعت کی)بیعت کا قلادہ نہ ہوا تو وہ جاہلیت کی موت مرا۔
یعنی بغیر جماعت اور بغیر بیعت امیر کے زندگی گزارنا اسلام سے پہلے جاہلیت کے دور کی باتیں ہیں، اسلام نے اپنا ایک نظام دیا ہے جس میں ہر فرد اجتماعیت کی لڑی میں پرویا ہوا اور امیر کی بیعت میں بندھا ہوا ہے، شتر بے مہارکی طرح کوئی نہیں۔

*
۔۔۔عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں: قرآن میں ’’حبل اللہ‘‘ سے مراد جماعت اور اجتماعیت ہے
*۔۔۔یہ بات مسلمہ حقیقت ہے کہ انسان فطرتاً اجتماعیت پسند ہے۔ چنانچہ حضرت آدم علیہ السلام جنت میں بھی اکیلے اداس اداس تھے لیکن جب حضرت حوا کو پیدا کیا گیا تو تب ان کی اداسی ختم ہوئی کیونکہ اب دو افراد کی چھوٹی سی اجتماعیت قائم ہوگئی۔ اس سے یہ بھی پتا چلا کے اجتماعیت پسند فطرت انسانی میں رکھی ہوئی ہے۔
*
۔۔۔انسان گروہوں، قبیلوں، اور جماعتوں کی شکل میں رہنا پسند کرتا ہے۔چنانچہ تاریخ انسانی ہمیں یہی بتاتی ہے کہ انسان ہمیشہ مل جل کر رہتے رہے ہیں۔
*
۔۔۔ماہرین نفسیات بھی کہتے ہیں: ایک طرف انسان میں ’’انا‘‘ خودی اور انفرادیت ہے تو دوسری طرف اجتماعیت کا حصہ بننا بھی پسند کرتا ہے۔
*
۔۔۔اسلام میں ایک طرف اپنی ذات اور اعمال کا ذمہ دار انسان کو خود قرار دیا گیا ہے تو دوسری طرف اجتماعیت کے ساتھ جڑے رہنے کا حکم بھی اسلام نے ہی دیا ہے۔

حاصل سبق
اگر کوئی فرد بہت متحرک ہو لیکن کسی اجتماعیت کا حصہ نہ بنے تو یہ مطلوب نہیں، کیونکہ یہ فطرت کے خلاف بھی ہے اور اسلام کے خلاف بھی۔
اگر کوئی فرد ساکت ہولیکن ساتھ ہی کسی اجتماعیت کا حصہ بن جائے تو یہ بھی پسندیدہ نہیں کیونکہ اپنی ذات اور اعمال کا وہ خود ذمہ دار ہے۔
ایک فرد اپنی ذات میں کتنا ہی متقی کیوں ہو لیکن قرآن اسے سچوں کے ساتھ جڑنے کا حکم دیتا ہے تاکہ یہ انفرادی نیکی کسی بڑے اجتماعی نظام کے قیام میں حصہ ڈال سکے۔
ایک فرد نافرمان ہو، بدی کے راستے پر چل رہا ہو، لیکن ساتھ وہ کسی اجتماعیت کا حصہ بن کر یہ سمجھے کہ یہ اجتماعیت مجھے آخرت میں بچا لے گی تو یہ بھی اس کی بھول ہے۔
فرد قائم ربط ملت سے ہے تنہا کچھ نہیں

موج ہے دریا میں اور بیرون دریا کچھ نہیں


اجتماعیت مضبوط کیسے ہوتی ہے؟
ان اللہ یحب الذین یقاتلون فی سبیلہ صفاً کأنہ بنیانٌ مرصوص۔
بے شک اللہ کو وہ لوگ محبوب ہیں جو اس کی راہ میں صف بنا کر ایسے قتال کریں جیسے سیسہ پلائی ہوئی دیوار۔
یہ بہت جامع آیت ہے جس میں کئی سبق مضمر ہیں:
۱۔یقاتلون:۔۔۔۔۔۔ اللہ کو اپنے بندوں میں سے وہ بندے محبوت ہیں جو اس کی خاطر اس کی راہ میں جان کی بازی لگانے اور خطرات مول لینے کے لیے تیار بیٹھے ہوں۔
۲۔فی سبیل اللہ۔۔۔۔۔۔ وہ بندے شعوری طور پر سوچ سمجھ کر اس کی راہ (فی سبیل اللہ) میں قتال کریں۔ نہ کہ کسی اور راہ یا کسی اور مقصد کے لیے۔
۳۔صفا۔۔۔۔۔۔ یعنی وہ بدنظمی اور انتشار کا شکار نہ ہوں بلکہ مضبوط تنظیم کے ساتھ صف بستہ ہو کر لڑیں۔ یعنی وہ منظم اجتماعیت میں پروئے ہوئے ہوں۔صرف بھیڑ یا رش نہ ہو بلکہ انتہائی منظم اور ڈسپلن کی پابند اجتماعیت والے ہوں۔
۴۔بنیان مرصوص۔۔۔۔۔۔ کوئی بھی اجتماعیت اس وقت تک سیسہ پلائی ہوئی دیوار نہیں بن سکتی جب تک چار صفات پیدا نہ ہوں:
۱۔عقیدے اور نصب العین میں مکمل اتفاق: اگر اس میں اختلاف ہوگا تو مضبوطی قائم نہیں رہ سکتی لہٰذا ایک عقیدے پر جمع ہونا اور ایک مقصد پر فوکس کرنا ضروری ہے۔
۲۔ایک دوسرے پر اعتماد: ایک دوسرے کے خلوص پر اعتماد کرنا، نہ کہ شک کیا جائے۔ اگر اعتماد نہیں ہوگا تو یہ اجتماعیت سیسہ پلائی ہوئی دیوار نہیں بن سکتی ۔
۳۔اخلاق اور احترام کا اعلیٰ معیار:اگر یہ نہیں ہوگا تو نہ ایک دوسرے کی محبت پیدا ہوگی اور نہ عزت و احترام۔ نتیجۃً آپس میں ہی تصادم کا خطرہ ہے۔
۴۔اپنے مقصد اور نصب العین کے ساتھ عشق اور ایسا جذباتی لگاو جو سب کچھ قربان کرنے کے لیے آمادہ کردے۔
یہ وہ اوصاف تھے جو صحابہ کرام کی جماعت میں پیدا ہوئے تو دنیا کی بڑی بڑی طاقتیں ان سے ٹکرا کر پاش پاش ہوگئیں۔
یہ وہ اوصاف تھے جو اجتماعیت کو مضبوط بناتے ہیں۔ البتہ جہاں تک تعلق ہے اجتماعیت کو قائم رکھنے والی بنیادوں کا تو وہ مندرجہ ذیل ہیں:

اجتماعیت کو قائم رکھنے والی بنیادیں۔
1۔ بیعت
بیعت کا معنی ہے عہد وپیمان۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیعت لیتے تھے۔عام عہد باہمی رضامندی سے منسوخ ہو سکتے ہیں لیکن بیعت شرعی منسوخ نہیں ہوسکتی۔ چنانچہ ایک دیہاتی نے بیعت کی اور مدینہ میں آباد ہوگیا، پھر آب وہوا موافق نہ آئی تو جاتے ہوئے بیعت کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا لیکن حضورﷺ نے یہ مطالبہ رد فرمادیا، اس نے باربار بیعت کی منسوخی کا مطالبہ کیا لیکن حضور ﷺ نے قبول نہیں فرمایا۔
2۔ سمع و طاعت
اطاعت فی المعروف واجب ہے۔علامہ ابن عبدالبر فرماتے ہیں: اگر امیر خود تو فاسق و فاجر ہو لیکن معروف کا حکم کرے، یہاں تک کہ معروف مباح کا حکم بھی کرے تو اس کی اطاعت واجب ہے۔
حضور ﷺ نے فرمایا: اگر تمہارا امیر ’’حبشی‘‘ ’’غلام‘‘ ’’کان ناک کٹا‘‘ ہو تو بھی اطاعت کی جائے۔ (مسلم)
چنانچہ آپ ﷺ نے امیر کی اطاعت کو اطاعت الٰہی قرار دیا۔
3۔ نصح و خیر خواہی
یہ دونوں طرف سے ضروری ہے۔ مامور اطاعت سے ہاتھ نہ کھینچے اور امیر زیادتی اور ظلم نہ کرے۔ چنانچہ جہاں ایک طرف مامور کو ہر حال میں اطاعت امیر کا حکم دیا گیا ہے وہی امیر کو بھی وعیدیں سنائی گئی ہیں۔ فرمایا:
جس امیر نے رعیت کے ساتھ دھوکہ کیا اس پر جنت حرام ہوگی۔(مسلم)
جس امیر نے رعیت کو مشقت میں ڈالا اللہ اسے مشقت میں ڈالے گا اور جس نے نرمی برتی اللہ اس سے نرمی برتے گا۔(مسلم)
*
۔۔۔اگر امیر میں کمزوریاں ہوں توشرعی حدود اور ادب واحترام کے دائرے میں رہتے ہوئے ان کو دور کرنے کی اسی طرح کوشش کرے جیسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بتادیا، چنانچہ فرمایا:
جو شخص کسی امیر یا صاحب منصب کو نصیحت کرنا چاہے تو اعلانیہ نہ کرے، بلکہ اس کا ہاتھ پکڑے اور تنہائی میں(ون ٹوون ملاقات، یا متعلقہ فورم پر) کرے۔ اگر تو وہ قبول کرلے تو ٹھیک، ورنہ نصیحت کرنے والے نے اپنا فرض ادا کرلیا۔
4۔عدل وانصاف
کسی بھی اجتماعیت کو قائم رکھنے کے لیے ’’عدل‘‘ بنیادی پتھر ہے۔اس کے بغیر اجتماعیت بکھر جاتی ہے۔ اسی لیے فرمایا:
ان اللہ یأمرباالعدل والاحسان
یعنی اللہ عدل و احسان کا حکم دیتا ہے۔
احادیث میں عادل حکمران کے بارے فرمایا: یوم محشر وہ عرش کے سائے تلے ہوگا۔
عمربن عبدالعزیز ؒ نے کعب القرطی سے پوچھا عدل کیا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا:
تم چھوٹوں کے حق میں باپ بن جاو، اور بڑوں کے حق میں بیٹا بن جاواور ہمسروں کے حق میں بھائی بھائی بن جاو۔
5۔مشاورت
یعنی دوسروں سے رائے لینا۔ اس سے دوسروں میں احساس ذمہ داری پیدا ہوتا ہے۔ غووفکر اور تبادلہ خیال کا طریقہ آتا ہے۔ خوداعتمادی پیدا ہوتی ہے۔ مشاورت میں اپنی رائے خلوص اور دلائل کے ساتھ دینے کے بعد دوسروں کی رائے کا احترام بھی ضرور ی ہے۔
6۔ تنقید و احتساب
کسی بھی اجتماعیت میں تنقید برائے اصلاح بہت اہم ہوتی ہے۔ لہٰذا ایسی تنقید جو برائے اصلاح ہو اس کی حوصلہ افزائی لازما کرنی چاہیے۔ کیونکہ اجتماعیت میں کمزوریوں کا پیدا ہونا کوئی حیرت انگیز یا عجیب بات نہیں، بلکہ ایسا تو ہوتا رہتا ہے۔
*
۔۔۔تنقید کی بھی کچھ حدود ہیں۔ اگر تنقید مناسب وقت، مناسب انداز، مناسب ماحول میں مناسب طریقہ کار سے کی جائے تو فائدہ مند ہوتی ہے۔ اور اگر ایسا نہ ہو تو نقصادہ ثابت ہوتی ہے۔
*
۔۔۔مخلصانہ تنقید سے کسی کو بھی بالاتر نہیں ہونا چاہیے۔ بلکہ جو جتنا بڑا ذمہ دار ہے اسے اتنی ہی زیادہ تنقید کو برداشت کرنے کا حوصلہ رکھنا چاہیے۔
*
۔۔۔تنقید کرنے والے کو بھی بڑے چھوٹے کے آداب اور مراتب کا خیال رکھتے ہوئے تنقید کرنی چاہیے، کیونکہ :
جراحات السنان لہاالتیام ولا یلتام ماجرح بہ اللسان
تلواروں کے زخم تو بھر جاتے ہیں لیکن زبان کے زخم نہیں بھرتے۔
چھری کا، تیرکا، تلوار کا گھاوبھرا
لگا جو زخم زبان کا رہا ہمیشہ ہرا۔
*
۔۔۔اگر کوئی غلط انداز سے تنقید کررہا ہو تو اس کی اصلاح کرنا بھی ضروری ہے ورنہ مسلسل غلط انداز سے تنقید، اجتماعیت کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔
*
۔۔۔غلط تنقید کرنے والوں کو بھی اس نکتے پر غور کرنا چاہیے کہ: ان کی بیجا اور حدود سے نکلی ہوئی تنقید ان لوگوں کی قدرومنزلت میں بے جا اضافہ کررہی ہے جو ہر وقت تعریف وتحسین کرتے رہتے ہیں۔
*
۔۔۔ہر فرد کو اپنی اصلاح ’’بے دردی‘‘ سے کرنی چاہیے۔ جبکہ دوسروں کی اصلاح میں نرمی برتنی چاہیے۔

Wednesday, August 15, 2018

Molana Fazl ul Rahman ki Khuwab Men Hazrat Aadam Say Phone pr Baat

مولانا فضل الرحمن کہتے ہیں میری حضرت آدم علیہ السلام سے ٹیلی فون پر بات ہوئی ہے، اور آئندہ کا لائحہ عمل انہوں نے دے دیا ہے، میں اس کے مطابق آگے بڑھ رہا ہوں۔
یہ بات کیسے ہوئی، اس خواب کی تعبیر کیا ہے، جانیے اس ویڈیو میں۔