Search This Blog

Thursday, October 11, 2018

انسانوں کی جنریشن ایکس x generation of humans

انسانوں کی جنریشن ایکس
(سیدعبدالوہاب شیرازی)

آپ نے ٹیکنالوجی کی چیزوں مثلا لیپ ٹاپ موبائل وغیرہ میں جنریشن کا لفظ استعمال ہوتے دیکھا ہوگا۔ جیسے آئی تھری فورتھ جنریشن۔ آئی سیون نائن جنریشن وغیرہ۔ بالکل اسی طرح انسانوں کی تقسیم بھی مختلف جنریشن میں کی جاتی ہے۔ چنانچہ جو  لوگ انیس سو اکسٹھ(1961) سے انیس سو اکیاسی(1981) کے درمیان پیدا ہوئے  ہیں انھیں جنریشن ایکس کہا جاتا ہے،کہتے ہیں کہ دنیا میں سب سے بڑی اور سب سے زیادہ تبدیلیاں جنریشن ایکس نے ہی دیکھی ہیں ، کیونکہ جنریش ایکس کے دور میں زمانے اتنا زیادہ اور اتنی تیزی سے بدلا ہے کہ پچھلے زمانے کا کوئی انسان آج آجائے تو چکرا کر رہ جائے گا۔ جنریش ایکس اس انسانی تاریخ کی سب سے بڑی تبدیلی اور سائنس کی ترقی کے عین موقع پر پیدا ہونے والے لوگوں کو کہا جاتا ہے۔ جنہوں نے ان چیزوں کو بھی دیکھا جو صدیوں سے انسانوں کے زیر استعمال تھیں اور ان کو بھی دیکھا جو اچانک سے ایجاد ہوئیں اور چھا گئیں۔

مہمان کے آنے پر مرغی کو بھگا بھگا کر پکڑنے سے لے کر فارمی مرغی کے پھٹے پر ٹھک ٹھکا ٹھک تک۔سارا دور اس جنریشن نے دیکھا۔
پردہ سکرین سے لے کر ہولوگرام اور وی آر ٹیکنالوجی تک۔ ٹانگے سے لے کر میٹرو ٹرین تک۔ تجوریوں سے لے کر ماسٹر کارڈ تک۔تار مارنے ، فیکس کرنے سے لے کر ایس ایم ایس اور وٹس اپ تک۔ پرانے ریکارڈر سے یوایس بی سٹک تک۔بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی سے لے کر سمارٹ ایل سی ڈی تک۔ڈائل گھمانے والے فون سے لے کر ٹچ سکرین اور وائس ڈائل سمارٹ فونز تک۔پتنگ اڑانے سے ڈرون اڑانے تک۔ صدیق دی ہٹی سےلے کر ایمازون اور دراز پی کے تک۔پیتل کی تار سے لے کر وائی فائی تک۔ چور پکڑنے والے کتوں سے لے کر سی سی ٹی وی کیمروں تک۔عشاء کے بعد دادی جان کی کہانیوں سے لے کر فیس بک اور سوشل میڈیا میں گم ہونے تک۔ ڈسپرین کے فضائل سے لے کر ڈسپرین کے نقصاندہ قرار دیے جانے تک۔سڑک کنارے لگی مداری دیکھنے سے لے کر  سوشل میڈیا کی لائیو سٹریم تک۔ سپیرے کی پٹاری میں چھپے عجیب سانپ کو دیکھنے کی جستجو سے لے کر یوٹیوب پر جدید چیزوں کی اَن باکسنگ دیکھنے تک۔دلہن کی ڈولی سے لے کرپھولوں سے سجی  لیموزین کارتک۔ شکر ، دیسی گھی  ملے سفید چاولوں کے ولیمے سے لے کر میرج ہال کی بے شمار ڈشوں تک۔کلینڈر سے لے کر ٹکٹنگ آفیسر تک۔ پھیری والے بابوں سے لے کرایم بی اے کیے ہوئے  مارکیٹنگ کے بابووں تک۔ہاتھ والے پنکھوں سے لے کر سولر اے سی تک۔ لالٹین اور دیے جلانے سے ایل ای ڈی تک۔جندر سے لے کر فلور مل تک۔ سحری و افطاری کے وقت ڈاکٹر اسرار احمد کے دروس قرآن سے لے عامر لیاقت کی فنکاریوں تک۔ صدرپاکستان ایوب خان کے امریکا میں تاریخی استقبال سے لے کر وزرائے اعظم کے جوتے اتارنے تک۔ علاقے کی پنچائیتوں اور جرگوں  سے لے کر سپریم کورٹ کے از خود نوٹس تک۔سدھائے ہوئے کتےاور بندروں  سے لے کر آرٹیفیشل انٹیلی جنس(اے آئی ٹیکنالوجی) تک،اپنے سینوں میں عروج و زوال ، تغیر و تبدیلی کی ہزاروں داستانیں چھپائے ہوئے ہیں۔


 انسانوں کی یہ جنریشن بڑی قیمتی ہے،کبھی جنریشن ایکس سے تعلق رکھنے والے کسی انسان کے پاس بیٹھ کر ماضی کی یادیں ، حالات کی تبدیلیاں اور وقت کے تغیرات کریدنا شروع کریں، مجھے یقین ہے کہ آپ کو بہت کچھ سننے کو ملے گا۔بعض ممالک میں  ان کے پاسپورٹ پہ بھی باقاعدہ ایکس جنریشن درج ہوتا ہے۔جنریش ایک 1961 سے 1981 کے دورا ن پیدا ہونے والوں کو جبکہ جنریشن وائی 1982 سے 1995 تک پیدا ہونے والوں کو۔ اور جنریشن زیڈ 1995 سے 2012 کے دوران پیدا ہونے والوں کو کہا جاتا ہے۔ جنریشن ایکس چونکہ پچھلے اور اگلے یعنی پرانے اور جدید دور اور ان کی چیزوں کو دیکھ چکی ہے اس لیے اگلے پندرہ بیس سال بعد جب دنیا مکمل طور پر تبدیل ہو جائے گی، اور یہ جنریشن دادا ابو اور دادی جان کی سیٹ پر بیٹھ جائے گی، تب پوتے پوتیاں اور نئی نسل کے نوجوان ان کی پرانی اور اپنے بچپن کے زمانے کے حالات، کہانیوں اور روز مرہ کی زندگی کی چیزوں کے بارے سن کر حیرت زدہ بھی ہوں گے اور شاید یقین بھی نہ آئے۔

......................
x generation of humans

The Names of Generations in the U.S. 

While some generations are known by one name only, such as the Baby Boomers, names for other generations is a matter of some dispute among experts. 
Neil Howe and William Strauss define recent generational cohorts in the U.S. this way:
  • 2000 to present: New Silent Generation or Generation Z
  • 1980 to 2000: Millennials or Generation Y
  • 1965 to 1979: Thirteeners or Generation X
  • 1946 to 1964: Baby Boomers
  • 1925 to 1945: Silent Generation
  • 1900 to 1924: G.I. Generation
The Population Reference Bureau provides an alternate listing and chronology of generational names in the United States:
  • 1983 to 2001: New Boomers
  • 1965 to 1982: Generation X
  • 1946 to 1964: Baby Boomers
  • 1929 to 1945: Lucky Few
  • 1909 to 1928: Good Warriors
  • 1890 to 1908: Hard Timers
  • 1871 to 1889: New Worlders
The Center for Generational Kinetics lists the following five generations who are currently active in America's economy and workforce:
  • 1996 to present: Gen Z, iGen, or Centennials
  • 1977 to 1995: Millennials or Gen Y
  • 1965 to 1976: Generation X
  • 1946 to 1964: Baby Boomers
  • 1945 and before: Traditionalists or Silent Generation

No comments:

Post a Comment