Search This Blog

Friday, March 17, 2017

بکریاں چرانا اور چھوٹے بچے پڑھانا۔

بکریاں چرانا اور چھوٹے بچے پڑھانا۔
(سید عبدالوہاب شیرازی)

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد پاک ہے: مابعث اللہ نبیا الا رعیٰ الغنم، فقال اصحابہ: وانتَ؟ فقال نعم، کنتُ ارعاھا علی قراریط لاَھل مکة۔ اللہ تعالیٰ نے جتنے بھی انبیاءکرام بھیجے ہر ایک نے بکریاں چرائی ہیں ، صحابہ نے پوچھا آپ نے بھی؟ فرمایا: ہاں میں بھی اہل مکہ کی بکریاں کچھ اجرت پر چرایا کرتا تھا۔
علماءنے انبیاءکے بکریاں چرانے کی کچھ وجوہات بیان کی ہیں، یعنی اللہ تعالیٰ نے اس پراسس سے ان کے اندر کچھ اوصاف پیدا کیے جو ایک نبی میں لازما موجود ہونے چاہیے۔ مثلا نبی نے قوم کی قیادت کرنی ہوتی ہے، لوگ مختلف راستوں پر بھاگ رہے ہوتے ہیں ان کو کنٹرول کرنا اور ایک سیدھے راستے پر چلانا بہت مشکل کام ہے جو بلاشبہ بغیر ٹریننگ کے سرانجام نہیں دیا جاسکتا ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نبوت سے قبل اپنے نبیوں کی یہ ٹریننگ اور تربیت بکریاں چروا کران کے اندر قیادت اور لیڈکرنے کی صلاحیت پیدا کی۔
دوسری چیز جو ہر نبی میں ہونی چاہیے وہ صبر اور امت کا غم ہے۔ چنانچہ بعض روایات میں آتا ہے کہ ایک دن حضرت موسی علیہ سلام نبوت سے قبل شعیب علیہ السلام کی بکریاں چرا رہے تھے کہ ایک بکری بھاگ گئی، موسیٰ علیہ السلام اس کو پکڑنے کے لئے اس کے پیچھے بھاگے لیکن بکری بھاگتی ہی گئی یہاں تک کہ موسیٰ علیہ السلام کے پاوں پر بھاگنے کی وجہ سے آبلے پڑ گئے اور باالاخر انہوں نے اس بکری کو پکڑ ہی لیا۔ چنانچہ انہوں نے جب بکری کو پکڑا تو بجائے مارنے کے آنکھوں میں آنسو آگئے اور اس بکری سے کہنے لگے: اگر تجھے مجھ پر رحم نہیں آیا تو اپنے آپ پر ہی رحم کھاتی، اگر تجھے میرے پاوں پر رحم نہیں آیا تو کم از کم اپنے آپ پر ہی رحم کھاتی۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے کہا نبوت کے لئے موسیٰ ہی موزوں ہیں۔ کیونکہ امت کا غم کھانے اور ان کی طرف سے ایذاءوتکلیف کو برداشت کرنے کے لئے جس حوصلے اور دل جگر کی ضرورت ہے وہ ان میں موجود ہے۔

قیادت اور لیڈر شپ پیدا کرنے کے لئے یہ کام ہر نبی سے کروایا گیا۔ پھر زمانے کے ساتھ ساتھ یہ علم ترقی کرتے کرتے آج سوشل سائنس کے عنوان سے یونیورسٹیوں میں پڑھایا جاتا ہے۔اور مغربی ممالک، یورپ وامریکا کے اکثر لوگ اپنے بچوں کوپہلی ترجیح کے طور پر سوشل سائنس ہی پڑھاتے ہیں، تاکہ ہمارے بچے دنیا کی قیادت کرسکیں۔ ڈاکٹر اور انجینئر تو ہم اجرت پر بھی رکھ لیں گے کیونکہ وہ ایک پیشہ ہے جب کہ سوشل سائنس قیادت کرنے اور لوگوں پر حکمرانی کرنے کا علم ہے۔ یہ بات تو میں نے ضمنا عرض کردی۔ جیسا کہ مضمون کے عنوان میں آپ کو نظر آرہا ہوگا کہ میں نے لکھا ہے بکریاں چرانا اور چھوٹے بچے پڑھانا۔ تو میں یہ عرض کرنا چاہ رہا تھا کہ پاکستان کی مساجد میں صبح یا شام کے وقت ایک آدھ گھنٹے کے لئے محلے کے تیس چالیس بچے پڑھنے آتے ہیں، ایک گھنٹے میں انہیں پڑھانا، قاعدہ،ناظرہ کا سبق سننا اور پھر نماز کلمے دعائیں یاد کروانا اور اس سب کے ساتھ ساتھ ان کو کنٹرول کرکے رکھنا بھی بکریاں چرانے سے کم نہیں ہے۔ جیسے بکریوں کے گلے سے ایک بکری ایک طرف بھاگ جاتی ہے اور دوسری دوسری طرف، پھر کوئی بکری کسی کے کھیت میں چھلانگ لگا لیتی ہے اور کوئی کسی نازک پھول یا پودے پر منہ مارتی ہے، ایسے ہی ایک گھنٹے میں چالیس بچوں کو پڑھانا اور کنٹرول کرنا بھی نہایت ہی مشکل کام ہوتا ہے۔ وقت کی کمی کے باعث اتنا وقت ہی نہیں ہوتا کہ سبق سننے کے علاوہ کوئی اور کام کیا جائے لیکن شرارتی بچوں کو ساتھ ساتھ کنٹرول کرنا بھی نہایت ضروری ہوتا ہے۔ آج کل کے دور میں جو قاری صاحب تین چار سال تک اس طرح بچوں کو پڑھا لے اسے کافی حد تک انسانوں کے بے ہنگم ریوڑ کو کنٹرول کرنے کا طریقہ آجاتا ہے، جو کسی نعمت سے کم نہیں

مسلکی تعصب کی عینک اتار کر آو کچھ مثبت سوچیں

مسلکی تعصب کی عینک اتار کر آو کچھ مثبت سوچیں
سید اسرار احمد

* بریلوی مشرک نہیں ہوتے بات صرف اتنی ھے کہ نبی علیہ السلام اور بزرگوں سے عقیدت و محبت کےاظہار میں اعتدال سےبڑھ جاتےہیں, یہ بنیادی طور پر ایک قلبی رحجان ھے فی نفسہ اس میں کوئی خرابی نہیں بلکہ درست سمت اور سلیقے سے ہو تو نہایت ہی پسندیدہ اور درجات کی بلندی کا سبب ھے,

ہوتا یہ ھے کہ دوسرے مسالک کے احباب شرک و بدعات کے رد میں نیک جذبوں کو بھی روندتےچلےجاتےہیں یہ سوچےسمجھے بغیر کہ آپ کا منصب داعی کا ھے داروغہ کا نہیں!

* دیوبندی اکابر پرست نہیں ہوتے بات صرف اتنی ھے کہ دین کےفہم و تشریح میں باقاعدہ سند یافتہ علماء کرام اور صدیوں سے چلتی دینی روایات کو اہمیت دینے کی کوشش میں اکثر اعتدال کی راہ سے ہٹ جاتےہیں,

یہ بھی ایک قلبی و فکری رحجان ھے اور درست سمت و سلیقے سے ہو تو نہایت پسندیدہ اور درجات کی بلندی کا سبب ھے,

ہوتا یہ ھے کہ دوسرے مسالک کے احباب اکابر پرستی پر نقد و تبصرہ کرتےہوئے الفاظ و محاورات کےاستعمال میں اس بات کا لحاظ نہیں رکھتےکہ ہمارا منصب داعی کا ھے داروغہ کا نہیں!

* اہلحدیث اور سلفی حضرات بزرگوں اور پیغمبروں کی عظمت کے انکاری نہیں ہوتے, بات صرف اتنی ھے کہ اللہ کے سامنے ہردوسری ہستی کو چھوٹا سمجھتے ہیں اور توحید ہی کو اسلام کی اساس سمجھتےہوئےشرک کے ادنی سے شائبے کو بھی ایمان کےخلاف سمجھتےہیں,

یہ بھی ایک قلبی و فکری رحجان اور اپنی حقیقت میں نہایت پسندیدہ اور درجات کی بلندی کا سبب ھے,

ہوتا یہ ھے کہ دوسرے مسالک کے احباب ان کی اس حساسیت کو اپنے مسلک اور قلبی رحجان کےخلاف سمجھتےہوئے ان سے متوحش ہوتےہیں, یہ بات سمجھے بغیر کہ ہمارا منصب داعی کا ھے داروغہ کا نہیں,

* ان تینوں مکاتب فکر کے فالوورز اگر اس طرز پر سوچنا شروع کردیں تو بالیقین فاصلےسمٹ جائیں اور غیرضروری اختلاف کا بھی خاتمہ ہوجائے,

لیکن معاملہ چونکہ فرقہ پرستی کا ھے اور فرقہ پرستی اپنی حقیقت میں دینداری کےعنوان پر دکانداری چمکانےکا نام ھے اسلیے بےجا طورپر ایک دوسرے کے رحجانات کو بجائے خوش اسلوبی سے قبول کرنے اور وسعت قلبی اپنانےکے ایک دوسرے کےرد میں کتابیں اور رسالے چھاپتےرہتےہیں,

اور بعض ظالم تو قرآن کی آیات اور احادیث نبوی کو بھی اپنےحق میں توڑ مروڑ کرپیش کرنےسے دریغ نہیں کرتے,

مجھے اچھی طرح اندازہ ھے کہ احباب فروعی اختلاف کی شدت ثابت کرنےکےلیے ان تینوں مکاتب فکر کی کتابوں سے بہت کچھ خرافات جمع کرکےلاسکتے ہیں, لیکن اپنی حقیقت میں وہ سارا مواد دریا برد کردینےکےقابل ھے, اتفاق رائے کےلیے امت کے پاس اتنا وسیع زخیرہ موجود ھے کہ اس قسم کا بےجا اختلاف سوائے اناپرستی کےاور کچھ نہیں,

* محض ان تین ہی مکاتب فکر کی بات نہیں (چند ایک کو چھوڑ کر) دیگر بہت سے مکاتب فکر کےہاں بھی اختلاف کی نوعیت اکثر ایسی ہی ھے کہ اپنی بنیادوں میں جسے آپ رحجانات اور بعض صورتوں میں زاویہ نگاہ کا فرق کہہ سکتےہیں,

اور جہاں اختلافات کی وجوہات گہری ہیں تب بھی قرآن جیسی محفوظ کتاب جسے اللہ نے فرقان (حق و باطل میں فرق کرنےوالی کتاب کہا) اور نبی علیہ السلام کی محفوظ سنت کی موجودگی میں رائے کا اختلاف کوئی بڑی اہمیت نہیں رکھتا, اور جو کچھ علمی اختلاف ھے بھی تو وہ  ہرحال میں رہےگا اور قیامت تک رہےگا,

لوگ جب تک سوچتےرہیں گے مکاتب فکر بنتےرہیں گے, اگر یہ اختلاف ایک دوسرے کی تکفیر اور نفرت و شرانگیزی کی حدوں تک نہیں پنہنچتا تو نبی علیہ السلام نے اس اختلاف کو امت کےلیے رحمت کہا ھے, کیونکہ اختلاف رائے سوچنےوالوں کو نئے نئے زاوئیے عطاکرتا ھے,

لہذاہ اتحاد اختلاف رائے کو ختم کرنےسے نہیں بلکہ اختلاف رائے کو گوارا کرنےسےپیدا ہوگا,

اور اس کی سب سے بڑی بنیاد تقوی اور خدا کےحضور جوابدھی کا سچا احساس ھے,

* ایک جگہ کچھ لوگ بحث و جدال میں مصروف تھے, کسی نکتےپر اتفاق ہی نہیں ہورہا تھا کہ اچانک وہاں سانپ نکل آیا, گھبرا کر سارے اس سانپ کو مارنےکےلیے متحد ہوگئے,

حالت سکون میں جو لوگ کسی بھی نکتےپر متفق نہیں تھے حالت خوف میں سوفیصد متحد اور یک جان ہوگئے,

یہی معاملہ آخرت کی جوابدھی کےخوف کا بھی ھے اگر حقیقی معنوں میں اللہ کےحضور جوابدھی کا خوف امت کےتمام طبقات میں ذندہ ہوجائے تو اتحاد کا قائم ہونا ویسا ہی یقینی ہوجائے جیسا سورج کےطلوع ہوتےہی دن کے نکلنے کا!!!

#نکتہ
#مسلک_کے_جھگڑے_چھوڑوامت_کوجوڑو

Wednesday, March 15, 2017

میرے لئے اعزاز ہے

میرے لئے اعزاز
اگر مجھے مسجد کا خطیب کہا تو یہ بھی میرے لئے اعزاز ہے، اگر انہوں نے مجھے مولوی کہا تو یہ بھی میرے لیے اعزاز ہے، اگر وہ مجھے موذن کہیں تو یہ بھی میرے لئے اعزاز ہوگا، اگر مجھے مسجد کا خادم بھی کہہ دیں تو یہ بھی میرے لئے اعزاز ہوگا۔
اس لئے میری آپ سے درخواست ہے کہ عاصمہ جہانگیر کے خلاف مہم نہ چلائی جائے۔
جسٹس شوکت عزیز صدیقی(اسلام آباد ہائی کورٹ)
عدالتی ریمارکس 13مارچ2017

Tuesday, March 14, 2017

یہ کتاب چاہیے

یہ کتاب اگر کسی کے پاس ہو تو پی ڈی ایف فارمیٹ میں ای میل کردیں یا لنک دے دیں

Wednesday, March 8, 2017

علماء اپنی دکانیں بند کریں

علماءاپنی دکانیں بند کریں
 علماء سے ہاتھ جوڑ کر اپیل کرتا ہوں کہ خدا کے واسطے اپنے مسلکی اور فروعی اختلافات کو ایک طرف رکھ کر آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت وحرمت کے تحفظ کے لئے متحد ہوجائیں ، یہ مسئلہ ہم سب کا مشترکہ مسئلہ ہے، علماء سے اپیل کرتا ہوں کے کچھ عرصے کے لئے اپنی دکانیں بند کردیں، کیونکہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس کی حفاظت سے زیادہ دین کی اور کوئی خدمت نہیں ہوسکتی۔ 
#جسٹس #شوکت_عزیزی_صدیقی , عدالتی ریمارکس 7مارچ 2017
#نکتہ
#مسلک_کے_جھگڑے_چھوڑوامت_کوجوڑو

Saturday, March 4, 2017

فیس بک پر فروری 2017 کی چند پوسٹیں

سونے اور چاندی کے انباروں سے زیادہ خطرناک وہ طرزِ معاشرت ہے جو امیر وغریب میں امتیاز قائم کرکے غریب کے دل میں سرمایہ داری کی ہوس اور شاہ پرستی کا شوق پیدا کرتی ہے۔۔۔۔اس سے ناداروں کے دلوں میں حرص وطمع کی وہ خواہش پیدا ہوتی ہے جو ان کو زیادہ رشوت ستانی، چوری، خیانت، استحصال بالجبر اور عصمت فروشی وغیرہ پر آمادہ کردیتی ہے۔
حضرت شاہ ولی اللہ محدث دھلوی رحمہ اللہ
#نکتہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ بھی اللہ کا کرم ہے کہ اکثر لوگ
دین کے معاملے میں بات کرنے والے کی بات کو ماننے یا نہ ماننے کا فیصلہ بوتھی دیکھ کر ہی کرتے ہیں۔
#نکتہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مذہب کے نام پر منبر و محراب سے تفرقہ بازی کا درس دینے والے نام نہاد علما جب امن کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کے لیے گورنر، وزیر اعلیٰ، ڈی سی او یا ڈی پی او کے دفتر میں جمع ہوتے ہیں تو سب اپنے اپنے اختلافات بھلا کر آپس میں شیر و شکر ہو جاتے ہیں۔ ایک دوسرے سے مصافحہ بلکہ معانقہ کرتے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ صدیوں کے بچھڑے ہوئے بھائی اب ملے ہیں۔ ایک ہی میز کے اردگرد بیٹھ کر سب مل کر چائے پیتے ہیں۔ ایک دوسرے کو بسکٹ پیش کرتے ہیں۔ اپنی اپنی تقاریر میں پرجوش انداز میں امن و امان اور مسلمانوں کے درمیان محبت و اخوت اور اتفاق و یگانگت کے فروغ کے لیے اپنی اپنی قیمتی تجاویز پیش کرتے ہیں۔ انتظامیہ کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتے ہیں۔ ایسا ناقابل یقین منظر پیش ہوتا ہے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان صاحبانِ جبہ و دستار میں کبھی دوری تھی نہ رنجش، سب ایک ہی فیملی کے ممبر معلوم ہوتے ہیں۔ یہی صورتحال رویت ہلال کمیٹیوں کے اجلاسوں میں ہوتی ہے۔…… لیکن افسوس! صد افسوس!! جونہی یہ حضرات واپس اپنے اصل مقام پر پہنچتے ہیں تو پھر وہی پرانا گورکھ دھندا، وہی طعن و تشیع، وہی تفرقہ بازی، وہی مسلکی مناقشات۔ کیا یہ مذہب کے نام پر جھوٹ، ملمع کاری اور منافقت کا مظاہرہ نہیں؟ 
متین خالد
#نکتہ
#مسلک_کے_جھگڑے_چھوڑوامت_کوجوڑو
،،،،،،،،،،،،،،
کیا آپ کو معلوم ہے
پاکستان کون سی فرقہ واریت سے ٹوٹا؟ مذہبی؟
نہیں نہیں، مذہبی نہیں
جی ہاں، پاکستان سیاسی فرقہ واریت سے ٹوٹا۔
 
اور یہ سیاسی فرقہ واریت اسی پارٹی (پیپلز پارٹی) کے بانی نے کھڑی کی تھی جس کی موجودہ قیادت نے کل فوجی عدالتوں کے اجلاس کا اس لئے بائیکاٹ کرلیا کہ فوجی عدالتوں میں سیاسی لوگوں کے کیس نہیں جانے چاہیے۔
یہ عدالتیں صرف مذہبی لوگوں کو پھانسی دینے کے لئے ہونی چاہیے۔
#نکتہ
#مسلک_کے_جھگڑے_چھوڑوامت_کوجوڑو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پولیس کو میڈیا کی بلیک میلر چھاپا مار ٹیموں کے ساتھ گھومنے سے فرصت ملےتو دھماکوں کی طرف متوجہ ہو سکے گی۔
کچھ پولیس وزاراء کے ساتھ پروٹوکول پر لگی ہوئی ہے۔
کچھ پولیس دشمنیاں پالنے والے بڑے لوگوں کے ساتھ سیکیورٹی پر لگی ہوئی ہے۔
 
کچھ پولیس سرعام اور خفیہ جیسے ٹی وی پروگراموں کے بلیک میلنگ کرنے والے صحافیوں کے ساتھ بھتے وصول کرنے میں لگی ہوئی ہے۔
#نکتہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹی وی چینلز پر مختلف پروگرامز جیسے سرعام، خفیہ وغیرہ وہ پروگرام ہیں جن میں 80% کہانی سٹوڈیو میں بیٹھ کر لکھی جاتی ہے اور پھر اسی طرح شوٹنگ کی جاتی ہے جیسے کسی فلم کی یعنی ایک سین کو بار بار دہرایا جاتا ہے اور پھر اسے اس طرح نشر کیا جاتا جیسے یہ سب اچانک یا لائیو ہوا ہے۔
 
اس طرح کے پروگرام کرنے والے بڑے بھتہ خور ہیں۔ بڑے پیمانے پر لوٹ مار کرنا،غریبوں کی ریڑھیاں، دکانے لوٹنا اور ہر شام گھر کا سارا کھانا پینا کہیں سے لوٹ کر لانا ان کا کام ہے۔
اس کام میں پولیس بھی ان کے ساتھ ہوتی ہے۔ کیا پولیس اس کام کے لئے ہے کہ ان کے ساتھ جاکر لوٹ مار کرے۔
 
یہ صحافی چرس، افیون، ہیروئن وغیرہ ساتھ لے کر جاتے ہیں اور کسی کی دکان، جیب یا دفتر میں رکھ کر بلیک میل کرتے ہیں۔
 
ان ٹیموں نے کبھی کسی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے دفتر پر چھاپا نہیں مارا۔ یہ کسی غریب لاچار کو دیکھ کر چادر اور چاردیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے تشدد کرکے مزے لینے کے عادی بھی ہیں۔
اس دہشتگردی کے خلاف کاروائی کرنے کی بھی ضرورت ہے۔
#نکتہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
#ردالفساد
 
دیوبندی خارجی دہشت گرد، بریلوی مشرک، اھلحدیث گمراہ کے نعرے لگانے والوں سے آپریشن کا آغاز کیا جائے۔ 
ڈاکٹروں اور صحافیوں کی یونینیں ختم کی جائیں۔
ینگ ڈاکٹرز کو الٹا لٹکایا جائے۔
مکمل امن قائم ہوجائے گا۔ 
#نکتہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قانون کن لوگوں پر لاگو ہوتا ہے۔۔؟
 
جعلی ادویات بنانے والوں یا بیچنے والوں کے خلاف قانون بنے تو میڈیکل سٹور والے احتجاج اور ہڑتال کردیتے ہیں۔
کسی ڈاکٹر کو کرپشن اور دیگر دہشگردانہ جرائم میں پکڑنے کی کوشش کی جائے  تو ننگ ملت ڈاکٹر ہڑتال کردیتے ہیں۔
اگر کوئی صحافی کسی کی پرویسی پر ڈاکہ ڈال کر سائبر کرائم کا ارتکاب کرتا ہے تو صحافی ہڑتال کردیتے ہیں۔
 
اوپر سے مولانا سراج الحق جیسے جید عالم دین بھی اپنی سیاست چمکانے اور خبروں میں ہردم تازہ رہنے کے لئے قانون کا ساتھ نہیں دیتے بلکہ میڈیا کا ہی ساتھ دیتے ہیں۔
 
اس طرح تو ملک ہر گز ٹھیک نہیں ہوسکتا۔ اب وقت آگیا ہے کہ جس طرح طلباء یونین پر پابندی ہے اسی طرح ڈاکٹروں، تاجروں سمیت تمام یونینیوں کو ختم کرکے ان کی بدمعاشیاں ختم کی جائیں۔ 
ینگ ڈاکٹرز ، میڈیکل سٹورز اور کمپنیوں کے خلاف تو ردفساد آپریشن بھی ہونا چاہیے۔
قانون صرف ان لوگوں پر لاگو ہوتا ہے جن کی کوئی یونین نہیں، جن کی کوئی تنظیم نہیں۔
اب  ہرشہر کی عوام کوبھی اپنی اپنی یونین بنا لینی چاہیے۔ ہر محلہ اپنی یونین بنائے، پھر محلوں کی یونینیں مل کر شہر کی بڑی یونین بنا لیں تو امید ہے عوام کو اپنے حقوق حاصل ہوجائیں گے۔
#نکتہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
غور طلب
 
غلبہ دین، اقامت دین یا اسلام کے نفاذ کے لئے سب سے پہلے تو مسالک پر لڑنے بھڑنے کو ختم کرنا ضروری ہے۔ عوام کو یہ حیرت انگیز خبر دینے کی ضرورت ہے کہ دیوبندی،بریلوی،اھلحدیث 95٪ پچانویں فیصد باتوں میں متفق ہیں۔ صرف پانچ فیصد یا اس سے بھی کم مسائل میں کچھ اختلاف ہے۔ اس بات کو علماء جانتے ہیں البتہ عوام کو علم نہیں، عوام سمجھتے ہیں یہ مسالک شاید الگ الگ دین ہیں۔ چنانچہ جن جن کو اس بات کا علم نہیں وہ فورا لڑنے کے لئے تیار ہوجاتے ہیں۔
حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اھل حدیث کے ساتھ تقلید اورسوائے نماز کے اور کوئی اختلاف نہیں۔ زکوہ میں کوئی اختلاف نہیں، روزے میں کوئی اختلاف نہیں، حج عمرہ میں کوئی اختلاف نہیں۔ واحد ایک نماز ہے اس میں رفع یدین،آمین،فاتحہ کا اختلاف ہے۔
 
چنانچہ صرف آمین اونچی یا آہستہ کہنے پر قتل تک ہوجاتے ہیں۔چنانچہ میں نے خود ایک ایسے شخص کی عیادت کی جس کی ٹانگیں صرف اس وجہ سے توڑ دی گئیں تھیں کہ اس نے اونچی آواز سے آمین کہہ دی تھی۔
 
دیوبندی بریلوی اختلاف کا معاملہ اس سے بھی عجیب ہے۔ ان دونوں کا کسی عبادت میں اختلاف نہیں۔کچھ چیزیں ہیں، کچھ رسومات ہیں جنہیں بریلوی حضرات عشق رسول میں کرتے ہیں اور دیوبندی کہتے ہیں یہ ٹھیک نہیں۔
 
جہاں تک معاملہ ہے مزارات کا جہاں کچھ شرکیہ افعال ہوتے ہیں، ان سے بریلوی علماء بری ہیں اور وقتا فوقتا اس کا اظہار تقریر وتحریر کی شکل میں کرتے رہتے ہیں۔ لیکن چونکہ مزارات وزارت داخلہ کے ذیلی ادارے اوقاف کے قبضہ میں اس لئے اس کی ساری ذمہ داری وزیر داخلہ پر عائد ہوتی ہے۔ چونکہ مزارات کو اس ڈھنگ سے چلانے میں حکومت کو دو فوائد حاصل ہوتے ہیں ایک کروڑوں کا چندہ اور دوسرا اختلاف ، یعنی لڑاو اور حکومت کرو۔ اس لئے حکومت کسی صورت یہ نہیں چاہتی کہ مزارات پر یہ شرک ختم ہو۔
 
چنانچہ عوام کو یہ بتانا ضروری ہے کہ پچانویں فیصد سے زیادہ باتوں میں اتفاق ہے ، جو تھوڑا سا معمولی اختلاف ہے بھی تو اس پر بات چیت جاری رہنی چاہیے، جھگڑا کرنا اور کفر کے فتوی لگانا مناسب نہیں۔
 
بات ہورہی تھی نفاذ اسلام کی۔ پہلا کام عوام میں شعور بیدار کرکے ایک دوسرے کے قریب لانا ہے۔ پھر ساتھ ساتھ دروس قرآن کے حلقے قائم کرکےلوگوں کو قرآن کے ساتھ جوڑنا اور قرآنی تعلیمات سے روشناس کرانا ہوگا۔لوگوں کو یہ شعور دینا ہوگا کہ وہ قرآن کو ترجمے کے ساتھ تلاوت کیا کریں۔جب لوگ قرآن کے ساتھ جڑیں گے ان کی سوچ بدلے گی، سوچ بدلنے سے نظریہ اور عقیدہ بدلے گا، عقیدہ بدلنے سے توقع اور امید بدلے گی، پھر اس سے رویہ بدلے گا، رویہ بدلنے سے ترجیحات بدلیں گیں اور پھر اس سے زندگیاں بدلیں گیں، زندگیاں بدلنے سے پورے معاشرے اور ملک میں بڑے پیمانے پر تبدیلی آئے گی۔اور یہی تبدیلی باطل نظام سے کشمکش پیدا کرے گی، یہ کشمکش بڑا ٹکراو پیدا کرسکتی ہے ، لیکن اس صورت میں بھی فتح حق کی ہوگی کیونکہ حق پاور میں ہوگا۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ کشمکش کسی بڑے ٹکراو کے بغیر ہی تبدیلی لے آئے۔
 
خلاصہ کلام یہ کہ اس کام کی پہلی اینٹ اختلاف کو ختم کرنا ہے۔ یہ بات باطل قوتیں اچھی طرح جانتی ہیں چنانچہ وہ کسی صورت یہ نہیں چاہتے کہ اختلاف ختم ہو، ان کا مفاد اسی میں ہے کہ لوگ لڑتے رہیں اور ہم حکومت کرتے رہیں۔
@syed abdulwahhab sherazi
#نکتہ
#مسلک_کے_جھگڑے_چھوڑوامت_کوجوڑو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دشمن کی چلائی سازش تو یہی ہے کہ مسلمان الگ الگ تعارف بنائیں اور پھر لڑتے رہیں
ایک مسلمان، مسلمان ہوتا ہے، اگر غلط کرے تو فاسق، بدعتی، گمراہ وغیرہ کہلایا جاسکتا ہے۔
مسلک صرف ایک ہی ہے اھل سنت والجماعت
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ ہمیں باتوں میں لگانے کی سو کوششیں کرلیں پر ہم نہیں بھولیں گے
پچھلے پندرہ سالوں میں 7000000 سترلاکھ انسانوں کو قتل کرنے والے"لبرل" ہیں۔
 ہیرا منڈی چلانے والے لبرل ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بسم اللہ پڑھ کر شراب پینے سے حلال نہیں ہوتی
نعرہ تکبیر لگا کر قتل کرنے سے جہاد نہیں بن جاتا
صدقہ کرنے اور دسترخوان لگانے سے سود حلال نہیں ہوتا۔
#شیرازی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

‏قرآن کی ترجیحات جس بےساختگی سے آپکی ترجیحات بنیں گی اسی نسبت سے آپکا دین، اسلام ہوتا جائےگا۔ خوش قسمت ہے وہ جو قران سے قرآن کا مضمون پڑھ لے!
حامد کمال الدین
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سود کے خاتمے کے لئے عدالت میں روزانہ کی بنیاد پر سماعت دبارہ شروع ہو گئی ہے۔ اچانک اس موقع پر سماعت شروع کرنے کا مقصد شاید یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ خبر میڈیا پر نہ آئے، یا اس شور شرابے میں ڈنڈے کے زور پر سود کے خاتمے کے لئے کوششیں کرنے والوں کو دبا دیا جائے۔
سوشل میڈیا پر مہم تیز کریں۔
#نکتہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جعلی ادوایات بنانے والے تو مجرم ہیں ہی لیکن ان کو بچانے کے لئے ہڑتال کرنے والے اس سے بڑے قاتل ہیں۔
#ڈرگ_مافیا
۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک صاحب نماز کی فضیلت بتاتے ہوئے کہنے لگے
جب کسی کو ٹائم دینا ہو تو یوں کہا کریں
میں عصر کی نماز کے بعد آوں گا۔ تم عشاء کی نماز تک انتظار کرنا۔ 
اس طرح باتوں باتوں میں نماز کی تبلیغ ہو گی۔
چنانچہ
کچھ دیر بعد مجھے کسی کا فون آیا، اس نے پوچھا
موسم کیسا ہے؟
میں نے کہا دو دن ہوئے ہیں ظہر کی نماز دھوپ میں پڑھنا چھوڑ دی ہے۔
#نکتہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
#ڈرگ_مافیا لاکھوں مریضوں کا خون کرکے اپنے بچوں کو پلانا چاہتا یے، ایسی اولاد بڑھاپے میں تمہارے  ساتھ بھی یہی کرے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مجھے اسلامی تعلیمات کا سبق پڑھانے والا #ڈرگ_مافیا ان اسلامی تعلیمات کو یاد کرے کہ حالت جنگ میں  بھی زخمیوں اور بیماروں کے ساتھ یہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں جو تم نے کیا ہوا ہے، لاکھوں بیمار انسانوں کو سسک سسک کر مارنے والوں کا انجام برا ہو گا۔
اپنے چار ٹکوں کے لئے انسانیت کا قتل بند کرو۔
#نکتہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کچھ میڈیکل سٹور والے ڈاکٹر کی پرچی پڑھ کر اپنا اجتہاد کرتے ہیں، اور یہ کہتے ہوئے دوسری دوائی تھما دیتے ہیں کہ یہ بھی وہی فارمولا ہے، ان کو بھی سوا کروڑ تک جرمانہ عائد کیا جائے۔
#نکتہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میڈیکل سٹور مافیا کے خلاف حکومتی اقدامات کی سب کو پرزور حمایت کرتے ہوئے ضرور ایک آدھ پوسٹ کرنی چاہیے۔ 
 حکومت نے جعلی ادویات کی فروخت کے خلاف باقاعدہ ایکشن لینے کا فیصلہ کیا ہے جس پر ان لوگوں ہڑتال کردی، اس کا مطلب ہے یہ لوگ انسانیت کے دشمن ہیں۔ انسانی جانوں سے کھیل کر اپنا پیٹ پالتے ہیں۔
 سوشل میڈیا پر ان کے خلاف پرجوش مہم چلانے کی ضرورت ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بقول شخصے
 آپ کے محلے میں بنے میڈیکل سٹور پر دو قسم کی ادویات فروخت ہوتی ہیں۔ ایک اصلی دوسری جعلی۔ میڈیکل سٹور والا آپ کی بوتھی دیکھ کر طے کرتا ہے کہ آپ کو اصلی دینی ہے یا جعلی ؟ اصل دوائی پر میڈیکل سٹور والے کو 15 فیصد جبکہ جعلی ادویات پر پچاس 50 فیصد نفع ہوتا۔
#نکتہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صرف گوادر ہی نہیں اور غم بھی ہیں
اگر میں یوں کہوں کہ لاہور دھماکہ دبئی نے کروایا تو کسی کو برا تو نہیں لگے گا۔
#نکتہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دنیا کے تمام ممالک اپنے اپنے مفادات کے لئے کسی نہ کسی کے دوست یا دشمن ہوتے ہیں،
 یہ بھی عجیب حقیقت ہے کہ دبئی کا شمار پاکستان کے خفیہ دشمن ممالک میں ہوتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جدید ٹیکنالوجی انسانوں پر کئی اعتبارات سے حجت قائم کر رہی ہے۔
مثلا
 پہلے کوئی تبلیغ دین کے لئے کتاب لکھتا تھا تو وہ یہ کہتے ہوئے اسے بیچتا تھا کہ میرا خرچہ ہوا ہے، اگر قیمت وصول کروں گا تو آئیندہ چھپے گی، یقینا یہ بات درست بھی تھی۔
لیکن
 اب انٹرنیٹ کے آنے کے بعد کوئی شخص تبلیغ دین یا انسانوں کی بھلائی پر لکھی ہوئی کتاب انٹرنیٹ پر پڑھنے کی مفت سہولت نہیں دیتا تو سمجھا جائے گا کہ اس کا مقصد تبلیغ نہیں اور نہ ہی یہ انبیاء کرام کے اس وصف سے متصف ہے جسے قرآن نے ان الفاظ سے بیان کیا:
لا اسئلکم علیہ اجرا۔
اپنی پرنٹڈ کتاب کی قیمت ضرور وصول کریں لیکن اسے انٹرنیٹ پر ڈال کر پوری دنیا تک بھی پہنچائیں۔
 اسی طرح یہ ٹیکنالوجی پڑھنے والوں کے لئے بھی حجت ہے کہ وہ اللہ کے سامنے یہ نہیں کہہ سکیں گے کہ ہمیں معلوم نہیں تھا، حساب کے وقت کہا جائے گا کیا ہم نے تمہیں سمارٹ فون نہیں دیا تھا؟ کیا ہم نے انٹرنیٹ کے سستے پیکج نہیں بنائے تھے؟ 
#نکتہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پہلے غصہ سیانہ ہوتا تھا صرف کمزور پر آتا تھا
 اب تو ڈر بھی سیانہ ہو گیا ہے چنانچہ مرنے والے کے کپڑوں سے ڈر لگتا ہے وہ سوٹی پر ٹانگ کر غریب کی طرف پھینک دیے جاتے ہیں لیکن اس کے سمارٹ فون سے ڈر نہیں لگتا۔
#نکتہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگرآپ کے دنیا میں آنے سے فرق پڑا ہے تو جانے سے بھی پڑے گا
اگر آنے سے فرق نہیں پڑا تو جانے سے بھی نہیں پڑے گا۔ 
#نکتہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صرف پیسہ بانٹنا کمال نہیں
 اصل کمال اور خیرخواہی یہ ہے کہ آپ اپنی صلاحیتوں اور ان چیزوں کو بانٹیں جن کے ذریعہ آپ کو پیسہ حاصل ہورہا ہے۔
مثلا
آپ اچھے لیکچر دے سکتے ہیں، ہرلیکچر کے آپ کو ہزاروں روپے مل جاتے ہیں تو  دو چار لیکچر مفت دے کر سخاوت کریں۔
 آپ اچھے کاریگر ہو، فرنیچر، الیکٹرک، ویلڈنگ، گاڑی ریپئرنگ وغیرہ وغیرہ کسی بھی چیز کے، تو صرف چار پیسے ہی غریب کو نہ دو بلکہ چار بندوں سے اپنی مزدوری لینے کے بعد پانچویں کو اپنی صلاحیت مفت بانٹو۔ 
اسی پر باقی ساری چیزیں قیاس کرلیں۔
#نکتہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دنیا کے اکثر کامیاب ترین انسانوں نے اس طرح جان دی کہ وہ ناکام ترین تھے۔ نپولین نے مرتے وقت کہا تھا کہ مایوسی میرے نزدیک جرم تھی مگر آج مجھ سے زیادہ مایوس انسان کوئی نہیں
#نکتہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خیروشرکی بڑی جنگ آپ کے اندر جاری ہے،طاغوت کی شکست پہلے آپ کے وجودمیں ہونی چاہئے۔
#نکتہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ابھی کسی نے ان باکس میں پوچھا:
مولانا طارق جمیل صاحب کا نمبر مل سکتا ہے؟
میں نے کہا:
۔
۔
۔
۔
۔
اللہ کسی کی محنت برباد نہیں کرتا کوشش کریں مل جائے گا۔
#نکتہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بڑے علماء کو چھوڑ کر عام علماء ائمہ مساجد اور عام مذہبی عوام مذہبی مسائل پر جھگڑتے ہیں تو اس کی کئی وجوہات ہوتی ہیں، جن میں سے ایک بڑی وجہ مذہبی اصطلاحات سے لاعلمی یا عدم توجہی ہوتی ہے۔
مثلا
 فرض، واجب، سنت، مستحب، حرام، مکروہ تحریمی، تنزیہی، مباح وغیرہ وہ اصطلاحات ہیں جو الف بے کہلاتی ہیں۔ جب ان اصطلاحات کی تعریف معلوم نہیں ہوتی تو بلاوجہ کے مناظرے ہورہے ہوتے ہیں۔ 
 اگر ان اصطلاحات کی تعریفات یاد کرلی جائیں اور پھر کسی بھی مسئلے پر بحث کرنے سے پہلے اس مسئلے کو اس ترازو پر تول لیا جائے کہ وہ کیا حیثیت رکھتا ہے۔ اس طرح کرنے سے پچاس فیصد مسئلہ حل ہوجاتا ہے۔
 اگر فرض ہے تو پھرشاید کفر اسلام کا مسئلہ ہے، اگر واجب ہے تو پھر یہ ظنی ہے اور ظنی مسئلے پر کفر اسلام کے فتوے نہیں لگتے۔ 
 لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ یہ ترازو بہت کم لوگوں کی جیب میں ہوتا ہے چنانچہ وہ مباح مسئلے پر بھی ڈنڈے اور ہتھیار اٹھا کر نکل پڑتے ہیں۔
#نکتہ
#مسلک_کے_جھگڑے_چھوڑوامت_کوجوڑو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بعض لوگ اتنے غریب ہوتے ہیں کہ ان کے پاس پیسے کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا۔
#نکتہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جماعت الدعوۃ پر پابندی لگنے کا سب سے زیادہ فائدہ امت مسلمہ کو ہو گا۔ کیونکہ یہ لوگ کشمیر کے نام پر چندے کر کے پاکستان میں مسجدیں فتح کرتے ہیں۔
 بے نمازیوں کو پوچھتے بھی نہیں البتہ جب کوئی مسجد آنا شروع کر دے اسے فروعی مسائل میں الجھا کر شک میں مبتلا کر دیتے ہیں۔
 پابندی اور پکڑ دھکڑ سے اس بات کا امکان ہے کہ کچھ ہوش آجائے کہ امت کو انتشار نہیں اتحاد کی ضرورت ہے۔
 رفع یدین، آمین ، نیت وغیرہ راجح مرجوح کے مسائل کو فرض اور ضروری قرار دے کر لوگوں کو لڑانا، اور دوسروں کے پیچھے نماز نہ ہونے کے فتوے دینا کہاں کی عقل مندی ہے۔ ہم نے جماعۃ الدعوہ کے ایسے  خطیبوں کو بھی دیکھا ہے جنہوں نے جمعے کی تقریر میں قرآن ہاتھ میں پکڑ کر قسم اٹھائی کہ رفع یدین کے بغیر نماز نہیں ہوتی۔
 اس سے قبل بھی جتنی تنظیموں پر پابندی لگی ہے اس سے مسلمانوں کا ہی بھلا ہوا ہے اور ان تنظیموں کی پالیسیوں میں ایسی تبدیلیاں آئی ہیں جس سے امت کو کافی فائدہ ہوا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حیات ممات کے جلسے
یہ وہ لوگ ہیں جو امت مسلمہ میں ناسور ہیں
پچھلے بیس سال سے روزانہ 10000 مسلمان قتل ہو رہے ہیں۔ باقی بچے کچے مسلمانوں کو آپس میں لڑانے کا کام یہ لوگ کر رہے ہیں
 ریمنڈ ڈیوس جب پکڑا گیا تھا اس کے پاس سے ایسے ہی لوگوں کی فہرست نکلی تھی جن کو وہ اپنے ایجنٹوں کے ذریعے چندے بھیج کر اس قسم کے جلسے کرواتا تھا۔ ایسے ناسور ہر مکتبہ فکر میں موجود ہیں جو ہر وقت مسلمانوں کو آپس میں لڑانے کے درپے رہتے ہیں۔
عجیب بات یہ ہے کہ دین کے غلبے، اقامت دین اور مسلمانوں میں اتحاد و اتفاق پیدا کرنے کے لئے کوئی  جلسہ کرنا ہو تو اسے کوئی سپانسر نہیں کرتا، لیکن اس قسم کے جلسوں کو سپانسر کرنے والے نامعلوم ہاتھ بہت ہیں، غیبی قوتیں شامیانے بھی بھیج دیتی ہیں اور دیگیں بھی، جبکہ اتحاد اور امت کو جوڑنے والا پولیو زدہ دونوں ٹانگوں سے معذور مولانا اسلم شیخوپوری بھی ہو اسے نامعلوم افراد قتل کر دیتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔یا للعجب
#نکتہ
#مسلک_کے_جھگڑے_چھوڑوامت_کوجوڑو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
علماء کا سیاست میں کیا کام ۔
جواب 
کھلاڑیوں کا سیاست میں کیا کام 
مولانا صاحب کو چاہیئے مسجد میں امامت کرائیں ۔جو انکا کام ہے ۔
عمران خان کو بھی چاہیئے کہ وہ کرکٹ ٹیم کی کوچنگ وغیرہ کرے ۔
وکیلوں کو چاہیئے وہ وکالت کریں ۔
کاروباری لوگوں کو چاییئے اپنا کاروبار کریں ۔
جاگیر داروں کو چاہیئے اپنی جاگیریں سنبھالیں ۔
لھذا جو جس کا کام یے وہ کرے ۔
یہ قدغن صرف علماء پہ کیوں 
سیاست میں ان لوگوں کا کیا کام 
اور میں نے کھا آخر میں علمی۔ حقیقی اور صحیح جواب بھی سن لے ۔
کہ اسلام میں سیاست ہمیشہ علماء نے ہی کی ہے ۔
اور جب تک سیاست علماء کرام کے پاس رہی مسلمان دنیا میں معزز کھلائے ۔
 اور جب سیاست جاہلوں ۔کنجروِں مراثیوں۔ جو فروشوں کے ہاتھ آئی مسلمان دنیا میں ذلیل و رسواء ہوا ۔
اور ہاں ایک اور بات بھی سنتے جاؤ 
پھلے علماء کا مفہوم بھی سمجھ لو ۔
 اور پھر منہ دھو کے آنا اور علماء پہ تنقید کرنا ۔ 
" احمد علی حضروی "
۔۔