(سیدعبدالوہاب شیرازی)
آج کل ہر شخص رزق کے
حصول کے لیے اپنا سارا وقت، ساری توانائیاں، اور ساری زندگی لگا دیتا ہے۔ لیکن
ایسے لوگ بہت کم ہوتے ہیں،جنکو وافر مقدار میں رزق ملتا ہو، اور وہ اپنی ہر ضرورت
پوری کرتے ہوں۔ اور ایک بہترین اور باعزت زندگی گزارتے ہوں۔
رزق کے پانچ دروازے ہیں۔ پہلے تین تو صرف مسلمانوں کے لیے
ہیں اور چوتھا ،پانچواں ساری دنیا کے لیے ہے یعنی مسلم، غیر مسلم ، بت پرست ،
دہریے وغیر۔ اگر ہمیں رزق کے دروازوں کا علم ہوگا تو کسی قسم کی پریشانی نہیں
ہوگی۔ہم ادھر ادھر وقت ضائع نہیں کریں گے اور سیدھے اندروازوں پر پہنچ کر رزق حاصل
کریں گے۔ اس کو آپ اس مثال سے سمجھیں کہ جیسے کوئی بھی شخص کوئی کاروبار وغیرہ
شروع کرنا چاہتا ہے تو پہلے کتنا غور وفکر
کرتا ہے کہ میں ایسا کون سا کام شروع کروں کہ میرا وقت ضائع نہ ہو اور اچھا منافع
ہو، اس کے لیے وہ اعلیٰ تعلیم، کے ساتھ ساتھ کئی لوگوں سے مشورہ بھی کرتا ہے۔پھربڑی
جستجو، غور وفکر، اور مشاورت کے بعد وہ اپنی طرف سے پوری کوشش کرنے کے بعد وہی کام
شروع کرتا ہے جس سے زیادہ پیسہ آنے کی امید ہوتی ہے۔
بالکل ایسے ہی آج ہم آپ
کو پانچ ایسے راز بتا رہے ہیں، جو رزق کو
ایسے کھینچتے ہیں جیسے مقناطیس لوہے کو۔ اور یہ پانچ رزق کے دروازے کسی عام انسان
کے بتائے ہوئے نہیں بلکہ رزق دینے والی ذات اللہ تعالیٰ نے بتائے ہیں۔
تو ان پانچ میں سے پہلے تین دروازے صرف مسلمانوں کو ہی مل
سکتے ہیں، کوئی غیر مسلم ان تین دروازوں کو حاصل نہیں کرسکتا۔البتہ اگلے دو دروازے
ایسے ہیں جو غیر مسلموں کے لیے بھی کھلے ہیں۔ یعنی ان دو دروازوں سے غیر مسلم بھی
رزق حاصل کرتے ہیں۔
1۔ہرزق حاصل کرنے کا سب
سے پہلا دروازہ نماز ہے۔ جو شخص بھی نماز کا اہتمام کرتا ہے اللہ پاک اس کو برکت
والا رزق عطا فرماتے ہیں۔ اہتمام یہ ہے کہ نماز کے وقت سے پہلے یا وقت ہوتے ہی اس
کی تیاری میں لگ جانا اور وقت پر نماز ادا کرنا۔
2۔رزق حاصل کرنے کا
دوسرا دروازہ استغفار ہے۔جو شخص کثرت سے استغفار کرتا ہے اللہ پاک اسے غیب سے رزق
عطا فرماتے ہیں کیونکہ ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ جو کثرت سے استغفار کرتا ہے اللہ
پاک اسے ہر غم سے نجات عطا فرماتے ہیں، ہر پریشانی میں راستہ دیتے ہیںاور ایسی جگہ
سے رزق عطا فرماتے ہیں کہ جہاں اس کا گمان بھی نہ ہو۔ ۔ علماء کرام فرماتے
ہیں کہ کثرت کا مطلب ہے کہ کم از کم تین سو مرتبہ۔ تو جو روزانہ تین سو سے زیادہ
مرتبہ استغفار کرے گا ان شاءاللہ اسے بہترین رزق ملے گا۔
3۔رزق حاصل کرنے کا
تیسرا دروازہ تقویٰ ہے۔ تقویٰ کے معنی گناہوں سے بچنا ہے۔ یاد رہے کہ مسلمان کے
ذمہ ہر نیکی کرنا نہیں ہے لیکن ہر گناہ سے بچنا ہر مسلمان کے لیے لازم ہے۔ جو ہر
گناہ سے بچتا ہے وہ اللہ کے ہاں متقی کہلاتا ہے۔ اس کا آسان طریقہ یہ ہے کہ ہم ہر
کام کرنے سے پہلے یہ دیکھ لیں کہ اس کام سے اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ
وسلم نے منع تو نہیں فرمایا۔ اگر منع فرمایا ہے تو ہم رک جائیں ۔
تو جوتقویٰ اختیار کرے
گا اللہ پاک اسے بغیر محنت کے رزق عطا فرمائیں گے۔ قرآن پاک میں ارشاد خداوندی ہے:
ومن یتق اللہ یجعلہ مخرجا، ویرزقہ من حیث لا یحتسب۔
جو اللہ کا ہوجاتا ہے
تو پھر اللہ اپنے بندوں کو اسکی خدمت پر مامور فرمادیتے ہیں۔
4۔ انفاق اور صدقہ۔ رزق
حاصل کرنے کا چوتھا دروازہ دوسروں پر خرچ کرنا ہے۔ خرچ کرنے کے بہت سارے مصرف ہیں۔
خاص طور پر اپنے رشتہ داروں پر خرچ کرنا،
سب سے زیادہ ضروری، اور رزق کو کھینچتا ہے۔ جو اپنے رشتہ داروں خاص طور پر قریبی
رشتہ داروں(مثلا، چچا، ماموں،پھوپھی، بہنیں،خالائیں، وغیرہ) ان پر خرچ کرے اللہ اس
کی عمر اور رزق میں برکت عطا فرماتے ہیں۔
اس بات کو حضور علیہ
السلام نے بیان فرمایا:کہ جو یہ چاہتا ہو کہ اس کی عمر لمبی ہو اور رزق میں وسعت
ہو اسے چاہیے کہ وہ اپنے رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرے اور ان پر خرچ کرے۔رشتہ
داروں کے بعد باقی غریب غربا، فقیر مسکین۔ سوالی۔ پر بھی خرچ کرنا چاہیے۔ اور پھر
خاص طور پر دین کے کاموں میں خرچ کرنے کو تو اللہ نے اپنے ذمہ قرض قرار دیا ہے ،
اور جو اللہ کو قرض دے اللہ اس کا 10 فیصد دنیا میں اور 70 فیصد آخرت میں لوٹائیں۔
یعنی جس نے ایک ہزار دین کی محنت میں خرچ کیا تو اللہ دس ہزار اس کی زندگی میں ہے
اسے لوٹا دیں گے۔ اور ستر فیصد آخرت میں ملے گا۔
دوسروں پر خرچ کرکے
اپنے لیے رزق کے دروازے کھولنا یہ وہ دروازہ ہے جو مسلمانوں اور کافروں سب کے لیے
ہے۔جو کافر بھی کسی محتاج پر خرچ کرتا ہے اللہ اسے بھی دنیا میں عطا کرتے ہیں،
البتہ آخرت میں اس کے لیے کچھ نہ ہوگا۔
5۔رزق حاصل کرنے کا
چوتھا دروازہ ذریعہ معاش اختیار کرنا ہے اور یہ دروازہ بھی سب کے لیے ہے، کوئی
کافر ہو یا مسلم، بتوں کو پوجنے والا ہو یا آتش پرست۔ اگر وہ معاش کا کوئی ذریعہ
اختیار کرے گا تو اللہ اسے رزق عطا فرمائیں گے۔مجھے افسوس اس بات پر ہے کہ
مسلمانوں کی اکثریت نے پہلےچار دروازے بھلا دیے اور آخری دروازے کو ہی لازمی سمجھ
لیا۔ جبکہ ان چار دروازوں سے رزق حاصل کرنا بہت آسان ہے.یہاں کوئی
میری بات سے یہ مطلب نہ لے کہ ملازمت ، کاروبار یا معاش کا کوئی بھی دوسراذریعہ جو
ہم نے اختیار کیا ہوا ہے اسے چھوڑ کر بیٹھ جائیں اور کام نہ کریں۔ کام ضرور کریں
لیکن اگر ہم پانچویں دروازے کے ساتھ ساتھ
پہلے چار دروازوں کو بھی استعمال کریں گے
تو ہم تھوڑی محنت میں ہی زیادہ رزق ملے گا۔ہماری مشقت کم ہوجائے گی۔ اور ہماری
کمائی غیر ضروری جگہوں پر نہیں لگے گی اور ہمارا مال ضائع نہیں ہوگا .گھر میں رکھی
ہوئی مرغی کو آپ اس کی خوراک ایک جگہ برتن میں رکھ کر دے دیں تو وہ کم وقت اور کم
مشقت میں اپنا پیٹ بھر لے گی اور اگر وہی خوراک آپ پورے صحن میں بکھیر دیں تو اسے
وہی خوراک حاصل کرنے کے لیے وقت بھی زیادہ لگے گا اور مشقت بھی۔اب فیصلہ آپ پر ہے
کہ آپ کس دروازے کو اختیار کرتے ہیں ؟۔
No comments:
Post a Comment