Search This Blog

Monday, October 22, 2018

عورت کو طلاق کا حق


سیدعبدالوہاب شیرازی
میڈیا کا کام معاشرے میں افراتفری اور نفرت پھیلانا ہے۔ چنانچہ میڈیا ہر منفی خبرکی کھوج میں لگا رہتا ہے۔ اگر منفی خبر نہ بھی ملے تو مثبت خبر کو بھی منفی بنا کر بریکنگ نیوز نشر کی جاتی ہے۔ اس کی تازہ مثال عورتوں کو طلاق کا حق دینے والی خبر ہے۔ جسے سن کر میں خود بھی اور یقینا آپ بھی بہت حیران ہوئے ہوں گے۔
لیکن آج ایک ٹاک شو میں اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین قبلہ ایاز صاحب نے اس کی  جو اصل حقیقت بتائی وہ تو پہلے سے ہی علمائے کرام مسلسل حکومتوں سے کہتے آئے ہیں کہ یہ قانون بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ
1۔ اسلامی نظریاتی کونسل ایک تو اس بات پر غور کررہی ہے کہ جو شخص اپنی بیوی کو بیک وقت تین طلاق دے تو اسے تعزیر یعنی سزا ملنی چاہیے۔ اور بیک وقت تین طلاق کو جرم قرار دیا جائے۔ کیونکہ بیک وقت تین طلاق دینے سے تین واقع ہو جاتی ہیں اور پھر مسائل کھڑے ہو جاتے ہیں، اگر اسے قابل تعزیر جرم قرار دیا جائے گا تو جس نے طلاق دینی ہوئی وہ ایک ہی طلاق دے گا۔
2۔ نکاح نامے میں ایک شق پہلے سے شامل ہے جس میں یہ لکھا ہوتا ہے کہ کیا خاوند طلاق کا حق بیوی کو بھی تفویض کرتا ہے یا نہیں؟ اور عام طور پر نکاح کے موقع پر اس شق پر کراس مار دیا جاتا ہے، تو اسلامی نظریاتی کونسل نکاح خواں کو اس بات کی پابند بنانا چاہتی ہے کہ وہ اس شق کو باقاعدہ خاوند کو پڑھ کر سنائے اور خاوند جو بھی جواب دے اسے نکاح نامے میں شامل کردیا جائے۔ یعنی اگر خاوند ہاں کرے تو ہاں اور نا کرے تو نا لکھ دیا جائے۔
(ظاہر ہے شرعی اعتبار سے اس میں کوئی قباحت نہیں ہے، )
3۔جس طرح نکاح نامہ پرنٹڈ بنا ہوا ہے ، اسلامی نظریاتی کونسل ایک طلاق نامہ بھی پرنٹڈ بنانا چاہتی ہے تاکہ جس نے طلاق دینی ہے وہ طلاق کے برسٹ چلانے کے بجائے اس طلاق نامے کو فل کرکے اور اس پر دستخط کرکے طلاق دے۔
( اور ظاہر ہے اس طرح کا طلاق نامہ بنا تو اس پر ایک ہی طلاق کا ذکر ہوگا۔ اور اس طرح بعد میں اگر صلح ہو گئی تو رجوع آسانی سے ہو سکے گا۔)
میرے خیال میں قبلہ ایاز صاحب کی بتائی ہوئی تینوں باتیں ایسی ہیں جو عائلی قوانین کو بہتری کی طرف لانے کی ایک کوشش ہے۔


No comments:

Post a Comment