Search This Blog

Tuesday, May 22, 2018

قرآن کے نزول کا مقصد

ڈاکٹر ابوالحسن الازہری
جب ہم اس کائنات میں غورو فکر کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ انسان کو اس کائنات میں بڑی مرکزی اہمیت حاصل ہے اور اس کائنات کی ہر چیز اس کے لئے مسخر ہے اور یہ انسان اپنی عقل کی بناء پر ہر شے کو اپنے تصرف میں لارہا ہے۔ یوں انسان اس کائنات کا بادشاہ اور شہنشاہ دکھائی دیتا ہے۔ اتنی زیادہ قوت و طاقت کی بناء پر اس کے پھسلنے کے خدشات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ ان سے بچانے کے لئے انسان کو باری تعالیٰ نے اپنا کلام قرآن عطا کیا ہے اور بلاشبہ انسان اور قرآن اس کائنات کی دو مسلمہ حقیقتیں ہیں اور ان دونوں میں سے قرآن نے انسان کے بارے میں بتادیا ہے کہ وہ انسان کیا ہے، اب انسان کے لئے سب زیادہ ضروری ہے کہ قرآن کو پڑھے، سمجھے اور بار بار اس میں غوروفکر کرے تاکہ وہ اپنی انسانیت کی حقیقت کو پاجائے اور قرآن کے نزول سے لے کر اور ہدایت کی فراہمی اور رسانی تک سارے امور قرآن کو بخوبی جان لے اور دوسروں کو اس قرآن کی آفاقی تعلیمات سے صحیح معنوں میں آگاہ کرے۔ انسان کو بندہ رحمن بننے کے لئے قرآن سے بہتر کوئی چیز راہنمائی نہیں دے سکتی۔ اب ہم قرآن ہی کی طرف رجوع کرتے ہیں کہ یہ کب نازل ہوا اور اس کے نازل کرنے کا مقصد رب کے نزدیک کیا ہے اور انسان نے اس قرآن کے بارے میں کیا نقطہ نظر اپنایا ہوا ہے؟ سورہ بقرہ میں ارشاد فرمایا:
شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْ اُنْزِلَ فِيْهِ الْقُرْاٰنُ هُدًی لِّلنَّاسِ وَبَيِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰی وَالْفُرْقَانِ.
’’رمضان کا مہینہ (وہ ہے) جس میں قرآن اتارا گیا ہے جو لوگوں کے لیے ہدایت ہے اور (جس میں) رہنمائی کرنے والی اور (حق و باطل میں) امتیاز کرنے والی واضح نشانیاں ہیں‘‘۔
(البقرة، 2: 185)
ہماری خوش نصیبی ہے کہ باری تعالیٰ نے ہمیں اپنی زندگی میں شہر رمضان عطا فرمایا اور یہ نزول قرآن کا مہینہ ہے اور وہ قرآن جو لوگوں کے لئے اس لئے نازل کیا گیا تاکہ وہ اس قرآن کے ذریعے ہدایت پائیں اور اس قرآن کے ذریعے حق و باطل، سچ اور جھوٹ کے درمیان امتیاز کریں اور اس قرآن کو اپنے لئے ساری زندگی میں سرچشمہ ہدایت’’هدی للناس‘‘ سمجھیں اور اس کی ’’بيِّنٰت‘‘ سے مستفید ہوں اور اس قرآن سے راہنمائی حاصل کریں۔

قرآن کا نزول ہدایت کے لئے ہے
اس آیہ کریمہ میں ’’ہدی للناس‘‘ کے الفاظ ہمیں پکار پکار کر یہ دعوت دے رہے ہیں کہ قرآن کے نزول کا مقصد کیا ہے۔ قرآن ہمیں کیوں عطا کیا گیا اور قرآن کو ہمارے لئے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے محفوظ کیوں کیا گیا۔ قرآن کے پڑھنے کی ہمیں ترغیب کیوں دی گئی۔ قرآن کے ایک ایک حرف کو پڑھنے پر دس نیکیوں کا وعدہ کیوں کیا گیا؟ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
من قرا حرفا من کتاب الله فله به حسنة والحسنة بعشر امثالها ولا اقول الم حرف ولکن الف حرف و لام حرف و ميم حرف.
جس شخص نے قرآن حکیم کا ایک حرف پڑھا اس کے لئے نیکی ہے اور یہ ایک نیکی دس نیکیوں کے برابر ہے میں یہ نہیں کہتا الم ایک حرف ہے بلکہ اس میں الف الگ حرف ہے لام الگ حرف ہے اور میم الگ حرف ہے۔ ہر ایک حرف پر ثواب دس نیکیوں کا ہے۔
(جامع ترمذی، فضائل القرآن)
قرآن کے الفاظ و کلمات کو پڑھنے پر اتنا زیادہ اجر و ثواب عطا کرنے کا وعدہ کیوں کیا گیا۔ ان ساری ترغیبات کی وجہ صرف اور صرف یہ ہے کہ ہم قرآن پڑھنے کی طرف راغب ہوجائیں اور قرآن پڑھتے پڑھتے اس سے ہدایت اخذ کرنے کی طرف متوجہ ہوجائیں۔ قرآن کے ذریعے ہم اپنے دین کو سیکھ لیں۔ قرآن کے ذریعے ہم اپنے مولا کو پالیں اور قرآن کے ذریعے اس کی توحید کی معرفت حاصل کرلیں اور قرآن کے ذریعے ہم اس کی بندگی کی حقیقت کو پالیں۔ حتی کہ قرآن کے ذریعے ہم اپنے مولا کی رضا کو پالیں۔
الہامی کتابوں کے نزول کا مقصد ہدایت ہے
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ باری تعالیٰ نے جتنی بھی کتابیں آج تک انبیاء علیہم السلام پر نازل کی ہیں۔ ان سب کا مقصد انسانوں کی ہدایت رہا ہے۔ انبیاء علیہم السلام کو یہ صحائف اور یہ کتب اس لئے دی گئیں تاکہ ان کے ماننے والے اور ان پر ایمان لانے والے ان کتب اور صحائف سے ہدایت حاصل کریں۔ چنانچہ اس حوالے سے حضرت موسیٰ علی السلام اور آپ پر نازل کی گئی کتاب تورات کے بارے میں باری تعالیٰ سورۃ البقرہ اور سورۃ المومنون میں ارشاد فرماتا ہے:
وَاِذْ اٰتَيْنَا مُوْسَی الْکِتٰبَ وَالفُرْقَانَ لَعَلَّکُمْ تَهْتَدُوْنَ.
’’اور جب ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب اور حق و باطل میں فرق کرنے والا (معجزہ) عطا کیا تاکہ تم راہ ہدایت پاؤ‘‘۔
(البقرة،2: 53)
سورۃ المومنون میں یوں ارشاد فرمایا:
وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسَی الْکِتٰبَ لَعَلَّهُمْ يَهْتَدُوْنَ.
’’اور بے شک ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب عطا فرمائی تاکہ وہ لوگ ہدایت پا جائیں‘‘۔
(المومنون، 23: 49)
ان دونوں آیات میں یہ الفاظ ’’اذ اتينا موسیٰ الکتب‘‘ اور ’’لقد اتينا موسی الکتب‘‘ کے الفاط ہمیں اس طرف متوجہ کرتے ہیں کہ باری تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو کتاب تورات عطا کی لیکن سوال یہ ہے کہ یہ کتاب باری تعالیٰ نے انہیں کیونکر عطا کی؟ کس مقصد کے لئے دی؟ اس کتاب کے اور دیگر کتب سماوی کے نازل کرنے کا مقصد رب کے نزدیک کیا ہے؟ ان ہی آیات کے اگلے الفاظ ان کتابوں کے نزول کے مقصد کو واضح کررہے ہیں کہ وہ الفاظ یہ ہیں:’’لعلهم يهتدون‘‘ اور ’’لعلکم تهتدون‘‘ تاکہ وہ ہدایت پائیں اور تاکہ تم ہدایت پاؤ۔ گویا کتب سماوی اور ہدایت لازم و ملزوم ہے۔ انبیاء علیہم السلام اور ان کی کتب کے بغیر ہدایت کو نہیں پایا جاسکتا۔
رسول اللہ کی ذات اور قرآن ہدایت ہیں
حضرت امام مالک اپنی کتاب میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
عن مالک انه بلغه ان رسول الله صلیٰ الله عليه وآله وسلم قال ترکت فيکم امرين لن تضلوا ماتمسکتم بهما کتاب الله وسنة نبيه. (رواه مالک والحاکم عن ابی هريره رضی الله عنه)
’’میں تمہارے پاس دو چیزیں چھوڑے جارہا ہوں اگر تم انہیں تھامے رکھو گے تو کبھی گمراہ نہ ہوگے۔ ایک اللہ کی کتاب اور دوسری تمہارے نبی کی سنت‘‘۔
یہ حدیث مبارکہ بھی ہمیں اس حقیقت کی طرف متوجہ کرتی ہے کہ کتاب اللہ اور سنت رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تمسک میں ہی ہدایت ہے۔ جس نے کتاب اللہ کو اور سنت رسول  صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سختی سے پکڑ لیا وہ کبھی بھی گمراہ نہ ہوگا۔ وہ ہدایت پر ہی رہے گا۔ لیکن اب سوال یہ ہے کتاب اللہ یعنی قرآن کا تمسک کیسے کیا جائے، قرآن کو مضبوطی سے کیسے پکڑا جائے، قرآن سے اپنا تعلق کیسے قائم کیا جائے اور قرآن کو اپنی زندگی میں کس طرح اختیار کیا جائے۔ قرآن کے ساتھ ہمارا ربط کیسا ہو اور قرآن ہماری زندگیوں میں کیسے نظر آئے۔ ہمارا عمل قرآن کے مطابق کیسے ہو۔ ہمارا قول قرآن کے مطابق کیسے ہو۔ ہمارا خلق قرآن کے مطابق کیسے ہو۔ ہماری سیرت اور ہماری شخصیت قرآن کے مطابق کیسے ہو۔ ہم کیسے یہ دعویٰ کرسکتے ہیں کہ قرآن کے ساتھ ہمارا وہ تعلق قائم ہوگیا ہے جس کا حکم اللہ اور رسول نے دیا ہے اور یوں ہماری ساری زندگی قرآن کے مطابق ہو اور ہم قرآن سے باہر نہ ہوں تاکہ ہمیں قرآن کے نزول کا مقصد ہدایت عظمیٰ حاصل ہوجائے۔
رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذمہ داری ہدایت تک پہنچانا ہے
باری تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: اگر تم قرآن کو بھی اور میرے نبی کی سنت کو بھی ایک ہی جگہ ایک شخص میں دیکھنا چاہتے ہو تو وہ میرے رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات ہے۔ جس نے تمہیں قرآن بھی پہنچایا اور اپنی سنت بھی تمہیں سکھائی ہے۔ اس لئے اس رسول کی یہی ذمہ داری تھی۔
وَمَا عَلَی الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلٰغُ الْمُبِيْنُ.
’’اور رسول (صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر (احکام کو) صریحاً پہنچا دینے کے سوا (کچھ لازم) نہیں ہے‘‘۔
(النور، 24: 54)
گویا اس رسول معظم نے اللہ کے احکام کو اور اللہ کے دین کو قرآن اور اپنی سنت کے ذریعے ’’البلغ المبين‘‘ یعنی واضح طور پر پہنچادیا ہے۔
رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا فرض نبوت بتمام و کمال ادا کردیا ہے۔ اللہ کا دین تم تک پہنچادیا ہے اور اس دین کے پہنچانے پر تم بھی خطبہ حجۃ الوداع کی صورت میں اقرار کرچکے ہو اور اللہ بھی تمہارے اس اقرار پر گواہ و شاہد ہے۔
ہدایت کی عملی صورت اطاعت رسول ہے
اب تمہاری فقط یہی ذمہ داری ہے:
وان تطيعوه تهتدوا.
’’اگر تم ان کی (رسول کی) اطاعت کرو تو ہدایت پاجاؤ گے‘‘۔
(النور،24: 54)
گویا رسول کی اطاعت میں تمہارے لئے ہدایت کا سامان رکھ دیا گیا ہے۔اب رسول کی اطاعت تمہیں کیسے اختیار کرنی ہے۔ اس اطاعت کی عملی صورت یہ ہے کہ تم رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کہی ہوئی ہر بات کو، ہر حدیث کو، ہر فرمان کو اپنا عمل بنالو۔ تم اپنی گفتار کو رسول اللہ کی گفتار پر استوار کرو۔ تم اپنے قول کو رسول اللہ کے قول سے روشنی دو۔ تم اپنے فعل کو فعل رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم سے راہنمائی دو۔ تم اپنے خلق کو خلق رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آشنا کرو۔ تم اپنی ذات کو رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات میں اطاعت کے باب میں فنا کردو۔ ’’تھتدوا‘‘ تم ہدیات پاجاؤ گے۔ اس لئے کہ رسول اللہ کی اطاعت خود اللہ کی اطاعت ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
مَنْ يُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اﷲَ.
’’جس نے رسول (صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا حکم مانا بےشک اس نے اللہ (ہی) کا حکم مانا ‘‘۔
(النساء، 4: 80)
گویا قرآن اس مقام پر واضح کررہا ہے کہ تمہیں ہدایت اس وقت تک میسر نہیں آسکتی جب تک تم خود کو رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت میں ڈھال نہ لو اور رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت کا پیکر مجسم نہ بن جاؤ اور اطاعت رسول کو اپنا اوڑھنا بچھونا نہ بنالو اور اپنی حیات کو اطاعت رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آشنا نہ کردو، گویا ہدایت عطاکئے جانے کی ضمانت اطاعت رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے۔
اطاعت رسول کا نتیجہ صراط مستقیم ہے
قرآن ہدایت کو رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اقدس کے ساتھ لازم و ملزوم کرتا ہے۔ اس لئے کہ آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اقدس سراپا ہدایت ہے اور آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو باری تعالیٰ نے ساری کائنات کے لئے ہادی بنایا ہے۔ اس لئے ارشاد فرمایا:
وَاِنَّکَ لَتَهْدِيْ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ.
’’اور بے شک آپ ہی صراطِ مستقیم کی طرف ہدایت عطا فرماتے ہیں‘‘۔
(الشوریٰ، 42: 52)
اس آیت کریمہ نے رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تعارف ہی صراط مستقیم کی ہدایت عطا کرنے والا کرایا ہے اور آپ کی ذات سے وابستہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو صراط مستقیم کی ہدایت مل گئی اور انسان کو وہ ہدایت مل گئی جو اس کی زندگی کا حاصل ہے۔ جو اس کا زندگی کا مقصود ہے۔
اتباع فنائیت مصطفی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام ہے
رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اقدس سے ہدایت حاصل کرنے کی پہلی صورت اطاعت رسول ہے جس کا ذکر ہم کرچکے، دوسری صورت کا بھی قرآن ذکر کرتا ہے اور وہ ہے اتباع رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَاتَّبِعُوْهُ لَعَلَّکُمْ تَهْتَدُوْنَ.
’’اور تم انہی کی پیروی کرو تاکہ تم ہدایت پاسکو‘‘۔
(الاعراف، 7: 158)
اب اس آیت کریمہ میں ہدایت عطا کئے جانے کا انحصار رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اتباع پر رکھ دیا گیا ہے جو اتباع رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم میں ڈھلے گا وہی ہدایت پانے والا ہوگا جو خودکو اتباع رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پیکر بنائے گا وہ ہدایت یافتہ ہوگا۔ جو خود کو رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اتباع میں فنا کرے گا وہی ہدایت کا حقدار ہوگا۔ اتباع رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نقوش پا کی تلاش میں خود کو فنا کردینا ہے۔ اتباع میں دل کا غلبہ ہوتا ہے اور اطاعت میں عقل کا غلبہ ہوتا ہے۔اطاعت، قول و فعل رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وجہ جانتی ہے۔ اتباع، قول و فعل رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وجہ بھی نہیں جانتی۔
تصور اطاعت اور اتباع کا باہمی تعلق
اطاعت میں محبت رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کا غلبہ ہوتا ہے اور اتباع میں عشق رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کا غلبہ و تفوق ہوتا ہے۔ اطاعت، رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شرعی اداؤں کو اختیار کرنے کا نام ہے اور اتباع، رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہر ادا کو اختیار کرنے کا نام ہے۔ اطاعت میں اپنی شخصیت کا احساس رہتا ہے اور اتباع میں رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شخصیت ہی باقی رہ جاتی ہے۔ اطاعت میں اپنے وجود کا خیال رہتا ہے۔ اتباع میں اپنا وجود بھی وجود مصطفی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم میں فنا کردیا جاتا ہے۔ اس لئے ارشاد فرمایا:
واتبعوه لعلکم تهتدون
’’اس رسول کی اتباع میں ڈھل جاؤ تاکہ تم ہدایت یافتہ ہوجاؤ‘‘۔
رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اتباع ہی انسان کو ’’لعلکم تهتدون‘‘ کا اعزاز بھی دیتی ہے اور ’’يحببکم الله‘‘ کا مقام رفیع اور اس دنیا کی سب سے بڑی نعمت اور سب سے بڑا انعام، سب سے بڑا اکرام اور شان بندگی کا سب سے بڑا مقام بھی رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اتباع ہی عطا کرتی ہے۔ اس لئے ارشاد فرمایا:
قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اﷲَ فَاتَّبِعُوْنِيْ يُحْبِبْکُمُ اﷲُ وَيَغْفِرْلَکُمْ ذُنُوْبَکُمْ.
’’(اے حبیب!) آپ فرما دیں: اگر تم اﷲ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو تب اﷲ تمہیں (اپنا) محبوب بنا لے گا اور تمہارے لیے تمہارے گناہ معاف فرما دے گا‘‘۔
(آل عمران، 3: 31)
فرمایا اتباع رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تم کوئی معمولی چیز نہ سمجھو یہی وہ اتباع ہے جو تم کو رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بھی مقرب بناسکتی ہے اور رب کا بھی محبوب بناسکتی ہے۔ اگر تم رب کی محبوبیت چاہتے ہو اور اس کی محبت چاہتے ہو، اس کی بندگی کی معرفت چاہتے ہو اور اس کا ہوجانا چاہتے ہو تو اس کی ایک ہی صورت ہے کہ خود کو اتباع مصطفی میں ڈھال لو۔ اتباع رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنی زندگیوں میں اختیار کرلو، تمہیں مصطفی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی مل جائے گا خدا بھی مل جائے گا اور ہدایت بھی مل جائے گی اور خدا کے محبوب بھی ہوجاؤ گے۔
لیلۃ القدر اور قرآن کا نزول
اس قرآن کو کتاب ہدایت کی صفت عظیم کے ساتھ متصف کرکے باری تعالیٰ نے لیلۃ القدر کی ساعتوں میں زمین پر اتارا ہے۔ لیلۃ القدر کو نزول قرآن کی وجہ سے جو فضیلت و اہمیت حاصل ہے خود قرآن اس کا ذکر یوں کرتا ہے:
اِنَّآ اَنْزَلَنٰهُ فِيْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ. وَمَآ اَدْرٰکَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ. لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَهْرٍ.
’’بے شک ہم نے اس (قرآن) کو شبِ قدر میں اتارا ہے۔ اور آپ کیا سمجھے ہیں (کہ) شبِ قدر کیا ہے؟ شبِ قدر (فضیلت و برکت اور اَجر و ثواب میں) ہزار مہینوں سے بہتر ہے‘‘۔
(القدر، 97: 1تا3)
آج کی رات نزول قرآن کی رات ہے۔ نزول قرآن ہونے کی وجہ سے اسے لیلۃ القدر کانام دیا گیا ہے۔ یہ رات ہزار راتوں سے افضل رات ہے۔ یہ رات اللہ کی رحمت کی رات ہے اور یہ رات نزول ملائکہ اور نزول روح الامین کی رات ہے۔ اس رات کا ایک ایک لمحہ خیروبرکت کا ہے۔ اس رات کاایک ایک پل سلامتی کا ہے۔ یہ رات غروب آفتاب سے فجر تک سلامتی کی رات ہے اور یہ اللہ کے فضل و کرم کی رات ہے۔ نزول قرآن کی یہ رات ہمیں یہ پیغام دیتی ہے:
اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَاِنَّا لَهُ لَحٰفِظُوْنَ.
’’بے شک یہ ذکرِ عظیم (قرآن) ہم نے ہی اتارا ہے اور یقینا ہم ہی اس کی حفاظت کریں گے‘‘۔
(الحجر، 15: 9)
ہم نے اس قرآن کو سفینوں میں محفوظ کردیا ہے اور ہم نے اس قرآن کو سینوں میں بھی محفوظ کردیا ہے۔ صحیفوں، سفینوں میں چودہ سو سال سے محفوظ چلا آرہا ہے اور سینوں میں بھی چودہ سو سال سے محفوظ چلا آرہا ہے اور ہر رمضان المبارک میں صلاۃ الراویح کی صورت میں یہ سینے قرآن کے محفوظ ہونے کی زندہ علامت اور شہادت بن جاتے ہیں۔ کوئی ہے جو اب بھی رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس زندہ معجزہ کا انکار کرے۔
فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ.
’’پس (اے گروہ جنّ و انسان) تم دونوں اپنے رب کی کِن کِن نعمتوں کو جھٹلاؤ گے؟‘‘۔
(الرحمن، 55: 13)
قرآن اپنی ہدایت عظمیٰ پر خود شہادت ہے
قرآن ہمارے اندر اللہ کی وحدانیت اور اس کی توحید کی ایک ابدی شہادت بن کر موجود ہے۔ قرآن ہمارے اندر رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت و رسالت کی ایک روشن علامت بن کر موجود ہے اور دین اسلام کی صداقت و حقانیت کی سب سے بڑی دلیل یہ قرآن ہے۔ یہ ایک کتاب زندہ ہے۔ یہ کتاب مردہ دلوں کو زندگی دیتی ہے۔ یہ کتاب مردہ سوچوں کو افکار تازہ دیتی ہے۔ یہ کتاب انسانی عملوں کی اصلاح کرتی ہے۔ یہ کتاب انسانی رویوں کو درست کرتی ہے حتی کہ اس کتاب کا موضوع ہی ’’ہدی للناس‘‘ ہے اور یہ کتاب ’’وبینت من الھدی والفرقان‘‘ ہدایت کی نشانیوں سے مملو ہے اور حق و باطل کے امتیازات سے بھرپور ہے اور کل عالم انسانیت میں ہر دور میں اور ہر زمانے میں اور آج تک کوئی کتاب یہ دعویٰ کرسکی ہے اور نہ کرسکے گی اور یہ اس کتاب قرآن کا کھلا چیلنج ہے۔ قرآن اپنے اس چیلنج کو ہر زمانے کے لوگوں سے مخاطب ہوکر یوں کرتا ہے:
اِنَّ هٰذَا الْقُرْاٰنَ يَهْدِيْ لِلَّتِيْ هِيَ اَقْوَمُ.
’’بے شک یہ قرآن اس (منزل) کی طرف رہنمائی کرتا ہے جو سب سے درست ہے ‘‘۔
(بنی اسرائيل،17: 9)
یہ قرآن ہی سب سے زیادہ مضبوط اور مستحکم ہدایت کی طرف راہنمائی کرتا ہے۔ قرآن کی ہدایت سے بڑھ کر کوئی ہدایت نہیں اور قرآن کی ہدایت سے بڑھ کر کوئی ہدایت اقوم سیدھی اور مضبوط اور مستحکم نہیں۔
……….

 

رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم میرے بعد ہدایت پر ہی رہو گے۔ جب تک تم ایک ہاتھ میں قرآن اور دوسرے ہاتھ میں میری سنت و حدیث کو تھامے رہو گے۔
ترکت فيکم امرين لن تضلوا ماتمسکتم بهما کتاب الله وسنة لنبيه.
’’رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں تمہارے پاس دو چیزیں چھوڑے جارہا ہوں اگر تم انہیں تھامے رکھو گے کبھی بھی گمراہ نہ ہوگے ایک اللہ کی کتاب اور دوسرے تمہارے نبی کی سنت‘‘۔
(امام مالک، الموطا کتاب القدر باب النهی عن القول بالقدر، 3: 899)

قرآن سے مسلمانوں کا تعلق

قرآن سے تعلق کمزور کرنا ہدایت الہٰی سے تعلق کمزور کرنا ہے۔ قرآن سے تعلق توڑنا ہدایت ربانی سے تعلق توڑنا ہے، قرآن کو چھوڑنا اسلام کو عملاً چھوڑنا ہے، مسلمانوں نے قرآن کو قلباً اور ذہناً نہیں چھوڑا ہے بلکہ عملاً چھوڑا ہے۔ اسی کا شکوہ قیامت کے روز رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم امت کی بابت اللہ رب العزت کی بارگاہ میں یوں کریں گے۔
وَقَالَ الرَّسُوْلُ يٰـرَبِّ اِنَّ قَوْمِی اتَّخَذُوْا هٰذَا الْقُرْاٰنَ مَهْجُوْرًا.
’’اور رسولِ (اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم) عرض کریں گے: اے رب! بے شک میری قوم نے اس قرآن کو بالکل ہی چھوڑ رکھا تھا‘‘۔
(فرقان، 25: 30)
نزول بالقرآن کی نعمت ہم کو اس طرف متوجہ کرتی ہے کہ ہم اپنی زندگیوں کو مھجور بالقرآن ہونے سے کیسے بچائیں۔ ہم قرآن سے اپنے کمزور تعلق کو کیسے مضبوط کریں، ہم اتحاد بالقرآن کی کیا کیا صورتیں اختیار کریں تاکہ ہمارا قلبی اور عملی تعلق قرآنی ہدایت کے ساتھ مضبوط سے مضبوط تر ہوتا جائے۔

قرآن کی تلاوت اور مطالعہ

قرآن اس حوالے سے بھی اپنے ماننے والوں کی راہنمائی کرتا ہے۔ سورہ الکہف میں ارشاد فرمایا:
وَاتْلُ
اس قرآن کی تلاوت کیا کرو۔
(الکهف، 18: 27)
اس قرآن کو پڑھا کرو، یہ پڑھنا کبھی کبھار نہ ہو بلکہ یہ پڑھنا کثرت کے ساتھ ہو اس لئے قرآن کا معنی ہی یہ ہے: القرآن الکتاب الذی قرا مرۃ بعد مرۃ۔ ’’وہ کتاب جس کو بار بار پڑھا جائے یعنی وہ کتاب جس کو بہت زیادہ پڑھا جائے‘‘۔ اس لئے باری تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
واتل۔ اس قرآن کی تلاوت کیا کرو اور تلاوت اپنے اندر خود کثرت کا معنی رکھتی ہے۔ آیت کے اگلے حصے میں اس کی بھی تخصیص کردی اور ارشاد فرمایا:
مَآ اُوْحِيَ اِلَيْکَ مِنْ کِتَابِ رَبِّکَ
’’جو آپ کے رب کی کتاب میں سے آپ کی طرف وحی کیا گیا ہے‘‘۔
(الکهف، 18: 27)
اب سوال یہ ہے کہ قرآن کی تلاوت کیونکر ضروری ہے اس لئے کہ قرآن کی تلاوت انسان کو ہدایت تک لے جاتی ہے۔ قرآن کی تلاوت انسان کو اللہ کی اطاعت اور بندگی پر گامزن رکھتی ہے۔ قرآن کی تلاوت انسان کو اللہ کی فرمانبرداری پر قائم رکھتی ہے اور قرآن کی تلاوت انسان کو اللہ کی بارگاہ سے، اس کے انعامات کا مستحق بناتی ہے اس لئے سورہ النمل میں ارشاد فرمایا:
وَّاُمِرْتُ اَنْ اَکُوْنَ مِنَ الْمُسْلِمِيْنَ. وَ اَنْ اَتْلُوَا الْقُرْاٰنَ ج فَمَنِ اهْتَدٰی فَاِنَّمَا يَهْتَدِيْ لِنَفْسِهِ.
’’اور مجھے (یہ) حکم (بھی) دیا گیا ہے کہ میں (اللہ کے) فرمانبرداروں میں رہوں۔ نیز یہ کہ میں قرآن پڑھ کر سناتا رہوں سو جس شخص نے ہدایت قبول کی تو اس نے اپنے ہی فائدہ کے لیے راہِ راست اختیار کی‘‘۔
(النحل، 27: 91 تا 92)

روزانہ قرآن کا پڑھنا اور سمجھنا

یہ تلاوت قرآن ایسی ہو جس میں تسلسل ہو جو اگرچہ تھوڑی ہو مگر مسلسل ہو۔ کبھی بھی اس میں انقطاع نہ آئے، کبھی بھی یہ عمل تلاوت چھوٹنے نہ پائے، یہ تلاوت بالقرآن آسانی کے ساتھ سارا سال ہمیشہ جاری رہے۔ اس لئے فرمایا:
فَاقْرَءُ وْا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْاٰنِ.
’’پس جتنا آسانی سے ہو سکے قرآن پڑھ لیا کرو‘‘۔
(المزمل، 73: 20)
باری تعالیٰ فاقرء وا کے ذریعے اور واتل کے ذریعے تلاوت قرآن اور قرات قرآن کا حکم دے رہا ہے کہ قرآن کی تلاوت کیا کرو اور قرآن پڑھا کرو۔ قرآن کا تلاوت کرنا اور پڑھنا اپنے اندر ہ معنی بھی رکھتا ہے کہ قرآن کا نزول اس لئے ہوا کہ
اِنَّآ اَنْزَلْنٰهُ قُرْئٰنًا عَرَبِيًّا لَّعَلَّکُمْ تَعْقِلُوْنَ.
’’بے شک ہم نے اس کتاب کو قرآن کی صورت میں بزبانِ عربی اتارا تاکہ تم (اسے براہِ راست) سمجھ سکو۔‘‘
(يوسف، 12: 2)
قرآن کی تلاوت اور قرآن کا مقصد بھی یہی ہے کہ لعلمکم تعقلون کہ قرآن کو سمجھا جائے، دوسرے مقام پر فرمایا یہ قرآن اس لئے ہے تاکہ اس کے ذریعے لقوم يعلمون (حم السجده/ فصلت41/ 3) علم حاصل کیا جائے۔ اس قرآن کے ذریعے نئے نئے حقائق جانے جائیں، یہ قرآن اس لئے عطا کیا گیا تاکہ اسے ماننے والے ایک موثر ذریعہ علم جانیں اور قرآن کی تلاوت اس طرح کی جائے کہ اسی قرآن کے ذریعے دیگر اقوام و ملل کے احوال جان کر نصیحت لی جائے۔

قرآن تمام انسانوں کیلئے ہدایت و نصیحت ہے

قرآن کی نصیحت ہی انسانی زندگی کی کامیابی کا راز ہے اس بناء پر فرمایا:
وَيُبَيِّنُ اٰيٰـتِهِ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَذَکَّرُوْنَ.
’’اور اپنی آیتیں لوگوں کے لیے کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں‘‘۔
(البقرة، 2: 221)
اس لئے حکم دیا کہ ان پر قرآن کی تلاوت اس طرح کریں کہ فذکر بالقرآن (ق، 50: 45) قرآن کے ذریعے اس شخص کو نصیحت فرمایئے۔ مزید برآں فرمایا:
جو اس قرآن کو بار بار پڑھتے ہیں اور اس قرآن کی کثرت کے ساتھ تلاوت کرتے ہیں ہم نے ان لوگوں کے لئے قرآن سے اخذ نصیحت کو آسان کردیا ہے۔ ارشاد فرمایا:
وَ لَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّکْرِ فَهَلْ مِنْ مُّدَّکِرٍ.
’’اور بے شک ہم نے قرآن کو نصیحت کے لیے آسان کر دیا ہے سو کیا کوئی نصیحت حاصل کرنے والا ہے؟‘‘۔
(القمر، 54: 22)
یہ قرآن ہماری انفرادی اجتماعی اور بین الاقوامی زندگی کے لئے بھی تذکرہ و نصیحت ہے۔ انفرادی زندگی کے لئے اس طرح کہ ان ھذہ تذکرۃ (المزمل:19) یہ قرآن نصیحت ہے اور قومی زندگی کے لئے بھی نصیحت ہے۔ انہ لذکر لک ولقومک۔ یہ قرآن آپ کے لئے اور آپ کی پوری قوم کے لئے بھی نصیحت ہے اور بین الاقوامی زندگی کے لئے بھی نصیحت ہے۔ ان هوا الا ذکر للعلمين (انعام: 91) یہ قرآن تمام عالم کے لئے نصیحت و ہدایت ہے۔
قرآن کی تلاوت اس لئے بھی ہے کہ ہر مسلمان تفکر فی القرآن کرے، ہر اہل ایمان قرآن میں غوروفکر کرے۔ ہر مومن سوچنے کو اپنی عادت بنائے، اعلیٰ فکر کو اختیار کرنا اپنا شعار بنائے، ارفع افکار کو اپنانا اپنا وطیرہ حیات بنائے، اپنی زندگی کو مسلمہ افکار پر ڈھالنا اپنی شناخت بنائے، اپنی سوچ و فکر کو عمدہ بنانا اپنی سیرت بنائے، اس لئے فکر، عمل کی بنیاد بنتی ہے، سوچ کسی بھی فعل کی اساس ثابت ہوتی ہے، فکر ایک بیج ہے اور عمل اس کا پھل ہے۔ اس لئے فرمایا ہر اعلیٰ فکر، قرآن کے دامن میں ہے۔

آیات میں تفکر و تدبر کا لازمی حکم

ارفع فکر قرآن سے تفکر اور تدبیر کے ذریعے ہی میسر آسکتی ہے اس لئے فرمایا کہ قرآن کی تلاوت اس طرح کرو کہ آیات قرآن میں تفکر کرتے چلے جائو۔ آیات الہٰیہ میں غورو فکر کو اپناتے جائو، اس لئے کہ قرآن کے نزول اور قرآن کی تلاوت کا ایک مقصد تفکر فی القرآن ہے، اس لئے تلاوت قرآن حکیم کے دوران تفکر فی القرآن اور تفکر فی آیات القرآن کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:
اِنَّ فِيْ ذٰلِکَ لَاٰيَةً لِّقَوْمٍ يَتَفَکَّرُوْنَ.
’’بے شک اس میں غور و فکر کرنے والوں کے لیے نشانی ہے‘‘۔
 (النحل، 16: 69)، (الروم، 30: 21)، (الرعد، 13: 3)، (الجاثية، 45: 13)
اسی طرح سورہ یونس میں ارشاد فرمایا:
کَذٰلِکَ نُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ لِقَوْمٍ يَتَفَکَّرُوْنَ.
’’اسی طرح ہم ان لوگوں کے لیے نشانیاں کھول کر بیان کرتے ہیں جو تفکر سے کام لیتے ہیں‘‘۔
(يونس، 10: 24)
ارشاد فرمایا:
اَوَلَمْ يَتَفَکَّرُوْا فِيْ اَنْفُسِهِمْ.
’’کیا انہوں نے اپنے مَن میں کبھی غور نہیں کیا‘‘
(الروم، 30: 8)
قرآن تفکر فی الآیات اور تفکر فی الذات کی ترغیب دے کر انسانوں کو عرفان الغایہ (منزل کی معرفت ارائۃ الطریق (راستہ کا دکھانا) اور ایصال الی المطلوب (منزل تک پہنچا دینے) تک لے جاتا ہے، اس تفکر کے ذریعے انسان اھدنا الصراط المستقیم کے مقصد حیات کو پالیتا ہے۔

معرفت قرآن کے لئے تدبر فی القرآن ضروری ہے

قرآن تفکر بالقرآن کے اسی عمل کو تدبر بالقرآن کے ذریعے بھی بیان کرتا ہے۔ ارشاد فرمایا:
افَـلَا يَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ.
’’تو کیا وہ قرآن میں غور و فکر نہیں کرتے ‘‘۔
(النساء، 4: 82)
اگر وہ قرآن میں غورو فکر کریں تو وہ قرآن کے سب رازوں کو پالیں گے۔ حقائق کائنات ان پر منکشف ہوجائیں گے، قرآن کی صداقت بھی ان پر آشکار ہوجائے گی۔ اللہ کی معرفت کے راز بھی ان پر کھل جائیں گے۔ اس لئے آیت کے اگلے حصے میں فرمایا:
وَلَوْ کَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اﷲِ لَوَجَدُوْا فِيْهِ اخْتِلَافًا کَثِيْرًا.
’’اور اگر یہ (قرآن) غیرِ خدا کی طرف سے (آیا) ہوتا تو یہ لوگ اس میں بہت سا اختلاف پاتے‘‘۔
(النساء، 4: 82)
قرآن تفکر فی القرآن اور تدبر فی القرآن کے عمل کو لازمی بنیادوں پر اختیار کرنے کے حوالے سے اہل ایمان اور اہل اسلام کو جھنجھوڑتے ہوئے یوں بیان کرتا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
اَفَـلَا يَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰی قُلُوْبٍ اَقْفَالُهَا.
’’کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے یا ان کے دلوں پر تالے (لگے ہوئے) ہیں‘‘۔
(محمد، 47: 24)

تفکر فی القرآن ہر مسلمان کیلئے ایک لازمی امر ہے

تدبر فی القرآن اور تفکر فی القرآن کی اس سے بڑھ کر کوئی ترغیب نہیں ہوسکتی۔ قرآن میں تفکر اور تدبر کرنا یہ عمل کس قدر اہمیت کا حامل ہے۔ اس پر قرآن کے یہ الفاظ شاہد ہیں، افلا یتدبرون القرآن۔ قرآن اپنے ماننے والوں کو جھنجھوڑتا ہے کہ قرآن کو سمجھنا ہے تو تفکر فی القرآن کا عمل اختیار کرو۔ قرآن کو جاننا ہے تو تدبر فی القرآن کا وظیفہ اپنائو، قرآن میں فہم حاصل کرنا ہے تو تذکیر بالقرآن پر عمل کرو، قرآن سے ہدایت لینی ہے تو تمسک بالقرآن پر کاربند ہوجائو۔ قرآن سے قول و فعل اور خلق و سیرت کی خیرات اور روشنی لینی ہے تو تلاوت بالقرآن کو اپنا معمول بنائو۔ اقوامِ عالم میں عزت اور رفعت کے ساتھ جینا ہے تو ہدیات بالقرآن کو اپنا قومی وملی شعار بنائو۔

مسلمان قرآن کے بغیر کچھ نہیں

اس لئے یہ بات ذہن نشین کرلو تم قرآن کے بغیر کچھ نہیں ہو۔ تم سے پہلے یہود و نصاریٰ کی بھی ساری عظمتیں تورات اور انجیل پر عمل کرنے سے وابستہ تھیں۔ اس حقیقت کو بھی قرآن میں یوں فرمایا گیا:
قُلْ يٰـاَهْلَ الْکِتٰبِ لَسْتُمْ عَلٰی شَئٍ حَتّٰی تُقِيْمُوا التَّوْرٰةَ وَالْاِنْجِيْلَ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْکُمْ مِّنْ رَّبِّکُمْ.
’’فرما دیجیے: اے اہلِ کتاب! تم (دین میں سے) کسی شے پر بھی نہیں ہو، یہاں تک کہ تم تورات اور انجیل اور جو کچھ تمہاری طرف تمہارے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے (نافذ اور) قائم کر دو‘‘۔
(المائدة، 5: 68)
قرآن جس طرح یہود و نصاریٰ کو مخاطب کرتا ہے کہ تم اپنی کتابوں تورات اور انجیل پر عمل کئے بغیر لستم علی شئی تم کچھ بھی نہیں ہو۔ اسی طرح قرآن زبان حال سے اپنے ماننے والوں، اہل ایمان اور اہل اسلام سے بھی مخاطب ہورہا ہے کہ تم بھی لستم علی شئی تم بھی کچھ نہیں ہو یہاں تک کہ قرآن پر عمل نہ کرلو۔
اس لئے تمہاری ساری عزتیں قرآن سے وابستہ ہیں، تمہاری ساری عظمتیں قرآن سے ہیں، تمہاری ساری رفعتیں قرآن سے ہیں، تمہاری ساری فضیلتیں قرآن سے ہیں، تمہاری ساری اولیتیں قرآن سے ہیں، تمہاری ساری بلندیاں قرآن سے ہیں، تمہاری ساری تابناکیاں قرآن سے ہیں۔ قرآن تمہاری شناخت ہے، قرآن تمہاری پہچان ہے، قرآن تمہارا عمل ہے، قرآن تمہارا قول ہے، قرآن تمہارا خلق ہے، قرآن تمہاری سیرت ہے اور قرآن سے تمہاری شخصیت ہے قرآن سے تمہاری وحدت ہے اور قرآن سے تمہاری اجتماعیت ہے۔ قرآن سے تمہاری تقدسیت ہے، قرآن تمہاری زندگی ہے اور تمہاری زندگی قرآن سے ہے۔ اس راز میں تمہاری انفرادی اور اجتماعی زندگی کی عزت وابستہ ہے بصورت دیگر تمہار احال اے قوم مسلم اقبال کے اس شعر کا مصداق ہوگا۔
وہ معزز تھے زمانے میں مسلماں ہوکر
اور ہم خوار ہوئے تارک قرآن ہوکر

رجوع الی القرآن کی شدید ضرورت

آیئے آج ہم قرآن کی طرف لوٹنے کا عہد کریں، قرآن سے اپنا ربط و ناطہ مضبوط کریں۔ رجوع الی القرآن کا عزم مصمم کریں، قرآن سے اکتساب فکر کریں، قرآن سے اخذ نور کریں، قرآن سے تعلیم کتاب کا تعلق قائم کریں، قرآن سے تزکیہ نفوس کریں، قرآن کی حکمت و دانش سے خود کو مملو کریں، قرآن کو کتاب ہدایت جانیں، قرآن سے تذکیر و نصیحت لیں، قرآن سے حبی و عشقی تعلق استوار کریں، قرآن کو اپنا قول و فعل بنائیں، قرآن کو اپنا خلق بنائیں، قرآن سے اپنی انفرادی زندگی سنواریں اور قرآن سے اپنی اجتماعی زندگی کی اصلاح کریں، قرآن کو رسول اللہ کا زندہ معجزہ جانیں اور قرآن کی زندہ فکر کو اپنائیں، قرآن سے اسلام کی حقانیت کو جانیں اور قرآن سے رسول اللہ سے شان ختم نبوت اور شان رسالت کو مانیں اور قرآن سے اللہ کی توحید اور معرفت کا ادراک کریں۔

مسلمانوں سے قرآن کے خطاب کے انداز

قرآن اہل ایمان سے کبھی یوں خطاب کرتا ہے۔ افلا یتدبرون القرآن، کبھی یوں فرماتا ہے ان ہذا القرآن یھدی للتی ھی اقوم و بینت من الھدی والفرقان اور کبھی لعلکم ترحمون کہ یہ قرآن تمہارے لئے رحمت الہٰی کا باعث ہے۔ کبھی فاستعذ باللہ کے ذریعے اہل ایمان کو پیغام دیتا ہے کہ یہ قرآن تمہارے لئے اللہ کی طرف سے پناہ گاہ ہے۔ جیسے فرمایا:
فاذا قرات القرآن فاستعذ باللہ من الشیطان الرجیم۔ کبھی اہل ایمان کو یہ بتایا جاتا ہے کہ یہ قرآن تمہارے لئے شفا ہی شفا ہے اور تمہاری ظاہری بیماریوں کے لئے بھی شفاء ہے اور تمہاری باطنی بیماریوں کے لئے بھی شفا ہے۔ حتی کہ یہ قرآن سراسر تمہارے لئے رحمت ہی رحمت ہے۔
وَنُـنَـزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَآءٌ وَّرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ.
’’اور ہم قرآن میں وہ چیز نازل فرما رہے ہیں جو ایمان والوں کے لیے شفاء اور رحمت ہے اور ظالموں کے لیے تو صرف نقصان ہی میں اضافہ کر رہا ہے‘‘۔
(الاسراء، 17: 82)
تمام لوگوں سے بالعموم اور اہل اسلام سے بالخصوص قرآن یوں مخاطب ہوتا ہے:
ولقد فرينا للناس فی القرآن من کل مثل لعلهم يتذکرون.
گویا قرآن خود اعلان کررہا ہے کہ قرآن اس لئے کہ تاکہ اس کو پڑھنے اور ماننے والے لعلہم یتذکرون اس سے نصیحت حاصل کریں کبھی لعلہم یتفکرون اور لقوم یتفکرون کے ذریعے اہل ایمان کو اس حقیقت سے آگاہ کیا جاتا ہے کہ قرآن اس لئے نازل ہوا ہے کہ اس میں تفکر اختیار کیا جائے اور غورو فکر کیا جائے۔
وَاَنْزَلْنَآ اِلَيْکَ الذِّکْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَيْهِمْ وَلَعَلَّهُمْ يَتَفَکَّرُوْنَ.
’’اور (اے نبیِ مکرّم!) ہم نے آپ کی طرف ذکرِ عظیم (قرآن) نازل فرمایا ہے تاکہ آپ لوگوں کے لیے وہ (پیغام اور احکام)خوب واضح کر دیں جو ان کی طرف اتارے گئے ہیں اور تاکہ وہ غور و فکر کریں‘‘۔
(النحل: 44)
کبھی باری تعالیٰ اہل ایمان کو یوں متوجہ کرتا ہے کہ تم ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جنہوں نے قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا، جس آیت پر چاہا عمل کرلیا اور جس آیت کو چاہا اسے چھوڑ دیا۔
الَّذِيْنَ جَعَلُوا الْقُرْاٰنَ عِضِيْنَ.
’’جنہوں نے قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے (کر کے تقسیم) کر ڈالا (یعنی موافق آیتوں کو مان لیا اور غیر موافق کو نہ مانا)‘‘۔
(الحجر، 15: 91)
کبھی باری تعالیٰ اہل اسلام کو قرآن کے بے مثل ہونے کی یوں خبر دیتا ہے:
قُلْ لَّئِنِ اجْتَمَعَتِ الْاِنْسُ وَالْجِنُّ عَلٰی اَنْ يَاتُوْا بِمِثْلِ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لَا يَاْتُوْنَ بِمِثْلِهِ.
’’فرما دیجیے: اگر تمام انسان اور جنّات اس بات پر جمع ہو جائیں کہ وہ اس قرآن کے مثل (کوئی دوسرا کلام بنا) لائیں گے تو (بھی) وہ اس کی مثل نہیں لا سکتے۔‘‘
(الاسراء، 17: 88)
کبھی باری تعالیٰ اہل ایمان کو لعلکم تعقلون کے ذریعے اس حقیقت سے آشنا کرتا ہے قرآن تمہارے لئے عقل و حکمت کا خزانہ ہے۔ اس لئے اسے سمجھو اور اسے جانو اور اس کے ذریعے اپنی عقل و فہم کو بڑھائو۔
اِنَّآ اَنْزَلْنٰهُ قُرْئٰنًا عَرَبِيًّا لَّعَلَّکُمْ تَعْقِلُوْنَ.
’’بے شک ہم نے اس کتاب کو قرآن کی صورت میں بزبانِ عربی اتارا تاکہ تم (اسے براہِ راست) سمجھ سکو۔‘‘
(يوسف، 12: 2)
یقینا قرآن عقل و دانش اور حکمت و معرفت کا خزانہ ہے۔ یہ اس ذات کا کلام ہے جو سب سے بڑا حکیم و دانا ہے اور جس نے حکمت و دانش کو انسانوں کے وجودوں میں پیدا فرمایا ہے۔ اس لئے رسول اللہ کے ذریعے اس امت کو حکمت و دانش کی یہ نعمت عطا کی گئی۔
وَاِنَّکَ لَتُلَقَّی الْقُرْاٰنَ مِنَ لَّدُنْ حَکِيْمٍ عَلِيْمٍ.
’’اور بے شک آپ کو (یہ) قرآن بڑے حکمت والے، علم والے (رب) کی طرف سے سکھایا جا رہا ہے۔‘‘
(النمل، 27: 6)

خلاصہ کلام

قرآن اپنے ان خطابات کے ذریعے اور اپنی ان آفاقی آیات کے توسل سے آج امت مسلمہ کو اپنی طرف متوجہ کررہا ہے کہ تم اپنی دنیوی حیات کے کامیابی کے لئے اور اپنی اخروی نجات کے لئے قرآن کی طرف رجوع کرلو، تمہیں اپنی انسانی زندگی کی دنیوی اور اخروی کامیابی کے لئے ایک سوچ، ایک فکر، ایک نصیحت اور ایک ہدایت کی ضرورت ہے جس پر تم نے اپنی زندگی کے اعمال کی بنیاد رکھنی ہے تو وہ سوچ و فکر اور وہ ہدایت نصیحت تمہارے لئے قرآن میں بیان کردی گئی ہے۔ قرآن کی اس آفاقی ہدایت کو اپنانا اور اسے اپنی زندگی میں داخل کرنا اور اپنی شخصیت سے عمل اور کردار کے ذریعے ظاہر کرنا ہی دنیوی زندگی کی ابتلاء اور آزمائش ہے۔ تمہاری روح کی صدا اور پکار یہ ہے اس قرآنی ہدایت کو اپنے وجود میں سمالو، اس آفاقی ہدایت کے ساتھ اپنے عمل میں تم ایک زندہ ثبوت بن جائو۔ تم اپنے عمل سے قرآنی ہدایت کی صداقت اور حقانیت کی شہادت اہل دنیا کو دو۔ جبکہ اسی وجود میں نفس امارہ روح کی آواز کے خلاف صدا دیتا ہے۔ وہ نفس امارہ کہتا ہے تم دنیا میں ہو تو میری کچھ دنیوی خواہشات پوری کرو، مجھے تعیشات دنیوی سے آراستہ کرو، مجھے دنیوی آسائشات کے ذریعے فرحت دو، تم اپنے وجود کو میری تمنائوں کی تکمیل پر لگادو اور میری کسی بات کو رد نہ کرو۔
انسان روح اور نفس امارہ کی اس کشمکش میں اپنی زندگی صرف کردیتا ہے۔ اگر انسانی عمل روح کی آواز بن جائے تو انسان قرآنی ہدایت کے مطابق کامیاب ہوجاتا ہے اور اگر انسانی عمل نفس امارہ کی صدا میں ڈھل جائے تو انسان تباہ و برباد ہوجاتا ہے۔ قرآن نے اپنی آفاقی ہدایت کے ذریعے قول و عمل احسن کو انسانی زندگی کی کامیابی کی علامت ٹھہرایا ہے۔ اس لئے فرمایا:
الَّذِيْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيٰوةَ لِيَبْلُوَکُمْ اَيُّکُمْ اَحْسَنُ عَمَلاً.
’’جس نے موت اور زندگی کو (اِس لیے) پیدا فرمایا کہ وہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون عمل کے لحاظ سے بہتر ہے‘‘۔
(الملک، 67: 2)
باری تعالیٰ ہمیں قرآن سے کتاب ہدایت کی حیثیت سے مستفید ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
ماخوذ از ماہنامہ دخترانِ اسلام، جولائی 2016


Thursday, April 26, 2018

آپریشن سے بچوں کی پیدائش کا خطرناک کھیل

(سید عبدالوہاب شیرازی)
حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش مٹی سے ہوئی۔ پہلے ایک پتلا بنایا گیا اور پھر اس میں روح پھونک دی گئی۔ پھر آدم علیہ السلام کی پسلی سے حضرت حواء علیہاالسلام کی پیدائش ہوئی۔ پھر جب دونوں دنیا میں آئے تو ان سے آگے انسانی نسل پھیلی اور بچوں کی پیدائش ایک خاص عمل کے بعد عورت کے رحم سے ہوتی رہی۔ آج سے  دس ہزار سال قبل حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر آج سے تقریبا چندسال قبل تک بچوں کی پیدائش اسی فطری طریقے سے ہوتی رہی جو ہزاروں سال سے نہ صرف انسانوں بلکہ تمام جانداروں،  دوسری مخلوقات اور جانوروں میں جاری و ساری ہے۔
لیکن اب اچانک سے پاک وہند میں یہ تبدیلی آئی اور پھر بہت زیادہ عام ہوگئی کہ ستر فیصد بچوں کی پیدائش آپریشن سے ہورہی ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ باقی تمام مخلوقات مثلا کتا، بلی، بکری، بھینس وغیرہ وغیرہ ہر ایک کے ہاں بچے کی پیدائش اسی فطری طریقے سے ہورہی ہے جیسے پہلے ہورہی تھی ایک واحد انسان ہے جسے قصائی نما ڈاکٹروں نے اپنی پیسے کی ہوس، لالچ اور محبت نے اس غلط راستے پر زبردستی ڈال دیا ہے۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ آج کل کی خوراک اتنی ناقص ہے کہ جس کی وجہ سے زچہ و بچہ کی صحت اس قابل نہیں ہوتی کہ آپریشن کے بغیر پیدائش ہوسکے۔ لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ناقص خوراک کا معاملہ صرف انسانوں کے ساتھ ہی ہے یا جانور بھی ناقص خوراک ہی کھا رہے ہیں، آج کی گائے اور بھینسیں بھی یوریا اور کیمیکلز سے تیار کردہ گھاس کھا رہی ہیں، کتیا اور بلی بھی فارمی مرغیوں کی ہڈیا اور گوشت کھا رہی ہیں لیکن ان کو تو آپریشن کی ضرورت پیش نہیں آتی آخر انسان کوہی کیوں زبردستی آپریشن پر مجبور کیا جارہا ہے۔
ہمارے خیال میں اس سارے معاملے میں سوائے پیسے کی ہوس کے اور کچھ نہیں۔ دراصل آج کا ڈاکٹر ، ڈاکٹر بنا ہی زیادہ پیسہ کمانے کے لئے ہے۔ ذرا سوچیے، والدین اپنے بچے کو کیوں ڈاکٹر بناتے ہیں، کیا ان کے ذہن میں ذرا بھی یہ تصور ہوتا ہے کہ میرا بچہ یا بچی انسانیت کی خدمت کرے گا؟ نہیں بالکل نہیں۔ والدین یہی سوچ کر ڈاکٹر بناتے ہیں کہ پیسہ زیادہ کمائے گا۔ تو پھر ظاہر ہے اس کا نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ وہ کہنے کو تو ڈاکٹر ہوتا ہے لیکن اصل میں انسانیت کو ذبح کرنے والا قصائی۔
آج کوئی بھی خاتون پیدائش کے وقت ہسپتال یا کلینک جاتی ہے تو فورا اسے نفسیاتی طور پر اتنا ہراساں کردیا جاتا ہے کہ وہ آپریشن کروانے پر مجبور ہوجاتی ہے۔چونکہ آپریشن کروانے پر اچھے خاصے پیسے مریض کی جیب سے نکلوائے جاسکتے ہیں اس لیے ڈرا دھمکا کر آپریشن کرنے پر راضی کرلیا جاتا ہے۔
عالمی طور پر آپریشن کروانا اچھا تصور نہیں کیا جاتا۔کیونکہ اس طرح زچہ و بچہ دونوں طرح طرح کی بیماریوں اور عمر بھر کے لئے کئی طرح کے مسائل سے دوچار ہوجاتے ہیں۔

سائنسدانوں نے جدید تحقیق کے بعد بتایا ہے کہ جو بچے آپریشن کے ذریعے پیدا ہوتے ہیں ان کے 5سال کی عمر تک پہنچنے سے پہلے ہی موٹاپے میں مبتلا ہونے کے امکانات نارمل طریقے سے پیدا ہونے والے بچوں کی نسبت 50 فیصد زیادہ ہوتے ہیں۔اس کے علاوہ ان بچوں کو دمہ لاحق ہونے کا امکان بھی زیادہ ہوتا ہے۔رپورٹ کے مطابق سائنسدانوں نے ماں کے آپریشن کے ذریعے بچہ پیدا کرنے کا نقصان بتاتے ہوئے کہا کہ جو خواتین آپریشن کے ذریعے بچہ پیدا کرتی ہیں آئندہ ان کا اسقاط حمل ہونے اور ان کے بانجھ ہونے کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔اس تحقیق میں یونیورسٹی آف ایڈنبرا کے سائنسدانوں نے دونوں طریقوں سے پیدا ہونے والے ہزاروں بچوں اور ان کی ماں کی صحت کا ریکارڈ حاصل کرکے اس کا تجزیہ کیا اور نتائج مرتب کیے۔
عالمی ادارہ صحت نے آپریشن کے ذریعے پیدائش کو اس کے نقصان دہ اثرات کے باعث زچگی کا ناپسندیدہ طریقہ قرار دیا ہے۔ اور 10 سے 15 فیصد سالانہ سٹینڈرڈ شرح مقرر کی ہے۔ لاہور میں قائم پنجاب کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال سر گنگا رام میں ہر سال لگ بھگ 24 ہزار بچوں کی پیدائش ہوتی ہے۔ ہسپتال کے اعداد و شمار کے مطابق ان میں سے 50 فیصد بچوں کی پیدائش آپریشن کے ذریعے ہو رہی ہے۔
ڈاکٹروں کے مطابق سی سیکشن محض اس صورت میں کیا جانا چاہیے جب ماں اور بچے کی جان کو خطرہ لاحق ہو کیونکہ جب پیٹ کاٹ دیا گیا تو اس میں انفیکشن ہو سکتا ہے زخم جلدی نہیں بھرتا۔ کبھی خون نہیں رکتا اور کبھی پیٹ میں مستقل درد کی شکایت ہو جاتی ہے۔ پہلی اولاد آپریشن سے ہونے کے باعث امکان بڑھ جاتا ہے کہ ہر بار آپریشن ہی کرنا پڑے گا جس سے ان کی صحت پر انتہائی نقصان دہ اثرات پڑتے ہیں۔ اس کے علاوہ سی سیکشن کے عمل میں بچے اور ماں کی صحت کو تین گنا زیادہ رسک ہوتا ہے۔
پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے سابق جنرل سکریٹری اور معروف گائیناکالوجسٹ ڈاکٹر شیر شاہ سید کا کہنا ہے کہ آپریشن میں اضافے کی ایک وجہ زیادہ سے زیادہ پیسہ کمانا ہے، '' بعض اوقات کوئی انفیکشن ہوجاتا ہے اور ڈاکٹر محسوس کرتا ہے کہ اپریشن پہلے کر دینا زیادہ مناسب ہے تو آپریشن کر دیا جاتا ہے، ایک وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ نارمل ڈیلوری کی جائے تو دس ہزار روپے مل جاتے ہیں لیکن اگر آپریشن کیا جائے تو اس سے تیس ہزار سے ایک لاکھ تک مل جاتے ہیں ، اس لئے بعض ڈاکٹر یہ کام کر ڈالتے ہیں۔ اور بعض آپریشن اس لئے ہوتے ہوں گے کہ جونئیر ڈاکڑز کو سیکھایا جا سکے۔
ڈاکٹر عائشہ خان کہتی ہیں کہ یہ بات درست ہے کہ آپریشن سے بہت سی پیچدگیاں پیدا ہوتی ہیں ، جیسا کہ مختلف قسم کے انفکشن، وقت سے پہلے پیدائش، خواتین کا بانجھ پن، اندرونی زخم، خون کی بیماریاں، بچے کو سانس کی بیماریاں،بچے کا وزن کم ہونا،اور بعض اوقات تو اموات بھی ہوجاتی ہیں۔
ان کے بقول ایک خاتون کا دو سے تین بار آپریشن کے ذریعے بچے کی پیدائش اس کی صحت کے لئے انتہائی مضر ہے۔ ان کا خیال ہے کہ سیزیرئن کیسزمیں اضافے کی بڑی وجہ ملک میں کثیر تعداد میں پرائیویٹ ہسپتال اور زچہ و بچہ کے مراکز ہوسکتے ہیں، جن میں بیشتر اوقات تعینات طبی عملہ ذیادہ پیسے کمانے کی خاطر بچوں کی پیدائش کے لئے آپریشن ہی تجویز کرتا ہے ۔ ڈاکٹر عائشہ سمجھتی ہیں کہ حکومت کو غیر ضروری آپریشنز کے خلاف اقدامات اٹھانے چائیں تاکہ لوگوں کے ساتھ ناانصافی کا خاتمہ ممکن ہو۔

Thursday, April 12, 2018

سہانجنا مورنگا معلومات



مورنگا یعنی سہانجنا 300 بیماریوں کا علاج۔ آج تک جتنے وٹامن دریافت ہوچکے ہیں تمام اس میں موجود ہیں۔ جسم کو بھرپور غذایئت دینے والا درخت ہے۔ نہ صرف انسانوں بلکہ جانوروں کے لئے بھی مفید ہے۔ دنیا بھر میں اس کا طبی استعمال دس ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ کاروباری لحاظ سے تمام فصلوں سے زیادہ منافع دینے والا درخت ہے۔ جس کے پتے، ٹہنیاں پھول ، پھل، بیج ، جڑیں، چھلکا، گوند، جڑیں الغرض ہر چیز بکتی ہے۔ باقی چیزوں کو چھوڑیں صرف بیج کتنا فائدہ دیتا ہے یہ دیکھیں۔
سہانجنا کا درخت 15 سال تک پھل دیتا ھے, پہلے تین سال فی درخت اوسط سالانہ پیداوار ایک کلو گرام بیج فی درخت ھے. اس حساب سےسالانہ 18 من فی ایکڑ پیدوار حاصل ھوتی ھے۔
بیج کے ریٹ اوپر نیچے ہوتے رہتے ہیں کم از کم ریٹ تقریبا 12 سے پندرہ ہزار روپے من ہے۔ اس طرح پہلے سال ہی فی ایکڑ تقریبا دو سے چار لاکھ تک فائدہ دیتا ہے۔
جبکہ اگلے سال پیدوار دوگنا سے بھی زیادہ ہوجاتی ہے۔
پھر اس سے اگلے سال کئی گنا زیادہ ہوجاتی ہے۔ یہاں تک کہ فی ایکڑ سالانہ بارہ سے پندرہ لاکھ آمدن شروع ہوجاتی ہے۔
یہ صرف بیج کی بات ہوئی۔ پتے اس کے علاوہ فروخت ہوتے ہیں ان کی آمدن الگ ہے۔
زیادہ کیئر نہیں کرنی پڑتی۔





 سہانجنا اور دیگر اجناس کی غزایئت کا چارٹ

سہانجنا (مورنگا) کے پتے دودھ دینے والے جانوروں کے لیے غزائی افادیت کے لحاظ سے اپنی مثال آپ ھیں. اگر انھیں مویشیوں کی خوراک میں باقاعدگی سے شامل کرلیا جائے تو 15 لیٹر سے کم دودھ دینے والے جانوروں کو کسی قسم کے ونڈے اور منرلز مکسچرز کی ضررورت باقی نہیں رھتی, سہانجنے کے پتے انرجی, پروٹین, منرلز اور وٹامنز سے بھرپور ھوتے ھیں, خوراک کے ساتھ ساتھ یہ کئی بیماریوں کا علاج بھی ھیں, معدے کی اصلاح کرتے ھیں اور جگر کو زھریلے مادوں سے پاک کرکے تازہ اور صحت مند خون پیدا کرنے کے قابل بناتے ھیں, ان پتوں کو کھانے والے جانور وائی بادی, ساڑو,زھرباد اور کئی دیگر بیماریوں سے محفوظ رھتے ھیں. دنیا مورنگا کو ٹری آف لائف ,کرشماتی پودا, ٹری آف سینچری اور اس کی پروڈکٹس کو سپر فوڈ کا درجہ دے چکی ھے, ھمارا پڑوسی ملک بھارت پوری دنیا میں مورنگا کے بیج اور پتے ایکسپورٹ کر رھا ھے, اس کے برعکس ھم ابھی تک امپورٹ کررھے ھیں, جبکہ شمالی علاقہ جات کے علاوہ پاکستان بھر میں اس کی کاشت باآسانی کی جا سکتی ھے, رانا محمد خاں... مینجنگ ڈرائکٹر الصادق ڈیری سلیوشنز

مورنگا یعنی سہانجنا 300 بیماریوں کا علاج۔ آج تک جتنے وٹامن دریافت ہوچکے ہیں تمام اس میں موجود ہیں۔ جسم کو بھرپور غذایئت دینے والا درخت ہے۔ نہ صرف انسانوں بلکہ جانوروں کے لئے بھی مفید ہے۔ دنیا بھر میں اس کا طبی استعمال دس ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ کاروباری لحاظ سے تمام فصلوں سے زیادہ منافع دینے والا درخت ہے۔ جس کے پتے، ٹہنیاں پھول ، پھل، بیج ، جڑیں، چھلکا، گوند، جڑیں الغرض ہر چیز بکتی ہے۔ باقی چیزوں کو چھوڑیں صرف بیج کتنا فائدہ دیتا ہے یہ دیکھیں۔
سہانجنا کا درخت 15 سال تک پھل دیتا ھے, پہلے تین سال فی درخت اوسط سالانہ پیداوار ایک کلو گرام بیج فی درخت ھے. اس حساب سےسالانہ 18 من فی ایکڑ پیدوار حاصل ھوتی ھے۔
بیج کے ریٹ اوپر نیچے ہوتے رہتے ہیں کم از کم ریٹ تقریبا 12 سے پندرہ ہزار روپے من ہے۔ اس طرح پہلے سال ہی فی ایکڑ تقریبا دو سے چار لاکھ تک فائدہ دیتا ہے۔
جبکہ اگلے سال پیدوار دوگنا سے بھی زیادہ ہوجاتی ہے۔
پھر اس سے اگلے سال کئی گنا زیادہ ہوجاتی ہے۔ یہاں تک کہ فی ایکڑ سالانہ بارہ سے پندرہ لاکھ آمدن شروع ہوجاتی ہے۔
یہ صرف بیج کی بات ہوئی۔ پتے اس کے علاوہ فروخت ہوتے ہیں ان کی آمدن الگ ہے۔
زیادہ کیئر نہیں کرنی پڑتی۔



Sunday, April 8, 2018

Moringa pterygosperma مورنگا، سوہانجنا

Moringa pterygosperma

نباتاتی نام : مورنگا پٹیروگاسپرما Botanical Name: Moringa pterygosperma Gaertn.de.Fruct
خاندان ©: مورنگیسی Family:Moringaceae
انگریزی نام: ہارس ریڈش ٹری Horse-raddish tree
دیسی نام: سوہانجنا Sohanjana
ابتدائی مسکن(ارتقائ): پاکستان اور سب ہمالیہ۔اور راولپنڈی میں پایاجاتا ہے۔
قسم: پت جھاڑ
شکل:                         قد: 10-12 میٹر
پتے : مرکب ہیں70-30 سینٹی میٹر لمبے،پتیاں سیدھی ہیں اور چھال مڑی ہوئی ہے ۔
پھولوں کا رنگ: سفید ،                   پھول آنے کا وقت: فروری اور اپریل۔پھول 2.4 سینٹی میٹر لمبے اور شہد کی خوشبو جیسے،لمبی پینسل کی طرح
پھل : پھل لمبا اور کیپسول کی طرح 50-25 سینٹی میٹر لمبا۔بیج اگست میں پکتا ہے اور 2.4 سینٹی میٹر لمبا ہوتا ہے۔
کاشت:بیج , اور غیر جنسی طریقے دونوں سے،۔
جگہ کا انتخاب:ایک بہت غیر روادار درخت جو کے ایک اچھی قسم والی جگہوں پر پایا جاتا ہے اور نکاسی والی جگہوں پر اچھی پیدا وار ہوتی ہے۔
نمایاں خصوصیات:تیزی سے بڑھنے والا درخت،سایہ دار جس میں لگنے والی پھلیاں کھائی جاتی ہیں       
شاخ تراشی:
بیماریاں:
پیداوار : اس کی بڑھوتری اوسط درمیانی ہے۔
لکڑی کی خصوصیات
دانہ ©: سیدھا
رنگ: ہلکا
کثا فت : درمیانی
مظبوطی : نرم،کمزور،خانہ دار۔
استعمال ©:زیبائشی ،چارہ،درخت سے گوند نکلتی ہے ،بیج سے تیل اور رنگ حاصل ہوتا ہے،پھل پکایا اور کھایا جاتا ہے،درخت کی جڑیں ہارس ریڈش
 (horse raddish)کہلاتی ہیں

مورنگا ( سہا نجنہ) کرشماتی پودا مورنگا کثیرالمقاصد کرشماتی خوبیاں رکھنے والا پودا ہے۔ یہ نیچرل ملٹی وٹامن ہے، غذائیت سے مالا مال ہے۔ انسانوں اور جانوروں کیلئے بہت بڑی نعمت ہے۔ مورنگا کاتعارف نباتاتی نام ۔ مورنگا اولیفیرا Moringa Olifera
ہے۔ پھولوں کی رنگت کے لحاظ سے اس کی دو قسمیں ہیں سفید اور سرخ پھولوں والا۔ تیل۔ مورنگا کے بیجوں سے 36٪ تیل نکلتا ہے۔ یہ تیل بے بو اور بے ذائقہ ہوتا ہے ۔ مدتوں پڑا رہنے سے بھی خراب نہیں ہوتا۔ ذائقہ ۔ قدرے تلخ مزاج ۔ گرم خشک درجہ سوم۔ افعال و استعمال ۔ مورنگا کے پھولوں پتوں گوںد اور جڑوں کو سرد بلغمی امراض میں مدتوں سے استعمال ہو رہا ہے۔ نیوٹریشن کے لحاظ سے مورنگا کی اہمیت مورنگا کاپودا نہایت قیمتی اور کرشماتی خصوصیات کا حامل ہے اس پودےمیں تقریباً 92 غذائی اجزا یعنی نیوٹرینٹ اور 46 قدرتی انٹی آکسیڈنٹ (مانع عملِ تکسید مادے) موجود ہیں کوئی ایسا وٹامن ابھی تک دریافت نہیں ہوا جو اس پودے میں موجود نہ ہو۔ مورنگا کی ان خصوصیات کی وجہ سے اگر اس پودے کو غذائیت کا پاور ہائوس کہا جائے تو یہ غلط نہ ہوگا۔ نیو ٹرین ویلیو کے حساب سے اگر مورنگا کا جائزہ لیا جائے تو ثابت ہو جاتا ہے کہ غذائیت کے اعتبار سے کوئی دوسرا درخت یا پودا اس کا مقابلہ نہیں کرتا۔ مورنگا کے پتوں کے 100 گرام پوڈر میں پروٹین کی مقدار دودھ اور دہی کی نسبت 2 گنا سے زیادہ ہے وٹامن سی کی مقدار 7 عدد سنگتروں سے زیادہ ہے وٹامن اے کی مقدار گاجر کی نسبت 4 گنا سے زیادہ ہے۔ آئرن کی مقدار بادام کی نسبت 3گنا زیادہ ہے۔ وٹامن ای کی مقدار پالک کی نسبت 3گنا سے زیادہ ہے۔ مورنگا انسان دوست کسان دوست اور غریب پرور درخت ہے۔ مورنگا میں بے پناہ شفائی خصوصیات پائی جاتی ہیں جدید تحقیق کے مطابق مورنگا سے سینکڑوں بیماریوں کاعلاج کامیابی سے کیا جا سکتا ہے۔ ایور وید ک طریقہ علاج میں 300 بیماریوں کا علاج مورنگا سے کیا جاتا ہے۔ مورنگا کے پتے انسانوں اور جانوروں کی خوراک کے طور پر استعمال کئے جاتے ہیں۔ غذائی قلت دور کرنے کیلئے مورنگا کادرخت ایک بہتریں حل ہے۔
مورنگا ایک کثیرالمقاصد پودا ہے۔ غذائیت اور شفائی اجزا کی بدولت مورنگا کثیرالمقاصد پودا ہے۔ ہم اس کے ذریعے فصلوں کی پیداواری صلاحیت کو بڑھا سکتے ہین۔ اس کو پانی صاف کرنے کیلئے استعمال کر سکتے ہیں۔ اس پودے کو لائو سٹاک کی خوراک کے طور پر استعمال کرکے مویشیوں کو صحت مند اور فربہ کیاجاسکتا ہے اورانکے دودھ میں بھی اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ اس کے بیجوں سے حاصل ہونے والا تیل دنیا کا مہنگا ترین تیل ہے۔ اس تیل کو ناسا جیسے ادارے سپیس انویسٹی گیشن کیلئے استعمال کر رہے ہیں۔ غذائی اہمیت مورنگا کے پتوں کا 50گرام سفوف پورے دن کی غذائی ضروریات کیلئے کا فی ہے اورجسم میں غذائیت کے مختلف اجزائ کی کمی نہیں ہوتی۔ گوشت اور پھلوں جیسی مہنگی خوراک کی ضرورت نہیں رہتی۔ اس سے ایک غریب آدمی آسانی سے اپنی غذائی ذروریات پوری کر سکتا ہے۔اپنے آپ کو صحت مند اور توانا رکھ سکتا ہے اور بیماریوں سے محفوظ رہ سکتا ہے۔

Saturday, April 7, 2018

Health Benefits Of Moringa | Sohanjna سوہانجنا

Click Here یہاں کلک کریں۔

سوہانجنہ یا مورنگا کے عجیب و غریب فوائد کے پیش نظر اپنے گھر میں ضرور اس کا پودا لگائیں۔
See What Happens To Your Body When You Drink Moringa Everyday
Moringa or moringa oleifera is becoming more and more popular each day. It is a fast growing, deciduous tree which is native to
India. It’s widely cultivated in tropical and subtropical areas all over Asia, South America and Africa.
It is also known as drumstick tree, mother’s best friend, Horseradish tree and West Indian ben.Although, moringa has become
popular as a leaf powder supplement, the roots, pods, bark, seeds, flower and fruits are also edible.
Moringa is rich in vitamins, proteins and minerals. It’s a source of vitamin A, vitamin B1 (thiamine), B2 (riboflavin), B3 (niacin), B6,
folate and vitamin C. It’s also a source of potassium, iron, calcium, magnesium, zinc and phosphorus.
Moringa is not in vain called the miracle tree. Here are some of its amazing benefits.
Health benefits Of Moringa
1. Cures Stomach Disorders
Moringa contains isothiocyanates, which are very effective in the treatment of abdominal disorders like ulcerative colitis, gastritis
and constipation. There are studies which have shown that moringa can be used as an effective herbal substitute for a range of
commercially available antacids.
According to a research, it can effectively cure ulcerative colitis. Moringa also contains antibacterial and antibiotic properties which
prevent the growth of various pathogens, including helicobacter pylori bacteria and coliform bacteria which trigger conditions like
diarrhea.
2. Protects the Liver
Moringa consists of phytochemicals like epicatechin, ferulic acid, catechin, and vitamin C. These nutrients are very helpful in
protecting the liver. They help to restore the levels of glutathione content in the body and also prevent radiation –induced hepatic
lipid peroxidation. According to a research, moringa leaves are effective against liver damage caused by anti­tubercular drugs, as well
as in speeding up the recovery process.
3. Prevents Neurodegenerative Diseases
According to a recent study, moringa extracts are effective in altering brain monoamines like norepinephrine, dopamine
and serotonin. It can even protect your brain from deficiencies which are related to Alzheimer’s disease.
4. Provides Excellent Nutritional Support
Moringa is packed with nutrients. There’s 17 times more calcium in Moringa than in milk, 25 times more iron than in spinach and 10
times more beta­carotene than in carrots. It is also rich in minerals like zinc, potassium, iron and also in vitamin C and B complex
vitamins. It is rich in proteins as well­ it contains 4 times of what eggs provide.

Monday, April 2, 2018

مسلکی تعصب کی عینک اتار کر آو کچھ مثبت سوچیں,

* بریلوی مشرک نہیں ہوتے بات صرف اتنی ھے کہ نبی علیہ السلام اور بزرگوں سے عقیدت و محبت کےاظہار میں اعتدال سےبڑھ جاتےہیں, یہ بنیادی طور پر ایک قلبی رحجان ھے فی نفسہ اس میں کوئی خرابی نہیں بلکہ درست سمت اور سلیقے سے ہو تو نہایت ہی پسندیدہ اور درجات کی بلندی کا سبب ھے,
ہوتا یہ ھے کہ دوسرے مسالک کے احباب شرک و بدعات کے رد میں نیک جذبوں کو بھی روندتےچلےجاتےہیں یہ سوچےسمجھے بغیر کہ آپ کا منصب داعی کا ھے داروغہ کا نہیں!
* دیوبندی اکابر پرست نہیں ہوتے بات صرف اتنی ھے کہ دین کےفہم و تشریح میں باقاعدہ سند یافتہ علماء کرام اور صدیوں سے چلتی دینی روایات کو اہمیت دینے کی کوشش میں اکثر اعتدال کی راہ سے ہٹ جاتےہیں,
یہ بھی ایک قلبی و فکری رحجان ھے اور درست سمت و سلیقے سے ہو تو نہایت پسندیدہ اور درجات کی بلندی کا سبب ھے,
ہوتا یہ ھے کہ دوسرے مسالک کے احباب اکابر پرستی پر نقد و تبصرہ کرتےہوئے الفاظ و محاورات کےاستعمال میں اس بات کا لحاظ نہیں رکھتےکہ ہمارا منصب داعی کا ھے داروغہ کا نہیں!
* اہلحدیث اور سلفی حضرات بزرگوں اور پیغمبروں کی عظمت کے انکاری نہیں ہوتے, بات صرف اتنی ھے کہ اللہ کے سامنے ہردوسری ہستی کو چھوٹا سمجھتے ہیں اور توحید ہی کو اسلام کی اساس سمجھتےہوئےشرک کے ادنی سے شائبے کو بھی ایمان کےخلاف سمجھتےہیں,
یہ بھی ایک قلبی و فکری رحجان اور اپنی حقیقت میں نہایت پسندیدہ اور درجات کی بلندی کا سبب ھے,
ہوتا یہ ھے کہ دوسرے مسالک کے احباب ان کی اس حساسیت کو اپنے مسلک اور قلبی رحجان کےخلاف سمجھتےہوئے ان سے متوحش ہوتےہیں, یہ بات سمجھے بغیر کہ ہمارا منصب داعی کا ھے داروغہ کا نہیں,
* ان تینوں مکاتب فکر کے فالوورز اگر اس طرز پر سوچنا شروع کردیں تو بالیقین فاصلےسمٹ جائیں اور غیرضروری اختلاف کا بھی خاتمہ ہوجائے,
لیکن معاملہ چونکہ فرقہ پرستی کا ھے اور فرقہ پرستی اپنی حقیقت میں دینداری کےعنوان پر دکانداری چمکانےکا نام ھے اسلیے بےجا طورپر ایک دوسرے کے رحجانات کو بجائے خوش اسلوبی سے قبول کرنے اور وسعت قلبی اپنانےکے ایک دوسرے کےرد میں کتابیں اور رسالے چھاپتےرہتےہیں,
اور بعض ظالم تو قرآن کی آیات اور احادیث نبوی کو بھی اپنےحق میں توڑ مروڑ کرپیش کرنےسے دریغ نہیں کرتے,
مجھے اچھی طرح اندازہ ھے کہ احباب فروعی اختلاف کی شدت ثابت کرنےکےلیے ان تینوں مکاتب فکر کی کتابوں سے بہت کچھ خرافات جمع کرکےلاسکتے ہیں, لیکن اپنی حقیقت میں وہ سارا مواد دریا برد کردینےکےقابل ھے, اتفاق رائے کےلیے امت کے پاس اتنا وسیع زخیرہ موجود ھے کہ اس قسم کا بےجا اختلاف سوائے اناپرستی کےاور کچھ نہیں,
* محض ان تین ہی مکاتب فکر کی بات نہیں (چند ایک کو چھوڑ کر) دیگر بہت سے مکاتب فکر کےہاں بھی اختلاف کی نوعیت اکثر ایسی ہی ھے کہ اپنی بنیادوں میں جسے آپ رحجانات اور بعض صورتوں میں زاویہ نگاہ کا فرق کہہ سکتےہیں,
اور جہاں اختلافات کی وجوہات گہری ہیں تب بھی قرآن جیسی محفوظ کتاب جسے اللہ نے فرقان (حق و باطل میں فرق کرنےوالی کتاب کہا) اور نبی علیہ السلام کی محفوظ سنت کی موجودگی میں رائے کا اختلاف کوئی بڑی اہمیت نہیں رکھتا, اور جو کچھ علمی اختلاف ھے بھی تو وہ ہرحال میں رہےگا اور قیامت تک رہےگا,
لوگ جب تک سوچتےرہیں گے مکاتب فکر بنتےرہیں گے, اگر یہ اختلاف ایک دوسرے کی تکفیر اور نفرت و شرانگیزی کی حدوں تک نہیں پنہنچتا تو نبی علیہ السلام نے اس اختلاف کو امت کےلیے رحمت کہا ھے, کیونکہ اختلاف رائے سوچنےوالوں کو نئے نئے زاوئیے عطاکرتا ھے,
لہذاہ اتحاد اختلاف رائے کو ختم کرنےسے نہیں بلکہ اختلاف رائے کو گوارا کرنےسےپیدا ہوگا,
اور اس کی سب سے بڑی بنیاد تقوی اور خدا کےحضور جوابدھی کا سچا احساس ھے,
* ایک جگہ کچھ لوگ بحث و جدال میں مصروف تھے, کسی نکتےپر اتفاق ہی نہیں ہورہا تھا کہ اچانک وہاں سانپ نکل آیا, گھبرا کر سارے اس سانپ کو مارنےکےلیے متحد ہوگئے,
حالت سکون میں جو لوگ کسی بھی نکتےپر متفق نہیں تھے حالت خوف میں سوفیصد متحد اور یک جان ہوگئے,
یہی معاملہ آخرت کی جوابدھی کےخوف کا بھی ھے اگر حقیقی معنوں میں اللہ کےحضور جوابدھی کا خوف امت کےتمام طبقات میں ذندہ ہوجائے تو اتحاد کا قائم ہونا ویسا ہی یقینی ہوجائے جیسا سورج کےطلوع ہوتےہی دن کے نکلنے کا!!!

Sunday, April 1, 2018

ھاکنگ

"مغرب کے حصے میں ھاکنگ جیسے معذور سائنس دان ہیں جبکہ ہمارے حصے میں ھود بائی جیسے بھینگے سائنس دان ہیں۔
مغربی سائنسدان خلا سے آگےنکل گئے اور اب مریخ پر پہنچنے کی کوشش کررہے ہیں۔ جبکہ ہود بھائی کو ٹاک شوز سے ہی فرصت نہیں ملتی۔ 
مغربی سائنسدان گھر سے نکلتا ہے اور ناسا کے دفتر میں پہنچ کر کائنات کی وسعتوں میں کارخانہ قدرت کا مشاہدہ کرکے خفیہ رازوں سے پردہ اٹھاتا ہے۔
جبکہ ہمارا بیچارہ ہود بھائی قائداعظم یونیورسٹی سے نکلتا ہے اور تین میل دور جیو کے دفتر میں داخل ہوجاتا ہے، وہاں سے نکلتا ہے موم بتی لے کر ڈی چوک میں کھڑا ہو جاتا ہے، وہاں سے فارغ ہوتا ہے تو گھر کی چھت پر لگی سولر پلیٹوں پر کپڑا پھیر کر صاف کرتا ہے، پھر رات کو دماغ کی صلاحیت کو یہ سوچتے سوچتے کہ (مولوی اتنا طاقتور کیوں ہے) خرچ کرتا ہے۔
................
کیا کوئی غریب اس کا تصور کرسکتا ہے کہ ایک معمولی سا سپاہی اسے جرمانہ کردے اور وہ عام شہری آگے سے ڈٹ جائے کہ میں نے جرمانہ نہیں ادا کرنا۔؟
کل آپ نے امیرنواز نظام کا یہ منظر دیکھا ہوگا کہ جب ملک کے قاضی القضاۃ ثاقب نثار نے ایک جاگیر دار، سرمایہ دار، ارب پتی وکیل اعتزاز احسن کو صرف دس ہزار روپے جرمانہ کیا تو اس نے دینے سے انکار کردیا۔ چونکہ یہاں پیٹھ پر اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ نہیں تھا اس لیے قاضی صاحب اپنے عائد کردہ جرمانے کو نہ واپس کرسکتے تھے اور نہ وصول۔ 
لہذا عزت بچانے کے لئے یہ سوشہ چھوڑا کہ اعتزاز احسن کا جرمانہ میرے بیٹے نے ادا کردیا ہے۔ اور فلاں ہسپتال میں صدقہ کردیا ہے۔
سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ کرپشن نہیں، آپ کو کس نے یہ اختیار دیا کہ سرکار کے پیسے سے آپ صدقے کریں۔ کیا اس پر آپ کی نااہلی نہیں بنتی۔ ؟ کیا کرپشن نہیں۔؟ بھٹو اب مر چکا ہے گھبرائیں نہیں اور مہربانی فرما کر وہ جرمانہ سرکاری خزانے میں جمع کرائیں۔
#نکتہ
.........