نومبر 2016
ارکان پارلیمنٹ اور
سیاسی جماعتوں کا پارلیمنٹ میں کسی بات پر اتفاق نہیں ہوتا یہاں تک کہ آپریشن ضرب
عضب، نیشنل ایکشن پلان، طالبان کے خلاف آپریشن سمیت کوئی بھی اہم ایشو ایسا نہیں
جس پر سیاسی جماعتیں اور ارکان پارلیمنٹ متفق ہوئے ہوں۔
ہاں ایک بات ایسی ہے جس پر پاکستان کی تاریخ میں کبھی بھی ارکان پارلیمنٹ بشمول پی ٹی آئی کسی نے اختلاف نہیں کیا اور وہ ہے ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں اضافہ۔
کرپشن کرپشن کرنے والی پی ٹی آئی ایک کے اہم رہنما نے حامد میر کے پروگرام میں حالیہ تنخواہوں میں اضافے کی حمایت میں یہ دلیل دی کہ ہمارے پڑھے لکھے لوگ ناسا کو جوائن کرلیتے ہیں تنخواہوں میں اضافے سے ایسے لوگ پارلیمنٹ آئیں گے۔
#نکتہ
ہاں ایک بات ایسی ہے جس پر پاکستان کی تاریخ میں کبھی بھی ارکان پارلیمنٹ بشمول پی ٹی آئی کسی نے اختلاف نہیں کیا اور وہ ہے ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں اضافہ۔
کرپشن کرپشن کرنے والی پی ٹی آئی ایک کے اہم رہنما نے حامد میر کے پروگرام میں حالیہ تنخواہوں میں اضافے کی حمایت میں یہ دلیل دی کہ ہمارے پڑھے لکھے لوگ ناسا کو جوائن کرلیتے ہیں تنخواہوں میں اضافے سے ایسے لوگ پارلیمنٹ آئیں گے۔
#نکتہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زمانے کے حالات کیسے
ادلتے بدلتے ہیں۔
تلک الایام نداولھا بین الناس۔۔ اور ہم یہ دن لوگوں میں باری باری بدلتے رہتے ہیں
ایک وقت تھا جب پاکستان فرانس سمیت کئی ممالک سے اسلحہ خریدتا تھا۔ زیادہ تر اسلحہ امریکا سے خریدا جاتا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔1990 میں #افغان وار ختم ہوئی تو امریکا نے سمجھا اب ہمارا مفاد پورا ہوگیا ہے چنانچہ امریکا نے نہ صرف پاکستان کو اسلحہ بیچنا بند کردیا بلکہ جو پیسے ایف سولہ کے لئے ایڈوانس میں لیے ہوئے تھے وہ بھی دبا دیے۔ اور شاید ابھی تک واپس نہیں کیے۔
چنانچہ 90 کی دہائی میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ اب ہمیں اپنا اسلحہ خود تیار کرنا ہوگا۔ چند روایتی ہتھیار پاکستان خود بھی بناتا تھا لیکن جدید ترین ہتھیار خاص طور پر میزائل تیار کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ لیکن اس مشاورت میں یہ مسئلہ پیش آیا کہ اس کام کے لئے بہت بڑی رقم درکار ہوگی اور پاکستان میں کرپشن بھی بہت زیادہ ہے اس کا کیا حل ہوگا۔؟ چنانچہ کسی مشورہ دینے والے نے مشورہ دیا کہ سائنس کے اس شعبے میں ہزاروں کی تعداد میں جو لوگ کام کررہے ہیں ان میں سے چن چن کر ایسے لوگوں کو الگ کردیا جائے جن کا دامن صاف اور نیک وکار ہیں۔ چنانچہ #کہوٹہ سمیت تمام اداروں سے ایسے نیک لوگوں کو الگ کیا گیا اور ڈاکٹر خالد شمیم جو خود بھی نیک اور تبلیغی ساتھی تھے ان کی قیادت میں میزائل ٹیکنالوجی کا الگ شعبہ قائم کردیا گیا۔ ڈاکٹر خالد شمیم نے اس شرط پر قیادت قبول کی کہ مجھے باختیار بنایا جائے میں جسے رکھو یا جسے نہ رکھوں اس کا پورا اختیار دیا جائے چنانچہ انہیں اس کا پورا اختیار دیا گیا ۔ انہوں نے اپنے میزائل پروگرام میں کام کرنے والوں کی اخلاقی تربیت بھی ساتھ ساتھ جاری رکھی۔ ادارے میں نماز کے وقت تمام کام بندکرکے باجماعت نماز اور نماز کے بعد حدیث کی تعلیم کا باقاعدہ سلسلہ شروع کیا گیا۔ چنانچہ اس اخلاقی تربیت کا اثر یہ ہوا کہ کرپشن بالکل ختم کردی گئی اور محدود وسائل کے ساتھ صرف سات آٹھ سالوں میں پاکستان نے جدید ترین میزائل ٹیکنالوجی میں کامیابی حاصل کرلی۔یہ سلسلہ یہاں نہیں رکا بلکہ پاکستان نے #میزائل پروگرام کے ساتھ ساتھ تمام شعبوں میں اپنے ہتھیار بنانا شروع کردیے۔ 2001 میں ایک بار پھر افغان وار شروع ہوئی اور پاکستان پر تاریخ کے سخت ترین حالات آئے لیکن اس ادارے میں کام کرنے والے ساری دنیا سے بے گانہ اپنے کام میں لگن سے لگے رہے۔
آج کے اخبارات میں آپ نے پڑھا ہوگا کہ وہی فرانس جس سے پاکستان کسی وقت جہاز اور جہازوں کے سپیئر پارٹس خریدا کرتا تھا اسی #فرانس نے کل کراچی میں پاکستان سے جہازوں میں استعمال ہونے والی کیبل اور دیگر آلات کی خریداری کا معاہدہ کیا ہے۔
اس وقت دنیا کے چالیس کے قریب ممالک پاکستان سے #اسلحہ خرید رہے ہیں، پاکستانی ڈرون نے پوری دنیا کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے، شاید 900 کی دہائی میں کسی کے تصور میں بھی یہ نہیں تھا کہ چند سال بعد پاکستان کو وہ مقام حاصل ہوگا کہ ترقیافتہ ممالک پاکستان کے اسلحے کے گاہک بن جائیں گے۔
#نکتہ
تلک الایام نداولھا بین الناس۔۔ اور ہم یہ دن لوگوں میں باری باری بدلتے رہتے ہیں
ایک وقت تھا جب پاکستان فرانس سمیت کئی ممالک سے اسلحہ خریدتا تھا۔ زیادہ تر اسلحہ امریکا سے خریدا جاتا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔1990 میں #افغان وار ختم ہوئی تو امریکا نے سمجھا اب ہمارا مفاد پورا ہوگیا ہے چنانچہ امریکا نے نہ صرف پاکستان کو اسلحہ بیچنا بند کردیا بلکہ جو پیسے ایف سولہ کے لئے ایڈوانس میں لیے ہوئے تھے وہ بھی دبا دیے۔ اور شاید ابھی تک واپس نہیں کیے۔
چنانچہ 90 کی دہائی میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ اب ہمیں اپنا اسلحہ خود تیار کرنا ہوگا۔ چند روایتی ہتھیار پاکستان خود بھی بناتا تھا لیکن جدید ترین ہتھیار خاص طور پر میزائل تیار کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ لیکن اس مشاورت میں یہ مسئلہ پیش آیا کہ اس کام کے لئے بہت بڑی رقم درکار ہوگی اور پاکستان میں کرپشن بھی بہت زیادہ ہے اس کا کیا حل ہوگا۔؟ چنانچہ کسی مشورہ دینے والے نے مشورہ دیا کہ سائنس کے اس شعبے میں ہزاروں کی تعداد میں جو لوگ کام کررہے ہیں ان میں سے چن چن کر ایسے لوگوں کو الگ کردیا جائے جن کا دامن صاف اور نیک وکار ہیں۔ چنانچہ #کہوٹہ سمیت تمام اداروں سے ایسے نیک لوگوں کو الگ کیا گیا اور ڈاکٹر خالد شمیم جو خود بھی نیک اور تبلیغی ساتھی تھے ان کی قیادت میں میزائل ٹیکنالوجی کا الگ شعبہ قائم کردیا گیا۔ ڈاکٹر خالد شمیم نے اس شرط پر قیادت قبول کی کہ مجھے باختیار بنایا جائے میں جسے رکھو یا جسے نہ رکھوں اس کا پورا اختیار دیا جائے چنانچہ انہیں اس کا پورا اختیار دیا گیا ۔ انہوں نے اپنے میزائل پروگرام میں کام کرنے والوں کی اخلاقی تربیت بھی ساتھ ساتھ جاری رکھی۔ ادارے میں نماز کے وقت تمام کام بندکرکے باجماعت نماز اور نماز کے بعد حدیث کی تعلیم کا باقاعدہ سلسلہ شروع کیا گیا۔ چنانچہ اس اخلاقی تربیت کا اثر یہ ہوا کہ کرپشن بالکل ختم کردی گئی اور محدود وسائل کے ساتھ صرف سات آٹھ سالوں میں پاکستان نے جدید ترین میزائل ٹیکنالوجی میں کامیابی حاصل کرلی۔یہ سلسلہ یہاں نہیں رکا بلکہ پاکستان نے #میزائل پروگرام کے ساتھ ساتھ تمام شعبوں میں اپنے ہتھیار بنانا شروع کردیے۔ 2001 میں ایک بار پھر افغان وار شروع ہوئی اور پاکستان پر تاریخ کے سخت ترین حالات آئے لیکن اس ادارے میں کام کرنے والے ساری دنیا سے بے گانہ اپنے کام میں لگن سے لگے رہے۔
آج کے اخبارات میں آپ نے پڑھا ہوگا کہ وہی فرانس جس سے پاکستان کسی وقت جہاز اور جہازوں کے سپیئر پارٹس خریدا کرتا تھا اسی #فرانس نے کل کراچی میں پاکستان سے جہازوں میں استعمال ہونے والی کیبل اور دیگر آلات کی خریداری کا معاہدہ کیا ہے۔
اس وقت دنیا کے چالیس کے قریب ممالک پاکستان سے #اسلحہ خرید رہے ہیں، پاکستانی ڈرون نے پوری دنیا کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے، شاید 900 کی دہائی میں کسی کے تصور میں بھی یہ نہیں تھا کہ چند سال بعد پاکستان کو وہ مقام حاصل ہوگا کہ ترقیافتہ ممالک پاکستان کے اسلحے کے گاہک بن جائیں گے۔
#نکتہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ
بیماری کے بہانے باہر جانے والا کلبوں میں ڈانس کر رہا ہے، ہمارے ملک میں جعلی
سرٹیفکیٹ بن جاتے ہیں۔
جناب عزت مآب چیف جسٹس صاحب جان کی امان پاؤں تو عرض کروں:
لاٹھی بھی موجود ہے اور میدان بھی حاضر ہے۔ پاکستان کا قاضی القضات کوئی شیدا میدا نہیں آپ ہی ہیں۔ آپ کو سرکاری خزانے سے تنخواہ خبریں سنانے کی نہیں ملتی کہ روز روز دو چار خبریں سنا کر عدالت برخاست فرما دیتے ہیں۔
اگر جعلی سرٹیفکیٹ بنتے ہیں تو ان ہسپتالوں اور ڈاکٹروں کو پکڑنے صلاح الدین ایوبی تو نہیں آئے گا یہ تنخواہ آپ کو ہی حلال کرنی پڑے گی۔
اگر کوئی شخص جھوٹے بہانے سے گیا ہے تو اس گرفتار کر کے لانے کے لئے معتصم بااللہ تو نہیں آئے گا۔
فوج، سیاستدانوں اور جاگیرداروں کے قتل میں ملوث کتنے افراد کو دبئی سمیت مختلف ملکوں سے گرفتار کر کے لایا گیا اور پھر پھانسی دی گئی۔
لیکن جب ملک اسلام یا عوام کی بات ہو تو آپ نیوز کاسٹر بن جاتے ہیں۔
#نکتہ
جناب عزت مآب چیف جسٹس صاحب جان کی امان پاؤں تو عرض کروں:
لاٹھی بھی موجود ہے اور میدان بھی حاضر ہے۔ پاکستان کا قاضی القضات کوئی شیدا میدا نہیں آپ ہی ہیں۔ آپ کو سرکاری خزانے سے تنخواہ خبریں سنانے کی نہیں ملتی کہ روز روز دو چار خبریں سنا کر عدالت برخاست فرما دیتے ہیں۔
اگر جعلی سرٹیفکیٹ بنتے ہیں تو ان ہسپتالوں اور ڈاکٹروں کو پکڑنے صلاح الدین ایوبی تو نہیں آئے گا یہ تنخواہ آپ کو ہی حلال کرنی پڑے گی۔
اگر کوئی شخص جھوٹے بہانے سے گیا ہے تو اس گرفتار کر کے لانے کے لئے معتصم بااللہ تو نہیں آئے گا۔
فوج، سیاستدانوں اور جاگیرداروں کے قتل میں ملوث کتنے افراد کو دبئی سمیت مختلف ملکوں سے گرفتار کر کے لایا گیا اور پھر پھانسی دی گئی۔
لیکن جب ملک اسلام یا عوام کی بات ہو تو آپ نیوز کاسٹر بن جاتے ہیں۔
#نکتہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دوران ٹیچنگ طلباء پر
تشدد ذہنی اور نفسیاتی بیماری کا نتیجہ ہوتا ہے
یہ بات تجربے سے ثابت ہے کہ ٹیچرز معاشی یا گھریلو مسائل کی وجہ سے نفسیاتی مریض بن جاتے ھیں جس کا غصہ بے قابو تشدد کی صورت میں طلباء پر ظاہر ہوتا ہے
پنجاب حکومت نے جس طرح سکول سے کسی بچے کا نام خارج کرنے پر پابندی لگائی ہے چنانچہ سال کے آخر میں سکول کا احتساب ہوتا ہے کہ سال کے شروع میں اتنی تعداد تھی اب اتنی کم کیوں ہے ؟
اسی طرح مار پیٹ پر مکمل پابندی لگائی جائے
البتہ امتحانی نظام اتنا سخت کر دیا جائے کہ کسی بچے کے ساتھ ایک آنے کی رعایت نہ کی جائے تو بچے بھی محنت کریں گے اور والدین بھی توجہ دیں گے
تعلیمی#نکتہ
یہ بات تجربے سے ثابت ہے کہ ٹیچرز معاشی یا گھریلو مسائل کی وجہ سے نفسیاتی مریض بن جاتے ھیں جس کا غصہ بے قابو تشدد کی صورت میں طلباء پر ظاہر ہوتا ہے
پنجاب حکومت نے جس طرح سکول سے کسی بچے کا نام خارج کرنے پر پابندی لگائی ہے چنانچہ سال کے آخر میں سکول کا احتساب ہوتا ہے کہ سال کے شروع میں اتنی تعداد تھی اب اتنی کم کیوں ہے ؟
اسی طرح مار پیٹ پر مکمل پابندی لگائی جائے
البتہ امتحانی نظام اتنا سخت کر دیا جائے کہ کسی بچے کے ساتھ ایک آنے کی رعایت نہ کی جائے تو بچے بھی محنت کریں گے اور والدین بھی توجہ دیں گے
تعلیمی#نکتہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔معروف شخصیت قاسم علی شاہ صاحب نے اپنے ٹی وی
انٹرویو میں سوشل میڈیا کے نقصانات بارے تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ
قومیں ترقی تربیت سے کرتی ہیں صرف ٹیکنالوجی سے نہیں۔
یہ بات مولبی صدیوں سے بتا رہا تھا لیکن لبڑل سیکولڑ کہتے تھے کہ مولبی ٹیکنالوجی کے خلاف ہے۔
ایشیا کے لوگ لتر کھا کر ہی جاگتے ہیں
#نکتہ
قومیں ترقی تربیت سے کرتی ہیں صرف ٹیکنالوجی سے نہیں۔
یہ بات مولبی صدیوں سے بتا رہا تھا لیکن لبڑل سیکولڑ کہتے تھے کہ مولبی ٹیکنالوجی کے خلاف ہے۔
ایشیا کے لوگ لتر کھا کر ہی جاگتے ہیں
#نکتہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سپریم کورٹ کو چاہیے وہ
پانامہ کیس میں درمیانہ سا فیصلہ سنائے کیونکہ جس طرح کے حالات نظر آرہے ہیں ان سے
لگتا ہے عمران خان پر مایوسی کا اٹیک ہو جائے گا اور یہی بات ملک و قوم کے لئے
خطرہ ہے
کراچی کے مہاجروں میں مایوسی پھیلی تو ایم کیو ایم اور الطاف حسین پیدا ہوگئے
فاٹا کے لوگوں میں مایوسی پھیلی تو طویل جنگ شروع ہوگئی
بلوچوں میں مایوسی پھیلی توخٖفیہ تنظیمیں بن گئیں
عجیب اتفاق یہ ہے کہ ان سب سے را نے اپنے مراسم بنا لئے
کہیں ایسا نہ ہو کہ مایوسی عمران خان کو وہاں لے جائے کہ ان کے سر کی قیمت مقرر کرنی پڑے۔
#نکتہ
کراچی کے مہاجروں میں مایوسی پھیلی تو ایم کیو ایم اور الطاف حسین پیدا ہوگئے
فاٹا کے لوگوں میں مایوسی پھیلی تو طویل جنگ شروع ہوگئی
بلوچوں میں مایوسی پھیلی توخٖفیہ تنظیمیں بن گئیں
عجیب اتفاق یہ ہے کہ ان سب سے را نے اپنے مراسم بنا لئے
کہیں ایسا نہ ہو کہ مایوسی عمران خان کو وہاں لے جائے کہ ان کے سر کی قیمت مقرر کرنی پڑے۔
#نکتہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سناہےPP78جھنگ سےحق نوازجھنگوی شہیدؒ کےبیٹےمسرورنوازجھنگوی نامزدہوئےہیں
اگر الیکشن میں کامیاب ہوگئے تو دو کاموں میں سے ایک ہو گا
یا انہیں اللہ تعالی شہادت کا اعلی مقام عطا فرمائے گا
یا کورٹ دبارہ گینتی کا حکم دے گا
مشاہداتی #نکتہ 16نومبر
اگر الیکشن میں کامیاب ہوگئے تو دو کاموں میں سے ایک ہو گا
یا انہیں اللہ تعالی شہادت کا اعلی مقام عطا فرمائے گا
یا کورٹ دبارہ گینتی کا حکم دے گا
مشاہداتی #نکتہ 16نومبر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اخباری تراشے پکوڑوں
والے ہوں یا تندوری یہ بھی بڑے کام کے ہوتے ہیں۔
دس سال پہلے کی بات ہے میں تندور پر روٹی لینے گیا، انہوں نے اخباری تراشے میں روٹی لپیٹ کردے دی۔ گھر آکر کھانے کے ساتھ ساتھ اس تراشے کو بھی پڑھنا شروع کیا جب روٹی ختم ہوئی تو تراشے کو دوسری طرف سے پڑھنے کے لئے پلٹا تو دیکھا ایک اشہار نظر آیا جس میں اسی اخبار کے دفتر میں ڈپٹی ایڈیٹر، نیوز رپورٹر کی ضرورت ہے کا لکھا ہوا تھا۔ کھانے سے فارغ ہوکر فون کیا اور پھر ایڈریس پوچھ کر دفتر پہنچ گیا۔ انٹر ویو کے بعد ایک ہفتے کے ٹرائل پر مجھے رکھ دیا گیا۔ ایک ہفتے کے ٹرائل کے بعد میں ان کے معیار پر پورا اترا تو مستقل رکھ دیا۔ چنانچہ کئی مہینے تک میں اس اخبار میں کام کرتا رہا۔
امید ہے کوئی نہ کوئی تراشا تو ایسا ضرور نکلے گا جو عمران خان کو وزیر اعظم کی کرسی پر بٹھا دے۔
#نکتہ (چیف جسٹس نے پی ٹی آئی کے وکیل کو کہا اخبار میں دوسرے دن پکوڑے بکتے ہیں)
دس سال پہلے کی بات ہے میں تندور پر روٹی لینے گیا، انہوں نے اخباری تراشے میں روٹی لپیٹ کردے دی۔ گھر آکر کھانے کے ساتھ ساتھ اس تراشے کو بھی پڑھنا شروع کیا جب روٹی ختم ہوئی تو تراشے کو دوسری طرف سے پڑھنے کے لئے پلٹا تو دیکھا ایک اشہار نظر آیا جس میں اسی اخبار کے دفتر میں ڈپٹی ایڈیٹر، نیوز رپورٹر کی ضرورت ہے کا لکھا ہوا تھا۔ کھانے سے فارغ ہوکر فون کیا اور پھر ایڈریس پوچھ کر دفتر پہنچ گیا۔ انٹر ویو کے بعد ایک ہفتے کے ٹرائل پر مجھے رکھ دیا گیا۔ ایک ہفتے کے ٹرائل کے بعد میں ان کے معیار پر پورا اترا تو مستقل رکھ دیا۔ چنانچہ کئی مہینے تک میں اس اخبار میں کام کرتا رہا۔
امید ہے کوئی نہ کوئی تراشا تو ایسا ضرور نکلے گا جو عمران خان کو وزیر اعظم کی کرسی پر بٹھا دے۔
#نکتہ (چیف جسٹس نے پی ٹی آئی کے وکیل کو کہا اخبار میں دوسرے دن پکوڑے بکتے ہیں)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کل جب کالیا اینڈ
بوتھیا کمپنی نے عدالت میں کرپشن کیس کی سماعت کے دوران ثبوت کے طورپر اخباروں کے
تراشے پیش کیے تو جسٹس عظمت نے کہا آج کے اخبار میں دوسرے دن پکوڑے بکتے ہیں، ثبوت
پیش کرو اخبار نہ دکھاو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1947 کی
پرچم کشائی کے بعد کل گوادر کی افتتاحی تقریب پاکستان کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھی
جائے گی کیونکہ یہ ایک نئے معاشی پاکستان کی تقریب تھی۔ ایسی تقاریب میں قوم کے
لیڈر شرکت کرتے ہیں کیونکہ یہ قومی مسائل ہوتے ہیں۔
لیکن
کالیا نے اپنا مقام خود اتنا مجروح کر لیا ہے کہ اس پروقار تقریب میں گرین شرٹ پہنے امپائربھی موجود تھا اور پیلی پگڑی اوڑھے تھرڈ امپائر بھی جبکہ کالیا ٹونی کے ساتھ بیٹھے ٹی وی پر دیکھ رہا تھا جس سے کم از کم ایک پاو خون ضرور خشک ہوا ہوگا
حسد سے
#نکتہ
لیکن
کالیا نے اپنا مقام خود اتنا مجروح کر لیا ہے کہ اس پروقار تقریب میں گرین شرٹ پہنے امپائربھی موجود تھا اور پیلی پگڑی اوڑھے تھرڈ امپائر بھی جبکہ کالیا ٹونی کے ساتھ بیٹھے ٹی وی پر دیکھ رہا تھا جس سے کم از کم ایک پاو خون ضرور خشک ہوا ہوگا
حسد سے
#نکتہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تعارف قانون مفرد اعضاء
#طب یونانی سے آپ واقف ہی ہوں گے یا کم از کم نام ہی سنا ہوگا۔ پاکستان کے مایہ ناز حکیم دوست محمد صابری ملتانی مرحوم نے طب کی دنیا میں انقلاب بھرپا کرتے ہوئے ایک جدید نظریہ مفرد اعضاء پیش کیا تھا جسے بہت مقبولیت حاصل ہوئی۔
حکیم صابر ملتانی کے کسی شاگرد کی لکھی ہوئی یہ کتاب جو اس نظریے کے تعارف پر مبنی ہے آج کل میرے زیر مطالعہ ہے۔
نظریہ مفرد اعضاء واقعتا ایک انقلابی نظریہ ہے، ایک تو اس کی یہ خوبی ہے کہ یہ زیادہ پیچیدہ نہیں ہرپڑھا لکھا شخص اس کو آسانی سے سمجھ سکتا ہے۔ اس نظریے کو سمجھنے کا بڑا فائدہ یہ ہے کہ آپ اپنی بیماری کی صحیح تشخیص خود کرسکتے ہیں۔ یعنی آپ کو پتا چل جائے گا یہ بیماری کیوں ہوئی اصل مسئلہ کہاں اور کیا ہے۔ یہی آدھی طب ہے باقی آدھی اس کا علاج ہے اس کے لئے مزید رہنمائی حاصل کی جاسکتی ہے۔
تین دن پہلے میں اس کتاب کو صرف ایک بار پڑھ کر اسی قانون کے فاضل ایک #حکیم کے پاس گیا اور اپنا امتحان دینے کے لئے کچھ باتیں کیں جو بالکل ٹھیک ٹھیک تھیں مجھے خود حیرانگی ہورہی تھی، طب اور صحت کے حوالے سے کئی ایسی معلومات میں اضافہ ہوا کہ جو عجیب و غریب تھیں
مثلا ابھی تک یہی سنتے آئے تھے کہ پیشاب پیلا ہو تو یہ شاید کوئی بیماری ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے
دوسری کتاب اسرار النبض ہے جو ایک دو دن بعد مطالعہ کرنا شروع کروں گا
اس کتاب کے میں نبض چیک کرکے بیماری کا پتا چلانا بتایا گیا ہے، جس حکیم کی ابھی میں نے بات کی اسے میں نے خود دیکھا وہ نبض چیک کرکے بتا دیتا ہے آپ کی شوگر ، یورک ایسڈ، خون کی مقدار یا بلڈ پریشر اتنے بٹا اتنے ہے۔ لوگ بعد میں لیبارٹی میں چیک کرواتے ہیں ایسا ہی ہوتا ہے۔
طبی #نکتہ
…………………….
اجتماع میں شرکت
کیوں۔۔؟
اس سوال کے جواب میں اکثریت نے شرکت کا مقصد ثواب بتایا۔
چنانچہ ایک بہت بڑی تعداد آخری دن دعا میں شامل ہونے کے لیے پہنچتی ہے
یہ ہمارا بہت بڑا المیہ ہے کہ تحاریک کا مقصد ہمیں معلوم ہی نہیں اور اگر معلوم ہے بھی تو ہمارے مدنظر نہیں
اسی طرح کے کام مثلا ربیع الاول کے جلوس، عرس، میلے جب جہلا کرتے ہیں تو ہم انہیں کوستے ہیں لیکن ہمیں اپنے گریبان میں جھانک کر سوچنے کی توفیق نہیں ہوتی۔
اجتماع میں شرکت اسلام کی سربلندی اورغلبہ کے جذبے سے کریں۔ ثواب آور دعائیں تو ساتھ مفت میں ملیں گی
#نکتہ
اس سوال کے جواب میں اکثریت نے شرکت کا مقصد ثواب بتایا۔
چنانچہ ایک بہت بڑی تعداد آخری دن دعا میں شامل ہونے کے لیے پہنچتی ہے
یہ ہمارا بہت بڑا المیہ ہے کہ تحاریک کا مقصد ہمیں معلوم ہی نہیں اور اگر معلوم ہے بھی تو ہمارے مدنظر نہیں
اسی طرح کے کام مثلا ربیع الاول کے جلوس، عرس، میلے جب جہلا کرتے ہیں تو ہم انہیں کوستے ہیں لیکن ہمیں اپنے گریبان میں جھانک کر سوچنے کی توفیق نہیں ہوتی۔
اجتماع میں شرکت اسلام کی سربلندی اورغلبہ کے جذبے سے کریں۔ ثواب آور دعائیں تو ساتھ مفت میں ملیں گی
#نکتہ
…………………
No comments:
Post a Comment