Search This Blog

Saturday, December 31, 2016

دسمبر2016 فیس بک کی پوسٹیں

دسمبر2016
Hm Zubir
زبیر صاحب بہت عرصہ سے میری فرینڈ لسٹ میں تھے، بہت اچھا لکھتے ہیں میں ان کی تحریروں سے مستفید بھی ہورہا تھا۔ لیکن کبھی ان کی کسی پوسٹ پر کمنٹ نہیں کیا تھا۔
آج کچھ ایسا ہوا کہ انہوں نے ایک پوسٹ لکھی جس پر میں نے کمنٹ لکھا اگلے ہی لمحے کمنٹ ڈیلیٹ کرنے کے ساتھ ہی بلاک مار دیا۔ بس بات اتنی سی تھی کہ پوسٹ میں پیش کیے گئے موقف کی میں نے واہ واہ نہیں کی بلکہ اصولی اختلاف کیا تھا۔ بلاک کی آپشن میں بھی استعمال کرتا ہوں مگر اختلاف کرنے والوں کے خلاف نہیں بلکہ گالم گلوچ کرنے والوں کے خلاف یہ مجبوری ہوتی ہے۔
جہاں تک ان کی پوسٹ کا تعلق ہے اس میں انہوں نے وہی باتیں کی تھیں جنہوں نے امت مسلمہ کا بیڑا غرق کررکھا ہے اور چند دن قبل میں نے اسلامی تحریکوں کے کارکن متوجہ ہوں کے عنوان سے اسی موضوع پر بات کی تھی کہ اھل سنت والجماعت کی تمام تحریکیں اور تنظیمیں جوجو دینی خدمات سرانجام دے رہی ہیں ان کی ہمیں قدر کرنی چاہیے اور ایسا ذہن ہرگز نہیں بنانا چاہیے کہ صرف ہماری جماعت ہی دین کا سارا کام کررہی ہے اور کوئی دوسری تنظیم نہیں کررہی۔
البتہ اپنی تنظیم اور اس کے کام کے ساتھ والہانہ لگاو ضرور ہونا چاہیے جبکہ دوسری تنظیموں اور جماعتوں کے خلاف پروپیگنڈا نہیں کرنا چاہیے اور نہ ہی انہیں ایک لاٹھی سے ہانک کر گمراہی کے کھاتے میں ڈالنا چاہیے۔ امت مسلمہ اس وقت جس نازک ترین دور سے گزر رہی ہے کسی بھی دینی جماعت کے کارکن کا اپنا مشن چھوڑ کردوسری کسی ایسی جماعت کے خلاف اپنی توانائیاں خرچ کرنا بیوقوفی ہے جوکوئی ایسا کام کررہی ہے جو آپ نہیں کررہے۔ 
آپ چاہے جس بھی جماعت سے تعلق رکھتے ہوں آپ وہ کام نہیں کررہے جو دوسری جماعت کررہی ہے۔ آپ کسی سیاسی یا انقلابی یا تبلیغی جماعت سے تعلق رکھتے ہیں تو آپ اسلام کا علمی کام نہیں کررہے وہ کام مدارس والی تنظیمیں کررہی ہیں، اگر آپ مدرسے میں بیٹھے ہوئے ہیں تو آپ سیاسی اور انقلابی کام نہیں کررہے۔ اور حقیقت یہ ہے کہ یہ سب کام ایک دوسرے کے متضاد نہیں بلکہ مترادف ہیں یا سب ایک ہی سمت میں جارہے ہیں۔ آپ ان نابینوں کی طرح نہ بنیں جو ایک ہاتھی کے پاس کھڑے تھے جس نے ٹانگ کو ہاتھ لگایا تو کہا ہاتھی لمبا گول اور موٹا ستون کی طرح ہوتا ہے۔ جس نے کان کو ہاتھ لگایا تو کہا ہاتھ والے پنکھے کی طرح ہوتا ہے۔ جس نے دم کو پکڑا تو کہا سانپ کی طرح ہوتا ہے وغیرہ وغیرہ۔
آپ کو چاہیے آپ امت خصوصا اھل حق کی جماعتوں کو ایک ادارے کی نظر سے دیکھیں یہ مختلف ڈیپارٹمنٹ ہیں جو دین کے مختلف شعبوں میں کام کررہے ہیں۔
جب تک یہ تنگ نظری ختم نہیں ہوتی اس وقت تک کامیابی مشکل ہے۔ لیکن مجھے اس وقت سخت حیرت ہوتی ہے کہ جب تحریکی جماعتوں کے اچھے خاصے پڑھے لکھے سمجھدار پروفیسر بھی امت میں فرقہ واریت کو ہوا دیتے ہیں اور الزام بیچارے اس مولوی پر لگتا ہے جو پانچ ہزار روپے میں چوبیس گھنٹے مسجد کی ذمہ داری سنبھالے ہوئے ہے۔
#نکتہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فیس بک پوسٹ
یہ حیرت انگیز حقیقت بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی میں جتنی جنگیں ہوئیں جن کے نتیجے میں ایک فلاحی اسلامی ریاست قائم ہوئی۔ ان تمام جنگوں میں جو سو کے قریب ہیں 
صرف
اور
صرف
1059
انسان قتل ہوئے۔
یہ تعداد صرف کافروں کی نہیں بلکہ مسلمان شہدا اور کافر مقتول تمام کی کل تعداد ہے۔
ماوزے تنگ #ملحد تھا۔ اس نے پانچ کروڑ قتل کیے۔
سٹالن ملحد تھا اس نے ساڑھے تین کروڑ قتل کیے۔
ہٹلر لادین تھا اس نے نوے لاکھ قتل کیے۔
لیوپولڈ عیسائی تھا اس نے ایک کروڑ قتل کیے۔
ہیدیکی نے پچاس لاکھ قتل کیے۔
امریکا نے اب تک پانچ کروڑ انسانوں کو قتل کیا جن میں اکثریت مسلمانوں کی تھی۔
روس بھی ایک کروڑ کے لگ بھگ مسلمانوں کو قتل کرچکا ہے۔
برطانیہ اور فرانس کی تاریخ بھی سیاہ ہے۔
 
جبکہ دوسری طرف انتقامی آگ میں جل کر چند سو لوگ دماغی توازن برقرار نہ رکھنے کی وجہ سے پھٹ گئے، جس سے پورے اسلام کو بدنام اور مسلمانوں کو دہشت گرد کہہ کر اپنے کروڑوں کو چھپایا جارہا ہے۔
 
اس کام کے لئے انہوں نے ہرملک میں وہاں کے چند لبڑل بطور نائی کے رکھے ہوئے ہیں جو ان کا مقدمہ میڈیا پر پیش کرتے رہتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
23-12
حدیث بھی نبی کی زبان سے صحابہ نے سنی اور پھر ہم تک پہنچی۔
قرآن بھی نبی کی زبان سے صحابہ نے سنا اور پھر ہم تک پہنچا۔
 
جو غامدی حدیث کو یہ کہتے ہوئے رد کر رہے ہیں کہ اس میں ملاوٹ ہے اور ملاوٹ کرنے والے صحابہ ہیں تو پھر قرآن کی کیا گارنٹی ہے کہ اس میں ملاوٹ نہیں۔ یہ بات انہوں نے بعد میں کرنی ہے جب حلقہ اثر بڑا ہو جائے گا۔ جو حدیث میں ملاوٹ تسلیم کر لے گا پھر لامحالہ قرآن میں ملاوٹ بھی تسلیم کرنا پڑے گی۔
#نکتہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سکندرحیات بابا Sikandar Hayat Baba نے لکھاریوں کے لئے ایک نئی ویب سائٹ لانچ کرنے کا اعلان کیا ہے، انہوں نے اس ویب سائٹ کی جوجو تعریفیں کی اللہ کرے ویسی ہی ویب سائٹ ہو۔ اس حوالے سے ان کی خدمت میں چند گذارشات پیش ہیں۔
11
۔ اس وقت جوجو ویب سائٹس مثلا دلیل پی کے، آئی بی سی، وغیرہ موجود ہیں شاید ان کا کام اچھا چل گیا ہے اس لئے انہوں نے اپنا معیار وہی بنا لیا ہے جو جنگ اخبار کا ہے، یعنی مضامین صرف ان لوگوں کے شائع کرنے ہیں جو الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کی مشہور شخصیات ہیں ۔ آپ اگر اپنی ویب سائٹ کو منفرد اور مقبول بنانا چاہتے ہیں تو اس پالیسی سے اجتناب کریں۔
22
۔ مذکورہ ویب سائٹس ریٹنگ،اور سب سے پہلے کے چکر میں پڑھ چکی ہیں اس لئے ان کی خواہش ہوتی ہے کہ لکھاری اپنا مضمون سب سے پہلے ان کو بھیجے، چنانچہ وہ ہر اس مضمون کو رد کردیتے ہیں جو چند گھنٹے پہلے کسی دوسری ویب سائٹ پر شائع ہوچکا ہے۔ باباجی اگر آپ کا مقصد اصلاح معاشرہ ہے تو پھر اس غلط عمل سے اجتناب کرنا ہوگا، کیونکہ ہر اچھی بات باربار بتانے اور پھیلانے کی ہوتی ہے۔ دوسری بات یہ کہ ہرمیڈیا اور ویب سائٹ کے کچھ اپنے قارئین بھی ہوتے ہیں جو صرف اسی ویب سائٹ کو دیکھتے ہیں کسی دوسری کو نہیں ۔اس حوالے سے ہماری ویب کی پالیسی بہت اچھی ہے وہ ہر اچھے مضمون کو شائع کردیتے ہیں۔
33
۔ آپ اپنی ویب سائٹ میں ہماری ویب کی طرح ہر لکھاری کا اپنا اکاونٹ کی سہولت بھی رکھیں تاکہ ہرلکھنے والے کے مضمون ایک جگہ جمع ہوتے رہیں، کوئی قاری کسی لکھاری کے نام پر کلک کرے تو اس کے سارے مضمون ایک جگہ دستیاب ہوں۔
44
۔ خبروں میں اردپوائنٹیاں مارنے سے بھی اجتناب کریں، یعنی ایسی عجیب ہیڈنگ دے کر فیس بک پر شئیر کرنا کہ دیکھنے والا ضرور لنک پر کلک کرکے ویب سائٹ پر جائے، اس طرح ایک آدمی چند بار ہی کلک کرتا ہے پھر ہمیشہ کے لئے بلاک کردیتا ہے۔
55
۔ آپ اخبارات کی سرخیوں کی طرح ہیڈنگ دیں ، جس کو اس خبر میں دلچسپی ہوئی وہ تفصیلات کے لئے آگے جائے گا ورنہ نہیں۔
#نکتہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دہشت گردی کا جرم قابل معافی ملحدوں کے نزدیک تو ہو سکتا ہے مسلمانوں کے نزدیک نہیں۔ سیکولروں کے ابا جی ٹونی بلیئر نے عراق میں بیس سال جنگ لڑنے کے بعد جب لاکھوں انسان قتل ہوچکے تھے صرف اتنی بات کہی کہ ہم سے غلطی ہوئی ہم معافی مانگتے ہیں۔
جبکہ ہم یہ کہتے ہیں دہشت گرد پکڑا جائے تو اسے اس کے جرم کے مطابق سزا قتل یا پھانسی دو۔
#نکتہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسلامی تحریکوں کے کارکنان کے نام کل والے مضمون کو دوستوں نے بہت سراہا ہے، البتہ بعض دوستوں نے پھر وہی سوال کیا جسے دور کرنے کے لئے ہی یہ مضمون لکھا گیا تھا۔ یعنی تبلیغی جماعت فلاں فلاں کام کیوں نہیں کرتی۔
 
اب اسے مزید آسان الفاظ میں اگر سمجھایا جائے تو بات یوں ہے کہ بھائی وہ الگ ڈیپارٹمنٹ ہے ہر ڈیپارٹمنٹ کا اپنا کام ہوتا ہے۔ جس طرح تعلیمی میدان میں ہر علم کے الگ الگ شعبے ہیں اور ہر شعبہ اپنا ہی کام کرتا ہے دوسرا نہیں۔ آپ تبلیغی جماعت سے جو امیدیں وابستہ کر بیٹھے ہیں وہ اس کے لیے بنی ہی نہیں۔
دوسری بات یہ کہ ہر کارکن یہ سوچے کہ آیا وہ خود اور اس کی جماعت  بھی دین کے سارے شعبوں میں کام کررہی ہے یا نہیں۔ یقینا نہیں۔ تو پھر دوسرے شعبوں میں کام نہ کرنے کا آپ کے پاس کیا عذر ہے۔؟ 
 
اگر آپ کا یہ عذر ہے کہ ہم ناتواں ہیں، تو بھائی یہی عذر تبلیغی جماعت کا بھی سمجھیں وہاں اکثریت معاشرے کے کمزور طبقات کی ہے ان کے کندھے آپ کے کندھوں سے زیادہ ناتواں ہیں۔
اگر آپ کا عذر یہ ہے کہ حالات موافق نہیں تو۔ یہی عذر ان کا بھی سمجھیں۔
الغرض اپنے ضمیر سے پوچھیں جو مجبوری آپ کی ہے وہی ان کی بھی ہوگی۔
 
اس لئے ان فضول بحثوں سے نکلیں اور آگے بڑھیں، ایک دوسرے سے تعاون کریں اور نظر منزل اور دشمن پر رکھیں۔
#نکتہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لامذہبیت کی سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ یہ قتل کو بھی مفاد بنا دیتا ہے۔مذہب میں کم از کم جائز ناجائز کی تمیز تو ہوتی ہے۔۔۔ لامذہب انسان دوسرے کو قتل کر کے شرمندہ ہونے کی بجاے فخر محسوس کرتا ہےکہ یہ اس کا مفاد ہے۔
ملحد (کمیونسٹ) سنیوں کو قتل کر کے فخر محسوس کر رہے ہیں، کہ وہ اتحاد نبھا رہے ہیں۔
ملحد (کمیونسٹ) مسلمانوں کو بارود سے جلا کر خوش ہیں کہ وہ بغاوت کچل رہے ہیں۔
ایک وقت تھا جب لبڑل اور سیکولر لوگ عیسائی پیشواوں کو مار کر نازاں تھے
ملحد ہٹلر نے لاکھوں یہودیوں کا قتل عام کیا۔
 
قتل و غارت اب بھی جاری ہے بنام امن واستحکام۔۔۔۔۔وہ امن جس کا حکم رب ذوالجلال، سب کے خالق اور مالک نے دے رکھا ہے۔
#نکتہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک پروفیسر صاحب کسی تقریب میں تقریر کررہے تھے، تقریر کرتے کرتے قرآن کی تفسیر کیسے کی جاتی ہے اس موضوع پر بولنا شروع کردیا۔ چنانچہ تفسیر کرنے کا طریقہ بتاتے ہوئے کہنے لگے کہ تفسیر کرنا تو بہت آسان کام ہے۔ پہلے آپ کوئی بات سوچیں۔ پھر اردو ترجمے والا قرآن پاک اٹھا کر اس بات کو قرآن میں تلاش کرنا شروع کریں جس آیت کے ترجمے میں آپ کی سوچی ہوئی بات کا مفہوم پایا جائے بس یہی اس آیت کی تفسیر ہے۔
۔۔۔۔
آپ سوچتے ہوں گے دین میں بگاڑ کیسے آتا ہے۔؟
تو یہ جاننے کے لئے ان صاحب کی کمنٹ پڑھ لیں۔
 
اب انہوں نے ہر صورت جیسے کیسے ہو کھینچ تان کر یہی ثابت کرنا ہے کہ سفیر کا قتل جائز ہے۔ فیصلہ انہوں نے پہلے کردیا ہے کہ فتویٰ میرا یہی ہے اب اس کو کسی نہ کسی آیت یا حدیث سے ضرور ثابت کرنا ہے۔
 
اگر ان صاحب میں چار آنے بھی دین کی سمجھ بوجھ ہوتی تو یوں کہتے کہ میں قرآن و سنت میں دیکھ کر بتاؤں گا کہ یہ قتل ٹھیک ہے یا نہیں۔
#نکتہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کسی نے ٹھیک ہی کہا ہے کہ لبرل کی عقل گٹوں (ٹخنوں) میں ہوتی ہے۔
ایک نے سوال کیا ہے کہ بڑا جنازہ خوش بختی کی علامت ہے تو حضور کا جنازہ کتنا بڑا تھا۔۔۔؟
 
جس بیوقوف کو اتنی سی معمولی بات کا علم نہیں اور وہ اس کو اعتراض بنا کر مسلمانوں اور اسلام پر اعتراض کرنا چاہتا ہے اسے چلو بھر پانی میں ڈوب مرنا چاہیے۔ یہ بات تو ہمارے مسلمانوں کے چھوٹے چھوٹے بچے بھی جانتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا جنازہ انسانی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ تھا۔ آپ کا جنازہ مدینہ شہر کی 100٪ آبادی نے پڑھا تھا۔ مردوں نے بھی پڑھا عورتوں نے بھی پڑھا، غلاموں نے بھی پڑھا حتی کہ سمجھدار بچوں نے بھی پڑھا۔ مدینہ شہر کا کوئی باشندہ باقی نہیں رہا پورے شہر نے جنازہ پڑھا اس کے علاوہ دور دراز سے جوجو لوگ تدفین سے قبل پہنچ سکے انہوں نے بھی پڑھا۔
#نکتہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جنید جمشید کی فوجی اعزاز کے ساتھ تدفین
 
چند ماہ قبل انسانیت انسانیت کی رٹ لگانے والے ربڑل اور سیکولڑ سمیت تمام راشن خیالوں کو آج انسانیت بھول گئی ہے چنانچہ کوئی فوج پر تنقید کررہا ہے اور کسی کے پیٹ میں ٹھیسیں اٹھ اٹھ کر وہیں پھٹ رہی ہیں، پیچس اپنی وال پراور الٹیاں دوسروں کی کمنٹ لائن پر گر رہی ہیں۔
#نکتہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شام میں ظلم و ستم اور سربریت کی جو تاریخ رقم کی جارہی ہے اس میں اصل کردار دو ممالک روس اور ایران کا ہے
ایران کی فوج اور جوان شامی عورتوں کی عصمت دری اور مردوں کا قتل عام کر رہے ہیں
جبکہ روسی جہاز مسلسل بمباری کر رہے ہیں۔
 
اس لئے ان دونوں ملکوں اور ان میں رہنے والی قوموں کو خود بھی یاد رکھیں اور اپنے بچوں کو بھی یہ سبق ابھی سے پڑھا دیں کہ ایرانیوں کا جب جہاں اور جس وقت بس چلتا ہے وہ انسانیت کے ساتھ ایسا ہی کرتے ہیں۔ ایرانی قوم اسلام اور مسلمانوں کے دشمن تھے، ہیں اور رہیں گے۔
#
#نکتہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک دوست تو حنیف ڈار اور غامدی سے بہت پریشان ہی ہوگئے اور کہنے لگے اب کیا ہوگا۔
میں نے کہا بھائی آپ کی پریشانی بجا مگر آپ تاریخ سے واقف نہیں۔
 
پہلی بات تو یہ ہے کہ غامدی جیسے لوگوں کا شکار عام طور پر ایسے ہی لوگ بنتے ہیں جو دنیاوی لحاظ سے اونچے گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ جبکہ اسلام میں زیادہ تر غریب لوگ رہے ہیں، غریبوں نے ہی اسے اٹھایا بھی اور پھیلایا بھی۔ ان غریبوں تک غامدیوں کی رسائی اس لئے بھی نہیں ہوتی کہ غامدی جس سٹیٹس کے مالک ہوتے ہیں اس سے نیچے اترتے ہوئے انہیں موت پڑتی ہے، جبکہ وہ ایک گروہ جس کی  حدیث میں ہمیشہ حق پر قائم رہنے کی پیشن گوئی آئی ہے ہمیشہ غریبوں پر ہی مشتمل رہا ہے، ان کے علمائے حق بھی ہمیشہ دنیاوی لحاظ سے تہی دست رہے ہیں۔
 
دوسری بات یہ کہ آپ تاریخ اسلام کا مطالعہ کریں آپ کو نظر آئے گا کہ ایسے فتنوں کی عمر زیادہ سے زیادہ 99 سال ہوتی ہے، اس کے بعد ہر صدی میں ایک مجدد آتا ہے اور صرف تین چار سال میں ان کی صدی پر محیط ساری محنت پر جھاڑو پھیر کر چلا جاتا ہے۔ چنانچہ ان کا قصہ اگلی نسلوں کے لئے پارینہ بن کر رہ جاتا ہے۔
اس لئے حوصلہ رکھیں، اپنے ایمان کی حفاظت کریں۔ باقی اسلام کا کچھ نہیں بگڑے گا۔
#نکتہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عزیر سالار
غامدیت کا آغاز ہی انکار سے ہوتا ہے 900 کی دہائی میں دین غامدی کے بانی(حال فرار ملائیشیا) کہتے تھے جہاد ریاست کی اجازت کے بغیر نہیں ہو سکتا۔
پھر بانی کو نائن الیون کے بعد دوسرا انکشاف ہوا کہ اسلام میں تو ریاست کا تصور ہی نہیں۔
اب آپ ان دونوں قضیوں (صغرا کبرا ) کو ملائیں تو نتیجہ کیا نکلتا ہے؟
جہاد ریاست کے بغیر نہیں اور اسلام میں ریاست کا تصور ہی نہیں لہذا اسلام میں جہاد ہی نہیں۔
 
اس گروہ نے اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ انکار کا دائرہ کار مسلسل بھڑتا رہا یہاں تک کہ پہلے احادیث کا انکار کیا یہ کہتے ہوئے کہ قرآن کریم سب سے زیادہ مضبوط دلیل ہے۔ جب کچھ لوگوں نے اس مفروضے کو تسلیم کر لیا تو پھر کہنا شروع کر دیا کہ فلاں آیت تو فلاں واقع کے ساتھ یا فلاں علاقے کے ساتھ خاص ہے، اس طرح مکی سورتوں کو مکہ اور مدنی سورتوں کو مدینہ کے ساتھ خاص کر دیا۔
اب اگلا قدم یہی ہے کہ جو میں کہتا ہوں وہی دین ہے، گویا دبے الفاظ میں دعوائے نبوت۔
غامدی صاب نے تو بڑی عیاری دکھائی تھی لیکن ان کے شاگیدڑ زیادہ جذباتی ہیں۔  ایک طرف حنیف ڈار نے صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم پر حملے کرنا شروع کر دیئے ہیں تو دوسری طرف عمار خان ناصر نے فقہ اسلامی کا مذاق اڑانا شروع کر دیا ہے اور تیسری طرف عزیر سالار نے عقیدہ آخرت، جنت اور قبر کا مذاق اڑانا اور چوتھی طرف سبوح سید نے تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام پر الٹیاں کرنا شروع کی ہوئی ہیں۔
ان سب کو معلوم ہونا چاہیے کتنے ہی لومڑ آئے اور گئے
ان اسلام کے غداروں کو یاد رکھنا چاہیے
میں نوکر صحابہ دا
#نکتہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کئی پاکستانی یورپ جاکر زیادہ ہی راشن خیال بن جاتے ھیں ، چنانچہ وہ محب وطن پاکستانی قوم کو عید کے موقع پر چاند کے بارے طعنے دیتے ہیں۔
 
عجیب بات یہ ہے کہ عیدین کے موقع پر ان کا مفت ای سعودیہ کے ساتھ اور ربیع الاول میں پاکستان کے ساتھ ہوتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جس کام کے لئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا گیا آج میلاد کے نام پر مقصد بعثت کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں۔ کیا یہ گستاخی رسول نہیں۔
 «
عن أبي أمامة عن النبي ﷺ إن اللہ بعثني رحمة وھدي للعالمين وأمرني أن أمحق المزامير والكبارات يعني البرانط والمعازف» (رواه أحمد وفيه علي بن يزيد وھو ضعيف)
 ''
مجھے میرے اللہ نے ساری دنیا کے لئے رحمت اور ہدایت بنا کر مبعوث فرمایا اور یہ حکم دیا کہ سرود و چنگ و رباب (ڈھول،اور آلات موسیقی) کو مٹاؤں۔''
ابن غیلان نے حضرت علیؓ سے بھی یہ نقل فرمایا ہے:
مزامیر کو توڑنے پھوڑنے کے لئے مجھے مبعوث کیا گیا ہے۔
«
عن ابن عباس أن النبي ﷺ أمرت بھدم الطبل والمزمار»
''
حضور کا ارشاد ہے کہ مجھے خدا نے ڈھول اور مزامیر کے توڑنے کا حکم دیا ہے۔'' (دیلمی)
#نکتہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کسی لبڑل کے برے دن آئیں تو وہ جذبات کی رو میں بہہ کر فیس بک پر الٹیاں کر دیتا ہے
قصوروار ہود بھائی نہیں مجرم یہ قوم ھے جس کے ذھنی معیار اور سوچ کا یہ عالم ھے کہ اس جیسے ایمان فروش اس ملک میں اتنے اعٰلی مقام پر پہنچا دیئے گئے ھیں ۔
لبڑل ازم، سیکولڑازم، الحاد اور راشن خیالی سمیت 
 
جتنے بھی ڈھکوسلے ہیں پاکستان میں ان کے پیچھے شیعہ اور قادیانی ہی کیوں نظر آتے ہیں۔۔؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جنید جمشید مرحوم کے خلاف جو پوسٹیں آرہی ہیں میرے خیال میں یہ بریلوی مکتبہ فکر کے لوگ نہیں بنا رہے، وہ الگ بات ہے جب پوسٹ بن جاتی ہے تو کئی عام لوگ بھی شیئر کرلیتے ہیں۔
 
اس قسم کی پوسٹیں ایک خاص لابی جو سول سوسائٹی کے نام سے مشہور ہے اس کی ٹیم بنا بنا کر شیئر کررہی ہے۔ مقصد فرقہ واریت کو ہوا دینا ہے۔
 
اس تنظیم کے کچھ لوگ جبران ناصر اور شلوار والی آنٹی وغیرہ وحدت المسلمین کے ساتھ پاکستان میں جبکہ کئی لوگ جرمنی میں بیٹھے ویب سائٹیں اور سوشل میڈیا کے اکاونٹ چلا رہے ہیں۔ البتہ سنی تحریک کے کچھ غنڈے بھی جو دراصل اسی موم بتی مافیا کے کارندے ہیں اس کام میں حصہ لے رہے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پہلی بات تو یہ کہ طیارہ حادثہ میں جان بحق ہونے والوں کی اللہ تعالی مغفرت فرمائے۔ آمین
 
اب آتے ہیں اصل بات کی طرف۔ گستاخ صحابہ حنیف ڈار غامدی کے متعلق ایک پوسٹ کے نیچے کئی لوگوں نے کہا کہ وہ دلیل سے بات کرتا ہے۔ یہ بات وہ لوگ کہہ رہے ہیں جنہوں نے حدیث کی کتابوں کے صرف نام سنے ہوئے ہیں کبھی اصل کتاب دیکھی نہیں ہو گی۔ حنیف ڈار غامدی نے جن احادیث کا حوالہ دے کر نعوذ بااللہ حضرت ابو ھریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کو جھوٹا اور کذاب کہا وہ احادیث پہلے سے ہی محدثین نے ضعیف یا موضوع، من گھڑت کی کیٹگری میں شامل کی ہوئی ہیں اور اس کی دلیل اور وجہ بھی  ساتھ بیان کر دی تھی۔ حنیف ڈار غامدی نے سارے راویوں کو چھوڑ کر انتہائی بدیانتی اور دھوکہ دہی سے کام لیتے ہوئے سیدھا صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہ کو جھوٹا کہہ دیا۔ حالانکہ من گھڑت حدیث بیچ کے کسی کذاب راوی کی گھڑی ہوتی ہے جسے وہ صحابی کی طرف منسوب کر دیتا ہے۔ جن صحابہ کے صدق کی گواہی قرآن دیتا ہو #غامدی کذاب کے بہتانوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ صحابہ کے نوکر ابھی زندہ ہیں۔
#نکتہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بجلی گیس کے میٹر کی رفتار کم کرنے سے لے کر افسروں کو مہربان کرنے تک
پسند کی لڑکی پھنسانے سے لے کر مفت عمرہ کرنے تک
کالا رنگ سفید کرنے سے لے کر قد چھ فٹ کرنے تک
بس سٹاپ پر گاڑی جلدی آنے سے لے کر ٹریفک جام سے نکلنے تک
بکرے چور پکڑنے سے لے کر پتھر دل موم کرنے تک
سارے مسائل کا حل لاہور کا عبقری پیش کرتا ہے۔
ان سے گزارش ہے کہ
 
پچھلے ستر سال سے جو نظام امیر کو امیر تر اور غریب کو غریب تر کررہا ہے اس نظام کو بدلنے کا کوئی وظیفہ بتائیں۔
 
کشمیر،فلسطین،شام، افغانستان کے مظلوم مسلمان پچھلے پندرہ سال میں ایک کروڑ کے لگ بھگ قتل ہوچکے ہیں مزید قتل عام جاری ہے۔ اس کا کوئی وظیفہ
 
ہمارے سیاستدان اربوں روپے لوٹ کر یورپ کے بینکوں میں رکھ چکے ہیں ان پیسوں کے پلک جھپک میں واپس قومی خزانے میں لانے کا وظیفہ بتائیں
 
الطاف حسین، جنرل مشرف سمیت سینکڑوں مفرور قاتل غیبی طور پر اچانک پاکستان پہنچ جائیں اس کا کوئی وظیفہ
#عبقری #نکتہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مسلکی بنیادوں پر فرنٹ فٹ پر کھیلنا باعث فخر نہیں بلکہ باعث عار بات ہے۔ ایسی پوسٹوں کے نیچے واہ واہ کرنے والے بڑی جہالت کا شکار ہیں۔
 
پھر اس ناسور کی نسبت اکابرین کی طرف کرنا بہتان عظیم ہے۔ عجیب بات ہے لوگ اس گند میں فرنٹ فٹ پر کھیلتے بھی ہیں اور تعلق اکابرین کے ساتھ بتاتے ہیں۔ 
 
اکابرین ہمیشہ اس لعنت کو ختم کرنے کی کوشش کرتے رہے لیکن موجودہ زمانے میں لوگوں نے اسے مستقل فرقے کی شکل دے دی۔
#نکتہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا ایک پہلو منصوبہ بندی بھی۔ جنگی منصوبہ بندیاں تو آپ نے سیرت کی کتب میں پڑھی ہوں گی۔ آج شہری آبادی کے حوالے سے جانیے۔
سابقہ ڈائریکٹر الشریعہ اکیڈمی اسلام آباد محمد یوسف فاروقی فرماتے ہیں۔ 
 
جب تک منصوبہ بندی نہ ہو تو کوئی بھی ملک وقوم ترقی نہیں کرسکتے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ طیبہ سمیت تمام اسلامی شہروں کی آبادی ایک خاص حد سے آگے بڑھنے پر پابندی عائد کردی تھی اور دوسرے شہر بسانے کا حکم دیا تھا جو منصوبہ بندی کا بہترین نمونہ ہے۔
#سیرت #نکتہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مذہبی طبقہ 70 سالہ تاریخ کو فراموش کرکے ابھی تک انتخابی سیاست سے خیر کی امید لگائے بیٹھا ہے۔ 70 سال کا عرصہ معمولی عرصہ نہیں، مومن تو ایک سورخ سے دو بار ڈسا نہیں جاتا لیکن یہاں ڈسنا تو دور گردنیں کٹ گئیں، زندہ جلادیا گیا، خون کی ندیاں بہہ گئیں لیکن پھر بھی اسی نظام سے امید ہے کہ یہ نظام اپنے آپ کو بدل دے گا۔
 
ایک صوبائی اسمبلی کی سیٹ پرالیکشن میں کامیابی پر ایسے خوشی کے شادیانے بجائے جارہے ہیں جیسے شاید بہت بڑا انقلاب آگیا ہے یا ایک مسلمان کا مقصد زندگی حاصل ہوگیا ہے۔ عقل مند وہ ہوتا ہے جو گزرے ہوئے لمحات اورناکام تجربات سے عبرت حاصل کرکے مستقبل کی بنیاد رکھتا ہے۔ اھل سنت والجماعت (سپاہ صحابہ) کے کئی لوگ پہلے بھی منتخب ہوئے ہیں لیکن انہیں بہت جلد راستے سے ہٹا لیا گیا۔ مولانا اعظم طارق جیسی عظیم، بہادر، مخلص شخصیت بھی اسمبلی پہنچ کر کچھ نہ کرسکے۔ کیونکہ موجودہ نظام کے رکھوالے اتنی پاور میں ہیں کہ انہیں ووٹ کی پرچی سے ہٹانا ناممکن ہے۔ اس سیاست میں فتح کی اس سے زیادہ کوئی اہمیت نہیں جیسے پاکستان انڈیا کے میچ میں پاکستان کے جیتنے پر قوم خوشی منا کر ہنسی خوشی سو جاتی ہے حاصل کچھ نہیں ہوتا۔
#نکتہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج سے چند سال قبل تک سیکولرازم، لبرل ازم وغیرہ گمراہ کن نظریات و افکار، بیہودہ تہذیب، باطل نظاموں سمیت بے شمار الفاظ کے گورکھ دھندے بہت عروج پر تھے، لیکن الحمدللہ چند اللہ کے بندوں کی سوشل میڈیا پر بھرپور محنت کے نتیجے میں آج یہ الفاظ گالی بن چکے ہیں اور خود لبرل بھی اپنے آپ کو لبڑل ظاہر کرتے ہوئے ہچکچاتے ہیں۔
 آئیں آپ بھی یہ جانیں کہ لبرل ازم، سیکولرازم اور الحاد کیا ہے اور پھر جو تحریر یا پیرا گراف سمجھ آئے اسے شیئر کردیں۔

http://ilhaad.com/
#نکتہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نئے سال سے متعلق ایک غلط فہمی درست کیجئے!
کئی لوگ یوں کہتے رہتے ہیں اسلامی سال کا آغاز محرم سے ہوتا ہے۔
یا یوں کہتے ہیں اسلامی سال تو قمری ہے۔
 یہ بات اس اعتبار سے تو ٹھیک ہے کہ قمری حساب سے مہینوں سالوں کا حساب اسلام نے شروع کیا۔ لیکن اسلامی سال کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ شمسی کیلینڈر غیراسلامی ہے۔ وہ بھی اسلامی ہی ہے۔

کیونکہ
اسلام نے اس سے منع نہیں کیا
جس طرح رمضان کے مہینے کا حساب قمر سے ہوتا ہے تو سحری افطاری کا حساب شمس سے ہوتا ہے۔
اسی طرح نمازوں کا بھی سارا حساب شمسی ہی ہے۔
بحیثیت مسلمان ہمیں قمری حساب ہی رواج دینا چاہیے لیکن شمسی کیلنڈر بھی غیر اسلامی نہیں۔
#نکتہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں ڈھابے میں بیٹھا دودھ پتی پی رہا تھا، ڈھابے کے چھوٹے نے اطلاع دی کہ جنرل باجوہ چیف بن گیا ہے۔۔۔ چھوٹے سے پوچھا کہ فوج کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلانے والے موم بتی مافیا کے لبڑل کہاں گئے ؟
چھوٹے کا جواب کمال کا تھا کہ ۔۔۔ کہنے لگا:
 قبض کی گولیاں کھا کر باتھ روم میں۔
فوج مخالف مہم کے ساتھ قبض کی گولیوں کا کیا تعلق ہے ؟ کمنٹ میں بتائیں۔
#نکتہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اردو درست کیجئے... 
 ****
نقطہ اور نکتہ کے بارے اچھے خاصے لکھاری غلط فہمی کا شکار رہتے ہیں۔ #قلم کو جب ہم صفحے پہ رکھ کے اٹھاتے ہیں تو ایک #نقطہ بنتا ہے یعنی ڈاٹ۔ نقطہ، کسی جگہ کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے اس کے علاوہ  مرکز کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ مثال کے طور پہ نقطہءِ نظر یعنی کسی کا مرکزِ نگاہ یا دیکھنے کا ڈھنگ۔ نقطہ کی جمع نقاط ہے۔ جبکہ نکتہ کسی باریک بات کو کہتے ہیں۔ مثال کے طور پہ فلاں شعر میں غالب نے بہت اہم #نکتہ بیان کیا ہے۔ نکتہ کی جمع نکات ہے۔ یہ کہنا کہ آپ کا بیان کردہ "نقطہ" قابلِ غور ہے ، غلط ہے۔
 نہ اور نا دونوں ہی نفی کے کلمے ہیں تاہم دونوں میں فرق لازم ہے۔ نفیء امر کے کے لیے "نہ" استعمال ہو گا مثال کے طور پہ نہ جا، نہ کہہ، نہ سن، نہ بول۔ اسی طرح نفیِ فعل کے لیے بھی "نہ" استعمال ہوگا۔ مثال کے طور پہ ع
نہ چھیڑ اے نکہت باد بہاری، راہ لگ اپنی
 جبکہ "نا" جب نفی کے لیے آئے گا تو کسی اسم یا صفت سے پہلے آئے گا مثال کے طور پہ ناروا، نارسا، ناپید۔ پھر "نا" تاکید کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے مثال کے طور پہ آؤ نا، سناؤ نا وغیرہ۔ غالبؔ کہتے ہیں۔ ع
آؤ نا ہم بھی سیر کریں کوہِ طور کی.... 
***
(.. انور #غازی کی کتاب ''#صحافت ایسے سیکھیں ''سے اقتباس.. )
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پیغمبرانہ ماڈل اور تاریخی ماڈل
موجوده زمانہ میں امت مسلمہ اپنے دور زوال میں ہے - آج کی یہ ایک اهم ضرورت ہے کہ امت کا احیا )revival( کیا جائے ، لیکن اس احیا کی لازمی شرط یہ ہے کہ یہ کام صحیح ماڈل کے مطابق کیا جائے - غلط ماڈل اختیار کرنے سے کبهی امت کا احیا نہیں هو گا ، خواه ہزاروں سال تک اس کی کوشش کی جاتی رہے -
احیاء امت کا صحیح ماڈل صرف ایک ہے ، اور وه پیغمبرانہ ماڈل ہے - یہ ماڈل سنت کی صورت میں پوری طرح محفوظ ہے - هم کو چاہئے کہ سنت رسول کے اس محفوظ ماڈل کو مطالعہ کتب کے ذریعے دریافت کریں اور پهر اس کی روشنی میں امت کے احیا کا کام انجام دیں -
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات 632 عیسوی میں هوئی - اس کے بعد امت مسلمہ کی ایک تاریخ بنی - یہ تاریخ ہزار سال سے زیاده مدت پر پهیلی هوئی ہے - بدقسمتی سے ایسا هوا کہ ہر مسلم اہل علم نے اس تاریخ کو نہایت مبالغہ آمیز انداز میں دہرایا - بعد کے زمانے میں لکهی جانے والی کتابیں سب کی سب تاریخ امت کی مبالغہ آمیز تصویر کشی کرتی رہییں - اس کا نتیجہ یہ هوا کہ شعوری یا غیر شعوری طور پر امت کے ذہن سے پیغمبرانہ ماڈل پس پشت چلا گیا اور تاریخی ماڈل ایک شاندار یاد کے طور پر ہر مسلمان کے دل میں نقش هو گیا -
اسی صورت حال کا یہ نتیجہ ہے کہ آج جو شخص احیاء امت کے لیے اٹهتا ہے ، وه بظاہر اگر چہ اسلام کا نام لیتا ہے ، لیکن عملا مسلم تاریخ کا احیا اس کا نشانہ بن جاتا ہے -
موجوده زمانے میں احیاء امت کی تمام تحریکوں کا یہی انجام هوا ہے - ان میں کوئی مسلم دور حکومت کے احیا کی بات کرتا ہے اور کوئی مسلم تہذیب کے احیا کو اپنا نشانہ بنائے هوئے ہے ، کوئی شرعی قانون کے نفاذ میں مسلم احیا کا راز بتاتا ہے ، کوئی جہاد کے نام پر تشدد کلچر پهیلائے هوئے ہے اور سمجهتا ہے کہ وه امت مسلمہ کا احیا کر رہا ہے ، وغیره -
اس قسم کی تحریکیں موجوده زمانے میں بہت بڑے پیمانے پر اٹهیں ، مگر ہنگامہ خیز جدوجہد کے باوجود وه عملا ناکام ثابت هوئیں - اس ناکامی کا سبب صرف ایک تها ، وه یہ کہ ان تحریکوں کو اللہ کی نصرت حاصل نہیں هوئی - نصرت خداوندی سے محرومی کا سبب مشترک طور پر یہ تها کہ یہ سب کی سب تحریکیں تاریخی ماڈل کو لے کر کهڑی هوئیں - ان میں سے کوئی بهی تحریک حقیقی طور پر پیغمبرانہ ماڈل کو لے کر نہیں اٹهی -
پیغمبرانہ ماڈل اور تاریخی ماڈل کا فرق ایک لفظ میں یہ ہے کہ پیغمنرانہ ماڈل مبنی بر دعوت ماڈل هوتا ہے - اس کے برعکس ، تاریخی ماڈل مبنی بر سیاست ، مبنی بر تہذیب ، مبنی بر قومیت هوتا ہے - اس دنیا میں کوئی تحریک اللہ کی نصرت سے کامیاب هوتی ہے اور اللہ کی نصرت صرف پیغمبرانہ ماڈل پر آتی ہے ، کسی اور ماڈل پر اللہ کی نصرت کبهی آنے والی نہیں -
 رسالہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لفظ ''قاری صاحب'' غلط العام ہے۔؟
ہجرت سے دو سال قبل حضور صلی اللہ علیہ وسلم مصعب بن عمیر رضی اللہ تعالی عنہ کو معلم بنا کر یثرب بھیجا۔ وہ وہاں لوگوں کو اسلام کی دعوت کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کو قرآن مجید کی تعلیم دیتے تھے۔ چنانچہ وہاں ان کا نام مقری مشہور ہوگیا۔ مقری کا معنی ہے پڑھانے والا۔
ہمارے ہاں قرآن پڑھانے والا قاری کے نام سے مشہور ہوتا ہے، حالانکہ قاری کا معنی پڑھنے والا ہے۔
اس لئے آپ کے گھر یا مسجد میں جو مقری صاحب پڑھاتے ہیں انہیں صحیح نام سے پکاریں۔
 پاکستانی معاشرے میں اس طرح کے شگوفے بہت عام ہیں۔ مثلا ہمارے ہاں ہر مدرسے کے باہر اس کے نام کے ساتھ جامعہ کا لفظ لکھا ہوتا ہے، اور اندر نورانی قاعدہ اور حفظ و ناظرہ کی کلاس ہورہی ہوتی ہے۔ یہ بھی غلط بات ہے۔ جامعہ اس مدرسے کو کہتے ہیں جو یونیورسٹی لیول تک کی تعلیم دیتا ہو یعنی کم از کم دورہ حدیث تک تعلیم ہو۔
ایسے چھوٹے مدرسے کو مدرسہ، مکتب، معہد وغیرہ کہنا اور لکھنا چاہیے۔
#نکتہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بال صفا پاوڈر، چونا، اور دیگر مضر اشیاء سے سفید لیکوڈ تیار کرکے دودھ کے نام سے فروخت کرنے والی کمپنیاں، ملک پیک، اولپر وغیرہ اتنی طاقتور ہیں کہ اعلی عدلیہ سپریم کورٹ بھی کاروائی کرنے سے عاجز ہے اور محض کمشن بنانے کی دھمکیاں ہی دی جارہی ہیں۔ عوام کو کون انصاف دے گا۔
#نکتہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بینظیرمرحومہ سے اختلاف اپنی جگہ لیکن ان کی کوئی نیکی ایسی ضرور ہے جس کی وجہ سے مزار پر اکثر اوقات خواتین قرآنی خانی میں مصروف رہتی ہیں، اور پھر خصوصی دنوں میں خصوصی قرآنی خوانی کا اہتمام پورا پورا دن کیا جاتا ہے۔ اس سے تو انکار نہیں کہ یہ ایصال ثواب ان کو ملتا ہوگا۔ شاید افغان طالبان کی اسلامی حکومت کو کروڑوں روپے کا ڈیزل مفت سپلائی کرنے والی وہ نیکی ہی ان کی بخشش کا ذریعہ بن گئی ہوجس کے طعنے مولانا فضل الرحمن صاحب ابھی تک سن رہے ہیں۔
#نکتہ
،،،،،،،،،،،،،
اردو پوائنٹی ایک متعدی بیماری کا نام ہے۔ یہ بیماری پہلے پہل اردو پوائنٹ والوں کو لگی تھی۔ پھر ڈیلی قدرت والوں کو لگ گئی، اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے زیم ٹی وی، ڈیلی پاکستان، ایکسپریس، اور جاوید چودھری سمیت کئی لوگ اس کا شکار ہو گئے۔ کچھ عرصہ بی بی سی بھی متاثر ہوا تھا لیکن انہوں نے جلدی ہی ویکسین لگا کر اپنے آپ کو بچا لیا۔
 لیکن اب یہ بیماری ٹی وی چینلز کو بھی لگ چکی ہے چنانچہ آج سماء ٹی وی نے اپنی ہیڈ لائنز میں ایک پوائنٹی ماری کہ حکومت نے سمارٹ فونز پر پابندی لگانے کا فیصلہ کر لیا ہے، مجھے اس کی تفصیلات جاننے کے لئے آدھا گھنٹہ بلا ضرورت ان کی بک بک سننی پڑھی۔ آدھے گھنٹے بعد تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نےکہا کہ سندھ حکومت نے اجلاسوں میں سمارٹ فونز لانے پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔

 اس بیماری کے پیچھے دراصل ریٹنگ کے جراثیم ہوتے ہیں۔ قارئین اور سامعین کے پاس اس سے بچنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ فورا بلاک کا اسپرے کریں۔

#نکتہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مولانا احمد علی لاہوری رحمہ اللہ کے متعلق سنا کہ انھوں نے اپنے ایک مجاز بیعت کو خلافت دی۔ رخصت ہوتے وقت انھوں نے نصیحت کی فرمائش کی تو مولانا نے فرمایا کہ نصیحت کی کوئی خاص ضرورت نہیں، بس دو باتوں کا خیال رکھنا
: ایک یہ کہ خدا نہ بننا اور دوسرا یہ کہ رسول نہ بننا۔

 وہ حیران ہوئے اور کہا کہ استغفر اللہ! اس کا کوئی مسلمان تصور بھی کیسے کر سکتا ہے؟ آپ کی بات کا مطلب سمجھ میں نہیں آیا۔

مولانا نے فرمایا:
" خدا بننے کا مطلب یہ ہے کہ تم یہ خواہش کرو کہ زندگی میں، میں جو چاہوں، وہ ہو 
جائے۔ سو یہ شان تو صرف اللہ کی ہے
 
اور رسول بننے کا مطلب یہ ہے کہ تم یہ تمنا کرو کہ ساری دنیا مجھ سے عقیدت رکھے. سو یہ مقام بھی صرف رسول کا ہے۔"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

No comments:

Post a Comment