آنکھوں
کی ساخت کے لحاظ سے مختلف قسمیں ہیں جو شخصیت سے محبت اور عشق کا باعث بنتی ہیں ۔
سات اہم قسم کی آنکھیں :
خدمتگار آنکھیں
ہنرمند آنکھیں
جنگجو آنکھیں
عالم آنکھیں
سمجھدار آنکھیں
عبادت گزار آنکھیں
بادشاہ آنکھیں
ہنرمند آنکھیں
جنگجو آنکھیں
عالم آنکھیں
سمجھدار آنکھیں
عبادت گزار آنکھیں
بادشاہ آنکھیں
جس
طرح آنکھوں کی ایک خاص شناخت کسی کو متاثر کرنے میں کردار ادا ہے اسی طرح آنکھوں
کی ایک خاص زبان ہوتی ہے جس کو باڈی لینگوج کہا جاتا ہے یہ زبان بنیادی طور پر
زبان کے استعمال کے بغیر اپنے جذبات اور ہیجان کی عکاسی کرتی ہے مثلا روتے وقت
انسان کی آنکھیں دکھ کا احساس دلاتی ہیں ۔محبوب کی موجودگی میں اس سے نظر ملانے پر
اضطراب کی کفیت اور پلکوں کے بے ہنگم ہو جانا اسی طرح ظلم و جبر میں آنکھوں سے
عیاں ہو جاتا ہے کہ شخص پر ظلم کیا گیا ہے ۔ ایسی طرح خوشی کی حالت میں آنکھوں کی
چمک بھی زبان ہی ہے۔اسی طرح ایک لفظ نظروں کا ملنا ہے جس کو آئی کونٹیکٹ کہتے ہیں
اور خوبصورت چیز کو مسلسل دیکھتے رہنے کو گیز یاں نظر جمانا کہتے ہیں۔ اور انگریزی
میں اس کے مطالعہ کو آکلوسیس کہتے ہیں۔
آنکھوں
سے پیغام رسانی کا عمل زبان کی ابتدا سے پہلے کا ہے جو بہت سارے دوسرے جانوروں میں
ابھی بھی پایا جاتا ہےزبان کی ابتدا تو تقریبا 100,000سال پہلے ہوئی اس سے پہلے
آنکھوں سے ہی زیادہ تر پیغام رسانی کا کام سرانجام دیا جاتا تھازبان کی ابتدا کے
ساتھ ہی آنکھوں سے یہ عمل ختم ہوگیا۔ لیکن ابھی بھی ان کا بہت عمل دخل ہے جب
جاندار لڑائی کے وقت بہت دیر تک ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھتے ہیں یہ ٹکٹکی
باندھنے کی وجہ یا تو لڑائی ، شکار یا جنسی عمل کا ہوتا ہے اسی طرح ہمارے معاشرے
میں اجنبی کی آنکھ میں دیکھا نہیں جاتا اور نظریں ملانے میں شرم محسوس کی جاتی ہیں
اور اس کی وجہ اجنبی کو اہمیت نہ دینے کے ہیں۔
آپ
کا کسی اجنبی سے تعارف کرایا جاتا ہے یا تو آپ اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہیں یا
چہرے کے کسی حصے پر آنکھوں کو مرکوز کرتے ہیں۔ کسی کی آنکھوں میں دیکھنا اور اس کے
دیکھنے کا جواب دینا اس کو مضبوط بنا دیتا ہے۔ جب کہ مسلسل کسی اجنبی کی آنکھوں
میں دیکھنا پریشانی اور حیرانی کا باعث ہے۔ ماہرین کے خیال میں صحتمندانہ نظری
رابطہ اس طرح ہوتا ہے کہ تین یا چار سیکنڈ کے لیے کسی کی آنکھوں میں دیکھنا اور
پھر اس کے چہرے کے دوسرے حصوں کو دیکھنا اور پھر دوبارہ نظری رابطہ قائم کریں۔
جب
کسی سے نظریں ملانے میں دقت محسوس ہو تو اس کا مطلب آپ اس سے کچھ راز رکھ رہے ہیں
یا آپ اس سے شرم محسوس کر رہے ہیں۔
اور
اگر آپ کسی شخص کو دیکھیں جو کسی جواب کی تلاش میں ہو تو اس کی آنکھوں کی حرکات پر
غور کریں وہ شخص اگر بائیں جانب دیکھ رہا ہو تو اس کا مطلب ہے کہ وہ اپنی یادشت تک
رسائی حاصل کر رہا ہے اور اگر وہ دائیں جانب دیکھ رہا ہو تو اس کا مطلب ہے کہ وہ
اپنے دماغ کے تخلیقہ حصے پر زور دے رہا ہے۔ وہ کوئی کہانی تخلیق کر رہا ہے تاکہ آپ
کو سنائے اس سے یہ اخذ ہو سکتا ہے کہ وہ جھوٹ اور سچ کب بولے گا۔
انسانی
آنکھ کا ایک اہم حصہ جس کو پتلی کہا جاتا ہے اس کو انسان کنٹرول نہیں کر سکتا یہ
غیر ارادی طور پر پھیلتی اور سکڑتی ہے اس کو 1975 میں ایکہارڈ نے دریافت کیا
انسانی کی آنکھ کی پتلی نہ صرف روشنی میں سکڑتی اور پھیلتی ہے بلکہ جب عاشق محبوب
کو دیکھ رہا ہو اور اس سے مخاطب ہو نظریں مل رہی ہوں تو پتلی کا سائز بڑھ جاتا ہے
اور اگر آپ کسی ایسے سے بات کر رہے ہیں جس سے بات نہیں کرنا چاہتے تو اس کا سائز
چھوٹا ہو جاتا ہے۔
آئی
کنٹیکٹ :
اور جب آپ اپنے محبوب کی آنکھوں میں دیکھ رہے ہوں تو بہتر ہے کہ اس کی بائیں آنکھ میں دیکھیں کیونکہ بائیں آنکھ ہمارے ہیجانی مرکز سے تعلق رکھتی ہے اور دائیں آنکھ کا تعلق سوچنے والے دماغ کے حصے سے ہے ۔ کیونکہ ہر آنکھ اپنے مخالف قشر سے تعلق رکھتی ہے یعنی بائیں آنکھ دائیں قشر اور دائیں قشر بائیں قشر سےتعلق رکھتی ہے۔پہلی دفعہ کی ملاقات میں بہتر ہے کہ دائیں آنکھ میں دیکھا جائے جیسے کاروبار کے سلسے میں ہونے والی ملاقات۔
اور جب آپ اپنے محبوب کی آنکھوں میں دیکھ رہے ہوں تو بہتر ہے کہ اس کی بائیں آنکھ میں دیکھیں کیونکہ بائیں آنکھ ہمارے ہیجانی مرکز سے تعلق رکھتی ہے اور دائیں آنکھ کا تعلق سوچنے والے دماغ کے حصے سے ہے ۔ کیونکہ ہر آنکھ اپنے مخالف قشر سے تعلق رکھتی ہے یعنی بائیں آنکھ دائیں قشر اور دائیں قشر بائیں قشر سےتعلق رکھتی ہے۔پہلی دفعہ کی ملاقات میں بہتر ہے کہ دائیں آنکھ میں دیکھا جائے جیسے کاروبار کے سلسے میں ہونے والی ملاقات۔
تنہائی
میں کسی ایسی جگہ کا انتخاب کریں جو لوگوں سے خالی ہو اور شور سے بلکل پاک صاف
ستھری فضا ہو تاکہ آپ اپنے دوست کے بہت قریب آ سکیں اور تما م تر توجہ اس کی
آنکھوں میں مرکوز کر سکیں اور اپنے جسم کو بلکل سکون میں کر دیں یہاں تک کہ اردگرد
کی دنیا سے تعلق نہ رہے۔
روشنی
بلکل مدھم ہونی چاہیے زیادہ روشنی سے پتلی سکڑ جاتی ہے اور کم روشنی میں پھیلتی ہے
اس لیے کم روشنی میں آپ بخوبی یہ عمل سر انجام دے سکتے ہیں۔ نرم سے ٹکٹکی باندھ کر
اور اس کی آنکھوں میں محبت سے دیکھنا اور اپنے چہرے کے پٹھوں کو بلکل پر سکون
رکھیں۔ باتوں سے پرہیز کریں۔
آنکھوں
میں دیکھنے کا عمل جاری رہے اور ذہنی دباؤ کو دور کریں اور ایک دوسے کے لیے محبت
کو محسوس کریں اور آنکھوں کو بلکل بھی اپنی جگہ سے ہلایا نہ جائے تاکہ زیادہ دیر
دیکھنے میں آسانی رہے۔آہستہ آہستہ آپ کا نظری رابطہ گہرا ہو جائے گا اور بہت زیادہ
طاقت کا احساس ہو گا اس عمل سے کسی کا اعتماد حاصل کرنے اور اس سے بہتر تعلق قائم
کیا جا سکتا ہے۔
یہ
تحریر ،
ریشنلسٹ سوسائٹی آف پاکستان کی ویب سائٹ سے لی گئی ہے ۔
ریشنلسٹ سوسائٹی آف پاکستان کی ویب سائٹ سے لی گئی ہے ۔
No comments:
Post a Comment