Search This Blog

Saturday, December 31, 2016

دسمبر2016 فیس بک کی پوسٹیں

دسمبر2016
Hm Zubir
زبیر صاحب بہت عرصہ سے میری فرینڈ لسٹ میں تھے، بہت اچھا لکھتے ہیں میں ان کی تحریروں سے مستفید بھی ہورہا تھا۔ لیکن کبھی ان کی کسی پوسٹ پر کمنٹ نہیں کیا تھا۔
آج کچھ ایسا ہوا کہ انہوں نے ایک پوسٹ لکھی جس پر میں نے کمنٹ لکھا اگلے ہی لمحے کمنٹ ڈیلیٹ کرنے کے ساتھ ہی بلاک مار دیا۔ بس بات اتنی سی تھی کہ پوسٹ میں پیش کیے گئے موقف کی میں نے واہ واہ نہیں کی بلکہ اصولی اختلاف کیا تھا۔ بلاک کی آپشن میں بھی استعمال کرتا ہوں مگر اختلاف کرنے والوں کے خلاف نہیں بلکہ گالم گلوچ کرنے والوں کے خلاف یہ مجبوری ہوتی ہے۔
جہاں تک ان کی پوسٹ کا تعلق ہے اس میں انہوں نے وہی باتیں کی تھیں جنہوں نے امت مسلمہ کا بیڑا غرق کررکھا ہے اور چند دن قبل میں نے اسلامی تحریکوں کے کارکن متوجہ ہوں کے عنوان سے اسی موضوع پر بات کی تھی کہ اھل سنت والجماعت کی تمام تحریکیں اور تنظیمیں جوجو دینی خدمات سرانجام دے رہی ہیں ان کی ہمیں قدر کرنی چاہیے اور ایسا ذہن ہرگز نہیں بنانا چاہیے کہ صرف ہماری جماعت ہی دین کا سارا کام کررہی ہے اور کوئی دوسری تنظیم نہیں کررہی۔
البتہ اپنی تنظیم اور اس کے کام کے ساتھ والہانہ لگاو ضرور ہونا چاہیے جبکہ دوسری تنظیموں اور جماعتوں کے خلاف پروپیگنڈا نہیں کرنا چاہیے اور نہ ہی انہیں ایک لاٹھی سے ہانک کر گمراہی کے کھاتے میں ڈالنا چاہیے۔ امت مسلمہ اس وقت جس نازک ترین دور سے گزر رہی ہے کسی بھی دینی جماعت کے کارکن کا اپنا مشن چھوڑ کردوسری کسی ایسی جماعت کے خلاف اپنی توانائیاں خرچ کرنا بیوقوفی ہے جوکوئی ایسا کام کررہی ہے جو آپ نہیں کررہے۔ 
آپ چاہے جس بھی جماعت سے تعلق رکھتے ہوں آپ وہ کام نہیں کررہے جو دوسری جماعت کررہی ہے۔ آپ کسی سیاسی یا انقلابی یا تبلیغی جماعت سے تعلق رکھتے ہیں تو آپ اسلام کا علمی کام نہیں کررہے وہ کام مدارس والی تنظیمیں کررہی ہیں، اگر آپ مدرسے میں بیٹھے ہوئے ہیں تو آپ سیاسی اور انقلابی کام نہیں کررہے۔ اور حقیقت یہ ہے کہ یہ سب کام ایک دوسرے کے متضاد نہیں بلکہ مترادف ہیں یا سب ایک ہی سمت میں جارہے ہیں۔ آپ ان نابینوں کی طرح نہ بنیں جو ایک ہاتھی کے پاس کھڑے تھے جس نے ٹانگ کو ہاتھ لگایا تو کہا ہاتھی لمبا گول اور موٹا ستون کی طرح ہوتا ہے۔ جس نے کان کو ہاتھ لگایا تو کہا ہاتھ والے پنکھے کی طرح ہوتا ہے۔ جس نے دم کو پکڑا تو کہا سانپ کی طرح ہوتا ہے وغیرہ وغیرہ۔
آپ کو چاہیے آپ امت خصوصا اھل حق کی جماعتوں کو ایک ادارے کی نظر سے دیکھیں یہ مختلف ڈیپارٹمنٹ ہیں جو دین کے مختلف شعبوں میں کام کررہے ہیں۔
جب تک یہ تنگ نظری ختم نہیں ہوتی اس وقت تک کامیابی مشکل ہے۔ لیکن مجھے اس وقت سخت حیرت ہوتی ہے کہ جب تحریکی جماعتوں کے اچھے خاصے پڑھے لکھے سمجھدار پروفیسر بھی امت میں فرقہ واریت کو ہوا دیتے ہیں اور الزام بیچارے اس مولوی پر لگتا ہے جو پانچ ہزار روپے میں چوبیس گھنٹے مسجد کی ذمہ داری سنبھالے ہوئے ہے۔
#نکتہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فیس بک پوسٹ
یہ حیرت انگیز حقیقت بہت کم لوگوں کو معلوم ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی میں جتنی جنگیں ہوئیں جن کے نتیجے میں ایک فلاحی اسلامی ریاست قائم ہوئی۔ ان تمام جنگوں میں جو سو کے قریب ہیں 
صرف
اور
صرف
1059
انسان قتل ہوئے۔
یہ تعداد صرف کافروں کی نہیں بلکہ مسلمان شہدا اور کافر مقتول تمام کی کل تعداد ہے۔
ماوزے تنگ #ملحد تھا۔ اس نے پانچ کروڑ قتل کیے۔
سٹالن ملحد تھا اس نے ساڑھے تین کروڑ قتل کیے۔
ہٹلر لادین تھا اس نے نوے لاکھ قتل کیے۔
لیوپولڈ عیسائی تھا اس نے ایک کروڑ قتل کیے۔
ہیدیکی نے پچاس لاکھ قتل کیے۔
امریکا نے اب تک پانچ کروڑ انسانوں کو قتل کیا جن میں اکثریت مسلمانوں کی تھی۔
روس بھی ایک کروڑ کے لگ بھگ مسلمانوں کو قتل کرچکا ہے۔
برطانیہ اور فرانس کی تاریخ بھی سیاہ ہے۔
 
جبکہ دوسری طرف انتقامی آگ میں جل کر چند سو لوگ دماغی توازن برقرار نہ رکھنے کی وجہ سے پھٹ گئے، جس سے پورے اسلام کو بدنام اور مسلمانوں کو دہشت گرد کہہ کر اپنے کروڑوں کو چھپایا جارہا ہے۔
 
اس کام کے لئے انہوں نے ہرملک میں وہاں کے چند لبڑل بطور نائی کے رکھے ہوئے ہیں جو ان کا مقدمہ میڈیا پر پیش کرتے رہتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
23-12
حدیث بھی نبی کی زبان سے صحابہ نے سنی اور پھر ہم تک پہنچی۔
قرآن بھی نبی کی زبان سے صحابہ نے سنا اور پھر ہم تک پہنچا۔
 
جو غامدی حدیث کو یہ کہتے ہوئے رد کر رہے ہیں کہ اس میں ملاوٹ ہے اور ملاوٹ کرنے والے صحابہ ہیں تو پھر قرآن کی کیا گارنٹی ہے کہ اس میں ملاوٹ نہیں۔ یہ بات انہوں نے بعد میں کرنی ہے جب حلقہ اثر بڑا ہو جائے گا۔ جو حدیث میں ملاوٹ تسلیم کر لے گا پھر لامحالہ قرآن میں ملاوٹ بھی تسلیم کرنا پڑے گی۔
#نکتہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سکندرحیات بابا Sikandar Hayat Baba نے لکھاریوں کے لئے ایک نئی ویب سائٹ لانچ کرنے کا اعلان کیا ہے، انہوں نے اس ویب سائٹ کی جوجو تعریفیں کی اللہ کرے ویسی ہی ویب سائٹ ہو۔ اس حوالے سے ان کی خدمت میں چند گذارشات پیش ہیں۔
11
۔ اس وقت جوجو ویب سائٹس مثلا دلیل پی کے، آئی بی سی، وغیرہ موجود ہیں شاید ان کا کام اچھا چل گیا ہے اس لئے انہوں نے اپنا معیار وہی بنا لیا ہے جو جنگ اخبار کا ہے، یعنی مضامین صرف ان لوگوں کے شائع کرنے ہیں جو الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کی مشہور شخصیات ہیں ۔ آپ اگر اپنی ویب سائٹ کو منفرد اور مقبول بنانا چاہتے ہیں تو اس پالیسی سے اجتناب کریں۔
22
۔ مذکورہ ویب سائٹس ریٹنگ،اور سب سے پہلے کے چکر میں پڑھ چکی ہیں اس لئے ان کی خواہش ہوتی ہے کہ لکھاری اپنا مضمون سب سے پہلے ان کو بھیجے، چنانچہ وہ ہر اس مضمون کو رد کردیتے ہیں جو چند گھنٹے پہلے کسی دوسری ویب سائٹ پر شائع ہوچکا ہے۔ باباجی اگر آپ کا مقصد اصلاح معاشرہ ہے تو پھر اس غلط عمل سے اجتناب کرنا ہوگا، کیونکہ ہر اچھی بات باربار بتانے اور پھیلانے کی ہوتی ہے۔ دوسری بات یہ کہ ہرمیڈیا اور ویب سائٹ کے کچھ اپنے قارئین بھی ہوتے ہیں جو صرف اسی ویب سائٹ کو دیکھتے ہیں کسی دوسری کو نہیں ۔اس حوالے سے ہماری ویب کی پالیسی بہت اچھی ہے وہ ہر اچھے مضمون کو شائع کردیتے ہیں۔
33
۔ آپ اپنی ویب سائٹ میں ہماری ویب کی طرح ہر لکھاری کا اپنا اکاونٹ کی سہولت بھی رکھیں تاکہ ہرلکھنے والے کے مضمون ایک جگہ جمع ہوتے رہیں، کوئی قاری کسی لکھاری کے نام پر کلک کرے تو اس کے سارے مضمون ایک جگہ دستیاب ہوں۔
44
۔ خبروں میں اردپوائنٹیاں مارنے سے بھی اجتناب کریں، یعنی ایسی عجیب ہیڈنگ دے کر فیس بک پر شئیر کرنا کہ دیکھنے والا ضرور لنک پر کلک کرکے ویب سائٹ پر جائے، اس طرح ایک آدمی چند بار ہی کلک کرتا ہے پھر ہمیشہ کے لئے بلاک کردیتا ہے۔
55
۔ آپ اخبارات کی سرخیوں کی طرح ہیڈنگ دیں ، جس کو اس خبر میں دلچسپی ہوئی وہ تفصیلات کے لئے آگے جائے گا ورنہ نہیں۔
#نکتہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دہشت گردی کا جرم قابل معافی ملحدوں کے نزدیک تو ہو سکتا ہے مسلمانوں کے نزدیک نہیں۔ سیکولروں کے ابا جی ٹونی بلیئر نے عراق میں بیس سال جنگ لڑنے کے بعد جب لاکھوں انسان قتل ہوچکے تھے صرف اتنی بات کہی کہ ہم سے غلطی ہوئی ہم معافی مانگتے ہیں۔
جبکہ ہم یہ کہتے ہیں دہشت گرد پکڑا جائے تو اسے اس کے جرم کے مطابق سزا قتل یا پھانسی دو۔
#نکتہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسلامی تحریکوں کے کارکنان کے نام کل والے مضمون کو دوستوں نے بہت سراہا ہے، البتہ بعض دوستوں نے پھر وہی سوال کیا جسے دور کرنے کے لئے ہی یہ مضمون لکھا گیا تھا۔ یعنی تبلیغی جماعت فلاں فلاں کام کیوں نہیں کرتی۔
 
اب اسے مزید آسان الفاظ میں اگر سمجھایا جائے تو بات یوں ہے کہ بھائی وہ الگ ڈیپارٹمنٹ ہے ہر ڈیپارٹمنٹ کا اپنا کام ہوتا ہے۔ جس طرح تعلیمی میدان میں ہر علم کے الگ الگ شعبے ہیں اور ہر شعبہ اپنا ہی کام کرتا ہے دوسرا نہیں۔ آپ تبلیغی جماعت سے جو امیدیں وابستہ کر بیٹھے ہیں وہ اس کے لیے بنی ہی نہیں۔
دوسری بات یہ کہ ہر کارکن یہ سوچے کہ آیا وہ خود اور اس کی جماعت  بھی دین کے سارے شعبوں میں کام کررہی ہے یا نہیں۔ یقینا نہیں۔ تو پھر دوسرے شعبوں میں کام نہ کرنے کا آپ کے پاس کیا عذر ہے۔؟ 
 
اگر آپ کا یہ عذر ہے کہ ہم ناتواں ہیں، تو بھائی یہی عذر تبلیغی جماعت کا بھی سمجھیں وہاں اکثریت معاشرے کے کمزور طبقات کی ہے ان کے کندھے آپ کے کندھوں سے زیادہ ناتواں ہیں۔
اگر آپ کا عذر یہ ہے کہ حالات موافق نہیں تو۔ یہی عذر ان کا بھی سمجھیں۔
الغرض اپنے ضمیر سے پوچھیں جو مجبوری آپ کی ہے وہی ان کی بھی ہوگی۔
 
اس لئے ان فضول بحثوں سے نکلیں اور آگے بڑھیں، ایک دوسرے سے تعاون کریں اور نظر منزل اور دشمن پر رکھیں۔
#نکتہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لامذہبیت کی سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ یہ قتل کو بھی مفاد بنا دیتا ہے۔مذہب میں کم از کم جائز ناجائز کی تمیز تو ہوتی ہے۔۔۔ لامذہب انسان دوسرے کو قتل کر کے شرمندہ ہونے کی بجاے فخر محسوس کرتا ہےکہ یہ اس کا مفاد ہے۔
ملحد (کمیونسٹ) سنیوں کو قتل کر کے فخر محسوس کر رہے ہیں، کہ وہ اتحاد نبھا رہے ہیں۔
ملحد (کمیونسٹ) مسلمانوں کو بارود سے جلا کر خوش ہیں کہ وہ بغاوت کچل رہے ہیں۔
ایک وقت تھا جب لبڑل اور سیکولر لوگ عیسائی پیشواوں کو مار کر نازاں تھے
ملحد ہٹلر نے لاکھوں یہودیوں کا قتل عام کیا۔
 
قتل و غارت اب بھی جاری ہے بنام امن واستحکام۔۔۔۔۔وہ امن جس کا حکم رب ذوالجلال، سب کے خالق اور مالک نے دے رکھا ہے۔
#نکتہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک پروفیسر صاحب کسی تقریب میں تقریر کررہے تھے، تقریر کرتے کرتے قرآن کی تفسیر کیسے کی جاتی ہے اس موضوع پر بولنا شروع کردیا۔ چنانچہ تفسیر کرنے کا طریقہ بتاتے ہوئے کہنے لگے کہ تفسیر کرنا تو بہت آسان کام ہے۔ پہلے آپ کوئی بات سوچیں۔ پھر اردو ترجمے والا قرآن پاک اٹھا کر اس بات کو قرآن میں تلاش کرنا شروع کریں جس آیت کے ترجمے میں آپ کی سوچی ہوئی بات کا مفہوم پایا جائے بس یہی اس آیت کی تفسیر ہے۔
۔۔۔۔
آپ سوچتے ہوں گے دین میں بگاڑ کیسے آتا ہے۔؟
تو یہ جاننے کے لئے ان صاحب کی کمنٹ پڑھ لیں۔
 
اب انہوں نے ہر صورت جیسے کیسے ہو کھینچ تان کر یہی ثابت کرنا ہے کہ سفیر کا قتل جائز ہے۔ فیصلہ انہوں نے پہلے کردیا ہے کہ فتویٰ میرا یہی ہے اب اس کو کسی نہ کسی آیت یا حدیث سے ضرور ثابت کرنا ہے۔
 
اگر ان صاحب میں چار آنے بھی دین کی سمجھ بوجھ ہوتی تو یوں کہتے کہ میں قرآن و سنت میں دیکھ کر بتاؤں گا کہ یہ قتل ٹھیک ہے یا نہیں۔
#نکتہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کسی نے ٹھیک ہی کہا ہے کہ لبرل کی عقل گٹوں (ٹخنوں) میں ہوتی ہے۔
ایک نے سوال کیا ہے کہ بڑا جنازہ خوش بختی کی علامت ہے تو حضور کا جنازہ کتنا بڑا تھا۔۔۔؟
 
جس بیوقوف کو اتنی سی معمولی بات کا علم نہیں اور وہ اس کو اعتراض بنا کر مسلمانوں اور اسلام پر اعتراض کرنا چاہتا ہے اسے چلو بھر پانی میں ڈوب مرنا چاہیے۔ یہ بات تو ہمارے مسلمانوں کے چھوٹے چھوٹے بچے بھی جانتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا جنازہ انسانی تاریخ کا سب سے بڑا جنازہ تھا۔ آپ کا جنازہ مدینہ شہر کی 100٪ آبادی نے پڑھا تھا۔ مردوں نے بھی پڑھا عورتوں نے بھی پڑھا، غلاموں نے بھی پڑھا حتی کہ سمجھدار بچوں نے بھی پڑھا۔ مدینہ شہر کا کوئی باشندہ باقی نہیں رہا پورے شہر نے جنازہ پڑھا اس کے علاوہ دور دراز سے جوجو لوگ تدفین سے قبل پہنچ سکے انہوں نے بھی پڑھا۔
#نکتہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جنید جمشید کی فوجی اعزاز کے ساتھ تدفین
 
چند ماہ قبل انسانیت انسانیت کی رٹ لگانے والے ربڑل اور سیکولڑ سمیت تمام راشن خیالوں کو آج انسانیت بھول گئی ہے چنانچہ کوئی فوج پر تنقید کررہا ہے اور کسی کے پیٹ میں ٹھیسیں اٹھ اٹھ کر وہیں پھٹ رہی ہیں، پیچس اپنی وال پراور الٹیاں دوسروں کی کمنٹ لائن پر گر رہی ہیں۔
#نکتہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شام میں ظلم و ستم اور سربریت کی جو تاریخ رقم کی جارہی ہے اس میں اصل کردار دو ممالک روس اور ایران کا ہے
ایران کی فوج اور جوان شامی عورتوں کی عصمت دری اور مردوں کا قتل عام کر رہے ہیں
جبکہ روسی جہاز مسلسل بمباری کر رہے ہیں۔
 
اس لئے ان دونوں ملکوں اور ان میں رہنے والی قوموں کو خود بھی یاد رکھیں اور اپنے بچوں کو بھی یہ سبق ابھی سے پڑھا دیں کہ ایرانیوں کا جب جہاں اور جس وقت بس چلتا ہے وہ انسانیت کے ساتھ ایسا ہی کرتے ہیں۔ ایرانی قوم اسلام اور مسلمانوں کے دشمن تھے، ہیں اور رہیں گے۔
#
#نکتہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک دوست تو حنیف ڈار اور غامدی سے بہت پریشان ہی ہوگئے اور کہنے لگے اب کیا ہوگا۔
میں نے کہا بھائی آپ کی پریشانی بجا مگر آپ تاریخ سے واقف نہیں۔
 
پہلی بات تو یہ ہے کہ غامدی جیسے لوگوں کا شکار عام طور پر ایسے ہی لوگ بنتے ہیں جو دنیاوی لحاظ سے اونچے گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ جبکہ اسلام میں زیادہ تر غریب لوگ رہے ہیں، غریبوں نے ہی اسے اٹھایا بھی اور پھیلایا بھی۔ ان غریبوں تک غامدیوں کی رسائی اس لئے بھی نہیں ہوتی کہ غامدی جس سٹیٹس کے مالک ہوتے ہیں اس سے نیچے اترتے ہوئے انہیں موت پڑتی ہے، جبکہ وہ ایک گروہ جس کی  حدیث میں ہمیشہ حق پر قائم رہنے کی پیشن گوئی آئی ہے ہمیشہ غریبوں پر ہی مشتمل رہا ہے، ان کے علمائے حق بھی ہمیشہ دنیاوی لحاظ سے تہی دست رہے ہیں۔
 
دوسری بات یہ کہ آپ تاریخ اسلام کا مطالعہ کریں آپ کو نظر آئے گا کہ ایسے فتنوں کی عمر زیادہ سے زیادہ 99 سال ہوتی ہے، اس کے بعد ہر صدی میں ایک مجدد آتا ہے اور صرف تین چار سال میں ان کی صدی پر محیط ساری محنت پر جھاڑو پھیر کر چلا جاتا ہے۔ چنانچہ ان کا قصہ اگلی نسلوں کے لئے پارینہ بن کر رہ جاتا ہے۔
اس لئے حوصلہ رکھیں، اپنے ایمان کی حفاظت کریں۔ باقی اسلام کا کچھ نہیں بگڑے گا۔
#نکتہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عزیر سالار
غامدیت کا آغاز ہی انکار سے ہوتا ہے 900 کی دہائی میں دین غامدی کے بانی(حال فرار ملائیشیا) کہتے تھے جہاد ریاست کی اجازت کے بغیر نہیں ہو سکتا۔
پھر بانی کو نائن الیون کے بعد دوسرا انکشاف ہوا کہ اسلام میں تو ریاست کا تصور ہی نہیں۔
اب آپ ان دونوں قضیوں (صغرا کبرا ) کو ملائیں تو نتیجہ کیا نکلتا ہے؟
جہاد ریاست کے بغیر نہیں اور اسلام میں ریاست کا تصور ہی نہیں لہذا اسلام میں جہاد ہی نہیں۔
 
اس گروہ نے اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ انکار کا دائرہ کار مسلسل بھڑتا رہا یہاں تک کہ پہلے احادیث کا انکار کیا یہ کہتے ہوئے کہ قرآن کریم سب سے زیادہ مضبوط دلیل ہے۔ جب کچھ لوگوں نے اس مفروضے کو تسلیم کر لیا تو پھر کہنا شروع کر دیا کہ فلاں آیت تو فلاں واقع کے ساتھ یا فلاں علاقے کے ساتھ خاص ہے، اس طرح مکی سورتوں کو مکہ اور مدنی سورتوں کو مدینہ کے ساتھ خاص کر دیا۔
اب اگلا قدم یہی ہے کہ جو میں کہتا ہوں وہی دین ہے، گویا دبے الفاظ میں دعوائے نبوت۔
غامدی صاب نے تو بڑی عیاری دکھائی تھی لیکن ان کے شاگیدڑ زیادہ جذباتی ہیں۔  ایک طرف حنیف ڈار نے صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم پر حملے کرنا شروع کر دیئے ہیں تو دوسری طرف عمار خان ناصر نے فقہ اسلامی کا مذاق اڑانا شروع کر دیا ہے اور تیسری طرف عزیر سالار نے عقیدہ آخرت، جنت اور قبر کا مذاق اڑانا اور چوتھی طرف سبوح سید نے تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام پر الٹیاں کرنا شروع کی ہوئی ہیں۔
ان سب کو معلوم ہونا چاہیے کتنے ہی لومڑ آئے اور گئے
ان اسلام کے غداروں کو یاد رکھنا چاہیے
میں نوکر صحابہ دا
#نکتہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کئی پاکستانی یورپ جاکر زیادہ ہی راشن خیال بن جاتے ھیں ، چنانچہ وہ محب وطن پاکستانی قوم کو عید کے موقع پر چاند کے بارے طعنے دیتے ہیں۔
 
عجیب بات یہ ہے کہ عیدین کے موقع پر ان کا مفت ای سعودیہ کے ساتھ اور ربیع الاول میں پاکستان کے ساتھ ہوتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جس کام کے لئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا گیا آج میلاد کے نام پر مقصد بعثت کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں۔ کیا یہ گستاخی رسول نہیں۔
 «
عن أبي أمامة عن النبي ﷺ إن اللہ بعثني رحمة وھدي للعالمين وأمرني أن أمحق المزامير والكبارات يعني البرانط والمعازف» (رواه أحمد وفيه علي بن يزيد وھو ضعيف)
 ''
مجھے میرے اللہ نے ساری دنیا کے لئے رحمت اور ہدایت بنا کر مبعوث فرمایا اور یہ حکم دیا کہ سرود و چنگ و رباب (ڈھول،اور آلات موسیقی) کو مٹاؤں۔''
ابن غیلان نے حضرت علیؓ سے بھی یہ نقل فرمایا ہے:
مزامیر کو توڑنے پھوڑنے کے لئے مجھے مبعوث کیا گیا ہے۔
«
عن ابن عباس أن النبي ﷺ أمرت بھدم الطبل والمزمار»
''
حضور کا ارشاد ہے کہ مجھے خدا نے ڈھول اور مزامیر کے توڑنے کا حکم دیا ہے۔'' (دیلمی)
#نکتہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کسی لبڑل کے برے دن آئیں تو وہ جذبات کی رو میں بہہ کر فیس بک پر الٹیاں کر دیتا ہے
قصوروار ہود بھائی نہیں مجرم یہ قوم ھے جس کے ذھنی معیار اور سوچ کا یہ عالم ھے کہ اس جیسے ایمان فروش اس ملک میں اتنے اعٰلی مقام پر پہنچا دیئے گئے ھیں ۔
لبڑل ازم، سیکولڑازم، الحاد اور راشن خیالی سمیت 
 
جتنے بھی ڈھکوسلے ہیں پاکستان میں ان کے پیچھے شیعہ اور قادیانی ہی کیوں نظر آتے ہیں۔۔؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جنید جمشید مرحوم کے خلاف جو پوسٹیں آرہی ہیں میرے خیال میں یہ بریلوی مکتبہ فکر کے لوگ نہیں بنا رہے، وہ الگ بات ہے جب پوسٹ بن جاتی ہے تو کئی عام لوگ بھی شیئر کرلیتے ہیں۔
 
اس قسم کی پوسٹیں ایک خاص لابی جو سول سوسائٹی کے نام سے مشہور ہے اس کی ٹیم بنا بنا کر شیئر کررہی ہے۔ مقصد فرقہ واریت کو ہوا دینا ہے۔
 
اس تنظیم کے کچھ لوگ جبران ناصر اور شلوار والی آنٹی وغیرہ وحدت المسلمین کے ساتھ پاکستان میں جبکہ کئی لوگ جرمنی میں بیٹھے ویب سائٹیں اور سوشل میڈیا کے اکاونٹ چلا رہے ہیں۔ البتہ سنی تحریک کے کچھ غنڈے بھی جو دراصل اسی موم بتی مافیا کے کارندے ہیں اس کام میں حصہ لے رہے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پہلی بات تو یہ کہ طیارہ حادثہ میں جان بحق ہونے والوں کی اللہ تعالی مغفرت فرمائے۔ آمین
 
اب آتے ہیں اصل بات کی طرف۔ گستاخ صحابہ حنیف ڈار غامدی کے متعلق ایک پوسٹ کے نیچے کئی لوگوں نے کہا کہ وہ دلیل سے بات کرتا ہے۔ یہ بات وہ لوگ کہہ رہے ہیں جنہوں نے حدیث کی کتابوں کے صرف نام سنے ہوئے ہیں کبھی اصل کتاب دیکھی نہیں ہو گی۔ حنیف ڈار غامدی نے جن احادیث کا حوالہ دے کر نعوذ بااللہ حضرت ابو ھریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کو جھوٹا اور کذاب کہا وہ احادیث پہلے سے ہی محدثین نے ضعیف یا موضوع، من گھڑت کی کیٹگری میں شامل کی ہوئی ہیں اور اس کی دلیل اور وجہ بھی  ساتھ بیان کر دی تھی۔ حنیف ڈار غامدی نے سارے راویوں کو چھوڑ کر انتہائی بدیانتی اور دھوکہ دہی سے کام لیتے ہوئے سیدھا صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہ کو جھوٹا کہہ دیا۔ حالانکہ من گھڑت حدیث بیچ کے کسی کذاب راوی کی گھڑی ہوتی ہے جسے وہ صحابی کی طرف منسوب کر دیتا ہے۔ جن صحابہ کے صدق کی گواہی قرآن دیتا ہو #غامدی کذاب کے بہتانوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ صحابہ کے نوکر ابھی زندہ ہیں۔
#نکتہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بجلی گیس کے میٹر کی رفتار کم کرنے سے لے کر افسروں کو مہربان کرنے تک
پسند کی لڑکی پھنسانے سے لے کر مفت عمرہ کرنے تک
کالا رنگ سفید کرنے سے لے کر قد چھ فٹ کرنے تک
بس سٹاپ پر گاڑی جلدی آنے سے لے کر ٹریفک جام سے نکلنے تک
بکرے چور پکڑنے سے لے کر پتھر دل موم کرنے تک
سارے مسائل کا حل لاہور کا عبقری پیش کرتا ہے۔
ان سے گزارش ہے کہ
 
پچھلے ستر سال سے جو نظام امیر کو امیر تر اور غریب کو غریب تر کررہا ہے اس نظام کو بدلنے کا کوئی وظیفہ بتائیں۔
 
کشمیر،فلسطین،شام، افغانستان کے مظلوم مسلمان پچھلے پندرہ سال میں ایک کروڑ کے لگ بھگ قتل ہوچکے ہیں مزید قتل عام جاری ہے۔ اس کا کوئی وظیفہ
 
ہمارے سیاستدان اربوں روپے لوٹ کر یورپ کے بینکوں میں رکھ چکے ہیں ان پیسوں کے پلک جھپک میں واپس قومی خزانے میں لانے کا وظیفہ بتائیں
 
الطاف حسین، جنرل مشرف سمیت سینکڑوں مفرور قاتل غیبی طور پر اچانک پاکستان پہنچ جائیں اس کا کوئی وظیفہ
#عبقری #نکتہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مسلکی بنیادوں پر فرنٹ فٹ پر کھیلنا باعث فخر نہیں بلکہ باعث عار بات ہے۔ ایسی پوسٹوں کے نیچے واہ واہ کرنے والے بڑی جہالت کا شکار ہیں۔
 
پھر اس ناسور کی نسبت اکابرین کی طرف کرنا بہتان عظیم ہے۔ عجیب بات ہے لوگ اس گند میں فرنٹ فٹ پر کھیلتے بھی ہیں اور تعلق اکابرین کے ساتھ بتاتے ہیں۔ 
 
اکابرین ہمیشہ اس لعنت کو ختم کرنے کی کوشش کرتے رہے لیکن موجودہ زمانے میں لوگوں نے اسے مستقل فرقے کی شکل دے دی۔
#نکتہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا ایک پہلو منصوبہ بندی بھی۔ جنگی منصوبہ بندیاں تو آپ نے سیرت کی کتب میں پڑھی ہوں گی۔ آج شہری آبادی کے حوالے سے جانیے۔
سابقہ ڈائریکٹر الشریعہ اکیڈمی اسلام آباد محمد یوسف فاروقی فرماتے ہیں۔ 
 
جب تک منصوبہ بندی نہ ہو تو کوئی بھی ملک وقوم ترقی نہیں کرسکتے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ طیبہ سمیت تمام اسلامی شہروں کی آبادی ایک خاص حد سے آگے بڑھنے پر پابندی عائد کردی تھی اور دوسرے شہر بسانے کا حکم دیا تھا جو منصوبہ بندی کا بہترین نمونہ ہے۔
#سیرت #نکتہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مذہبی طبقہ 70 سالہ تاریخ کو فراموش کرکے ابھی تک انتخابی سیاست سے خیر کی امید لگائے بیٹھا ہے۔ 70 سال کا عرصہ معمولی عرصہ نہیں، مومن تو ایک سورخ سے دو بار ڈسا نہیں جاتا لیکن یہاں ڈسنا تو دور گردنیں کٹ گئیں، زندہ جلادیا گیا، خون کی ندیاں بہہ گئیں لیکن پھر بھی اسی نظام سے امید ہے کہ یہ نظام اپنے آپ کو بدل دے گا۔
 
ایک صوبائی اسمبلی کی سیٹ پرالیکشن میں کامیابی پر ایسے خوشی کے شادیانے بجائے جارہے ہیں جیسے شاید بہت بڑا انقلاب آگیا ہے یا ایک مسلمان کا مقصد زندگی حاصل ہوگیا ہے۔ عقل مند وہ ہوتا ہے جو گزرے ہوئے لمحات اورناکام تجربات سے عبرت حاصل کرکے مستقبل کی بنیاد رکھتا ہے۔ اھل سنت والجماعت (سپاہ صحابہ) کے کئی لوگ پہلے بھی منتخب ہوئے ہیں لیکن انہیں بہت جلد راستے سے ہٹا لیا گیا۔ مولانا اعظم طارق جیسی عظیم، بہادر، مخلص شخصیت بھی اسمبلی پہنچ کر کچھ نہ کرسکے۔ کیونکہ موجودہ نظام کے رکھوالے اتنی پاور میں ہیں کہ انہیں ووٹ کی پرچی سے ہٹانا ناممکن ہے۔ اس سیاست میں فتح کی اس سے زیادہ کوئی اہمیت نہیں جیسے پاکستان انڈیا کے میچ میں پاکستان کے جیتنے پر قوم خوشی منا کر ہنسی خوشی سو جاتی ہے حاصل کچھ نہیں ہوتا۔
#نکتہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج سے چند سال قبل تک سیکولرازم، لبرل ازم وغیرہ گمراہ کن نظریات و افکار، بیہودہ تہذیب، باطل نظاموں سمیت بے شمار الفاظ کے گورکھ دھندے بہت عروج پر تھے، لیکن الحمدللہ چند اللہ کے بندوں کی سوشل میڈیا پر بھرپور محنت کے نتیجے میں آج یہ الفاظ گالی بن چکے ہیں اور خود لبرل بھی اپنے آپ کو لبڑل ظاہر کرتے ہوئے ہچکچاتے ہیں۔
 آئیں آپ بھی یہ جانیں کہ لبرل ازم، سیکولرازم اور الحاد کیا ہے اور پھر جو تحریر یا پیرا گراف سمجھ آئے اسے شیئر کردیں۔

http://ilhaad.com/
#نکتہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نئے سال سے متعلق ایک غلط فہمی درست کیجئے!
کئی لوگ یوں کہتے رہتے ہیں اسلامی سال کا آغاز محرم سے ہوتا ہے۔
یا یوں کہتے ہیں اسلامی سال تو قمری ہے۔
 یہ بات اس اعتبار سے تو ٹھیک ہے کہ قمری حساب سے مہینوں سالوں کا حساب اسلام نے شروع کیا۔ لیکن اسلامی سال کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ شمسی کیلینڈر غیراسلامی ہے۔ وہ بھی اسلامی ہی ہے۔

کیونکہ
اسلام نے اس سے منع نہیں کیا
جس طرح رمضان کے مہینے کا حساب قمر سے ہوتا ہے تو سحری افطاری کا حساب شمس سے ہوتا ہے۔
اسی طرح نمازوں کا بھی سارا حساب شمسی ہی ہے۔
بحیثیت مسلمان ہمیں قمری حساب ہی رواج دینا چاہیے لیکن شمسی کیلنڈر بھی غیر اسلامی نہیں۔
#نکتہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں ڈھابے میں بیٹھا دودھ پتی پی رہا تھا، ڈھابے کے چھوٹے نے اطلاع دی کہ جنرل باجوہ چیف بن گیا ہے۔۔۔ چھوٹے سے پوچھا کہ فوج کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلانے والے موم بتی مافیا کے لبڑل کہاں گئے ؟
چھوٹے کا جواب کمال کا تھا کہ ۔۔۔ کہنے لگا:
 قبض کی گولیاں کھا کر باتھ روم میں۔
فوج مخالف مہم کے ساتھ قبض کی گولیوں کا کیا تعلق ہے ؟ کمنٹ میں بتائیں۔
#نکتہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اردو درست کیجئے... 
 ****
نقطہ اور نکتہ کے بارے اچھے خاصے لکھاری غلط فہمی کا شکار رہتے ہیں۔ #قلم کو جب ہم صفحے پہ رکھ کے اٹھاتے ہیں تو ایک #نقطہ بنتا ہے یعنی ڈاٹ۔ نقطہ، کسی جگہ کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے اس کے علاوہ  مرکز کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ مثال کے طور پہ نقطہءِ نظر یعنی کسی کا مرکزِ نگاہ یا دیکھنے کا ڈھنگ۔ نقطہ کی جمع نقاط ہے۔ جبکہ نکتہ کسی باریک بات کو کہتے ہیں۔ مثال کے طور پہ فلاں شعر میں غالب نے بہت اہم #نکتہ بیان کیا ہے۔ نکتہ کی جمع نکات ہے۔ یہ کہنا کہ آپ کا بیان کردہ "نقطہ" قابلِ غور ہے ، غلط ہے۔
 نہ اور نا دونوں ہی نفی کے کلمے ہیں تاہم دونوں میں فرق لازم ہے۔ نفیء امر کے کے لیے "نہ" استعمال ہو گا مثال کے طور پہ نہ جا، نہ کہہ، نہ سن، نہ بول۔ اسی طرح نفیِ فعل کے لیے بھی "نہ" استعمال ہوگا۔ مثال کے طور پہ ع
نہ چھیڑ اے نکہت باد بہاری، راہ لگ اپنی
 جبکہ "نا" جب نفی کے لیے آئے گا تو کسی اسم یا صفت سے پہلے آئے گا مثال کے طور پہ ناروا، نارسا، ناپید۔ پھر "نا" تاکید کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے مثال کے طور پہ آؤ نا، سناؤ نا وغیرہ۔ غالبؔ کہتے ہیں۔ ع
آؤ نا ہم بھی سیر کریں کوہِ طور کی.... 
***
(.. انور #غازی کی کتاب ''#صحافت ایسے سیکھیں ''سے اقتباس.. )
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پیغمبرانہ ماڈل اور تاریخی ماڈل
موجوده زمانہ میں امت مسلمہ اپنے دور زوال میں ہے - آج کی یہ ایک اهم ضرورت ہے کہ امت کا احیا )revival( کیا جائے ، لیکن اس احیا کی لازمی شرط یہ ہے کہ یہ کام صحیح ماڈل کے مطابق کیا جائے - غلط ماڈل اختیار کرنے سے کبهی امت کا احیا نہیں هو گا ، خواه ہزاروں سال تک اس کی کوشش کی جاتی رہے -
احیاء امت کا صحیح ماڈل صرف ایک ہے ، اور وه پیغمبرانہ ماڈل ہے - یہ ماڈل سنت کی صورت میں پوری طرح محفوظ ہے - هم کو چاہئے کہ سنت رسول کے اس محفوظ ماڈل کو مطالعہ کتب کے ذریعے دریافت کریں اور پهر اس کی روشنی میں امت کے احیا کا کام انجام دیں -
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات 632 عیسوی میں هوئی - اس کے بعد امت مسلمہ کی ایک تاریخ بنی - یہ تاریخ ہزار سال سے زیاده مدت پر پهیلی هوئی ہے - بدقسمتی سے ایسا هوا کہ ہر مسلم اہل علم نے اس تاریخ کو نہایت مبالغہ آمیز انداز میں دہرایا - بعد کے زمانے میں لکهی جانے والی کتابیں سب کی سب تاریخ امت کی مبالغہ آمیز تصویر کشی کرتی رہییں - اس کا نتیجہ یہ هوا کہ شعوری یا غیر شعوری طور پر امت کے ذہن سے پیغمبرانہ ماڈل پس پشت چلا گیا اور تاریخی ماڈل ایک شاندار یاد کے طور پر ہر مسلمان کے دل میں نقش هو گیا -
اسی صورت حال کا یہ نتیجہ ہے کہ آج جو شخص احیاء امت کے لیے اٹهتا ہے ، وه بظاہر اگر چہ اسلام کا نام لیتا ہے ، لیکن عملا مسلم تاریخ کا احیا اس کا نشانہ بن جاتا ہے -
موجوده زمانے میں احیاء امت کی تمام تحریکوں کا یہی انجام هوا ہے - ان میں کوئی مسلم دور حکومت کے احیا کی بات کرتا ہے اور کوئی مسلم تہذیب کے احیا کو اپنا نشانہ بنائے هوئے ہے ، کوئی شرعی قانون کے نفاذ میں مسلم احیا کا راز بتاتا ہے ، کوئی جہاد کے نام پر تشدد کلچر پهیلائے هوئے ہے اور سمجهتا ہے کہ وه امت مسلمہ کا احیا کر رہا ہے ، وغیره -
اس قسم کی تحریکیں موجوده زمانے میں بہت بڑے پیمانے پر اٹهیں ، مگر ہنگامہ خیز جدوجہد کے باوجود وه عملا ناکام ثابت هوئیں - اس ناکامی کا سبب صرف ایک تها ، وه یہ کہ ان تحریکوں کو اللہ کی نصرت حاصل نہیں هوئی - نصرت خداوندی سے محرومی کا سبب مشترک طور پر یہ تها کہ یہ سب کی سب تحریکیں تاریخی ماڈل کو لے کر کهڑی هوئیں - ان میں سے کوئی بهی تحریک حقیقی طور پر پیغمبرانہ ماڈل کو لے کر نہیں اٹهی -
پیغمبرانہ ماڈل اور تاریخی ماڈل کا فرق ایک لفظ میں یہ ہے کہ پیغمنرانہ ماڈل مبنی بر دعوت ماڈل هوتا ہے - اس کے برعکس ، تاریخی ماڈل مبنی بر سیاست ، مبنی بر تہذیب ، مبنی بر قومیت هوتا ہے - اس دنیا میں کوئی تحریک اللہ کی نصرت سے کامیاب هوتی ہے اور اللہ کی نصرت صرف پیغمبرانہ ماڈل پر آتی ہے ، کسی اور ماڈل پر اللہ کی نصرت کبهی آنے والی نہیں -
 رسالہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لفظ ''قاری صاحب'' غلط العام ہے۔؟
ہجرت سے دو سال قبل حضور صلی اللہ علیہ وسلم مصعب بن عمیر رضی اللہ تعالی عنہ کو معلم بنا کر یثرب بھیجا۔ وہ وہاں لوگوں کو اسلام کی دعوت کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کو قرآن مجید کی تعلیم دیتے تھے۔ چنانچہ وہاں ان کا نام مقری مشہور ہوگیا۔ مقری کا معنی ہے پڑھانے والا۔
ہمارے ہاں قرآن پڑھانے والا قاری کے نام سے مشہور ہوتا ہے، حالانکہ قاری کا معنی پڑھنے والا ہے۔
اس لئے آپ کے گھر یا مسجد میں جو مقری صاحب پڑھاتے ہیں انہیں صحیح نام سے پکاریں۔
 پاکستانی معاشرے میں اس طرح کے شگوفے بہت عام ہیں۔ مثلا ہمارے ہاں ہر مدرسے کے باہر اس کے نام کے ساتھ جامعہ کا لفظ لکھا ہوتا ہے، اور اندر نورانی قاعدہ اور حفظ و ناظرہ کی کلاس ہورہی ہوتی ہے۔ یہ بھی غلط بات ہے۔ جامعہ اس مدرسے کو کہتے ہیں جو یونیورسٹی لیول تک کی تعلیم دیتا ہو یعنی کم از کم دورہ حدیث تک تعلیم ہو۔
ایسے چھوٹے مدرسے کو مدرسہ، مکتب، معہد وغیرہ کہنا اور لکھنا چاہیے۔
#نکتہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بال صفا پاوڈر، چونا، اور دیگر مضر اشیاء سے سفید لیکوڈ تیار کرکے دودھ کے نام سے فروخت کرنے والی کمپنیاں، ملک پیک، اولپر وغیرہ اتنی طاقتور ہیں کہ اعلی عدلیہ سپریم کورٹ بھی کاروائی کرنے سے عاجز ہے اور محض کمشن بنانے کی دھمکیاں ہی دی جارہی ہیں۔ عوام کو کون انصاف دے گا۔
#نکتہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بینظیرمرحومہ سے اختلاف اپنی جگہ لیکن ان کی کوئی نیکی ایسی ضرور ہے جس کی وجہ سے مزار پر اکثر اوقات خواتین قرآنی خانی میں مصروف رہتی ہیں، اور پھر خصوصی دنوں میں خصوصی قرآنی خوانی کا اہتمام پورا پورا دن کیا جاتا ہے۔ اس سے تو انکار نہیں کہ یہ ایصال ثواب ان کو ملتا ہوگا۔ شاید افغان طالبان کی اسلامی حکومت کو کروڑوں روپے کا ڈیزل مفت سپلائی کرنے والی وہ نیکی ہی ان کی بخشش کا ذریعہ بن گئی ہوجس کے طعنے مولانا فضل الرحمن صاحب ابھی تک سن رہے ہیں۔
#نکتہ
،،،،،،،،،،،،،
اردو پوائنٹی ایک متعدی بیماری کا نام ہے۔ یہ بیماری پہلے پہل اردو پوائنٹ والوں کو لگی تھی۔ پھر ڈیلی قدرت والوں کو لگ گئی، اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے زیم ٹی وی، ڈیلی پاکستان، ایکسپریس، اور جاوید چودھری سمیت کئی لوگ اس کا شکار ہو گئے۔ کچھ عرصہ بی بی سی بھی متاثر ہوا تھا لیکن انہوں نے جلدی ہی ویکسین لگا کر اپنے آپ کو بچا لیا۔
 لیکن اب یہ بیماری ٹی وی چینلز کو بھی لگ چکی ہے چنانچہ آج سماء ٹی وی نے اپنی ہیڈ لائنز میں ایک پوائنٹی ماری کہ حکومت نے سمارٹ فونز پر پابندی لگانے کا فیصلہ کر لیا ہے، مجھے اس کی تفصیلات جاننے کے لئے آدھا گھنٹہ بلا ضرورت ان کی بک بک سننی پڑھی۔ آدھے گھنٹے بعد تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نےکہا کہ سندھ حکومت نے اجلاسوں میں سمارٹ فونز لانے پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔

 اس بیماری کے پیچھے دراصل ریٹنگ کے جراثیم ہوتے ہیں۔ قارئین اور سامعین کے پاس اس سے بچنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ فورا بلاک کا اسپرے کریں۔

#نکتہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مولانا احمد علی لاہوری رحمہ اللہ کے متعلق سنا کہ انھوں نے اپنے ایک مجاز بیعت کو خلافت دی۔ رخصت ہوتے وقت انھوں نے نصیحت کی فرمائش کی تو مولانا نے فرمایا کہ نصیحت کی کوئی خاص ضرورت نہیں، بس دو باتوں کا خیال رکھنا
: ایک یہ کہ خدا نہ بننا اور دوسرا یہ کہ رسول نہ بننا۔

 وہ حیران ہوئے اور کہا کہ استغفر اللہ! اس کا کوئی مسلمان تصور بھی کیسے کر سکتا ہے؟ آپ کی بات کا مطلب سمجھ میں نہیں آیا۔

مولانا نے فرمایا:
" خدا بننے کا مطلب یہ ہے کہ تم یہ خواہش کرو کہ زندگی میں، میں جو چاہوں، وہ ہو 
جائے۔ سو یہ شان تو صرف اللہ کی ہے
 
اور رسول بننے کا مطلب یہ ہے کہ تم یہ تمنا کرو کہ ساری دنیا مجھ سے عقیدت رکھے. سو یہ مقام بھی صرف رسول کا ہے۔"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آنکھوں کی ساخت کے لحاظ سے مختلف قسمیں

آنکھوں کی ساخت کے لحاظ سے مختلف قسمیں ہیں جو شخصیت سے محبت اور عشق کا باعث بنتی ہیں ۔
سات اہم قسم کی آنکھیں :
خدمتگار آنکھیں
ہنرمند آنکھیں
جنگجو آنکھیں
عالم آنکھیں
سمجھدار آنکھیں
عبادت گزار آنکھیں 
 بادشاہ آنکھیں
جس طرح آنکھوں کی ایک خاص شناخت کسی کو متاثر کرنے میں کردار ادا ہے اسی طرح آنکھوں کی ایک خاص زبان ہوتی ہے جس کو باڈی لینگوج کہا جاتا ہے یہ زبان بنیادی طور پر زبان کے استعمال کے بغیر اپنے جذبات اور ہیجان کی عکاسی کرتی ہے مثلا روتے وقت انسان کی آنکھیں دکھ کا احساس دلاتی ہیں ۔محبوب کی موجودگی میں اس سے نظر ملانے پر اضطراب کی کفیت اور پلکوں کے بے ہنگم ہو جانا اسی طرح ظلم و جبر میں آنکھوں سے عیاں ہو جاتا ہے کہ شخص پر ظلم کیا گیا ہے ۔ ایسی طرح خوشی کی حالت میں آنکھوں کی چمک بھی زبان ہی ہے۔اسی طرح ایک لفظ نظروں کا ملنا ہے جس کو آئی کونٹیکٹ کہتے ہیں اور خوبصورت چیز کو مسلسل دیکھتے رہنے کو گیز یاں نظر جمانا کہتے ہیں۔ اور انگریزی میں اس کے مطالعہ کو آکلوسیس کہتے ہیں۔
آنکھوں سے پیغام رسانی کا عمل زبان کی ابتدا سے پہلے کا ہے جو بہت سارے دوسرے جانوروں میں ابھی بھی پایا جاتا ہےزبان کی ابتدا تو تقریبا 100,000سال پہلے ہوئی اس سے پہلے آنکھوں سے ہی زیادہ تر پیغام رسانی کا کام سرانجام دیا جاتا تھازبان کی ابتدا کے ساتھ ہی آنکھوں سے یہ عمل ختم ہوگیا۔ لیکن ابھی بھی ان کا بہت عمل دخل ہے جب جاندار لڑائی کے وقت بہت دیر تک ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھتے ہیں یہ ٹکٹکی باندھنے کی وجہ یا تو لڑائی ، شکار یا جنسی عمل کا ہوتا ہے اسی طرح ہمارے معاشرے میں اجنبی کی آنکھ میں دیکھا نہیں جاتا اور نظریں ملانے میں شرم محسوس کی جاتی ہیں اور اس کی وجہ اجنبی کو اہمیت نہ دینے کے ہیں۔
آپ کا کسی اجنبی سے تعارف کرایا جاتا ہے یا تو آپ اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہیں یا چہرے کے کسی حصے پر آنکھوں کو مرکوز کرتے ہیں۔ کسی کی آنکھوں میں دیکھنا اور اس کے دیکھنے کا جواب دینا اس کو مضبوط بنا دیتا ہے۔ جب کہ مسلسل کسی اجنبی کی آنکھوں میں دیکھنا پریشانی اور حیرانی کا باعث ہے۔ ماہرین کے خیال میں صحتمندانہ نظری رابطہ اس طرح ہوتا ہے کہ تین یا چار سیکنڈ کے لیے کسی کی آنکھوں میں دیکھنا اور پھر اس کے چہرے کے دوسرے حصوں کو دیکھنا اور پھر دوبارہ نظری رابطہ قائم کریں۔
جب کسی سے نظریں ملانے میں دقت محسوس ہو تو اس کا مطلب آپ اس سے کچھ راز رکھ رہے ہیں یا آپ اس سے شرم محسوس کر رہے ہیں۔
اور اگر آپ کسی شخص کو دیکھیں جو کسی جواب کی تلاش میں ہو تو اس کی آنکھوں کی حرکات پر غور کریں وہ شخص اگر بائیں جانب دیکھ رہا ہو تو اس کا مطلب ہے کہ وہ اپنی یادشت تک رسائی حاصل کر رہا ہے اور اگر وہ دائیں جانب دیکھ رہا ہو تو اس کا مطلب ہے کہ وہ اپنے دماغ کے تخلیقہ حصے پر زور دے رہا ہے۔ وہ کوئی کہانی تخلیق کر رہا ہے تاکہ آپ کو سنائے اس سے یہ اخذ ہو سکتا ہے کہ وہ جھوٹ اور سچ کب بولے گا۔
انسانی آنکھ کا ایک اہم حصہ جس کو پتلی کہا جاتا ہے اس کو انسان کنٹرول نہیں کر سکتا یہ غیر ارادی طور پر پھیلتی اور سکڑتی ہے اس کو 1975 میں ایکہارڈ نے دریافت کیا انسانی کی آنکھ کی پتلی نہ صرف روشنی میں سکڑتی اور پھیلتی ہے بلکہ جب عاشق محبوب کو دیکھ رہا ہو اور اس سے مخاطب ہو نظریں مل رہی ہوں تو پتلی کا سائز بڑھ جاتا ہے اور اگر آپ کسی ایسے سے بات کر رہے ہیں جس سے بات نہیں کرنا چاہتے تو اس کا سائز چھوٹا ہو جاتا ہے۔
آئی کنٹیکٹ : 
 اور جب آپ اپنے محبوب کی آنکھوں میں دیکھ رہے ہوں تو بہتر ہے کہ اس کی بائیں آنکھ میں دیکھیں کیونکہ بائیں آنکھ ہمارے ہیجانی مرکز سے تعلق رکھتی ہے اور دائیں آنکھ کا تعلق سوچنے والے دماغ کے حصے سے ہے ۔ کیونکہ ہر آنکھ اپنے مخالف قشر سے تعلق رکھتی ہے یعنی بائیں آنکھ دائیں قشر اور دائیں قشر بائیں قشر سےتعلق رکھتی ہے۔پہلی دفعہ کی ملاقات میں بہتر ہے کہ دائیں آنکھ میں دیکھا جائے جیسے کاروبار کے سلسے میں ہونے والی ملاقات۔
تنہائی میں کسی ایسی جگہ کا انتخاب کریں جو لوگوں سے خالی ہو اور شور سے بلکل پاک صاف ستھری فضا ہو تاکہ آپ اپنے دوست کے بہت قریب آ سکیں اور تما م تر توجہ اس کی آنکھوں میں مرکوز کر سکیں اور اپنے جسم کو بلکل سکون میں کر دیں یہاں تک کہ اردگرد کی دنیا سے تعلق نہ رہے۔
روشنی بلکل مدھم ہونی چاہیے زیادہ روشنی سے پتلی سکڑ جاتی ہے اور کم روشنی میں پھیلتی ہے اس لیے کم روشنی میں آپ بخوبی یہ عمل سر انجام دے سکتے ہیں۔ نرم سے ٹکٹکی باندھ کر اور اس کی آنکھوں میں محبت سے دیکھنا اور اپنے چہرے کے پٹھوں کو بلکل پر سکون رکھیں۔ باتوں سے پرہیز کریں۔
آنکھوں میں دیکھنے کا عمل جاری رہے اور ذہنی دباؤ کو دور کریں اور ایک دوسے کے لیے محبت کو محسوس کریں اور آنکھوں کو بلکل بھی اپنی جگہ سے ہلایا نہ جائے تاکہ زیادہ دیر دیکھنے میں آسانی رہے۔آہستہ آہستہ آپ کا نظری رابطہ گہرا ہو جائے گا اور بہت زیادہ طاقت کا احساس ہو گا اس عمل سے کسی کا اعتماد حاصل کرنے اور اس سے بہتر تعلق قائم کیا جا سکتا ہے۔
یہ تحریر ، 
 ریشنلسٹ سوسائٹی آف پاکستان کی ویب سائٹ سے لی گئی ہے ۔

سیکولر حضرات کی مناظرانہ چالاکی

 از مولانا زاہد مغل

 "ھم سب" پر شائع ہونے والی 'دوپٹے کے دس فوائد' تحریر نظر سے گزری۔ تحریر کی ابتداء میں فاضل مصنفہ فرماتی ہیں کہ تحریر سے 'زیادہ اثر کے لئے تحریر کو مذھبی و معاشرتی جذبات کو ایک طرف رکھ کر پڑھا جائے'۔ فی الوقت تحریر کے دس مندرجات پر بحث مقصود نہیں کیونکہ ان میں سے کوئی ایک بھی پہلو تبصرے کے لائق نہیں۔ یہاں صرف درج بالا مطالبے پر کچھ عرض کرنا ہے۔
 یہ مطالبہ عین سیکولر طرز استدلال کی بنیادی روح ہے کہ پہلے آپ مذھبی عقائد، تعلیمات و جذبات کو ایک طرف رکھ دیں پھر ہماری بات پر غور کریں۔ یعنی پہلے میں اپنی پوزیشن سے دستبردار ہوجاؤں پھر مخالف کی بات پر غور کروں۔ بھائی اپنی پوزیشن سے دستبردار ہوجانے کے بعد ظاہر ہے مجھے وہی بات معقول معلوم ہونے لگے گی جو آپ کہتے ہو، مگر اس قسم کی "داخلی معقولیت" تو دنیا کے تقریبا ہر نظرئیے میں ہی پائی جاتی ہے۔ اس مطالبے کا دوسرا اہم پہلو یہ ہے کہ سیکولر تعلیمات کی معقولیت ثابت کرنے کے لئے مذھبی جذبات و تعقل سے دستبرداری اور خود کو سیکولر تناظر میں رکھنا لازم امر ہے۔
 آخری بات، اگر کوئی آپ کو شام میں بم و میزائل سے مارے جانے والے انسانوں کی ویڈیوز دکھاتے ہوئے کہے کہ "انسانی جذبات کو ایک طرف رکھ کر دیکھئے" تو بھلا آپ کو اس میں سوائے اس کے اور کیا دکھائی دے گا جیسے ایک شیر کسی زیبرے کا شکار کرنے کی ویڈیو میں دکھائی دیتا ہے؟ سوال یہ ہے کہ کیا مرنے والے انسانوں کا ان جذبات سے ماوراء رہ کر کیا جانے والا مشاہدہ درست و بامعنی ہوسکتا ہے؟ ایک جابر مرد کسی خاتون کو پیٹ رہا ہے اور میں آپ سے کہوں کہ "فیمنسٹ اخلاقی جذبات ایک طرف رکھ کر جس کی لاٹھی اس کی بھینس کی عقلیت کے تحت مشاہدہ فرمائیں" تو کیا دکھائی دے گا؟ چنانچہ بنیادی سوال یہی ہے کہ مذھبی جذبات ایک طرف رکھ دینے کے بعد جس مشاہدے کی طرف دعوت دی جارہی ہے اس کے درست ہونے کی دلیل کیا ہے؟
 انسان کا مشاہدہ اس کے جذبات کے ماتحت ہے، جذبات بدل جائیں تو مشاہدہ (یعنی اس کا معنی) بدل جاتا ہے۔ معروضیت جذبات کی تطہیر سے حاصل ہوتی ہے، دماغی عقلیت (آلاتی عقلیت) کی لم ٹٹول سے نہیں۔ جو شخص مردوں کا کفن نکال کر بیچ ڈالتا ہے اسکی عقل میں نہیں جذباتی توازن میں خلل واقع ہوجاتا ہے، عقل (آلاتی) تو وہ بھی بلا کی استعمال کرتا ہے۔ یہ کہنا کہ "پہلے مذھبی جذبات ایک طرف رکھ دو" کا معنی اس کے سواء کچھ نہیں کہ جسے مذھب عقلی و بامعنی کہتا ہے پہلے اسے رد کردو۔ یہ طریقہ استدلال اپنی وضع میں نہ تو "تبلیغی" ہے اور نہ ہی "عقلی"، یہ صرف ایک "مناظرانہ چالاکی" ہے۔

Friday, December 30, 2016

نومبر2016 فیس بک کی پوسٹیں

نومبر 2016
ارکان پارلیمنٹ اور سیاسی جماعتوں کا پارلیمنٹ میں کسی بات پر اتفاق نہیں ہوتا یہاں تک کہ آپریشن ضرب عضب، نیشنل ایکشن پلان، طالبان کے خلاف آپریشن سمیت کوئی بھی اہم ایشو ایسا نہیں جس پر سیاسی جماعتیں اور ارکان پارلیمنٹ متفق ہوئے ہوں۔
 
ہاں ایک بات ایسی ہے جس پر پاکستان کی تاریخ میں کبھی بھی ارکان پارلیمنٹ بشمول پی ٹی آئی کسی نے اختلاف نہیں کیا اور وہ ہے ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں اضافہ۔
 
کرپشن کرپشن کرنے والی پی ٹی آئی ایک کے اہم رہنما نے حامد میر کے پروگرام میں حالیہ تنخواہوں میں اضافے کی حمایت میں یہ دلیل دی کہ ہمارے پڑھے لکھے لوگ ناسا کو جوائن کرلیتے ہیں تنخواہوں میں اضافے سے ایسے لوگ پارلیمنٹ آئیں گے۔
#نکتہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زمانے کے حالات کیسے ادلتے بدلتے ہیں۔
تلک الایام نداولھا بین الناس۔۔ اور ہم یہ دن لوگوں میں باری باری بدلتے رہتے ہیں
 
ایک وقت تھا جب پاکستان فرانس سمیت کئی ممالک سے اسلحہ خریدتا تھا۔ زیادہ تر اسلحہ امریکا سے خریدا جاتا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔1990 میں #افغان وار ختم ہوئی تو امریکا نے سمجھا اب ہمارا مفاد پورا ہوگیا ہے  چنانچہ امریکا نے نہ صرف پاکستان کو اسلحہ بیچنا بند کردیا بلکہ جو پیسے ایف سولہ کے لئے ایڈوانس میں لیے ہوئے تھے وہ بھی دبا دیے۔ اور شاید ابھی تک واپس نہیں کیے۔
چنانچہ 90 کی دہائی میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ اب ہمیں اپنا اسلحہ خود تیار کرنا ہوگا۔ چند روایتی ہتھیار پاکستان خود بھی بناتا تھا لیکن جدید ترین ہتھیار خاص طور پر میزائل تیار کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ لیکن اس مشاورت میں یہ مسئلہ پیش آیا کہ اس کام کے لئے بہت بڑی رقم درکار ہوگی اور پاکستان میں کرپشن بھی بہت زیادہ ہے اس کا کیا حل ہوگا۔؟ چنانچہ کسی مشورہ دینے والے نے مشورہ دیا کہ سائنس کے اس شعبے میں ہزاروں کی تعداد میں جو لوگ کام کررہے ہیں ان میں سے چن چن کر ایسے لوگوں کو الگ کردیا جائے جن کا دامن صاف اور نیک وکار ہیں۔ چنانچہ #کہوٹہ سمیت تمام اداروں سے ایسے نیک لوگوں کو الگ کیا گیا اور  ڈاکٹر خالد شمیم جو خود بھی نیک اور تبلیغی ساتھی تھے ان کی قیادت میں میزائل ٹیکنالوجی کا الگ شعبہ قائم کردیا گیا۔ ڈاکٹر خالد شمیم نے اس شرط پر قیادت قبول کی کہ مجھے باختیار بنایا جائے میں جسے رکھو یا جسے نہ رکھوں اس کا پورا اختیار دیا جائے چنانچہ انہیں اس کا پورا اختیار دیا گیا ۔ انہوں نے اپنے میزائل پروگرام میں کام کرنے والوں کی اخلاقی تربیت بھی ساتھ ساتھ جاری رکھی۔ ادارے میں نماز کے وقت تمام کام بندکرکے باجماعت نماز اور نماز کے بعد حدیث کی تعلیم کا باقاعدہ سلسلہ شروع کیا گیا۔ چنانچہ اس اخلاقی تربیت کا اثر یہ ہوا کہ کرپشن بالکل ختم کردی گئی اور محدود وسائل کے ساتھ صرف سات آٹھ سالوں میں پاکستان نے جدید ترین میزائل ٹیکنالوجی میں کامیابی حاصل کرلی۔یہ سلسلہ یہاں نہیں رکا بلکہ پاکستان نے #میزائل پروگرام کے ساتھ ساتھ تمام شعبوں میں اپنے ہتھیار بنانا شروع کردیے۔  2001  میں ایک بار پھر افغان وار شروع ہوئی اور پاکستان پر تاریخ کے سخت ترین حالات آئے لیکن اس ادارے میں کام کرنے والے ساری دنیا سے بے گانہ اپنے کام میں لگن سے لگے رہے۔
آج کے اخبارات میں آپ نے پڑھا ہوگا کہ وہی فرانس جس سے پاکستان کسی وقت جہاز اور جہازوں کے سپیئر پارٹس خریدا کرتا تھا اسی #فرانس نے کل کراچی میں پاکستان سے جہازوں میں استعمال ہونے والی کیبل اور دیگر آلات کی خریداری کا معاہدہ کیا ہے۔
اس وقت دنیا کے چالیس کے قریب ممالک پاکستان سے #اسلحہ خرید رہے ہیں، پاکستانی ڈرون نے پوری دنیا کو اپنی طرف متوجہ کیا ہے، شاید 900 کی دہائی میں کسی کے تصور میں بھی یہ نہیں تھا کہ چند سال بعد پاکستان کو وہ مقام حاصل ہوگا کہ ترقیافتہ ممالک پاکستان کے اسلحے کے گاہک بن جائیں گے۔
#نکتہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ بیماری کے بہانے باہر جانے والا کلبوں میں ڈانس کر رہا ہے، ہمارے ملک میں جعلی سرٹیفکیٹ بن جاتے ہیں۔
جناب عزت مآب چیف جسٹس صاحب جان کی امان پاؤں تو عرض کروں:
 
لاٹھی بھی موجود ہے اور میدان بھی حاضر ہے۔ پاکستان کا قاضی القضات کوئی شیدا میدا نہیں آپ ہی ہیں۔ آپ کو سرکاری خزانے سے تنخواہ خبریں سنانے کی نہیں ملتی کہ روز روز دو چار خبریں سنا کر عدالت برخاست فرما دیتے ہیں۔
اگر جعلی سرٹیفکیٹ بنتے ہیں تو ان ہسپتالوں اور ڈاکٹروں کو پکڑنے صلاح الدین ایوبی تو نہیں آئے گا یہ تنخواہ آپ کو ہی حلال کرنی پڑے گی۔
 
اگر کوئی شخص جھوٹے بہانے سے گیا ہے تو اس گرفتار کر کے لانے کے لئے معتصم بااللہ تو نہیں آئے گا۔ 
 
فوج، سیاستدانوں اور جاگیرداروں کے قتل میں ملوث کتنے افراد کو دبئی سمیت مختلف ملکوں سے گرفتار کر کے لایا گیا اور پھر پھانسی دی گئی۔
لیکن جب ملک اسلام یا عوام کی بات ہو تو آپ نیوز کاسٹر بن جاتے ہیں۔
#نکتہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دوران ٹیچنگ طلباء پر تشدد ذہنی اور نفسیاتی بیماری کا نتیجہ ہوتا ہے
 
یہ بات تجربے سے ثابت ہے کہ ٹیچرز معاشی یا گھریلو مسائل کی وجہ سے نفسیاتی مریض بن جاتے ھیں جس کا غصہ بے قابو تشدد کی صورت میں طلباء پر ظاہر ہوتا ہے
 
پنجاب حکومت نے جس طرح سکول سے کسی بچے کا نام خارج کرنے پر پابندی لگائی ہے چنانچہ سال کے آخر میں سکول کا احتساب ہوتا ہے کہ سال کے شروع میں اتنی تعداد تھی اب اتنی کم کیوں ہے ؟
اسی طرح مار پیٹ پر مکمل پابندی لگائی جائے
البتہ امتحانی نظام اتنا سخت کر دیا جائے کہ کسی بچے کے ساتھ ایک آنے کی رعایت نہ کی جائے تو بچے بھی محنت کریں گے اور والدین بھی توجہ دیں گے
 
تعلیمی#نکتہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔معروف شخصیت قاسم علی شاہ صاحب نے اپنے ٹی وی انٹرویو میں سوشل میڈیا کے نقصانات بارے تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ
قومیں ترقی تربیت سے کرتی ہیں صرف ٹیکنالوجی سے نہیں۔
یہ بات مولبی صدیوں سے بتا رہا تھا لیکن لبڑل سیکولڑ کہتے تھے کہ مولبی ٹیکنالوجی کے خلاف ہے۔
ایشیا کے لوگ لتر کھا کر ہی جاگتے ہیں
#نکتہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سپریم کورٹ کو چاہیے وہ پانامہ کیس میں درمیانہ سا فیصلہ سنائے کیونکہ جس طرح کے حالات نظر آرہے ہیں ان سے لگتا ہے عمران خان پر مایوسی کا اٹیک ہو جائے گا اور یہی بات ملک و قوم کے لئے خطرہ ہے
کراچی کے مہاجروں میں مایوسی پھیلی تو ایم کیو ایم اور الطاف حسین پیدا ہوگئے
فاٹا کے لوگوں میں مایوسی پھیلی تو طویل جنگ شروع ہوگئی
بلوچوں میں مایوسی پھیلی توخٖفیہ تنظیمیں بن گئیں
عجیب اتفاق یہ ہے کہ ان سب سے را نے اپنے مراسم بنا لئے 
کہیں ایسا نہ ہو کہ مایوسی عمران خان کو وہاں لے جائے کہ ان کے سر کی قیمت مقرر کرنی پڑے۔
#نکتہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سناہےPP78جھنگ سےحق نوازجھنگوی شہیدؒ کےبیٹےمسرورنوازجھنگوی نامزدہوئےہیں
اگر الیکشن میں کامیاب ہوگئے تو دو کاموں میں سے ایک ہو گا
یا انہیں اللہ تعالی شہادت کا اعلی مقام عطا فرمائے گا
یا کورٹ دبارہ گینتی کا حکم دے گا
مشاہداتی #نکتہ 16نومبر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اخباری تراشے پکوڑوں والے ہوں یا تندوری یہ بھی بڑے کام کے ہوتے ہیں۔
 
دس سال پہلے کی بات ہے میں تندور پر روٹی لینے گیا، انہوں نے اخباری تراشے میں روٹی لپیٹ کردے دی۔ گھر آکر کھانے کے ساتھ ساتھ اس تراشے کو بھی پڑھنا شروع کیا جب روٹی ختم ہوئی تو تراشے کو دوسری طرف سے پڑھنے کے لئے پلٹا تو دیکھا ایک اشہار نظر آیا جس میں اسی اخبار کے دفتر میں ڈپٹی ایڈیٹر، نیوز رپورٹر کی ضرورت ہے کا لکھا ہوا تھا۔ کھانے سے فارغ ہوکر فون کیا اور پھر ایڈریس پوچھ کر دفتر پہنچ گیا۔ انٹر ویو کے بعد ایک ہفتے کے ٹرائل پر مجھے رکھ دیا گیا۔ ایک ہفتے کے ٹرائل کے بعد میں ان کے معیار پر پورا اترا تو مستقل رکھ دیا۔ چنانچہ کئی مہینے تک میں اس اخبار میں کام کرتا رہا۔
امید ہے کوئی نہ کوئی تراشا تو ایسا ضرور نکلے گا جو عمران خان کو وزیر اعظم کی کرسی پر بٹھا دے۔
#نکتہ (چیف جسٹس نے پی ٹی آئی کے وکیل کو کہا اخبار میں دوسرے دن پکوڑے بکتے ہیں)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کل جب کالیا اینڈ بوتھیا کمپنی نے عدالت میں کرپشن کیس کی سماعت کے دوران ثبوت کے طورپر اخباروں کے تراشے پیش کیے تو جسٹس عظمت نے کہا آج کے اخبار میں دوسرے دن پکوڑے بکتے ہیں، ثبوت پیش کرو اخبار نہ دکھاو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1947 کی پرچم کشائی کے بعد کل گوادر کی افتتاحی تقریب پاکستان کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھی جائے گی کیونکہ یہ ایک نئے معاشی پاکستان کی تقریب تھی۔ ایسی تقاریب میں قوم کے لیڈر شرکت کرتے ہیں کیونکہ یہ قومی مسائل ہوتے ہیں۔
لیکن
 
کالیا نے اپنا مقام خود اتنا مجروح کر لیا ہے کہ اس پروقار تقریب میں گرین شرٹ پہنے امپائربھی موجود تھا اور پیلی پگڑی اوڑھے تھرڈ امپائر بھی جبکہ کالیا ٹونی کے ساتھ بیٹھے ٹی وی پر دیکھ رہا تھا جس سے کم از کم ایک پاو خون ضرور خشک ہوا ہوگا 
حسد سے
#نکتہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تعارف قانون مفرد اعضاء
#طب یونانی سے آپ واقف ہی ہوں گے یا کم از کم نام ہی سنا ہوگا۔ پاکستان کے مایہ ناز حکیم دوست  محمد صابری ملتانی مرحوم نے طب کی دنیا میں انقلاب بھرپا کرتے ہوئے ایک جدید نظریہ مفرد اعضاء پیش کیا تھا جسے بہت مقبولیت حاصل ہوئی۔
 
حکیم صابر ملتانی کے کسی شاگرد کی لکھی ہوئی یہ کتاب جو اس نظریے کے تعارف پر مبنی ہے آج کل میرے زیر مطالعہ ہے۔ 
 
نظریہ مفرد اعضاء واقعتا ایک انقلابی نظریہ ہے، ایک تو اس کی یہ خوبی ہے کہ یہ زیادہ پیچیدہ نہیں ہرپڑھا لکھا شخص اس کو آسانی سے سمجھ سکتا ہے۔ اس نظریے کو سمجھنے کا بڑا فائدہ یہ ہے کہ آپ اپنی بیماری کی صحیح تشخیص خود کرسکتے ہیں۔ یعنی آپ کو پتا چل جائے گا یہ بیماری کیوں ہوئی اصل مسئلہ کہاں اور کیا ہے۔ یہی آدھی طب ہے باقی آدھی اس کا علاج ہے اس کے لئے مزید رہنمائی حاصل کی جاسکتی ہے۔
تین دن پہلے میں اس کتاب کو صرف ایک بار پڑھ کر اسی قانون کے فاضل ایک #حکیم کے پاس گیا اور  اپنا امتحان دینے کے لئے کچھ باتیں کیں جو بالکل ٹھیک ٹھیک تھیں مجھے خود حیرانگی ہورہی تھی، طب اور صحت کے حوالے سے کئی ایسی معلومات میں اضافہ ہوا کہ جو عجیب و غریب تھیں
مثلا ابھی تک یہی سنتے آئے تھے کہ پیشاب پیلا ہو تو یہ شاید کوئی بیماری ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے 
دوسری کتاب اسرار النبض ہے جو ایک دو دن بعد مطالعہ کرنا شروع کروں گا
 
اس کتاب کے میں نبض چیک کرکے بیماری کا پتا چلانا بتایا گیا ہے، جس حکیم کی ابھی میں نے بات کی اسے میں نے خود دیکھا وہ نبض چیک کرکے بتا دیتا ہے آپ کی شوگر ، یورک ایسڈ، خون کی مقدار یا بلڈ پریشر اتنے بٹا اتنے ہے۔ لوگ بعد میں لیبارٹی میں چیک کرواتے ہیں ایسا ہی ہوتا ہے۔
طبی #نکتہ
…………………….
اجتماع میں شرکت کیوں۔۔؟
اس سوال کے جواب میں اکثریت نے شرکت کا مقصد ثواب بتایا۔
چنانچہ ایک بہت بڑی تعداد آخری دن دعا میں شامل ہونے کے لیے پہنچتی ہے
 
یہ ہمارا بہت بڑا المیہ ہے کہ تحاریک کا مقصد ہمیں معلوم ہی نہیں اور اگر معلوم ہے بھی تو ہمارے مدنظر نہیں
 
اسی طرح کے کام مثلا ربیع الاول کے جلوس، عرس، میلے جب جہلا کرتے ہیں تو ہم انہیں کوستے ہیں لیکن ہمیں اپنے گریبان میں جھانک کر سوچنے کی توفیق نہیں ہوتی۔
 
اجتماع میں شرکت اسلام کی سربلندی اورغلبہ کے جذبے سے کریں۔ ثواب آور دعائیں تو ساتھ مفت میں ملیں گی
#نکتہ
…………………

(مہمان کالم) سی پیک پر ایک تجزیہ

روس نے گرم پانی تک پہنچنے کے لئے 80 بلین ڈالر خرچ کئے
جبکہ چائنہ نے 511 بلین ڈالر
لیکن روس نے Destruction کا راستہ چنا اور چائنا نے Construction کا
روس افغانستان کی سڑکیں اور انفراسٹرکچر تباہ کرتا ہوا پاراچنار کی چوٹیوں تک آیا اور نامراد لوٹا۔
 جبکہ چائنا شمالی علاقہ جات اور بلوچستان کی سڑکیں تعمیر کرتا ہوا گوادر پہنچا۔۔
روس نے پاکستان کے تعلیمی اداروں میں سرخ انقلاب، سوشلسٹ تبدیلی اور کمیونسٹ نظریہ کے لئے طلبہ کو اکسائے رکھا اور یہ بیچارے چی گویرا بننے کی کوشش میں تعلیم سے بھی گئے اور سماج میں بھی کسی کام کے نارہے، دو چار خام مال بن کر نکلے تو وہ "Smoking Corner" میں بیٹھے کالم لکھتے رہے۔
جبکہ چائنا نے 55 ہزار پاکستانی طلبہ و طالبات کو اسکالر شپ پر چائنا بلوایا، اس کے علاوہ چائنا کی پرائیوٹ یونیورسٹیوں میں ہزاروں طلبہ و طالبات زیر تعلیم ہیں۔
 آج پاکستان کی تمام یونیورسٹیوں میں سینکڑوں پروفیسر چائنا سے اعلیٰ تعیلم یافتہ ہیں۔
90 ہزار افغان، عرب اور پاکستانی مجاھدین سویت افغان جنگ میں شہید ہوئے
جبکہ سی پیک سے ایک لاکھ پاکستانیوں کو روزگار کے نئے مواقع میسر آئے
پندرہ ہزار روسی فوجی ہلاک ہوئے
جبکہ آج  تیرہ ہزار پاکستانی فوجی (ایک نیا سیکیورٹی ڈویژن) سی پیک کی حفاظت پر مامور ہے
روس کے تین سو ہیلی کاپٹر، سو جنگی جہاز اور ڈیڑھ سو ٹینک لوہے کا اسکریپ بن گئے
جبکہ چائنا نے جو راستہ چنا اس کی بدولت
 چائنا کے چار سو بحری جہاز ہر سال گوادر سے یورپ، افریقہ، وسطی ایشیاء اور خلیج میں جائنگے
آج چائنا دنیا کی سب بڑی سافٹ پاور ہے جس کی بدولت وہ کوئی ملک طاقت کی بنیاد پر فتح کرنا تو دور کی بات، ایک گولی چلائے بغیر ہی سپر پاور بننے جارہاہے، چائنا کی یہ طے شدہ پالیسی ہے کہ 2025 تک دنیا کے کسی رفڑے، پنگے اور دنگل کا حصہ نہیں بنے گا۔
آج دنیا کے 300 ممالک کے ٹاپ بیوروکریٹ، سفارتکار اور اعلیٰ حکومتی نمائندے چائنا سے اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں، جو عالمی فورمز پر اپنے ملک کے بعد سب سے زیادہ حمایت چائنہ کی کرتے ہیں، اور عالمی سیاست میں چائنہ کی یہ کامیابی اس کی اقتصادی کامیابی سے زیادہ اہمیت کی حامل ہے۔۔۔۔۔۔۔
اس سب کی وجہ یہ ہے کہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
1988 میں جوزف نائے ( Joseph Nye ) نے کہا تھا کہ
"وہ دن چلے گئے کہ گولی ماری اور پہاڑ پر چڑھ گئے"
 جوزف نے عالمی سیاست اور بین الاقوامی تعلقات کو ایک نیا موضوع دیا جس کا نام تھا سافٹ پاور ( Soft Power ).
 اس کے مطابق وہ دور ختم ہوگیا کہ جب آپ بارود سے بھرے ٹینک لیکر کسی ملک کی سرحد پر پہنچیں گے، آپ کی فوج صف آراء ہوگی اور دھاڑتی ہوئی یلغار لائن کو عبور کرے گی اور ملک فتح ہوجائے گا۔۔
 اب صرف آپ کا گولہ بارود اور طاقتور فوجیں نہیں بلکہ آپ کی مضبوط معیشیت، خارجہ پالیسی، ڈپلومیسی کے طریقے، یونیوسٹیاں، کھیل کے میدان اور ثقافت کے ادارے دوسرے ممالک کو متاثر کریں گے اور ان پر اثر انداز ہونگے۔ ۔ ۔ ۔ ۔
عالمی سیاست کے بدلتے ہوا رجحانات Hard Power سے Soft Power کو منتقل ہوگئے ہیں۔۔۔
اب کامیابی اور ناکامی کا فیصلہ
جنگی جہاز کی گھن گھرج
ٹینک کا بارود
میگزین میں گولیوں
اور
ہارڈ پاور کے جبری طریقوں سے نہیں
بلکہ  سافٹ پاور کے ترغیبی اندازسے ہوگا۔ ۔ ۔ ۔ ۔
بے ربط خیالات~
پس تحریر
 چائنہ کے بعد ابھرتی ہوئی سافٹ پاور تُرکی، کینیڈا اور بھارت ہیں۔۔ مودی کے بھارت میں آںے سے اس کا گراف نیچے ہوا ہے اور اسی طرح ڈونلڈ ٹرمپ کی وجہ سے امریکہ کا گراف مزید نیچے آئے گا۔

Thursday, December 29, 2016

بچوں کے نام اور لوگوں کے عجیب تصورات

(سید عبدالوہاب شیرازی)
جب کسی کے گھر بچہ پیدا ہوتا ہے تو سنت طریقہ یہ ہے کہ ساتویں دن تک اس کا نام رکھ کر عقیقہ کردیا جائے۔ لیکن ہمارے معاشرے میں ایک عجیب بیماری یہ بھی پائی جاتی ہے کہ لوگ ایسا کوئی نام رکھنے کے لئے تیار نہیں ہوتے جو پہلے سے کسی اور نے رکھا ہوا ہو۔ چنانچہ خاص طور پر عورتیں کئی کئی مہینے بچے کو بغیر نام کے پال رہی ہوتی ہیں اور اس تلاش میں رہتی ہیں کہ ہمیں کوئی نیا، انوکھا نام مل جائے جو کسی اور نے نہ رکھا ہوا ہو۔ بعض لوگ تو زیادہ اسلامی بننے کے چکر میں قرآنی نام رکھنے کے لئے خود ہی قرآن اٹھا کر پڑھنا شروع کرتے ہیں اور پھر پڑھتے پڑھتے جو لفظ اچھا لگے تو اسے بچے کا نام رکھ لیتے ہیں، چنانچہ ایسا ہی ایک صاحب نے کیا جب بچہ کافی بڑا ہوگیا تو بعد میں پتہ چلا کہ اس بچے کا جو نام رکھا گیا ہے وہ تو جہنم کی وادیوں میں سے ایک وادی کا نام ہے۔اسی طرح بعض لوگ آنکھیں بند کرکے قرآنی صفحے پر انگلی رکھتے ہیں، انگلی کے نیچے جو لفظ آجائے وہی نام رکھ لیتے ہیں۔
البتہ اب کچھ شعور اور تعلیم عام ہوئی ہے تو لوگ نام کا معنی بھی دیکھتے اور پوچھتے تو ہیں لیکن کوشش یہی ہوتی ہے کہ وہ نام ایسا ہونا چاہیے جو ہم نے کبھی بھی اپنی زندگی میں نہ سنا نہ دیکھا ہو۔ چنانچہ اگر مجھ سے کوئی نام پوچھے تو میں جو بھی نام بتاتا ہوں لوگ کہتے ہیں نہیں نہیں یہ تو فلاں کا ہے، یہ تو ہمارے پڑوسی کا ہے، یہ تو دبئی میں ہمارے رشتہ دار رہتے ہیں ان کے بچے کا ہے، کوئی ایسا نام بتائیں جو کسی کا نہ ہو تو پھر میرا جواب ہوتا ہے وہ نام ابلیس ہی ہے جو کسی انسان کا نہیں ہے۔
ناموں کے سلسلے میں شریعت کی طرف سے ہمیں جو رہنمائی ملتی ہےوہ یہ ہے کہ ایک تو ساتویں دن تک نام رکھ دیا جائے۔ دوسرا انبیاء اور صحابہ کرام کے ناموں میں سے کوئی سا نام رکھ دیا جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ اور عبدالرحمن ناموں کی تعریف فرمائی ہے۔چنانچہ یہ دو نام ایسے ہیں جو مسلمانوں خصوصا صحابہ وتابعین کے بچوں میں بہت عام ہوتے تھے۔اسی طرح لوگوں میں ایک غلط فہمی یہ بھی عام ہے کہ بچے کا نام محمد نہیں رکھ سکتے۔ حالانکہ ایک حدیث میں اس نام کی  فضیلت بھی بیان ہوئی ہے جسے لوگوں نے اس طرح حاصل کرنا شروع کردیا ہے کہ ہر نام سے پہلے محمد لکھ دیا جاتا ہے، یہ بھی اچھی بات ہے لیکن فضیلت صرف اسی بچے کے لئے ہے جس کا نام صرف محمد ہو۔ اسی طرح بعض نام لوگوں میں غلط العام بھی ہوگئے ہیں، مثلا شُرَحْبِیْل کئی صحابہ،تابعین اور محدثین کا نام ہے۔لیکن آج کل یہ نام غلط ہو کر شرجیل مشہور ہوگیا ہے۔
اچھا نام ضرور رکھا جائے لیکن اچھے کے چکر میں نئے نام کے لئے اتنی تلاش نہ کی جائے کہ کئی کئی مہینے گزر جائیں۔ اچھا نام اگرچہ آپ کے محلے یا برادری میں کئی بچوں کا ہو آپ بھی بلا جھجک رکھ سکتے ہیں، یہ کوئی معیوب بات نہیں ہے، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں لوگ ایسے پسندیدہ نام بلا جھجک رکھ دیا کرتے تھے جو پہلے  سے اپنے محلے کے کئی کئی بچوں کا ہوتا تھا۔چنانچہ آج یہ حقیقت بھی جانیے کہ جنگ بدر میں صرف 313 صحابہ کرام نے شرکت کی تھی اور ان تین سو تیرہ میں کئی اکثریت ایسے لوگوں کی تھی جن کا نام ایک ہی تھا۔ چنانچہ یہ نام پڑھتے ہوئے حیران ہوں گے کے اس وقت کے معاشرے میں کیسے لوگ ایک ہی نام رکھا کرتے تھے۔
ایک نام والے بدری صحابہ کرام:
2 ایاس، 2 جابر، 2 حاطب، 2 حمزہ، 2 خالد، 2 خباب، 2 ربیع، 2 سالم، 2 سُراقہ، 2 سنان، 2 سواد، 2 ضحاک، 2 عباد، 2 عبدالرحمن، 2 عثمان،2 عمارہ، 2 کعب، 2 محرز، 2 معبد، 2 معن، 2 معوذ، 2 وہب
3 اوس، 3 تمیم، 3ثعلبہ، 3 حارثہ، 3 زیاد، 3 سلمہ، 3 طفیل، 3 عتبہ، 3 قیس، 3 معتب، 3 منذر
4 خلاد،4 رفاع، 4 سلیم، 4 عاصم، 4 عقبہ
5 ثابت، 5 رافع،5 عبید،5 عمیر،5 معاذ
6 زید،6 سہل،6 مسعود،6 یزید
7 نعمان
8 عامر،8 مالک
11 عمرو
12 حارث
13 سعد
26 عبداللہ
32 نام ایسے ہیں جو ابو سے شروع ہوتے ہیں۔
یہ بات دبارہ ذہن نشین کرلیجیے کہ یہ تعدادصرف تین سو تیرا میں سے ہے ہزاروں میں سے نہیں۔ یعنی تین سو تیرا میں سے 231 صحابہ کرام ایسے ہیں جن کے ایک جیسے نام تھے اور 32 صحابہ کرام ایسے تھے جن کے نام میں ابو آتا ہے، اور صرف 48 صحابہ کرام ایسے ہیں جن کا الگ سے نام تھا۔ یہ 48 نام بھی بالکل مختلف نہیں ہیں صرف ایک آدھ لفظ کا ہی فرق ہے مثلاجابر،جبر،جبار،جبیر وغیرہ
صحابہ اور تابعین کے دور میں تو ایسا بھی ہوتا تھا کہ جو نئے آنے والے بچے کا نام ہے وہی اس کے باپ کا نام ہے اور وہی اس کے دادا کا نام ہے۔ مثلا محمد بن محمد بن محمدبن محمد۔
موجودہ زمانے میں تبلیغی جماعت کے بزرگ مفتی زین العابدین رحمہ اللہ نے اپنے چاروں بیٹوں کا نام یوسف رکھا ہوا تھا جنہیں یوسف اول دوم سوم چہارم سے فرق کیا جاتا تھا۔

Monday, December 26, 2016

عمر کے چالیس سالوں میں”علم وفکر“ کے ارتقائی اَدوار

سید عبدالوہاب شیرازی
انسان جب دنیا میں آتا ہے سب پہلے اسے صرف اتنا علم ہوتا ہے کہ ماں کی چھاتی سے دودھ کیسے پینا ہے، دنیا میں آکر اسے کوئی نہیں سکھاتا اور نہ ہی سکھانا ممکن ہوتا ہے بلکہ پیدائش کے فورا بعد اسی دن وہ ایسے دودھ پینا شروع کردیتا ہے جیسے اسے اچھا خاصا تجربہ ہے۔ یہ اللہ کی ذات ہے جو اسے یہ علم وتجربہ دے کر اس دنیا میں بھیجتی ہے،اللہ اکبر۔
اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ انسان عمر کے جس حصے میں ہوتا ہے اپنے آپ اور اپنی سوچ وفکر اور علم کو کامل ومکمل سمجھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اس کے دوسروں سے جھگڑے ہوتے ہیں۔ اگر کوئی انسان یہ سمجھے کہ میری معلومات ناقص ہیں تو کبھی بھی جھگڑا پیدا ہی نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے سورہ الحدید کی آیت نمبر بیس میں ایک انسان کی زندگی میں اس کی فکر،سوچ،علم اور ترجیحات کے مراحل کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے: اِعلموا انما الحیوة الدنیا لعب ولھو وزینة وتفاخر بینکم وتکاثر فی الاموال والاولاد۔کمثل غیث اعجب الکفار نباتہ ثم یہیج فترہ مصفرا ثم یکون حطاما۔ ترجمہ: خوب جان لو کہ یہ دنیا کی زندگی اس کے سوا کچھ نہیں کہ ایک کھیل اور دل لگی اور ظاہری ٹیپ ٹاپ اور تمہارا آپس میں ایک دوسرے پر فخر جتانا اور مال واولاد میں ایک دوسرے سے بڑھ جانے کی کوشش کرنا ہے۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک بارش ہوگئی تو اس سے پیدا ہونے والی نباتات نے کاشت کاروں کو خوش کردیا، پھر وہی کھیتی پک جاتی ہے اور تم دیکھتے ہو کہ وہ زرد ہوگئی، پھر وہ بھس بن کر رہ جاتی ہے۔
عام طور پر اس آیت کا لفظی ترجمہ کرکے ہم آگے گزر جاتے ہیں اور اس بات میں غور وحوض نہیں کرتے کہ یہاں اللہ تعالیٰ نے پانچ مختلف الفاظ میں انسانی زندگی کے پانچ ادوار بیان کیے ہیں، جنہیں ہم ایک انسان کا علمی یا ترجیحاتی ارتقاءبھی کہہ سکتے ہیں۔ لعب پانچ سال سے دس گیارہ سال کی عمر کا دور ہے۔ پھر”لہو“اٹھارہ انیس سال تک کی عمر کا دور ہے۔ پھر”زینہ“اٹھائیس تیس سال تک کا دور ہے۔ پھر”تفاخر“ اڑتیس چالیس سال تک کا دور ہے اور پھر اس کے بعد تکاثر فی الاموال والاولاد کا دور ہے۔
ذرا غور کیجیے! فرمایا: جان لو دنیا کی زندگی ”لعب“ ۔”لھو“۔ ”زینت“۔ ”تفاخر“۔ اور ”مال میں کثرت کی خواہش“ کا نام ہے۔ اب آپ ہرہر لفظ کو کسی ڈکشنری کی مدد سے دیکھیں کہ ان کے معانی کیا ہیں۔
1۔مثلا پہلا لفظ ہے ”لعب“، المنجد میں اس کا معنی لکھا ہے۔ بچے کے منہ سے رال ٹپکنا، کھیلنا، ایسا فعل کرنا جس پر کوئی فائدہ مرتب نہ ہو۔ چنانچہ بچوں کے اکثر افعال ایسے ہی ہوتے ہیں جن پر کوئی فائدہ مرتب نہیں ہوتا، جیسے ریت کے گھر بنانا، کھلونا گاڑیاں چلانا، وغیرہ وغیرہ تمام کام بالکل فضول اور کھیل برائے کھیل ہوتے ہیں۔ جن میں کوئی جسمانی لذت بھی نہیں ہوتی، لیکن وہ بچہ انہیں فضول نہیں سمجھتااس کے علم اور فکرکے مطابق یہ بہت بڑے کام ہوتے ہیں، چنانچہ اگر کوئی شخص کسی بچے کی گاڑی توڑ دے تو وہ روتا ہے اور اس کو اتنا ہی دکھ ہوتا ہے جتنا دکھ تیس سال کے شخص کو ایک کروڑ کا نقصان ہونے سے ہوگا۔
2۔اس کے بعد پھر دوسری سٹیج آتی ہے (نودس سال کے بعد)جسے Teen ager stage کہاجاتا ہے۔ یہ نہایت خطرناک دور ہوتا ہے، یہاں انسان صرف کھیلتا ہی نہیں بلکہ اب اس کے کھیلوں میں لذت کا حصول بھی شامل ہوجاتا ہے، یہ آوارگیوں کا دور ہوتا ہے، اس عمر میں کھیل برائے کھیل نہیں بلکہ کھیل برائے لذت ہوتا ہے۔ اس کے لئے قرآن نے ”لھو“ کا لفظ استعمال کیاجس کا معنی المنجد میں کھیل۔بہلاوا۔شغل اور غافل کرنے کی چیز کیا گیاہے۔
3۔اس کے بعد انسان پر تیسرا دور آتا ہے، جسے قرآن نے زینت کے الفاظ سے بیان کیا ہے، اس عمرکے نوجوان خصوصا لڑکیوں کے ذہن پر جو چیز ہروقت سوار ہوتی ہے وہ فیشن ہے۔ میں خوبصور ت لگوں، خوبصورت پہنوں۔ بال، چہرہ،لباس،جوتی سمیت ہرچیز خوبصورت ہو۔ گویا ساری سوچ وفکر،احساسات اور نفسیات میں نمایاں چیز یہی زینت ہوتی ہے۔
4۔پھرچھبیس ستائیس سال کے بعد زندگی کا وہ دور آتا ہے جس میں انسان ”تفاخر“ کا شکار ہوجاتا ہے۔وہ فخریہ طور پر دوسروں سے آگے نکلنے کی کوشش کرتا ہے۔ فخر علم پر بھی ہوسکتا ہے اور مال پر بھی۔ خوبصورتی پر بھی ہوسکتا ہے اور عبادت پر بھی، اپنے کنبے قبیلے پر بھی ہوسکتا ہے اور اپنے مسلک ومذہب پر بھی۔گویا اس دور میں آدمی ہر حال میں اپنی مونچھ اونچی رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔
5۔پھر پینتیس چالیس سال کی عمر سے انسانی ذہن پچھلی ساری چیزوں کو فضول سمجھتے ہوئے بس ایک ہی دھن میں لگ جاتا ہے کہ کسی طریقے سے مال زیادہ سے زیادہ جمع ہوجائے، جسے قرآن نے ”تکاثر فی الاموال والاولاد“ سے تعبیر کیا ہے۔یعنی اس عمر میں آدمی سوچتا ہے مونچھ کٹتی ہے تو کٹ جائے لیکن پیسہ آجائے۔ یاد رہے مذکورہ پانچوں ادوار کے ہر دور میں آدمی اسی دور کو سب سے اعلیٰ،حتمی اور کامل ومکمل سمجھتے ہوئے پاگلوں کی طرح اس کام میںلگا رہتا ہے، نہ کسی سمجھانے والے کی نصیحت کا اثر قبول کرتا ہے اور نہ ہی کوئی ڈراوا دھمکی اس کے آڑے آتی ہے۔
علم اور ترجیحات کے اس ارتقاءسے ہر انسان کا گزر ہوتا ہے، علم ،عمر اور مشاہدہ جیسے جیسے بڑھتا ہے انسان کی سوچ میں تبدیلی آتی رہتی ہے، پہلے دو ادوار میں انسان صرف اپنے بارے میں سوچتا ہے۔ تیسرے اور چوتھے دور میں خاندان،پھربرادری اور پھر مسلک اور فرقے کے بارے سوچتا ہے۔ لیکن چالیس سال کی عمر میں جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ عقل مکمل ہوجاتی ہے انسان اپنے سے باہر نکلتا ہے اور پوری قوم، ساری امت اور پھرتمام انسانیت کے بارے سوچنا شروع کردیتا ہے۔سوچ کا یہ تغیرجتناجلدی مکمل ہواتنا ہی بہتر ہے اپنے لئے بھی اور دوسروں کے لئے بھی۔
آپ زندگی کے جس دور سے بھی گزر رہے ہیں آپ اس دور اور اس سے پہلے کے ادوار کو دیکھیں یہ حقیقت آپ کو صاف دکھائی دے گی۔ پھر آپ اپنے معاشرے کو دیکھیں، لوگوں کو دیکھیں، تنظیموں اور جماعتوں کو دیکھیں ان جماعتوں کی عمروں کو دیکھیں ان کے اندر بھی آپ کو یہی حقیقت نظر آئے گی۔اگر ایک جماعت کسی وقت اپنی مونچھ اونچی رکھنے کی کوشش کررہی تھی تو اب تیس چالیس سال کے بعد مفاہمت کی پالیسی پر گامزن ہے تو دوسری جماعت ابھی بھی وہی سوچ رکھتی ہے جو چوبیس پچیس سال کے نوجوان کی ہوتی ہے۔