Search This Blog

Thursday, April 26, 2018

آپریشن سے بچوں کی پیدائش کا خطرناک کھیل

(سید عبدالوہاب شیرازی)
حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش مٹی سے ہوئی۔ پہلے ایک پتلا بنایا گیا اور پھر اس میں روح پھونک دی گئی۔ پھر آدم علیہ السلام کی پسلی سے حضرت حواء علیہاالسلام کی پیدائش ہوئی۔ پھر جب دونوں دنیا میں آئے تو ان سے آگے انسانی نسل پھیلی اور بچوں کی پیدائش ایک خاص عمل کے بعد عورت کے رحم سے ہوتی رہی۔ آج سے  دس ہزار سال قبل حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر آج سے تقریبا چندسال قبل تک بچوں کی پیدائش اسی فطری طریقے سے ہوتی رہی جو ہزاروں سال سے نہ صرف انسانوں بلکہ تمام جانداروں،  دوسری مخلوقات اور جانوروں میں جاری و ساری ہے۔
لیکن اب اچانک سے پاک وہند میں یہ تبدیلی آئی اور پھر بہت زیادہ عام ہوگئی کہ ستر فیصد بچوں کی پیدائش آپریشن سے ہورہی ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ باقی تمام مخلوقات مثلا کتا، بلی، بکری، بھینس وغیرہ وغیرہ ہر ایک کے ہاں بچے کی پیدائش اسی فطری طریقے سے ہورہی ہے جیسے پہلے ہورہی تھی ایک واحد انسان ہے جسے قصائی نما ڈاکٹروں نے اپنی پیسے کی ہوس، لالچ اور محبت نے اس غلط راستے پر زبردستی ڈال دیا ہے۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ آج کل کی خوراک اتنی ناقص ہے کہ جس کی وجہ سے زچہ و بچہ کی صحت اس قابل نہیں ہوتی کہ آپریشن کے بغیر پیدائش ہوسکے۔ لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ناقص خوراک کا معاملہ صرف انسانوں کے ساتھ ہی ہے یا جانور بھی ناقص خوراک ہی کھا رہے ہیں، آج کی گائے اور بھینسیں بھی یوریا اور کیمیکلز سے تیار کردہ گھاس کھا رہی ہیں، کتیا اور بلی بھی فارمی مرغیوں کی ہڈیا اور گوشت کھا رہی ہیں لیکن ان کو تو آپریشن کی ضرورت پیش نہیں آتی آخر انسان کوہی کیوں زبردستی آپریشن پر مجبور کیا جارہا ہے۔
ہمارے خیال میں اس سارے معاملے میں سوائے پیسے کی ہوس کے اور کچھ نہیں۔ دراصل آج کا ڈاکٹر ، ڈاکٹر بنا ہی زیادہ پیسہ کمانے کے لئے ہے۔ ذرا سوچیے، والدین اپنے بچے کو کیوں ڈاکٹر بناتے ہیں، کیا ان کے ذہن میں ذرا بھی یہ تصور ہوتا ہے کہ میرا بچہ یا بچی انسانیت کی خدمت کرے گا؟ نہیں بالکل نہیں۔ والدین یہی سوچ کر ڈاکٹر بناتے ہیں کہ پیسہ زیادہ کمائے گا۔ تو پھر ظاہر ہے اس کا نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ وہ کہنے کو تو ڈاکٹر ہوتا ہے لیکن اصل میں انسانیت کو ذبح کرنے والا قصائی۔
آج کوئی بھی خاتون پیدائش کے وقت ہسپتال یا کلینک جاتی ہے تو فورا اسے نفسیاتی طور پر اتنا ہراساں کردیا جاتا ہے کہ وہ آپریشن کروانے پر مجبور ہوجاتی ہے۔چونکہ آپریشن کروانے پر اچھے خاصے پیسے مریض کی جیب سے نکلوائے جاسکتے ہیں اس لیے ڈرا دھمکا کر آپریشن کرنے پر راضی کرلیا جاتا ہے۔
عالمی طور پر آپریشن کروانا اچھا تصور نہیں کیا جاتا۔کیونکہ اس طرح زچہ و بچہ دونوں طرح طرح کی بیماریوں اور عمر بھر کے لئے کئی طرح کے مسائل سے دوچار ہوجاتے ہیں۔

سائنسدانوں نے جدید تحقیق کے بعد بتایا ہے کہ جو بچے آپریشن کے ذریعے پیدا ہوتے ہیں ان کے 5سال کی عمر تک پہنچنے سے پہلے ہی موٹاپے میں مبتلا ہونے کے امکانات نارمل طریقے سے پیدا ہونے والے بچوں کی نسبت 50 فیصد زیادہ ہوتے ہیں۔اس کے علاوہ ان بچوں کو دمہ لاحق ہونے کا امکان بھی زیادہ ہوتا ہے۔رپورٹ کے مطابق سائنسدانوں نے ماں کے آپریشن کے ذریعے بچہ پیدا کرنے کا نقصان بتاتے ہوئے کہا کہ جو خواتین آپریشن کے ذریعے بچہ پیدا کرتی ہیں آئندہ ان کا اسقاط حمل ہونے اور ان کے بانجھ ہونے کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔اس تحقیق میں یونیورسٹی آف ایڈنبرا کے سائنسدانوں نے دونوں طریقوں سے پیدا ہونے والے ہزاروں بچوں اور ان کی ماں کی صحت کا ریکارڈ حاصل کرکے اس کا تجزیہ کیا اور نتائج مرتب کیے۔
عالمی ادارہ صحت نے آپریشن کے ذریعے پیدائش کو اس کے نقصان دہ اثرات کے باعث زچگی کا ناپسندیدہ طریقہ قرار دیا ہے۔ اور 10 سے 15 فیصد سالانہ سٹینڈرڈ شرح مقرر کی ہے۔ لاہور میں قائم پنجاب کے سب سے بڑے سرکاری ہسپتال سر گنگا رام میں ہر سال لگ بھگ 24 ہزار بچوں کی پیدائش ہوتی ہے۔ ہسپتال کے اعداد و شمار کے مطابق ان میں سے 50 فیصد بچوں کی پیدائش آپریشن کے ذریعے ہو رہی ہے۔
ڈاکٹروں کے مطابق سی سیکشن محض اس صورت میں کیا جانا چاہیے جب ماں اور بچے کی جان کو خطرہ لاحق ہو کیونکہ جب پیٹ کاٹ دیا گیا تو اس میں انفیکشن ہو سکتا ہے زخم جلدی نہیں بھرتا۔ کبھی خون نہیں رکتا اور کبھی پیٹ میں مستقل درد کی شکایت ہو جاتی ہے۔ پہلی اولاد آپریشن سے ہونے کے باعث امکان بڑھ جاتا ہے کہ ہر بار آپریشن ہی کرنا پڑے گا جس سے ان کی صحت پر انتہائی نقصان دہ اثرات پڑتے ہیں۔ اس کے علاوہ سی سیکشن کے عمل میں بچے اور ماں کی صحت کو تین گنا زیادہ رسک ہوتا ہے۔
پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے سابق جنرل سکریٹری اور معروف گائیناکالوجسٹ ڈاکٹر شیر شاہ سید کا کہنا ہے کہ آپریشن میں اضافے کی ایک وجہ زیادہ سے زیادہ پیسہ کمانا ہے، '' بعض اوقات کوئی انفیکشن ہوجاتا ہے اور ڈاکٹر محسوس کرتا ہے کہ اپریشن پہلے کر دینا زیادہ مناسب ہے تو آپریشن کر دیا جاتا ہے، ایک وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ نارمل ڈیلوری کی جائے تو دس ہزار روپے مل جاتے ہیں لیکن اگر آپریشن کیا جائے تو اس سے تیس ہزار سے ایک لاکھ تک مل جاتے ہیں ، اس لئے بعض ڈاکٹر یہ کام کر ڈالتے ہیں۔ اور بعض آپریشن اس لئے ہوتے ہوں گے کہ جونئیر ڈاکڑز کو سیکھایا جا سکے۔
ڈاکٹر عائشہ خان کہتی ہیں کہ یہ بات درست ہے کہ آپریشن سے بہت سی پیچدگیاں پیدا ہوتی ہیں ، جیسا کہ مختلف قسم کے انفکشن، وقت سے پہلے پیدائش، خواتین کا بانجھ پن، اندرونی زخم، خون کی بیماریاں، بچے کو سانس کی بیماریاں،بچے کا وزن کم ہونا،اور بعض اوقات تو اموات بھی ہوجاتی ہیں۔
ان کے بقول ایک خاتون کا دو سے تین بار آپریشن کے ذریعے بچے کی پیدائش اس کی صحت کے لئے انتہائی مضر ہے۔ ان کا خیال ہے کہ سیزیرئن کیسزمیں اضافے کی بڑی وجہ ملک میں کثیر تعداد میں پرائیویٹ ہسپتال اور زچہ و بچہ کے مراکز ہوسکتے ہیں، جن میں بیشتر اوقات تعینات طبی عملہ ذیادہ پیسے کمانے کی خاطر بچوں کی پیدائش کے لئے آپریشن ہی تجویز کرتا ہے ۔ ڈاکٹر عائشہ سمجھتی ہیں کہ حکومت کو غیر ضروری آپریشنز کے خلاف اقدامات اٹھانے چائیں تاکہ لوگوں کے ساتھ ناانصافی کا خاتمہ ممکن ہو۔

Thursday, April 12, 2018

سہانجنا مورنگا معلومات



مورنگا یعنی سہانجنا 300 بیماریوں کا علاج۔ آج تک جتنے وٹامن دریافت ہوچکے ہیں تمام اس میں موجود ہیں۔ جسم کو بھرپور غذایئت دینے والا درخت ہے۔ نہ صرف انسانوں بلکہ جانوروں کے لئے بھی مفید ہے۔ دنیا بھر میں اس کا طبی استعمال دس ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ کاروباری لحاظ سے تمام فصلوں سے زیادہ منافع دینے والا درخت ہے۔ جس کے پتے، ٹہنیاں پھول ، پھل، بیج ، جڑیں، چھلکا، گوند، جڑیں الغرض ہر چیز بکتی ہے۔ باقی چیزوں کو چھوڑیں صرف بیج کتنا فائدہ دیتا ہے یہ دیکھیں۔
سہانجنا کا درخت 15 سال تک پھل دیتا ھے, پہلے تین سال فی درخت اوسط سالانہ پیداوار ایک کلو گرام بیج فی درخت ھے. اس حساب سےسالانہ 18 من فی ایکڑ پیدوار حاصل ھوتی ھے۔
بیج کے ریٹ اوپر نیچے ہوتے رہتے ہیں کم از کم ریٹ تقریبا 12 سے پندرہ ہزار روپے من ہے۔ اس طرح پہلے سال ہی فی ایکڑ تقریبا دو سے چار لاکھ تک فائدہ دیتا ہے۔
جبکہ اگلے سال پیدوار دوگنا سے بھی زیادہ ہوجاتی ہے۔
پھر اس سے اگلے سال کئی گنا زیادہ ہوجاتی ہے۔ یہاں تک کہ فی ایکڑ سالانہ بارہ سے پندرہ لاکھ آمدن شروع ہوجاتی ہے۔
یہ صرف بیج کی بات ہوئی۔ پتے اس کے علاوہ فروخت ہوتے ہیں ان کی آمدن الگ ہے۔
زیادہ کیئر نہیں کرنی پڑتی۔





 سہانجنا اور دیگر اجناس کی غزایئت کا چارٹ

سہانجنا (مورنگا) کے پتے دودھ دینے والے جانوروں کے لیے غزائی افادیت کے لحاظ سے اپنی مثال آپ ھیں. اگر انھیں مویشیوں کی خوراک میں باقاعدگی سے شامل کرلیا جائے تو 15 لیٹر سے کم دودھ دینے والے جانوروں کو کسی قسم کے ونڈے اور منرلز مکسچرز کی ضررورت باقی نہیں رھتی, سہانجنے کے پتے انرجی, پروٹین, منرلز اور وٹامنز سے بھرپور ھوتے ھیں, خوراک کے ساتھ ساتھ یہ کئی بیماریوں کا علاج بھی ھیں, معدے کی اصلاح کرتے ھیں اور جگر کو زھریلے مادوں سے پاک کرکے تازہ اور صحت مند خون پیدا کرنے کے قابل بناتے ھیں, ان پتوں کو کھانے والے جانور وائی بادی, ساڑو,زھرباد اور کئی دیگر بیماریوں سے محفوظ رھتے ھیں. دنیا مورنگا کو ٹری آف لائف ,کرشماتی پودا, ٹری آف سینچری اور اس کی پروڈکٹس کو سپر فوڈ کا درجہ دے چکی ھے, ھمارا پڑوسی ملک بھارت پوری دنیا میں مورنگا کے بیج اور پتے ایکسپورٹ کر رھا ھے, اس کے برعکس ھم ابھی تک امپورٹ کررھے ھیں, جبکہ شمالی علاقہ جات کے علاوہ پاکستان بھر میں اس کی کاشت باآسانی کی جا سکتی ھے, رانا محمد خاں... مینجنگ ڈرائکٹر الصادق ڈیری سلیوشنز

مورنگا یعنی سہانجنا 300 بیماریوں کا علاج۔ آج تک جتنے وٹامن دریافت ہوچکے ہیں تمام اس میں موجود ہیں۔ جسم کو بھرپور غذایئت دینے والا درخت ہے۔ نہ صرف انسانوں بلکہ جانوروں کے لئے بھی مفید ہے۔ دنیا بھر میں اس کا طبی استعمال دس ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ کاروباری لحاظ سے تمام فصلوں سے زیادہ منافع دینے والا درخت ہے۔ جس کے پتے، ٹہنیاں پھول ، پھل، بیج ، جڑیں، چھلکا، گوند، جڑیں الغرض ہر چیز بکتی ہے۔ باقی چیزوں کو چھوڑیں صرف بیج کتنا فائدہ دیتا ہے یہ دیکھیں۔
سہانجنا کا درخت 15 سال تک پھل دیتا ھے, پہلے تین سال فی درخت اوسط سالانہ پیداوار ایک کلو گرام بیج فی درخت ھے. اس حساب سےسالانہ 18 من فی ایکڑ پیدوار حاصل ھوتی ھے۔
بیج کے ریٹ اوپر نیچے ہوتے رہتے ہیں کم از کم ریٹ تقریبا 12 سے پندرہ ہزار روپے من ہے۔ اس طرح پہلے سال ہی فی ایکڑ تقریبا دو سے چار لاکھ تک فائدہ دیتا ہے۔
جبکہ اگلے سال پیدوار دوگنا سے بھی زیادہ ہوجاتی ہے۔
پھر اس سے اگلے سال کئی گنا زیادہ ہوجاتی ہے۔ یہاں تک کہ فی ایکڑ سالانہ بارہ سے پندرہ لاکھ آمدن شروع ہوجاتی ہے۔
یہ صرف بیج کی بات ہوئی۔ پتے اس کے علاوہ فروخت ہوتے ہیں ان کی آمدن الگ ہے۔
زیادہ کیئر نہیں کرنی پڑتی۔



Sunday, April 8, 2018

Moringa pterygosperma مورنگا، سوہانجنا

Moringa pterygosperma

نباتاتی نام : مورنگا پٹیروگاسپرما Botanical Name: Moringa pterygosperma Gaertn.de.Fruct
خاندان ©: مورنگیسی Family:Moringaceae
انگریزی نام: ہارس ریڈش ٹری Horse-raddish tree
دیسی نام: سوہانجنا Sohanjana
ابتدائی مسکن(ارتقائ): پاکستان اور سب ہمالیہ۔اور راولپنڈی میں پایاجاتا ہے۔
قسم: پت جھاڑ
شکل:                         قد: 10-12 میٹر
پتے : مرکب ہیں70-30 سینٹی میٹر لمبے،پتیاں سیدھی ہیں اور چھال مڑی ہوئی ہے ۔
پھولوں کا رنگ: سفید ،                   پھول آنے کا وقت: فروری اور اپریل۔پھول 2.4 سینٹی میٹر لمبے اور شہد کی خوشبو جیسے،لمبی پینسل کی طرح
پھل : پھل لمبا اور کیپسول کی طرح 50-25 سینٹی میٹر لمبا۔بیج اگست میں پکتا ہے اور 2.4 سینٹی میٹر لمبا ہوتا ہے۔
کاشت:بیج , اور غیر جنسی طریقے دونوں سے،۔
جگہ کا انتخاب:ایک بہت غیر روادار درخت جو کے ایک اچھی قسم والی جگہوں پر پایا جاتا ہے اور نکاسی والی جگہوں پر اچھی پیدا وار ہوتی ہے۔
نمایاں خصوصیات:تیزی سے بڑھنے والا درخت،سایہ دار جس میں لگنے والی پھلیاں کھائی جاتی ہیں       
شاخ تراشی:
بیماریاں:
پیداوار : اس کی بڑھوتری اوسط درمیانی ہے۔
لکڑی کی خصوصیات
دانہ ©: سیدھا
رنگ: ہلکا
کثا فت : درمیانی
مظبوطی : نرم،کمزور،خانہ دار۔
استعمال ©:زیبائشی ،چارہ،درخت سے گوند نکلتی ہے ،بیج سے تیل اور رنگ حاصل ہوتا ہے،پھل پکایا اور کھایا جاتا ہے،درخت کی جڑیں ہارس ریڈش
 (horse raddish)کہلاتی ہیں

مورنگا ( سہا نجنہ) کرشماتی پودا مورنگا کثیرالمقاصد کرشماتی خوبیاں رکھنے والا پودا ہے۔ یہ نیچرل ملٹی وٹامن ہے، غذائیت سے مالا مال ہے۔ انسانوں اور جانوروں کیلئے بہت بڑی نعمت ہے۔ مورنگا کاتعارف نباتاتی نام ۔ مورنگا اولیفیرا Moringa Olifera
ہے۔ پھولوں کی رنگت کے لحاظ سے اس کی دو قسمیں ہیں سفید اور سرخ پھولوں والا۔ تیل۔ مورنگا کے بیجوں سے 36٪ تیل نکلتا ہے۔ یہ تیل بے بو اور بے ذائقہ ہوتا ہے ۔ مدتوں پڑا رہنے سے بھی خراب نہیں ہوتا۔ ذائقہ ۔ قدرے تلخ مزاج ۔ گرم خشک درجہ سوم۔ افعال و استعمال ۔ مورنگا کے پھولوں پتوں گوںد اور جڑوں کو سرد بلغمی امراض میں مدتوں سے استعمال ہو رہا ہے۔ نیوٹریشن کے لحاظ سے مورنگا کی اہمیت مورنگا کاپودا نہایت قیمتی اور کرشماتی خصوصیات کا حامل ہے اس پودےمیں تقریباً 92 غذائی اجزا یعنی نیوٹرینٹ اور 46 قدرتی انٹی آکسیڈنٹ (مانع عملِ تکسید مادے) موجود ہیں کوئی ایسا وٹامن ابھی تک دریافت نہیں ہوا جو اس پودے میں موجود نہ ہو۔ مورنگا کی ان خصوصیات کی وجہ سے اگر اس پودے کو غذائیت کا پاور ہائوس کہا جائے تو یہ غلط نہ ہوگا۔ نیو ٹرین ویلیو کے حساب سے اگر مورنگا کا جائزہ لیا جائے تو ثابت ہو جاتا ہے کہ غذائیت کے اعتبار سے کوئی دوسرا درخت یا پودا اس کا مقابلہ نہیں کرتا۔ مورنگا کے پتوں کے 100 گرام پوڈر میں پروٹین کی مقدار دودھ اور دہی کی نسبت 2 گنا سے زیادہ ہے وٹامن سی کی مقدار 7 عدد سنگتروں سے زیادہ ہے وٹامن اے کی مقدار گاجر کی نسبت 4 گنا سے زیادہ ہے۔ آئرن کی مقدار بادام کی نسبت 3گنا زیادہ ہے۔ وٹامن ای کی مقدار پالک کی نسبت 3گنا سے زیادہ ہے۔ مورنگا انسان دوست کسان دوست اور غریب پرور درخت ہے۔ مورنگا میں بے پناہ شفائی خصوصیات پائی جاتی ہیں جدید تحقیق کے مطابق مورنگا سے سینکڑوں بیماریوں کاعلاج کامیابی سے کیا جا سکتا ہے۔ ایور وید ک طریقہ علاج میں 300 بیماریوں کا علاج مورنگا سے کیا جاتا ہے۔ مورنگا کے پتے انسانوں اور جانوروں کی خوراک کے طور پر استعمال کئے جاتے ہیں۔ غذائی قلت دور کرنے کیلئے مورنگا کادرخت ایک بہتریں حل ہے۔
مورنگا ایک کثیرالمقاصد پودا ہے۔ غذائیت اور شفائی اجزا کی بدولت مورنگا کثیرالمقاصد پودا ہے۔ ہم اس کے ذریعے فصلوں کی پیداواری صلاحیت کو بڑھا سکتے ہین۔ اس کو پانی صاف کرنے کیلئے استعمال کر سکتے ہیں۔ اس پودے کو لائو سٹاک کی خوراک کے طور پر استعمال کرکے مویشیوں کو صحت مند اور فربہ کیاجاسکتا ہے اورانکے دودھ میں بھی اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ اس کے بیجوں سے حاصل ہونے والا تیل دنیا کا مہنگا ترین تیل ہے۔ اس تیل کو ناسا جیسے ادارے سپیس انویسٹی گیشن کیلئے استعمال کر رہے ہیں۔ غذائی اہمیت مورنگا کے پتوں کا 50گرام سفوف پورے دن کی غذائی ضروریات کیلئے کا فی ہے اورجسم میں غذائیت کے مختلف اجزائ کی کمی نہیں ہوتی۔ گوشت اور پھلوں جیسی مہنگی خوراک کی ضرورت نہیں رہتی۔ اس سے ایک غریب آدمی آسانی سے اپنی غذائی ذروریات پوری کر سکتا ہے۔اپنے آپ کو صحت مند اور توانا رکھ سکتا ہے اور بیماریوں سے محفوظ رہ سکتا ہے۔

Saturday, April 7, 2018

Health Benefits Of Moringa | Sohanjna سوہانجنا

Click Here یہاں کلک کریں۔

سوہانجنہ یا مورنگا کے عجیب و غریب فوائد کے پیش نظر اپنے گھر میں ضرور اس کا پودا لگائیں۔
See What Happens To Your Body When You Drink Moringa Everyday
Moringa or moringa oleifera is becoming more and more popular each day. It is a fast growing, deciduous tree which is native to
India. It’s widely cultivated in tropical and subtropical areas all over Asia, South America and Africa.
It is also known as drumstick tree, mother’s best friend, Horseradish tree and West Indian ben.Although, moringa has become
popular as a leaf powder supplement, the roots, pods, bark, seeds, flower and fruits are also edible.
Moringa is rich in vitamins, proteins and minerals. It’s a source of vitamin A, vitamin B1 (thiamine), B2 (riboflavin), B3 (niacin), B6,
folate and vitamin C. It’s also a source of potassium, iron, calcium, magnesium, zinc and phosphorus.
Moringa is not in vain called the miracle tree. Here are some of its amazing benefits.
Health benefits Of Moringa
1. Cures Stomach Disorders
Moringa contains isothiocyanates, which are very effective in the treatment of abdominal disorders like ulcerative colitis, gastritis
and constipation. There are studies which have shown that moringa can be used as an effective herbal substitute for a range of
commercially available antacids.
According to a research, it can effectively cure ulcerative colitis. Moringa also contains antibacterial and antibiotic properties which
prevent the growth of various pathogens, including helicobacter pylori bacteria and coliform bacteria which trigger conditions like
diarrhea.
2. Protects the Liver
Moringa consists of phytochemicals like epicatechin, ferulic acid, catechin, and vitamin C. These nutrients are very helpful in
protecting the liver. They help to restore the levels of glutathione content in the body and also prevent radiation –induced hepatic
lipid peroxidation. According to a research, moringa leaves are effective against liver damage caused by anti­tubercular drugs, as well
as in speeding up the recovery process.
3. Prevents Neurodegenerative Diseases
According to a recent study, moringa extracts are effective in altering brain monoamines like norepinephrine, dopamine
and serotonin. It can even protect your brain from deficiencies which are related to Alzheimer’s disease.
4. Provides Excellent Nutritional Support
Moringa is packed with nutrients. There’s 17 times more calcium in Moringa than in milk, 25 times more iron than in spinach and 10
times more beta­carotene than in carrots. It is also rich in minerals like zinc, potassium, iron and also in vitamin C and B complex
vitamins. It is rich in proteins as well­ it contains 4 times of what eggs provide.

Monday, April 2, 2018

مسلکی تعصب کی عینک اتار کر آو کچھ مثبت سوچیں,

* بریلوی مشرک نہیں ہوتے بات صرف اتنی ھے کہ نبی علیہ السلام اور بزرگوں سے عقیدت و محبت کےاظہار میں اعتدال سےبڑھ جاتےہیں, یہ بنیادی طور پر ایک قلبی رحجان ھے فی نفسہ اس میں کوئی خرابی نہیں بلکہ درست سمت اور سلیقے سے ہو تو نہایت ہی پسندیدہ اور درجات کی بلندی کا سبب ھے,
ہوتا یہ ھے کہ دوسرے مسالک کے احباب شرک و بدعات کے رد میں نیک جذبوں کو بھی روندتےچلےجاتےہیں یہ سوچےسمجھے بغیر کہ آپ کا منصب داعی کا ھے داروغہ کا نہیں!
* دیوبندی اکابر پرست نہیں ہوتے بات صرف اتنی ھے کہ دین کےفہم و تشریح میں باقاعدہ سند یافتہ علماء کرام اور صدیوں سے چلتی دینی روایات کو اہمیت دینے کی کوشش میں اکثر اعتدال کی راہ سے ہٹ جاتےہیں,
یہ بھی ایک قلبی و فکری رحجان ھے اور درست سمت و سلیقے سے ہو تو نہایت پسندیدہ اور درجات کی بلندی کا سبب ھے,
ہوتا یہ ھے کہ دوسرے مسالک کے احباب اکابر پرستی پر نقد و تبصرہ کرتےہوئے الفاظ و محاورات کےاستعمال میں اس بات کا لحاظ نہیں رکھتےکہ ہمارا منصب داعی کا ھے داروغہ کا نہیں!
* اہلحدیث اور سلفی حضرات بزرگوں اور پیغمبروں کی عظمت کے انکاری نہیں ہوتے, بات صرف اتنی ھے کہ اللہ کے سامنے ہردوسری ہستی کو چھوٹا سمجھتے ہیں اور توحید ہی کو اسلام کی اساس سمجھتےہوئےشرک کے ادنی سے شائبے کو بھی ایمان کےخلاف سمجھتےہیں,
یہ بھی ایک قلبی و فکری رحجان اور اپنی حقیقت میں نہایت پسندیدہ اور درجات کی بلندی کا سبب ھے,
ہوتا یہ ھے کہ دوسرے مسالک کے احباب ان کی اس حساسیت کو اپنے مسلک اور قلبی رحجان کےخلاف سمجھتےہوئے ان سے متوحش ہوتےہیں, یہ بات سمجھے بغیر کہ ہمارا منصب داعی کا ھے داروغہ کا نہیں,
* ان تینوں مکاتب فکر کے فالوورز اگر اس طرز پر سوچنا شروع کردیں تو بالیقین فاصلےسمٹ جائیں اور غیرضروری اختلاف کا بھی خاتمہ ہوجائے,
لیکن معاملہ چونکہ فرقہ پرستی کا ھے اور فرقہ پرستی اپنی حقیقت میں دینداری کےعنوان پر دکانداری چمکانےکا نام ھے اسلیے بےجا طورپر ایک دوسرے کے رحجانات کو بجائے خوش اسلوبی سے قبول کرنے اور وسعت قلبی اپنانےکے ایک دوسرے کےرد میں کتابیں اور رسالے چھاپتےرہتےہیں,
اور بعض ظالم تو قرآن کی آیات اور احادیث نبوی کو بھی اپنےحق میں توڑ مروڑ کرپیش کرنےسے دریغ نہیں کرتے,
مجھے اچھی طرح اندازہ ھے کہ احباب فروعی اختلاف کی شدت ثابت کرنےکےلیے ان تینوں مکاتب فکر کی کتابوں سے بہت کچھ خرافات جمع کرکےلاسکتے ہیں, لیکن اپنی حقیقت میں وہ سارا مواد دریا برد کردینےکےقابل ھے, اتفاق رائے کےلیے امت کے پاس اتنا وسیع زخیرہ موجود ھے کہ اس قسم کا بےجا اختلاف سوائے اناپرستی کےاور کچھ نہیں,
* محض ان تین ہی مکاتب فکر کی بات نہیں (چند ایک کو چھوڑ کر) دیگر بہت سے مکاتب فکر کےہاں بھی اختلاف کی نوعیت اکثر ایسی ہی ھے کہ اپنی بنیادوں میں جسے آپ رحجانات اور بعض صورتوں میں زاویہ نگاہ کا فرق کہہ سکتےہیں,
اور جہاں اختلافات کی وجوہات گہری ہیں تب بھی قرآن جیسی محفوظ کتاب جسے اللہ نے فرقان (حق و باطل میں فرق کرنےوالی کتاب کہا) اور نبی علیہ السلام کی محفوظ سنت کی موجودگی میں رائے کا اختلاف کوئی بڑی اہمیت نہیں رکھتا, اور جو کچھ علمی اختلاف ھے بھی تو وہ ہرحال میں رہےگا اور قیامت تک رہےگا,
لوگ جب تک سوچتےرہیں گے مکاتب فکر بنتےرہیں گے, اگر یہ اختلاف ایک دوسرے کی تکفیر اور نفرت و شرانگیزی کی حدوں تک نہیں پنہنچتا تو نبی علیہ السلام نے اس اختلاف کو امت کےلیے رحمت کہا ھے, کیونکہ اختلاف رائے سوچنےوالوں کو نئے نئے زاوئیے عطاکرتا ھے,
لہذاہ اتحاد اختلاف رائے کو ختم کرنےسے نہیں بلکہ اختلاف رائے کو گوارا کرنےسےپیدا ہوگا,
اور اس کی سب سے بڑی بنیاد تقوی اور خدا کےحضور جوابدھی کا سچا احساس ھے,
* ایک جگہ کچھ لوگ بحث و جدال میں مصروف تھے, کسی نکتےپر اتفاق ہی نہیں ہورہا تھا کہ اچانک وہاں سانپ نکل آیا, گھبرا کر سارے اس سانپ کو مارنےکےلیے متحد ہوگئے,
حالت سکون میں جو لوگ کسی بھی نکتےپر متفق نہیں تھے حالت خوف میں سوفیصد متحد اور یک جان ہوگئے,
یہی معاملہ آخرت کی جوابدھی کےخوف کا بھی ھے اگر حقیقی معنوں میں اللہ کےحضور جوابدھی کا خوف امت کےتمام طبقات میں ذندہ ہوجائے تو اتحاد کا قائم ہونا ویسا ہی یقینی ہوجائے جیسا سورج کےطلوع ہوتےہی دن کے نکلنے کا!!!

Sunday, April 1, 2018

ھاکنگ

"مغرب کے حصے میں ھاکنگ جیسے معذور سائنس دان ہیں جبکہ ہمارے حصے میں ھود بائی جیسے بھینگے سائنس دان ہیں۔
مغربی سائنسدان خلا سے آگےنکل گئے اور اب مریخ پر پہنچنے کی کوشش کررہے ہیں۔ جبکہ ہود بھائی کو ٹاک شوز سے ہی فرصت نہیں ملتی۔ 
مغربی سائنسدان گھر سے نکلتا ہے اور ناسا کے دفتر میں پہنچ کر کائنات کی وسعتوں میں کارخانہ قدرت کا مشاہدہ کرکے خفیہ رازوں سے پردہ اٹھاتا ہے۔
جبکہ ہمارا بیچارہ ہود بھائی قائداعظم یونیورسٹی سے نکلتا ہے اور تین میل دور جیو کے دفتر میں داخل ہوجاتا ہے، وہاں سے نکلتا ہے موم بتی لے کر ڈی چوک میں کھڑا ہو جاتا ہے، وہاں سے فارغ ہوتا ہے تو گھر کی چھت پر لگی سولر پلیٹوں پر کپڑا پھیر کر صاف کرتا ہے، پھر رات کو دماغ کی صلاحیت کو یہ سوچتے سوچتے کہ (مولوی اتنا طاقتور کیوں ہے) خرچ کرتا ہے۔
................
کیا کوئی غریب اس کا تصور کرسکتا ہے کہ ایک معمولی سا سپاہی اسے جرمانہ کردے اور وہ عام شہری آگے سے ڈٹ جائے کہ میں نے جرمانہ نہیں ادا کرنا۔؟
کل آپ نے امیرنواز نظام کا یہ منظر دیکھا ہوگا کہ جب ملک کے قاضی القضاۃ ثاقب نثار نے ایک جاگیر دار، سرمایہ دار، ارب پتی وکیل اعتزاز احسن کو صرف دس ہزار روپے جرمانہ کیا تو اس نے دینے سے انکار کردیا۔ چونکہ یہاں پیٹھ پر اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ نہیں تھا اس لیے قاضی صاحب اپنے عائد کردہ جرمانے کو نہ واپس کرسکتے تھے اور نہ وصول۔ 
لہذا عزت بچانے کے لئے یہ سوشہ چھوڑا کہ اعتزاز احسن کا جرمانہ میرے بیٹے نے ادا کردیا ہے۔ اور فلاں ہسپتال میں صدقہ کردیا ہے۔
سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ کرپشن نہیں، آپ کو کس نے یہ اختیار دیا کہ سرکار کے پیسے سے آپ صدقے کریں۔ کیا اس پر آپ کی نااہلی نہیں بنتی۔ ؟ کیا کرپشن نہیں۔؟ بھٹو اب مر چکا ہے گھبرائیں نہیں اور مہربانی فرما کر وہ جرمانہ سرکاری خزانے میں جمع کرائیں۔
#نکتہ
.........

Saturday, March 31, 2018

The way is closed | बुद्धिमत्ता | পথপ্রদর্শন | Nukta Guidance

آگے راستہ بند ہے۔ زندگی کے سفر میں جب راستہ بند نظر آئے تو عقل مند آدمی کیا کرتا ہے۔

Friday, March 30, 2018

ڈیلیوری

سویڈن میں حمل کے پہلے مہینے سے ہر خاتون کو سپیشل نرس مل جاتی ہے جو اسے ہر مہینے بلاتی ہے اور اسکے سارے ٹیسٹ کرتی جاتی ہے اور کمپیوٹر میں اپلوڈ کرتی جاتی ہے۔ چار مہینے بعد پہلا الٹراساؤنڈ ہوتا ہے اور بچے کی جنس بتا دی جاتی ہے۔
چائلڈ ڈیلیوری کے وقت خاوند عورت کے پاس ہوتا ہے اور کمرے میں ایک یا دو نرسیں ہوتی ہیں۔ کسی قسم کی دوائی نہیں دی جاتی، عورت درد سے چیختی ہے مگر نرس اسے صبر کرنے کا کہتی ہے اور %99 ڈیلیوری نارمل کی جاتی ہے۔ نہ ڈیلیوری سے پہلے دوا دی جاتی ہے نہ بعد میں۔ کسیقسم کا ٹیکہ نہیں لگایا جاتا۔ عورت کو حوصلہ ہوتا ہے کہ اسکا خاوند پاس کھڑا اسکا ہاتھ پکڑے ہوئے ہے۔
ڈیلیوری کے بعد بچے کی ناف قینچی سے خاوند سے کٹوائی جاتی ہے اور بچے کو عورت کے جسم سے ڈائریکٹ بغیر کپڑے کے لگایا جاتا ہے تاکہ بچہ ٹمپریچر مینٹین کر لے۔ بچے کو صرف ماں کا دودھ پلانے کو کہا جاتا ہے اور زچہ یا بچہ دونوں کو کسی قسم کی دوائی نہیں دی جاتی سوائے ایک حفاظتی ٹیکے کے جو پیدائش کے فوراً بعد بچے کو لگتا ہے۔ پہلے دن سے ڈیلیوری تک سب مفت ہوتا ہے اور ڈیلیوری کے فوراً بعد بچے کی پرورش کے پیسے ملنے شروع ہوجاتے ہیں اور سولہ مہینے تنخواہ کے ساتھ ماں باپ دونوں کو چھٹیاں ملتی ہیں تاکہ بچے کی پرورش اچھے طریقے سے کی جاسکے۔
پاکستان میں لیڈی ڈاکٹر ڈیلیوری کیلئے آئی خاتون کے گھر والوں سے پہلے ہی پوچھ لیتی ہے کہ آپکی بیٹی کی پہلی پریگنینسی ہے، اسکا کیس کافی خراب لگ رہا ہے جان جانے کا خطرہ ہے، آپریشن سے ڈیلیوری کرنا پڑے گی۔ %99 ڈاکٹر کوشش کرتی ہے کہ نارمل ڈیلیوری کو آپریشن والی ڈیلیوری میں تبدیل کردیا جائے۔ ڈیلیوری سے پہلے اور بعد میں کلوگرام کے حساب سے دوائیاں دی جاتی ہیں ڈیلیوری کے وقت خاوند تو دور کی بات خاتون کی ماں یا بہن کو بھی اندر جانے کی اجازت نہیں ہوتی اور اندر ڈاکٹر اور نرس کیا کرتی ہیں یہ خدا جانتا ہے یا وہ خاتون۔ نارمل ڈیلیوری بیس تیس ہزار میں اور آپریشن والی ڈیلیوری اسی نوے ہزار میں ہو تو ڈاکٹر کا دماغ خراب ہے نارمل کی طرف آئے آخر کو اسکے بھی تو خرچے ہیں بچوں نے اچھے سکول میں جانا ہے نئی گاڑی لینی ہے بڑا گھر بنانا ہے۔ اسلام کیا کہتا ہے انسانیت کیا ہوتی ہے سچ کیا ہوتا ہے بھاڑ میں جائے، صرف پیسہ چاہئیے

Wednesday, March 28, 2018

میرا جسم میری مرضی

(عبدالوہاب شیرازی)
بہت سارے لوگ لبڑل ازم اور سیکولڑ ازم کا لفظ اکثر سنتے ہوں گے لیکن ان کو یہ بات سمجھ نہیں آتی ہوگی کہ آخر یہ کیا ہوتا ہے۔ اس حوالے سے بڑے بڑے تفصیلی مضامین اور تحریریں بھی موجود ہیں جن لوگوں نے ان کو پڑھا پھر بھی سمجھ نہیں آئی کہ لبرل ازم اور سیکولرازم کیا ہے تو آج نہایت مختصر الفاظ اور آسان انداز میں اس قضیے کو حل کیے دیتے ہیں۔
لبرل ازم کا مکمل خلاصہ اس تصویر میں نظر آنے والے مختصر سے جملے میں لکھا ہوا ہے۔ یعنی
میرا جسم میری مرضی
انسانوں کی اجتماعی زندگی کے تین گوشے ہوتے ہیں۔
ایک معاشرت۔ دوسرا معیشت۔ تیسرا سیاست
یعنی ہر آدمی ان تین گوشوں کا کسی نہ کسی طرح حصہ ہوتا ہے۔
1۔ اس تصویر میں جو جملہ لکھا ہوا ہے وہ لبرل ازم اور سیکولر ازم کے نزدیک معاشرتی گوشے کی تصویر ہے۔ یعنی جب جسم میرا ہے تو مرضی بھی میری چلے گی۔ جبکہ اس کے مقابلے میں اسلام یہ کہتا ہے نہ جسم تیرا ہے نہ مرضی تیری چلے گی۔ یہی وجہ ہے کہ خود کشی حرام ہے کیونکہ جسم میرا نہیں اللہ کی امانت ہے۔

2۔ اب آتے ہیں دوسرے گوشے معیشت کی طرف۔ ہرانسان کسی نہ کسی طور معیشت کے ساتھ وابستہ ہوتا ہے۔ لبرل ازم اور سیکولرازم کا تصور یہ ہے کہ:
میرا مال میری مرضی۔
یعنی مال میں نے کمایا لہٰذا میری مرضی۔
جبکہ اسلام کہتا ہے مال اللہ کا ہے، آپ کے پاس امانت ہے۔ لہٰذا امانت میں آپ کی مرضی نہیں ہے۔ آپ مال کمانے میں بھی اللہ کے پابند ہیں اور خرچ کرنے میں بھی اللہ کے پابند ہیں۔
3۔ اب آتے ہیں تیسرے گوشے کی طرف یعنی سیاست۔ ہر انسان کسی نہ کسی طور پر کچھ نہ کچھ سیاسی زندگی یا سیاسی سوچ بھی رکھتا ہے۔
لبرل ازم اور سیکولرازم کا ماننا ہے کہ میرا ملک میری مرضی۔ میرا قانون میری مرضی۔
جبکہ اسلام یہ کہتا ہے للہ ملک السموات والارض۔ زمین و آسمان کا مالک اللہ ہے۔
ان الحکم الاللہ۔ حاکمیت اللہ کی ہے۔ جبکہ بندہ نائب اور خلیفہ ہے۔ لہٰذا وہ نائب ہونے کی حیثیت سے اللہ ہی کے قانون کا پابند ہے۔
امید ہے آپ کو سیکولرازم کی سمجھ آگئی ہو گی۔
کمنٹ میں ضرور بتائیں۔
#نکتہ


Friday, January 26, 2018

ڈارک ویب اور مریاناز ویب کیا ہیں۔؟

(عبدالوہاب شیرازی)
ہم جو انٹر نیٹ استعمال کرتے ہیں اس میں کوئی بھی ویب سائٹ اوپن کرنے کے لئے تین بار WWW لکھناپڑتا ہے۔ جس کا مطلب ہے ورلڈوائڈ ویب، اسے سرفس ویب ، اور لائٹ ویب بھی کہا جاتا ہے۔ لیکن آپ کے لئے سب سے حیرت انگیز بات یہ ہوگی کہ دن رات استعمال کر کرکے بھی جس انٹر نیٹ کو ہم ختم نہیں کرسکتے یہ کل انٹر نیٹ کا صرف چار پانچ فیصد ہے۔ باقی کا 95٪ انٹر نیٹ عام لوگوں کی آنکھوں سے اوجھل ہے۔
اب آپ کے ذہن میں سوالات پیدا ہوئے ہوں گے کہ:
یہ پچانویں فیصد انٹر نیٹ ہماری آنکھوں سے کیوں اوجھل ہے؟ ہم اسے کیوں نہیں دیکھ سکتے؟ اس اوجھل انٹر نیٹ کی عظیم دنیا میں کیا کیا چھپا ہوا ہے؟ عام لوگوں سے اسے کیوں چھپایا ہوا ہے؟ وہاں کیا کیا جاتا ہے؟ تو آج کی اس تحریر میں ان سوالات کے جوابات پر بات ہوگی۔

ورلڈ وائڈ ویب کو ٹم برنرزلی نے 1989 میں ایجاد کیا اور 6اگست 1991 کو باقاعدہ منظر عام پر لایا۔ پھر یہ ٹیکنالوجی گولی کی رفتار سے ترقی کرتے کرتے یہاں تک پہنچ گئی۔اس طرح پوری دنیا سمٹ کر ایک کمپیوٹر کی سکرین پر اکھٹی ہوگئی۔ویب کے فوائد سے انسانیت مستفید ہونے لگی، بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ اس کی محتاج بن کر رہ گئی۔ ویب کی تیز رفتاری کی وجہ سے دستاویزات کی منتقلی اور خط وکتاب ای میل کی شکل میں تبدیل ہوئی گئی۔ اور کمپنیوں اور اداروں نے اس کا استعمال شروع کردیا۔
ایک طرف پوری دنیا اس نعمت سے مستفید ہورہے تھی تو دوسری طرف ڈیوڈ چام نے ایک مضمون بعنوان Secutity without identification لکھا۔ جس میں انہوں نے خبردار کیا کہ ورلڈ وائڈ ویب کے حد سے زیادہ استعمال کی وجہ سے لوگ اپنی معلومات کی نگرانی سے محروم ہوتے جارہے ہیں۔لوگوں کو یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ ان کی معلومات درست ہیں، یا پرانی ہیں۔ چنانچہ جس خدشے کا اظہار ڈیوڈ چام نے کیا تھا آج ہر کوئی یہ جانتا ہے کہ گوگل، فیس بک سمیت دیگر ویب سائٹس اپنے یوزر کے بارے اتنا کچھ جانتی ہیں کہ اس کے قریبی دوست یا سگے بھائی بھی نہیں جانتے ہوں گے۔ چنانچہ انہی سورسز کو استعمال کرتے ہوئے دنیا کے خفیہ اداروں نے جاسوسی کا جال بھی بچھا دیا۔
یہاں سے انٹر نیٹ کی دنیا میں ایک نیا موڑ آتا ہے، اور حکومتیں یہ سوچنا شروع کردیتی ہیں کہ انٹر نیٹ پر ڈیٹا کے تبادلے کی سیکورٹی کے لئے کوئی نظام ہونا چاہیے تاکہ کوئی اسے چوری نہ کرسکے۔چنانچہ اس مقصد کے لئے امریکی نیوی کے تین ریسرچر نے یہ بیڑا اٹھاتے ہوئے Onion Routing کا نظام پیش کرتے ہیں۔ اس نظام کو اس طرح بنایا گیا تھا کہ کوئی بھی شخص کسی کے ڈیٹا کو چرا نہیں سکتا تھا اور نہ ہی بغیر اجازت کے ویب سائٹ کو اوپن کرسکتا تھا۔ لیکن حیرت انگیز طور پر بڑی تبدیلی اس وقت آئی جب امریکی نیول ریسرچ لیبارٹری نے اس نظام کو اوپن سورس کردیا۔ یعنی ہر کسی کو اس سے مستفید ہونے کی اجازت دے دی۔جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ دنیا بھر کے جرائم پیشہ لوگوں نے اس نظام کو اپنے گھناونے جرائم کے لئے استعمال کرنا شروع کردیا۔اور اسی کا نام ڈارک ویب ہے۔
اس ساری بات کو سمجھانے کے لئے میں آپ کو ایک تصویر دکھاناچاہتا ہوں،

 اس تصویرمیں برف کا ایک پہاڑ سمندر میں کھڑا نظر آرہا ہے، اس کا تھوڑا سا حصہ باہر ہے، اسے آپ ورلڈ وائڈ ویب یعنی وہ انٹر نیٹ سمجھ لیں جسے ہم استعمال کرتے ہیں۔
پھر ایک بڑا حصہ زیر آپ نظر آرہا ہے اسے ڈیپ ویب کہا جاتا۔ پھر اس سے بھی بڑا حصہ مزید نیچے گہرائی میں نظر آرہا ہے، اسے ڈارک ویب کہا جاتا ہے۔ پھر ڈارک ویب میں ریڈ رومز ہوتے ہیں۔بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی بلکہ اس برف کے پہاڑ سے نیچے جو سمندر کی تہہ ہے اسے مریاناز ویب کہا جاتا ہے جس تک رسائی دنیا کے عام ممالک کی حکومتوں کی بھی نہیں ہے۔

اب میں ویب کے ان چاروں حصوں کی تھوڑی تھوڑی تشریح کرکے سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں۔
1۔ ورلڈ وائڈ ویب وہ انٹر نیٹ ہے جسے ہم اپنے کمپیوٹر یا موبائل پر استعمال کرتے ہیں، اوراچھی طرح جانتے ہیں۔
2۔ اس سے نیچے ڈیپ ویب ہے۔ یہ انٹر نیٹ کا وہ حصہ ہوتا ہے جس تک رسائی صرف متعلقہ لوگوں کی ہوتی ہے، اور یہ عام طور پر مختلف کمپنیوں اور اداروں کے استعمال میں ہوتا ہے۔ جیسے بینکوں کا ڈیٹا یا مثلا آپ یوفون کی سم اسلام آباد سے خریدتے ہیں اور پھر کراچی میں جاکر دوبارہ سم نکالنے کے ان کے آفس جاتے ہیں تو وہ اپنا انٹر نیٹ کھول کر آپ کی تفصیلات جان لیتے ہیں کہ آپ واقعی وہی آدمی میں جس کے نام پر یہ سم ہے۔ یہ سارا ڈیٹا ڈیپ ویب پر ہوتا ہے، چنانچہ یوفون والے صرف اپنا یوفون کا ڈیٹا اوپن کرسکتے ہیں کسی اور کا نہیں اسی طرح ہر کمپنی کی رسائی صرف اپنے ڈیٹا تک ہوتی ہے۔
3۔ پھر ڈیپ ویب سے نیچے باری آتی ہے ڈارک ویب کی۔ یہ انٹر نیٹ کا وہ حصہ ہوتا ہے جہاں تک کسی کی رسائی نہیں ہوسکتی ، سوائے اس کے جس کے پاس ڈارک ویب کی ویب سائٹ کا پورا ایڈریس ہو۔ عام طور پر ڈارک ویب کی ویب سائٹس کا ایڈرس مختلف نمبر اور لفظوں پر مشتمل ہوتا ہے اور آخر میں ڈاٹ کام کے بجائے ڈاٹ ٹور، یا ڈاٹ اونین وغیرہ ہوتا ہے۔یہاں جانے کے لئے متعلقہ ویب سائٹ کے ایڈمن سے رابطہ کرنا پڑتا ہے، جو آپ سے رقم وصول کرکے ایک ایڈریس دیتا ہے۔ جب آپ پورا اور ٹھیک ٹھیک ایڈریس ڈالتے ہیں تو یہ ویب سائٹ اوپن ہوتی ہے۔ لیکن یاد رکھیں گوگل یا عام براوزر پر یہ اوپن نہیں ہوتی ، یہ صرف TOR پر ہی اوپن ہوتی ہے۔ اور یہ بھی یاد رکھ لیں کہ ان ویب سائٹ کو اوپن کرنا یا دیکھنا بھی قانونا جرم ہے، اگر آپ کے بارے صرف اتنا پتا چل جائے کہ آپ نے ڈارک ویب پر وزٹ کیا ہے تو اس پر آپ کی گرفتاری اور سزا ہوسکتی ہے۔
پھر ڈارک ویب پر ریڈ رومز ہوتے ہیں۔ یعنی ایسے پیچز ہوتے ہیں جہاں لائیو اور براہ راست قتل و غارت گری اور بچوں کے ساتھ زیادتی دکھائی جاتی ہے، ایسے لوگ جن کے پاس پیسہ زیادہ ہوتا ہے، اور ان کی فطرت مسخ ہوچکی ہوتی ہے وہ اس قسم کے مناظر دیکھنے کے عادی ہوتے ہیں، چنانچہ وہ ان ریڈ رومز میں جاتے ہیں وہاں ہر چیز کی بولی لگتی ہے، مثلا زیادتی دکھانے کے اتنے پیسے، پھر زندہ بچے کا ہاتھ کاٹنے کے اتنے پیسے، اس کا گلا دبا کر مارنے کے اتنے پیسے ، پھر اس کی کھال اتارنے کے اتنے پیسے وغیرہ وغیرہ۔
اس کے علاوہ ہر قسم کی منشیات، اسلحہ اور جو کچھ آپ سوچ سکتے ہیں وہ آپ کو وہاں بآسانی مل جاتا ہے۔ یہاں تک کہ وہاں ریٹ لگے ہوتے ہیں کہ فلاں لیول کے آدمی کو قتل کروانے کے اتنے پیسے مثلا صحافی کے قتل کے اتنے پیسے، وزیر کو قتل کرنے کے اتنے پیسے، سولہ گریٹ کے افسر کو قتل کرنے کے اتنے پیسے وغیرہ۔اسی قسم کی ایک ویب سائٹ سلک روڈ کے نام سے بہت مشہور تھی جسے امریکی انٹیلی جنس نے بڑی مشکل سے ایڑی چوٹی کا زور لگا کر ٹریس کرکے2015 میں بلاک کیا تھا۔
Marianas web مریاناز ویب۔ یہ انٹرنیٹ کی دنیا کا سب سے گہرا حصہ ہے۔ حقیقی دنیا میں سمندر کا سب سے گہرا حصہ مریاناز ٹرنچ کہلاتا ہے اسی لیے اسی کے نام پر اس ویب کا نام بھی یہی رکھا گیا ہے۔ نیٹ کے اس حصے میں دنیا کی چند طاقتور حکومتوں کے راز رکھے ہوئے ہیں، جیسے امریکا، اسرائیل اور دیگر دجالی قوتیں وغیرہ۔ یہاں انٹری کسی کے بس کی بات نہیں، یہاں کوڈ ورڈ اور کیز کا استعمال ہی ہوتا ہے۔
ایک سب سے اہم بات یہ بھی سن لیں کہ ڈارک ویب پر جتنا کاروبار ہوتا ہے وہ بٹ کوائن میں ہوتا ہے، بٹ کوائن ایک ایسی کرنسی ہے جو کسی قانون اور ضابطے میں نہیں آتی اور نہ ہی ٹریس ہوسکتی ہے، کسی کے بارے یہ نہیں جانا جاسکتا کہ اس کے پاس کتنے بٹ کوائن ہیں۔ ڈارک ویب پر اربوں کھربوں ڈالرز کا یہ غلیظ کاروبار ہوتا ہے۔

اب آخر میں اس سوال کا جواب جو اس سارے معاملے کو پڑھ کر آپ کے ذہن میں پیدا ہوا ہوگا کہ اس ویب پر پابندی ہی کیوں نہیں لگا دی جاتی۔؟ تو بات یہ ہے کہ جیسے پستول یا کلاشن کوف ہم اپنی حفاظت اور سیکورٹی کے لئے بناتے ہیں، چھری سبزی کاٹنے کے لئے بنائی جاتی ہے، اب اگر کوئی اس چھری کو اٹھا کر کسی کے پیٹ میں گھونپ دے تو قصور چھری کا نہیں بلکہ اس کے استعمال کا ہے، چھری پر اگر پابندی لگادی جائے تو تمام انسانوں کا حرج ہوگا لہٰذا اس کا حل یہی ہے کہ جو اس کا غلط استعمال کرے اسے عبرت کا نشان بنا دیا جائے اور باقی لوگوں کو پہلے سے ہی بتا دیا جائے کہ بھائی اس کا غلط استعمال آپ کی دنیا و آخرت برباد کرسکتا ہے۔

Tuesday, January 16, 2018

یاجوج ماجوج سے متعلق عوام میں پھیلے ہوئے چند مغالطے:

عوام میں مشہور کہ ان کا ایک کان اتنا بڑا ہوگا کہ اسے پورے جسم پر لپیٹ کر سو جائیں گے۔۔۔ یہ باالکل ہی غلط بات ہے کسی بھی روایت میں اس کا ذکر نہیں۔
یاد رکھیں یاجوج ماجوج دو قبیلوں کا نام تھا جو شاید اصل میں ان کے بانیوں کے اس نام پر مشہور ہوئے۔
یاجوج ماجوج ہماری طرح انسان ہی ہیں۔ 
یاجوج ماجوج کا قرآن میں دو مرتبہ ذکر آیا ہے ایک سورہ کہف میں دوسرا سورہ انبیاء میں
احادیث میں تقریبا سترہ احادیث مشہور ہیں جن میں ان کا ذکر ہے۔ کہیں پر بھی بڑے کانوں کا ذکر نہیں۔
احادیث میں ان کی تعداد کا ذکر ہے کہ یہ باقی قوموں یا انسانوں سے زیادہ ہوں گے۔
(اس وقت دنیا کی کل آبادی تقریبا سات ارب میں سے ہر چوتھا انسان چینی ہے یعنی سب سے زیادہ آبادی والی قوم چینی ہے)
جب یاجوج ماجوج کا فتنہ عروج پر ہوگا اس وقت وہ یہ بھی کہیں گے کہ ہم نے (نعوذ بااللہ) اللہ کو بھی ختم کردیا ہے۔۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ قوم اللہ کی بھی منکر یعنی کمیونسٹ ہے۔۔یہ بات بالکل ایسے ہی ہے جیسے جب روس سپر پاور تھا تو وہاں کے کمیونسٹوں نے بھی ایک جنازہ نکالا تھا اور کہا تھا ہم نے اللہ کو مار دیا اب دفنانے جارہے ہیں۔(یاد رہے چائنی بھی کمیونسٹ ہی ہیں)

تاریخی روایات کی رو سے سب کا اس بات پر اتفاق ہے کہ یاجوج ماجوج شمال میں ہیں۔ اس بات پر بھی سب کا اتفاق ہے کہ یاجوج ماجوج حضرت نوح کے بیٹے یافث کی اولاد میں سے ہیں۔ اور اس بات پر بھی تقریبا اتفاق ہے کہ شمالی علاقوں، روس، چین اور دیگر ممالک والے یافث کی اولاد ہیں۔
لہٰذا یہ کنسپٹ کلیئر کرلیں کہ یاجوج ماجوج کوئی مافوق الفطرت مخلوق نہیں بلکہ ہمارے چچا کے بیٹے یافث کی اولاد ہیں۔
عوام میں جو باتیں مشہور ہیں ان کو سن کر آدمی کے دماغ میں یہ فلم بنتی ہے کہ جیسے ایک ڈیم ہوتا ہے اس کے پیچھے میلوں تک پانی رکا ہوا ہوتا ہے پھر اچانک بند ٹوٹتا ہے تو سارا پانی بہتا ہے اور تباہی مچا دیتا ہے۔ تو شاید یاجوج ماجوج بھی کوئی مافوق الفطرت قسم کی مخلوق ہے جو دیوار کے پیچھے بند ہے اور اچانک دیوار ٹوٹے گی اور یہ پھیل جائیں گے۔
یاد رکھیں مستقبل کی پیشن گوئیوں پر مبنی جتنی بھی احادیث ہوتی ہیں ان میں استعاروں کی زبان ہوتی ہے جو اس وقت کے سامعین کو سمجھانے کے لئے ہوتی ہے۔ جیسے احادیث میں لوگوں کے تسموں اور جیبوں کے بولنے کا ذکر ہے جسے آج ہم موبائل کی شکل میں مشاہدہ کررہے ہیں۔
لہٰذا بعض محقیقن دیوار ٹوٹنے سے مراد خلافت کی دیوار ٹوٹنے کا خیال کررہے ہیں یعنی جب تک خلافت قائم تھی اس وقت تک یہ دنیا کے اس کونے میں بند تھے آگے نہیں آسکتے تھے لیکن اب وہ دیوار گر چکی ہے اور انہوں نے نکلنا شروع کردیا ہے جو اگلی چند دہائیوں تک پوری دنیا میں پھیل جائیں گے۔ 
آخری بات یہ کہ معلوم نہیں یاجوج ماجوج کا ذکر چھیڑنے سے نون لیگی کیوں پریشان ہو جاتے ہیں۔ ارے اللہ کے بندو کیا سی پیک بن رہا ہے تو ہم قرآن کی آیات اور یاجوج ماجوج والی احادیث کو پڑھنا چھوڑ دیں۔ نون لیگیوں کو تکلیف ہونا بھی اس بات کی دلیل ہے کہ کوئی اور مانے یا نہ مانے نون لیگیوں کو پکا یقین ہے کہ یاجوج ماجوج چینی ہی ہیں، اس لیے ان کی خواہش ہے کوئی اس بات کو نہ چھیڑے کہیں ہمارے منصوبے بند نہ ہو جائیں۔
ان کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ اللہ کے منصوبوں کو کوئی بند نہیں کرسکتا، سی پیک اللہ کا طویل المیعاد منصوبہ ہے ساری دنیا بھی مل کر اسے ختم نہیں کرسکتی کیونکہ یہ علامات قیامت میں سے ایک ہے 
سورہ انبیا آیت 96 میں ارشاد ہے: مِّنْ کُلِّ حَدَبٍ یَّنْسِلُوْنَ: وہ ہر اونچائی کے اوپر سے پھسلتے ہوئے چلے آئیں گے۔
علامہ اقبال فرماتے ہیں: 
کھل گئے یاجوج اور ماجوج کے لشکر تمام
چشمِ مسلم دیکھ لے تفسیر حرفِ یَنسِلُوْن!
پتھروں اور جاڑیوں پر پھسلا نہیں جاتا ، ہاں گاڑیاں جب سلک روٹ پر پہاڑوں سے نیچے اتر رہی ہوں گے تو ایسے ہی نظر آئیں گی جیسے کوئی چیز پھسلتی ہوئی آرہی ہے۔

Thursday, January 11, 2018

امام احمد بن حنبل نے اپنے بیٹے کو شادی کے موقع پر یہ نصیحتیں کیں۔

اے میرے لخت جگر!
دس خصلتیں اور عادتیں ایسی ہیں کہ جب تک تم اپنی اہلیہ کے ساتھ معاملات میں ان کی رعایت نہ کرو تو تم اپنے گھر میں ہر گز بھی خوشی وراحت نہیں پاسکتے۔لہذا تم انہیں مجھ سے سن کر یاد رکھو اور اچھی طرح سے ان کا اہتمام کرنا۔
1۔عورتیں لاڈ پیار، مزاح کی باتوں اور محبت کے اظہار میں صراحت کو پسند کرتی ہیں، اس معاملہ میں اپنی بیوی کے ساتھ بخل سے کام مت لینا۔ اس گمان میں نہ رہو کہ وہ خود سمجھ جائے گی۔
2۔اگر تم نے اس بارے میں بخل سے کام لیا تو اپنے اور اس کے درمیان بے رخی وبے مروتی اور محبت میں کمی کا حجاب وپردہ قائم کردو گے۔
3۔عورتیں انتہائی سخت اور بہت ہی محتاط مزاج مرد کو ناپسند کرتی ہیں۔ جبکہ کمزور اور نرم مزاج کو جیسے چاہتی ہیں اسی طرح استعمال بھی کرلیتی ہیں، یعنی زن مرید بنا لیتی ہیں۔ سختی اور نرمی دونوں کو مناسب طریقہ سے کام میں لاو۔اسی میں طمانیت ہے۔
4۔ جیسے مرد چاہتا ہے اس کی بیوی خوبصورت لگے اسی طرح عورت بھی اپنے شوہر کی شیریں گفتگو، خوبصورت نظر آنے ، لباس کی صفائی ستھرائی اور عمدہ خوشبو کو پسند کرتی ہیں۔ لہٰذا تم اس کے ساتھ ہر حال میں خوبصورت اور صاف ستھرے رہو۔
(مرد کام سے آتا ہے پسینے سے شرابور ہوتا ہے، اسے تو محسوس نہیں ہوتا لیکن عورت کی حس مردوں سے زیادہ ہوتی ہے۔)

5۔شوہر کا گھر عورت کی سلطنت ہوتی ہے، لہذا گھر میں اسی کا حکم چلنا چاہیے۔ خبردار تم اس کی اس سلطنت کو منہدم نہ کرنا اور تم اسے گھر کی بادشاہت کے اس تخت سے اتارنے کی کوشش مت کرنا، اگر ایسا کیا تو پھر وہی ہوگا جو کسی سے سلطنت چھیننے سے ہوتا ہے۔
(ساس بہو کے جھگڑے عام طور پر اسی وجہ سے ہوتے ہیں)
6۔عورت کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ اسے اپنے شوہر کی محبت بھی حاصل ہو اور اپنے والدین کی بھی۔ خبردار! تم اس کے گھر والوں کے معاملہ میں خودکو یوں ایک پلڑے میں کھڑا نہ کردینا کہ وہ یا تو تمہیں اختیار کرے یا اپنے گھر والوں کو۔ اگر اس نے اس طرح تمہیں اختیار کر بھی لیا تو رنج وغم کی کیفیت سے پورا گھر متاثر ہوگا۔
7۔ عورت ٹیڑھی پسلی سے پیدا کی گئی ہے، اور یہی اس کے جمال اور اس کی طرف میلان کا راز ہے۔ یہ اس میں عیب نہیں اسی ٹیڑھے پن سے اسے زینت بخشی گئی ہے۔ اگر وہ کوئی غلطی کرے تو اس پر چڑھائی کرکے اس کی کجی کی اصلاح کے پیچھے مت ہونا، ورنہ تم اسے توڑ بیٹھو گے یعنی طلاق ہوجائے گی۔اگر وہ کوئی غلطی کرے تو اتنی ڈھیل بھی نہ دو کہ شیر بن جائے، سختی اور نرمی کے درمیان رہ کر برتاو کرو۔
8۔ عورت کی فطرت ہے کہ وہ شوہر کی ناشکری ہوتی ہے، اور اچھائی کا انکار کرتی ہے۔ اگر تم اس کے ساتھ ایک زمانے تک اچھائی کرتے رہو پھر کبھی ایک بار ناخوشگوار سلوک کرو، تو وہ یہ کہے گی کہ میں نے تم سے کبھی بھلائی نہیں پائی، اس کی یہ عادت تمہیں اسے ناپسند کرنے اور اس سے متنفر ہونے نہ دے، اس لئے اگر تمہیں اس کی یہ عادت ناپسند ہو تو اس کی اور بہت ساری عادتیں تمہیں پسند ہوں گی۔
9۔عورت جسمانی کمزوری اور نفسانی تھکاوٹ کے ایسے مراحل سے گزرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بھی ان مخصوص حالات اور دنوں (حیض ونفاس) میں نماز کا فریضہ باالکل معاف کردیا ہے اور روزہ بھی وقتی طور پر معاف کردیا ہے۔لہذا ان حالات اور دنوں میں تم اس کے ساتھ ربانی برتاو کرو۔ جس طرح اللہ نے اس کے ساتھ تخفیف کا معملہ فرمایا ہے تم بھی اپنے مطالبات اور معاملات میں تخفیف کرو۔
(زیادہ تر لڑائیاں اسی پیڑیڈ میں ہوتی ہیں۔)
10۔یاد رکھو! عورت گویا تمہاری قید میں ہے یعنی تمہاری پابند ہے اس کی قید پر رحم کھاو اور اس کی خطا پر درگزر سے کام لو، تو وہ تمہارے لئے بہترین متاع اور شریک حیات ثابت ہوگی